وجود

... loading ...

وجود

کالاباغ ڈیم، کیا یہ مردہ گھوڑا ہے؟

بدھ 13 جون 2018 کالاباغ ڈیم، کیا یہ مردہ گھوڑا ہے؟

کالا باغ ڈیم کی تعمیر یا عدم تعمیر کا بہت پرانا مسئلہ ایک بار پھر زندہ ہوگیا ہے اور اس بار پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے یہ بیڑا اٹھایا ہے کہ ڈیم کی تعمیر کے لیے ہم آہنگی پیدا کی جائے گی اور اس ڈیم کی تعمیر کی راہ ہموار کی جائے گی۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر مطق العنان فوجی حکمران بھی پیچھے ہٹ گئے حالانکہ مارشل لا دور میں ہر آمر نے جو چاہا وہ کر گزرا۔ لیکن آمروں کو بھی سیاسی حمایت حاصل کرنے کا شوق ہوجاتاہے۔ جنرل ضیاء الحق کچھ نہ کرسکے اور جنرل پرویز مشرف ڈیم کے لیے سندھ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہوگئے۔ انہوں نے سندھ کے اخبارات کے مدیروں کے ساتھ کراچی میں ملاقات کی اور ان کو راضی کرنے کی کوشش کی۔ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ اجتماع میں اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم بھی موجود تھے لیکن وہ ایک جرنیل کے سامنے کھل کر مخالفت نہ کرسکے اور پرویز مشرف کی یہ ملاقاتیں بے نتیجہ رہیں۔ آئین کو پامال کرکے حکومت پر قبضہ کرنے، دو بار مارشل لا لگانے اور ججوں کو برطرف اور نظر بند کرنے والے جرنیل کو سیاسی رہنما بننے کا شوق تھا چنانچہ وہ بھی کسی کو ناراض نہیں کرسکے اور پسپائی اختیار کی۔

ہر آمر کی طرح جنرل پرویز مشرف کو بھی یہ غلط فہمی رہی کہ وہ بطور سیاستدان اس ملک پر عرصے تک حکومت کرتے رہیں گے مگر ان سے اپنی وردی نہ اتاری گئی۔ کالا باغ ڈیم کے خلاف صوبہ سرحد کی عوامی نیشنل پارٹی اس حد تک چلی گئی کہ اے این پی کے رہنما ولی خان نے یہ دھمکی دے ڈالی کہ کالا باغ ڈیم بنا تو بم مار کر اڑا دیں گے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے کچھ سیاستدانوں کا کہنا یہ تھا کہ ڈیم بنا تو نوشہرہ ڈوب جائے گا۔ ان کا یہ خوف دور کرنے کے لیے ڈیم کے نقشے میں اس کی بلندی کم کردی گئی مگر مخالفین اس پر بھی راضی نہیں ہوئے۔ اس مسئلے کا تعلق انجینئرنگ سے تھا جسے سیاسی بنادیا گیا۔ نوشہرہ کے ڈوبنے کے خدشات کی کوئی دلیل پیش نہیں کی گئی۔ واپڈا کے ایک سابق چیئرمین ایسے خدشات کی نفی کرتے رہے لیکن کچھ سیاستدانوں کو اپنی سیاست کے لیے کوئی نہ کوئی موضوع تو درکار ہوتا ہے۔ ادھر سندھ کے سیاستدان کہتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم بنا تو سندھ کا پانی روک لیا جائے گا۔ وہ تو جب رکے گا تب رکے گا اس وقت تو بھارت نے پاکستان کا پانی روک کر پاکستان کے ڈیم خشک کردیے ہیں اور ملک بھر میں پانی کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ سامنے ہے۔

حب ڈیم خشک ہوجانے سے کراچی میں بھی پانی کی قلت پیدا ہونے کا امکان ہے۔ حب ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے اور کراچی اور حب کو پانی کی فراہمی بند ہوسکتی ہے۔ تربیلا اور منگلا ڈیم کی بھی یہی صورتحال ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سخت خلاف ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ بڑے ڈیم تعمیر کرنے کا زمانہ گزر گیا، اب چھوٹے ڈیم بننے چاہییں۔ اس کے ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی جارہی ہے کہ دریائے سندھ پر کوئی ڈیم نہیں بننے دیں گے۔ لیکن چھوٹے ڈیم ہی کتنے بن گئے۔ اس وقت صرف پنجاب کالاباغ ڈیم کے حق میں ہے اور طرفہ تماشا ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے پیپلزپارٹی کے رہنما بھی کھل کر ڈیم کی مخالفت نہیں کرتے کیونکہ انہیں بھی پنجاب میں سیاست کرنا ہے۔ جہاں تک اس خدشے کا تعلق ہے کہ ڈیم بن گیا تو پنجاب سندھ کا پانی روک لے گا، یہ ممکن نہیں ہے۔ چھوٹے ڈیم بنانے کا مطالبہ کرنے والے یہ مشورہ بھارت کو نہیں دیتے جو پاکستان کو ملنے والے دریاؤں پر بڑے بڑے ڈیم بنارہا ہے تاکہ پاکستان کو بنجر کیا جاسکے۔ ڈیم کے ذریعے بھارت بھی پانی کو مکمل طور پر نہیں روک سکتا اور جب ڈیم بھرجاتے ہیں تو ان کا پانی اچانک چھوڑ کر پاکستان میں سیلاب کی صورتحال پیدا کردیتا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی یہ رپورٹ تشویشناک ہے کہ آئندہ 7 برس میں پاکستان بنجر ہوسکتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آئندہ جنگیں پانی پر ہوں گی۔

لیکن پانی نہ ہونے سے خدشہ ہے کہ پاکستانی آپس میں لڑنا شروع کردیں گے۔ کیا اس وقت ان عناصر کو عقل آئے گی جو کالاباغ ڈیم کی مخالفت کررہے ہیں۔ پانی ذخیرہ ہوگا تو ملے گا۔ کوئی اور ڈیم بن نہیں رہا اور کالا باغ ڈیم بننے نہیں دیا جارہا۔ پانی سمندر میں ضائع ہورہا ہے۔ سندھ کے قوم پرست رہنما جو نجانے کس قوم کے نمائندہ ہیں، کہتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کے مردہ ایشو کو زندہ نہ کیا جائے، پانی ذخیرہ کرنے کے اور بھی موزوں مقامات ہیں۔ ان کی نشاندہی کی جائے اور وہاں ڈیم بنانے کی مہم شروع کی جائے ورنہ زندگی محال ہوجائے گی۔ بعض دانشوروں کا مؤقف ہے کہ کالا باغ ڈیم قومی یکجہتی کو خطرے میں ڈال کر نہ بنایاجائے۔ اس سے قطع نظر کہ قومی یکجہتی کس معاملے میں نظر آتی ہے، اگر پانی نہ ملا تو کسی موہوم قومی یکجہتی کا وجود بھی نہیں رہے گا۔ کالاباغ ڈیم نہ سہی، کوئی اور ڈیم بنا لیں تاہم جغرافیائی لحاظ سے کالاباغ ڈیم سب سے زیادہ مناسب ہے۔ اس سے سستی بجلی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ اس سے حاصل ہونے والی بجلی ایک روپیا فی یونٹ دستیاب ہوگی۔ لیکن وہ تو بوریا بستر لپیٹ کر نکل لیے۔ کمانڈو جرنیل کو اتنی ہمت نہ ہوئی کہ جس دلیری سے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اسی طرح ڈیم بھی بنوا دیتے۔ اس ڈیم کے لیے جو قیمتی مشینری حاصل کی گئی تھی وہ بھی تباہ ہوگئی۔ سیاست چمکانے کے بجائے ملک کا سوچیں۔ سندھ کے قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ کالاباغ ڈیم چیف جسٹس کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ شاید ایسا ہی ہو لیکن جن کا دائرہ اختیار ہے وہ کب فعال ہوں گے۔ کیا اس وقت جب قوم پیاسی مر جائے گی۔ جن ملکوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہے ان میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ اس وقت پانی نہ ملنے سے فصلیں سوکھ رہی ہیں۔ غذائی قلت کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ڈیمز کی تعمیر کا عزم تو ظاہر کیا ہے لیکن کیا وہ کچھ کرسکیں گے یا ان سے کہا جائے گا کہ یہ ان کا دائرہ اختیار ہی نہیں۔


متعلقہ خبریں


بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

مضامین
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ وجود بدھ 01 جولائی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر