وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

رائیونڈ میں بکسے دھوپ کھارہے ہیں

پیر    06    مئی    2019 رائیونڈ میں بکسے دھوپ کھارہے ہیں

ایک مزاح نگار نے لکھا تھا: پاکستانی افواہوں کی سب سے بڑی”خرابی“ یہ ہے کہ سچ نکلتی ہے۔ایک بات کہنے سے رہ گئی، پاکستانی خبروں کی سب سے بڑی”خوبی“یہ ہے کہ اکثر جھوٹ نکلتی ہے۔ بات مکمل ہوئی، مگر کہاں؟ وطن عزیز کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں ماضی دُہراتے دُہراتے ایسے تحیر خیز حالات مہیا کیے جاتے ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ ”یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے“!!چنانچہ خبروں کے کاروبار میں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ باور کرانے کا کاروبار بھی کبھی مندا نہیں پڑتا۔ جس آدمی کا گواہ اُس کا ماضی ہو، اُسے بھی مستقبل کے لیے ماضی کے برخلاف ایک نوید انقلاب باور کرادیا جاتا ہے۔ شریفوں کے باب میں اتنا کچھ ہوچکا ہے کہ اُن کا کوئی بھی طرزِ عمل نیا نہیں لگتا، مگر پھر بھی اُن کے گرد حالات کی ایسی بُنت کی جاتی ہے کہ اُن سے”ایڈونچر“برآمد ہونے کے امکانات کبھی ختم نہیں ہوتے۔
نوازشریف کے بھائی شہباز شریف نے جیسے لندن کی پرواز لی ہے، اُس نے گردوپیش کو طوفان آشنا اورمسلم لیگ نون کے اندرونی حلقوں کو تقریباً ہکا بکا کردیا ہے۔ حالانکہ اس میں کچھ بھی نیا نہیں۔ شریف خاندان نے یہی کچھ مشرف عہد میں بھی کیا تھا۔ انتہائی خاموشی سے مذاکرات جاری تھے۔شریف برادران قید میں تھے، میاں شریف اپنے بیٹوں کی ”قید“ میں لرزتی کانپتی حالت کو یک نوعی تقدیس دینے میں مصروف تھے، ایک طرف خاموش مذاکرات چل رہے تھے، دوسری طرف دستر خوانی قبیلے کے لقمہ توڑوں سے جمہوریت کے نام پر جدوجہد کی داستانیں تخلیق کی جارہی تھیں، عزم وہمت کے پہاڑ شریف برادران کی جھک کر بلائیں لے رہے تھے، قلم فراٹے بھر رہے تھے،
تب ہی ایک جملہ موٹے پیٹوں کے قافلہ سالار نے میاں شریف سے ملاقات میں منسوب کیا کہ ”جن کے امتحان بڑے ہوں، اُن کے انعام بھی بڑے ہوتے ہیں“۔ایسے جملے کہنے والوں کے تو ادب میں شہ پارے ہونے چاہیے۔ مگر اُنہوں نے فیکٹریاں اور وراثتی جھگڑے چھوڑے۔ ایسا ایک جملہ کہنے کے بعد اُن کی ادبی اور درویشانہ حس کو نامعلوم کس کی نظر لگ گئی تھی۔ شاید سننے والے کی ہی نظر لگی ہو!!بہر کیف اسلام آباد میں افواہوں کی منڈی میں تیزی تھی۔ تب وہی بہادر آدمی جس کی ہیجانی سیاست نے کبھی تحریک انصاف اور کبھی مسلم لیگ نون میں رونقیں لگائیں،ماڈل ٹاؤن جا پہنچے۔ جاویدہاشمی ایک سے زیادہ مرتبہ اپنی محفلوں میں یہ قصہ سنا چکے ہیں کہ اُنہوں نے ماڈل ٹاؤن میں تیار بکسے دیکھے تو مرحومہ کلثوم نواز سے پوچھا کہ یہ کس چیز کی تیاریاں ہیں تو اُنہیں کہا گیا کہ بہت دنوں سے مصروفیات میں سامان کی صفائی نہیں ہوئی، اس لیے اس کو دھوپ لگوا رہے ہیں۔ معلوم نہیں رائیونڈ میں اس وقت کون ساسامان اور بکسے دھوپ کھا رہے ہوں گے بے رحم تاریخ کا سورج نصف النہار پر ہے، اورتازہ بہ تازہ واقعات پر نحوست زدہ ماضی سایہ فگن ہے۔
شہباز شریف کی لندن رخصتی ہمہ پہلو ہے۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ حالات کی تپش اُن تک پہنچ رہی تھی اور اُنہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ اب اس سے بچنا ممکن نہیں رہا۔ظاہر ہے اس نتیجے کا ضمنی پہلو یہ ہے کہ اب اُن کی واپسی حالات کے سدھار یعنی کسی بھی ڈیل میں ملنے والی سہولت سے ہی مشروط ہوگی۔اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ڈیل ہورہی ہے یا ہوسکتی ہے؟
مسلم لیگ نون کے ایک اہم رہنما نے شہباز شریف کی لندن رخصتی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی واپسی اب نوازشریف کو ملنے والی عدالتی راحت پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شریف برادران حالات پر اپنی گرفت اس حد تک کھو چکے ہیں کہ وہ دودن بعد کے حالات کی بھی پیش بینی کے قابل نہیں رہے۔ سپریم کورٹ نے نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو مسترد کردیا ساتھ ہی نوازشریف کے بیرون ملک علاج کے راستے کو بھی بند کردیا ہے۔ گویا رخصت کایہ بہانہ بھی رخصت ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نوازشریف کو اب اپنے معاملات کا فیصلہ کرنا ہی پڑے گا۔ باخبر حلقوں میں یہ بات زیر گردش ہے کہ نوازشریف سے رقم کی وصولی کا طریقہ حکومت (جو بھی ہے)کو قبول نہیں۔ حکومت رقم کی وصولی ”پلی بارگین“ کے طور پر عریاں طریقے سے کرنا چاہتی ہے۔ جس کا مطلب عملاً نوازشریف کی سیاست کا خاتمہ ہے۔ نوازشریف اپنی سیاست سے رضاکارانہ دستبرداری کے لیے تیار ہونے کے باوجود بھی ”پلی بارگین“ کے راستے سے معاملات کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتے۔یہ طریقہ اُنہیں بے عزت کرتا ہے۔دوسری طرف رائیونڈ کے بکسے تو دھوپ کھاسکتے ہیں، مگر وہ تادیر حالات کی دھوپ کا سامنا نہیں کرسکتے۔ ایسے میں درمیانا راستا کیا ہوگا؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔نوازشریف مریم نواز کی کچھ سال کی خاموشی کی قیمت پر اُن کی سیاست کے لیے راستا کھولنے کا دھیما مطالبہ بھی کررہے ہیں۔ اس پہلو کو کیسے طے کیا جائے گا؟ یہ بات بھی کہیں پر واضح دکھائی نہیں دیتی۔ مگر مریم نواز کے لیے طاقت ور حلقوں میں ذرا بھی گنجائش دکھائی نہیں دیتی۔
شہباز شریف نے اپنے والد کے انتقال کے بعد کہا تھا کہ اب نوازشریف میرے بھائی ہی نہیں والد کی جگہ پر ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نوازشریف کو ان حالات میں شہبازشریف چھوڑ کر اگر رخصت ہوئے ہیں تو اس کا مطلب کیا ہے؟ کیا وہ نوازشریف کے معاملات کے حل ہونے کی امید چھوڑچکے ہیں؟ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کے اپنے دگر گوں معاملات کا جبر اُن پر اتنا حاوی ہورہا ہے کہ اُن کے لیے نوازشریف کے متعلق سوچنے کی گنجائش کم ہورہی ہے؟کچھ بھی ہو! شہبازشریف کی لندن رخصتی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی اور قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے منصب سے دستبرداری کا مطلب واضح ہے۔ شریف خاندان نے 12/ اکتوبر 1999 کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں اسی نوع کا طرزِ عمل اختیار کیا تھا۔ اس خاندان نے بدلتے حالات میں چپ چاپ ملک سے رخصتی کو ترجیح دی تھی اور اپنے پیچھے موجود سیاسی جماعت کی پروا تک نہیں کی تھی،یہاں تک کہ ایک خاموش معاہدے کے نتیجے میں جدہ روانگی کے وقت اپنی سیاسی جماعت کے اگلے صدر کے لیے جاوید ہاشمی کی نامزدگی ایک پرچی کے ذریعے کی گئی تھی جو محترمہ کلثوم نواز نے جہاز سے اُچھالی تھی۔ مسلم لیگ نون میں ایک مرتبہ پھر تنظیم نو کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ شہبازشریف نے اپنے پاس موجود پارلیمانی مناصب لندن رخصتی کے بعد چھوڑ دیے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو نجی کمپنیوں کی طرح چلانے کا عادی یہ خاندان جماعتی یا سیاسی مناصب کا فیصلہ اُس وقت تک نہیں کرے گا جب تک کہ اس کے دروازے اُنہیں مکمل بند دکھائی نہیں دیں گے۔ اس پورے جھمیلے میں مسلم لیگ نون کے سیاسی مستقبل کا اندیشہ بھی جنم لے گا۔ مسلم لیگ نون نے نوازشریف بحران کے باوجود اپنے اندر کسی بڑی دراڑ کو ظاہر نہیں ہونے دیا تھا۔ مگر جاننے والے یہ جانتے ہیں کہ ایسا کیوں تھا؟ طاقتور حلقوں کی طرف سے اِس جماعت کی توڑ پھوڑ کو پہلی ترجیح تاحال نہیں بنایا گیا۔ دوسری طرف سورج مکھی کے پھولوں کو سورج کی دھوپ بھی نہیں دکھائی گئی۔ چنانچہ مسلم لیگ نون کے مختلف رہنما اس عرصے میں کسی جنبشِ ابرو کے انتظار میں دن کو رات کرتے رہے۔ شریفوں کے حالیہ سیاسی کردار اور اُن کی جانب سے محض اپنی گردن بچانے کی تگ ودو کے مخصوص حالات سامنے آنے کے بعد اب یہ رہنما اپنی اڑان بھرنا چاہیں گے۔ یہ منظر بھی سیاسی افق پر جلدی اُبھرتا نظر آرہاہے۔ 1999 اور حالیہ سیاست میں واقعات کا بہاؤ یکساں ہونے کے باوجود ایک فرق ہے۔ تب شریف برادران نسبتاً جوان تھے اور اُن کی سیاست باقی دکھائی دیتی تھی۔ پھر اُن پر بدعنوانی کے الزامات اتنے طاقت ور انداز میں موجود نہیں تھے۔ اور پاکستان کے سیاسی افق پر زیادہ تر پرانی سیاست اور پرانی سیاسی جماعتوں کاغلبہ تھا۔ جس میں بھٹو حامی اور مخالف کی تقسیم تھی۔ اب سیاست بدل چکی ہے۔ شریف برادران عمر کی اس منزل میں ہے جہاں تب وتاب برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ وہ 1999 کے برعکس ایک لمبا انتظار نہیں کرسکتے۔پھر اُن پر ہی نہیں اُن کے بچوں پر بھی طاقت ور طریقے سے بدعنوانی کے الزامات موجود ہے، جن میں وہ اپنی آئندہ کی سیاسی بقا تلاش کرسکتے تھے۔ شریفوں کے لیے اپنے بچوں کی سیاست بچانا تو بہت دور کی بات ہے خود اُنہیں احتساب سے بچانا مشکل ہورہا ہے۔ماضی کے برعکس ایک فرق یہ بھی ہے کہ اب عوام کی سطح پر موجود سیاسی شعور نے بھی ایک کروٹ لے لی ہے۔ شریفوں کی حمایت کے لیے اگر ایک عوامی حلقہ دکھایا جاسکتا ہے تواُن کی مخالفت میں بھی ایک عوامی حلقہ پوری طاقت کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو شہباز شریف کی لند ن روانگی محض ڈیل کے ہونے یا نہ ہونے کے سیاسی سوال سے منسلک نہیں۔ بلکہ خود شریف خاندان کے سیاسی مستقبل کے ڈانوا ڈول ہونے سے متعلق دکھائی دیتی ہے۔ اسے انجام کا آغاز بھی کہا جاسکتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس مرتبہ رائیونڈ میں بکسے ہی نہیں، شریف خاندان کا سیاسی مستقبل بھی دھوپ میں کھڑا ہے۔