وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس ،نیب کے عدم تعاون پر سپریم کورٹ برہم

پیر    07    جنوری    2019 بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس ،نیب کے عدم تعاون پر سپریم کورٹ برہم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس میں ڈائریکٹر جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل نیب سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اسپارکو کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے تفصیلات لینے کا حکم دیدیا۔ پیر کو جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت بحریہ ٹاؤن سے متعلق نیب کی جانب سے عدم تعاون پر عدالت نے اظہار برہمی کیا۔جسٹس شیخ عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن سے متعلق جو رپورٹ جمع کروانی تھی وہ کیوں نہیں کروائی گئی؟ کام نہیں ہوتا تو بتادیں۔

انہوں نے نیب کے خصوصی پراسیکیوٹر سے مکالمہ کیا کہ تین ماہ کا وقت دیا گیا تھا تاہم دھیلے کا کام نہیں کیا، اس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ایسی بات نہیں ہے۔اس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جارہا، آپ ریاست پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں، مگر آپ نے ابھی تک کچھ نہیں کیا۔سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے جعلی بینک اکاؤنٹس کی جے آئی ٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی والے بحریہ ٹاؤن کا ایک اور جگہ حوالہ دیا گیا، جے آئی ٹی اس پر اپنی تحقیقات مکمل کر لیں آپ کیا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسری عدالت میں رپورٹ پیش کردی گئی، یہاں کیوں نہیں کی جارہی؟ اس معاملے پر کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ اسپارکو نے بھی اپنی رپورٹ پیش نہیں کی، اس معاملے پر اسپارکو کو توہین عدالت کا نوٹس کیوں نہ جاری کریں۔دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ہم نے فیصلہ تو کرنا ہے، تنخواہ کون دیگا؟ ریاست کے ادارے ریاست کے ماتحت نہیں، اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ بتانے کیلئے تیار نہیں۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن اپنا کیس ہار چکا، نظر ثانی بھی خارج ہوئی، اپنے موکل کو سمجھائیں کہ عدالت کے ساتھ تعاون کریں۔اس پر ملک ریاض کے وکیل علی ظفر نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن نے تمام تفصیلات جمع کروادی ہیں جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ اگر الاٹیز کے حقوق متاثر ہوئے تو ذمہ دار ملک ریاض ہونگے۔انہوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے پیش رفت نہیں ہو رہی، جس پر ہمیں مایوسی ہے۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ ہمارا صبر ختم ہورہا ہے، مجھے معلوم ہے کہ اسپارکو کے ڈی جی میجر جنرل ہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ تھرڈ پارٹی کے تحفظ کا آپشن اختیاری ہے، مجبور نہ کریں کہ ہم سختی کریں۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ آپ کہہ دیں کہ عمل نہیں ہوسکتا تو ہم ابھی دے دیتے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر ڈی جی اسپارکو کو طلب کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس میں ڈائریکٹر جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل نیب سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے اسپارکو کو بھی ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے تفصیلات لینے کا حکم دے دیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیب اپنے ایکشن سے پیش رفت بتائے، جس کے بعد مذکورہ کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی گئی۔