وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پاکستان میں فیس بک اور واٹس اپ پر خواتین کو خطرناک حد تک ہراساں کیے جانے کا انکشاف

جمعه    ٠٤    جنوری    ٢٠١٩ پاکستان میں فیس بک اور واٹس اپ پر خواتین کو خطرناک حد تک ہراساں کیے جانے کا انکشاف

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈیٹا کے غلط استعمال اور آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات میں فیس بک اور واٹس ایپ کا بدترین ٹریک ریکارڈ ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈی آر ایف سائبر ہراسمنٹ ہیلپ لائن کی جانب سے دو عرصے کے دوران جمع کیے گئے اعداد و شمار اور عوامی اداروں کیلئے آن لائن ہراساں کرنے پر ادارے کے ردعمل کو بہتر بنانے کے لیے سفارشات پر روشنی ڈالی گئی۔ڈی آر ایف کے مطابق یکم دسمبر 2016 سے 30 نومبر 2018 تک ان کی ٹال فری ہیلپ لائن (39393۔0800) پر ہرماہ کی اوسطاً 91 کالز کے ساتھ مجموعی طور پر 2 ہزار 7 سو 81 شکایت موصول ہوئیں۔

ان 2 ہزار 7 سو 81 کالز میں سے 2 ہزار 190 کالرز پہلی مرتبہ کال کرنے والے تھے جبکہ 591 کالز فالو اپ تھیں، جو ایسے لوگوں کی جانب سے تھیں، جنہیں مدد کی تلاش تھی یا وہ اپنے کیس سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کرنا چاہتے تھے۔اعداد و شمار کے مطابق مجموعی کالز میں سے آدھی 57 فیصد کالز سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب سے موصول ہوئیں، اس کے ساتھ ساتھ 18 فیصد کالز سندھ، 5 فیصد خیبرپختونخوا، 2 فیصد بلوچستان، آزاد کشمیر اور قبائلی علاقوں سے ایک فیصد جبکہ اسلام آباد سے 5 فیصد شکایات موصول ہوئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 59 فیصد کالز خواتین جبکہ 41 فیصد کالز مردوں کی جانب سے کی گئیں تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ کئی مردوں نے خواتین کی جانب سے کال پر شکایت درج کرائی۔اگر عمر کی تقسیم کی بات کی جائے تو ہیلپ لائن پر کال کرنے والوں کی اکثریت (21 فیصد) نوجوان تھی، جن کی عمر 21 سے 25 سال کے درمیان تھی۔

نجی ٹی وی کے مطابق رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ آن لائن بدسلوکی کے لیے فیس بک کو اکثریتی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا گیا اور 660 (29 فیصد) شکایات فیس بک پر ہراساں کرنے سے متعلق درج کی گئیں تاہم حال ہی میں ہیلپ لائن نے اس نتیجے کو اخذ کیا موبائل پر مبنی دھوکا دہی سے متعلق کالز سے واٹس ایپ پر لوگوں کے اعتماد کو نشانہ بنایا گیا اور گزشتہ 6 ماہ میں میسیجنگ ایپلیکیش سے متعلق کیسز 2.6 فیصد سے بڑھ کر 9.5 فیصد (یعنی کیسز کی تعداد 29 سے بڑھ کر 220) ہوگئی۔ڈی آر ایف کی رپورٹ کے مطابق دھوکا دہی سے موبائل صارف کے واٹس ایپ کوڈ حاصل کرنے سے متعلق سب سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں جس کے نتیجے میں ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو ہیک کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ دھوکے بازوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ وہ جائز تنظیموں، ٹی وی گیم شوز، پاک فوج، حکومتی محکموں جیسے بینظیر ویلفیئر پروگرام اور ٹیلی کمیونکیشن کمپنیز سے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رپورٹ ہونے والے زیادہ تر کیسز معلومات کے بغیر استعمال سے متعلق تھے، ان کیسز میں تصاویر، فون نمبرز، رابطے کی تفصیلات اور دیگر ذاتی معلومات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا دیگر کلاسیفائڈ یا نیٹ ورکنگ سائٹس پر بغیر اجازت کے استعمال کرنا، شیئر کرنا، خراب کرنا شامل تھا۔اس کے علاوہ دوسرے نمبر پر موصول ہونے والی سب سے زیادہ کالز بلیک میلنگ سے متعلق تھی، جس میں فرد کی ذاتی معلومات کا استعمال کیا گیا۔