وجود

... loading ...

وجود

عید الفطر اور ہماری ذمہ داریاں

هفته 16 جون 2018 عید الفطر اور ہماری ذمہ داریاں

زندگی خوشی اور غم کے لمحات سیعبارت ہے۔ بعض خوشیاں افراد سے تعلق رکھتی ہیں جب کہ بعض مسرتیں پوری ملت بلکہ انسانیت کے لئے باعثِ فرحت ہوا کرتی ہیں۔ عید سعید کی بابرکت ساعتیں ملت اسلامیہ کے ہر فرد کے لئے حق تعالیٰ شانہ? کی جانب سے خوشی کے اظہار کرنے کاموقع نایاب ہے۔عیدالفطر کی خوشی کااصل سبب اس فرض عبادت (روزہ) کی ادائی ہے جو کہ ماہِ رمضان میں بندہ? مومن محض رضائے الٰہی کی خاطر انجام دیتا ہے اور اپنے اندر ’’تقویٰ‘‘ کی مطلوبہ صفت کو پروان چڑھانے کی سعی وجہد کرتا ہے۔ اس عبادت کی ادائی کا بدلہ انشاء اللہ ہر اس ابن ا?دم کو ضرورملے گا جس نے خلوصِ نیت کے ساتھ اس کارِ خیرکوانجام دیاہے۔عیدالفطر دراصل اس واقعہ کا اعلان ہے کہ اصل خوشی اور مسرت اللہ کی عبادت سے حاصل ہوتی ہے اور قلوب کی طمانیت اور سکو ن کا راز اللہ کی یاد میں پنہاں ہے۔ عیدالفطر اس حقیقت کااظہار ہے کہ اس دنیا میں جتنے بھی نیک کام انجام پاتے ہیں ان کا واحد مقصد رب کی رضا ہوا کرتا ہے۔

عیدالفطر بندہ? مومن کی بے قراری کا اظہار ہے کہ وہ رمضان المبارک کی ریاضتوں کا انعام رب کی جوکھٹ پہ لینے کے لئے حاضر ہوتا ہے اور اس کا زبان حال سے اقرار کرتا ہے کہ اس کی ساری زندگی اللہ کے کلمے کو بلند کرنے میں بسر ہوگی۔

امتِ مسلمہ علمبردارِخیر
امتِ مسلمہ کی تعریف قرا?ن حکیم میں اس طرح کی گئی ہے ’’تم ایک بہترین امت ہو جو لوگوں کے سامنے لائی گئی ہو، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو، اور برائی سے روکتے ہو، اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (ا?ل عمران:ا?یت:۰۱۱)

یہ ا?یت کریمہ اْمت مسلمہ کو اس کی اصل ذمہ داری کااحساس دلاتی ہے۔ علاوہ ازیں امت کے ہر فرد کو اس بات پر ا?مادہ کرتی ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو سنوارنے میں لگ جائے خوب سے خوب تر کی جستجو میں لگا رہے اور اپنے ا?پ کا ساری انسانیت کے لئے نفع بخش ہونا ثابت کردے۔یوں بھی اس کائنات میں بقا اسی کو حاصل ہوتی ہے جو دنیا اور افراد دنیا کے لئے کسی کام کا ہوتا ہے۔ ورنہ جو فرد یا گروہ ساری دنیا پر بوجھ ہو اسے اْتار پھینکنے میں کسی کو کوئی عار محسوس نہیں ہوتا۔

امت مسلمہ کا مطلوبہ کردار
عیدالفطر کادن جہاں خوشی اور مسرت کی نوید لے کر ا?تا ہے، وہیں اس بات کا موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ ہم اللہ کے ان بندوں کو اصل خوشی کی حقیقت سے روشناس کرائیں جن کی زندگیاں اللہ کی بندگی سے کوسوں دور اور نفس کی غلامی سے عبارت ہیں۔ عیدالفطر کا دن ہمیں یہ اہم موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ خوشی میں شریک ہوں، جو بظاہر ہم سے بے تعلق اور ہم سے عار رکھتے ہوں۔

عیدالفطر کے دن دوگانہ اداکرنے کے بعد بدقسمتی سے ملت اسلامیہ کا بڑا حصہ اپنی گردن سے اللہ کی غلامی کا طوق اتارپھینکتا ہے اور ہوائے نفس کے پیچھے مارا مارا پھرتا ہے۔ یہ عبرت ناک منظر بھی ہر سال ہماری نظروں سے گزرتا ہے کہ ایک طرف عیدالفطر کی نماز کے وقت اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرتا ہوا ایک ٹھاٹیں مارتا ہوا جم غفیر عید گاہ کا رخ کرتا ہے اور اللہ کی بندگی کااظہار کرتا ہے، جب کہ دوسری طرف جب مو?ذن نماز ظہر کے لئے حی علی الفلاح کا اعلان کرتا ہے کہ تو ان میں سے اکثر کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

عیدالفطر کی بابرکت ساعتیں ہرسال ہمیں اس صورتحال پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہیں کیوں کہ واقعہ یہ ہے کہ اگر ہمارے قول وفعل میں اس قدر تضاد ہوگا تو اس عالم فانی میں ہم کوئی پائیدار اور مثبت کام انجام نہیں دے سکتے۔ اس وقت ساری دنیا میں بالعموم اور ہمارے وطن عزیز میں بالخصوص نفرت کے سوداگر ابن ا?دم کو مختلف خانوں میں بانٹنے کی مذموم کوشش کررہیہیں اور انسان کو فطرت سے بغاوت کرنے پر اْکسارہے ہیں۔ ان حالات میں عیدالفطر کا نایاب لمحہ ہمیں بحیثیت مجموعی اس کارِ خیر کا موقع دیتا ہے کہ نفرت کے مقابلے میں الفت ومحبت کی فصل بوئیں اور وحدتِ بنی ا?دم کا پیغام عام کریں۔ ہمیں اس بات کا کامل یقین ہوناچاہئے کہ انسان وقتی طور پر توشرپسند عناصر کے بہکاوے میں ا?سکتا ہے لیکن برائی کے نتائج کو دیکھ کر بھی اس پر جما نہیں رہ سکتا۔

موجودہ حالات میں ہمیں قرا?ن کے اس نسخہ? کیمیا پر عمل کرنے کی ضرورت ہے کہ ’’اور اس شخص سے زیادہ اچھی بات والا کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے ’’بیشک میں مسلم ہوں۔ نہ اچھی سیرت باہم یکساں ہوتی ہے نہ بری سیرت تم (بری سیرت کی برائی کو) اچھی سے اچھی سیرت کے ذریعے سے دور کرو، تو تم دیکھو گے کہ وہی شخص تمہارے اور جس کے درمیان عداوت پڑی ہوئی تھی جیسے وہ گرم جوش دوست ہے۔ ‘‘ (حم سجدہ:۴۳-۳۳)

عیدالفطر کے موقع پر ہماری خوشی کا اظہار احسن طریقے سے ہوناچاہئے۔ خوشی اور مسرت کے لمحات میں ا?پے سے باہر ہوجانا اور اپنی اصل حیثیت سے گرجانا یا خوشی کاایسا اظہار کرنا جس سے دوسروں کو ٹھیس پہنچے اْمت مسلمہ کے کسی فرد کوزیبا نہیں دیتا۔

چند عملی اقدامات
عیدالفطر کے موقع پرہمیں منصوبہ بند طریقے سے پروگراموں کو ترتیب دینا چاہئے تاکہ خوشی اور مسرت کا یہ دن زندگی کی یاد گار لمحات میں سے ایک ہوجائے۔ عیدالفطر سے چند روز قبل ہی چند ایسی دینی کتب کی خریداری کرلیں جو کہ ہم اپنے قریبی غیر مسلم دوستوں کو دے سکیں۔ یاد رکھیں عیدالفطر کے موقع پر اپنی خوشی میں برادرانِ وطن کو شریک کرنا دعوتی نقطہ? نظر سے بے حد اہم ہے۔ کیوں کہ انسان خوشی کے لمحات اس کے ساتھ گزار سکتا ہے جس سے اس کو خصوصی محبت ہو۔ لہٰذا عیدالفطر کے دن بلاتفریق مذہب وملت سبھی سے ملنا اور انہیں اپنے گھر مدعوکرنا یا خود ان کیگھر جانا فرقہ وارانہ ہم ا?ہنگی کے لئے بے حد اہم ہے۔

عیدالفطر کے موقع پر ا?پ بعض دوستوں اور کالج یا ا?فس کے رفقاء￿ کو سپاس نامے یا کوئی اور تحفہ بھی دے سکتے ہیں۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ Greeting Cardپرقرا?ن کی کوئی ا?یت یا کوئی اور حکمت سے پر جملہ یا عبارت جلی حروف سے ثبت ہو۔

تحفہ دیتے وقت انسان کے ذوق کا بھی خاص خیال رکھنا چاہئے۔ ہر خاص وعام کو ایک ہی قسم کا تحفہ دینا حکمت تبلیغ کے خلاف ہے۔ عیدالفطر کے چند روز بعد عید گیٹ تو گیدر (Eid Get Togedher)کی تقریب منعقد کی جانی چاہئے۔ یہ پروگرام کسی ایسی بستی یا محلے میں کیا جانا زیادہ بہتر ہے جہاں برادرانِ وطن کی قابل ذکر تعداد رہتی ہو۔ اس تقریب میں تبادلہ خیال کا بھر پور موقع دیاجانا چاہئے اور ملک کے مختلف مسائل پر سیرحاصل گفتگو نیز اسلام کا موقف وضاحت کے ساتھ پیش کرنا چاہئے۔ عیدگیٹ توگیدر کی مجلس میں ثقافتی اور کلچرل پروگرام بھی پیش کیے جاسکتے ہیں تاکہ رفقاء￿ لطف اندوز بھی ہوسکیں۔
عیدالفطر کے دن چند منتخب بستیوں کو سنوارنے اور صاف ستھرا کرنے یاراستے کے کنارے شجر کاری کا کام بھی انجام دیا جاسکتا ہے۔ اس کارِ خیر میں ا?پ انتظامیہ کی مدد بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ نیز کوشش کی جانی چاہئے کہ عید گاہ جانے اور ا?نے کے راستوں میں غیر ضروری بھیڑ بھاڑ اور شورشرابے سے پرہیز کیا جائے۔
عیدالفطر سے چند روز قبل انتظامیہ کی اجازت سے مقصد رمضان اور عیدالفطر کے پیغا م پر مبنی چند ہورڈنگس جن میں ا?یاتِ قرا?نی یا احادیث نبوی? کی روشنی میں عید کا مقصد وضاحت کے ساتھ لکھا گیا ہو چوراہوں اور گزر گاہوں پر ا?ویزاں کیے جانے چاہئیں۔ یہ ہورڈنگس اْردو زبان کیعلاوہ علاقائی زبان میں بھی تیار کیے جائیں تاکہ برادرانِ وطن پیغام عید کو سمجھ سکیں۔

انعام خداوندی کے اس بابرکت دن ملتِ اسلامیہ ہند کے نوجوانوں کو بالخصوص اور ان کے سرپرست حضرات کو اس امر پر خصوصی توجہ دینی ہوگی کہ ان کی خوشی کااظہار اس صورت میں ہرگز نہ ہوجس سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط پیغام برادرانِ وطن تک جاتا ہے۔ لہٰذا اس بات کا عہد کریں کہ عید سعید کے دن نہ خود کوئی ایسی حرکت کریں گے اور نہ ہی کسی کو کرنے دیں گے جس سے ایک طرف دوسروں کو پریشانی ہو اور دوسری طرف اللہ کی ناراضی ہمارا مقدر بنے۔

یاد رکھیں، عیدالفطر کے دن کا ایک ایک لمحہ اس بات کی گواہی دیتاہوا محسوس ہوکہ یہ دن اللہ کے ان نیک بندوں کی خوشی اور مسرت کا دن ہے جن کی خوشی اور غم، نفرت اور محبت، دوستی اور عداوت سب اللہ کے لئے ہے۔ جن کے خوشی کے لمحات بھی ان کو رب کی عبادت اور ذکر سے غافل نہیں ہونے دیتے۔


متعلقہ خبریں


ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

مضامین
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر