وجود

... loading ...

وجود

انگریزی،انگریزنی اور ہم پاکستانی

جمعرات 07 جون 2018 انگریزی،انگریزنی اور ہم پاکستانی

انگریز برصغیر سے جاتے ہوئے اپنی اپنی انگریزنیوں کو تو ساتھ لے گئے۔تاہم انگریزی ہمارے واسطے بطور عذاب اور امتحان کے چھوڑ گئے۔ہم ٹھہرے باوقار پاکستانی،اپنی چائے میں مکھی بھی پڑ جائے تو اسے مکمل نچوڑ کر اور کبھی کبھار چوس کر چائے بدر کرتے ہوئے کہیں دور پھینک کر بقیہ چائے یہ کہتے ہوئے پی لیتے ہیں کہ حلال کمائی کی ہے، مگر کسی کی جھوٹی چائے کو تو ہاتھ لگانے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔بھلا تصور کریں کہ انگریز کی چھوڑی ہوئی انگریزی کو ہم کیسے ہاتھ لگائیں گے۔ہاں اگر انگریزی کی جگہ انگریزنی ہو تو ہاتھ اور منہ لگانے کو ہم قومی فریضہ خیال کریں گے۔پھر بھی ہم یارانِ مہر و محبت ،انگریزی کو بھی صیغہ مونث خیال کرتے ہوئے اس امید سے برداشت کر رہے ہیں کہ اک روز تو آئیگی آتے آتے’’پر کتھوں‘‘نہ انگریزی اور نہ ہی انگریزنی آتی ہے،مایوسی کہیں کفر تک نہ لے جائے اور مذکور ان دو صنف اور صنفِ نازک سے بدلہ لینا مقصود ہو تو رختِ سفر باندھیے گوروں کے دیس کا اور ایک عدد گوری سے شادی کر وا کے خوب اپنی تشنگی بجھائیے۔

جیسے 90 کی دہائی میں میرا ایک دوست اس عزمِ صمیم سے ولایت پڑھنے گیا تھا کہ وہاں جا کر انگریزی اور انگریزنیوں سے گن گن کر بدلے لوں گا۔اور وہ اپنی زبان کا پکا نکلا کہ گن گن کر اس نے سات آٹھ انگریزنیوں سے شادیاں کی ،گن گن کر پندرہ بیس مکس کراپ( mix crop ) قسم کے بچے پیدا کیے جنہوں نے بڑھاپے میں ایک ایک کر کے چھوڑ دیا اور اب محترم سوچ رہے ہیں کہ ’’اپنے اور اپنا پاکستان زندہ باد‘‘۔مگر یہ سب ہر بندے کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ انگریزی اور انگریزنی کو ایک ساتھ ہاتھ ڈال لے۔اور اگر یہ دونوں ایک ساتھ کہیں ہمارے ہتھے چڑھ جائیں تو پھر ہم ان دونوں کی وہ ’’ماں بہن‘‘ ایک کرتے ہیں کہ خدا پناہ۔میرا ایک دوست انگریزی کے ساتھ وہ ’’کتے خوانی‘‘ کرتا ہے کہ گورے ان کی انگریزی اگر پڑھ لیں تو انگریزنیوں کو بچوں سمیت موصوف سے ایسے چھپاتے پھریں جیسے بلی اپنے بچوں کو منہ میں دبائے سات گھروں میں لیے پھرتی ہو۔میری نظر سے ان کا لکھا ہوا ایک پیرا گراف گزرا۔اس پیراگراف پڑھنے کے بعد جو میرے احساسات تھے میں چاہتا ہوں کی قارئین کی نذر کروں،پیرا پڑھتے ہوئے مجھے ایسا لگا جیسے preposition کو دھوبی پلڑا مار کر اور مجھے کرنٹ لگا کر زمیں پر دے مارا ہو،preposition کے بے ہنگم استعمال سے میں سمجھا ،کہ ہو سکتا ہے کہ میں ہی ذہنی طور پہ تیا ر نہ تھا ،ایسا ہرگز نہیں تھا کیونکہ use of tense کو بھی انہوں نے اتنی tention میں رکھا ہوا تھا کہ میں خود tense ہو گیا کہ الہی ماجرا کیا ہے،بندہ ماسٹر ڈگری کر کے ماسٹر لگا ہوا ہے تو پھر انگریزی میں اتنا ماسٹر کیوں نہیں کہ ایک جملہ ہی ٹھیک سے لکھ سکتا ہو۔اب دیکھئے ذرا کہ ’’میں کہتا ہوں‘‘ کی انگریزی me told اور ’’تم آجانا‘‘ کی they come کی ہوگی تو انگریزنیوں کا اپنے بال نوچتے ہوئے اور انگریزوں کا گنج پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ہم سے ناراض ہونا تو بنتا ہے۔ابھی اسی کربِ ناگہانی میں مبتلا تھا کہ اچانک نظر verb پر پڑ گئی،جنابِ من نے اسے ایسے نکرے لگایا ہوا تھا کہ جیسے جیب کترے کو پولیس والے مار مار کر نکرے لگائے ہوتے ہیں۔انگریزی کے ساتھ ہونے والی اس’’ اجتماعی زیادتی‘‘کے بارے میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ good کی تیسری حالت کو goodest لکھ کرکچھ اس طرح ’حالتِ غیر‘‘ میں رکھا ہوا تھا کہ میری اپنی حالت غیر ہو گئی۔ایسے ہی ان سے ایک بار میں نے farm کی حالتیں پوچھ لیں تو former,formest بتاتے ہوئے ایک تفاخرانہ مسکراہٹ بھی ہماری طرف pass کی جیسے کہنا چاہ رہے ہوں کہ جناب انگریزی تو ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے،واقعی ایسا ہی ہے کیونکہ وہ بائیں ہاتھ سے ہی لکھتے ہیں۔وہ اکثر کہا کرتے ہیں کہ انگریزی ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہاں سمجھنے والوں کے لیے ضرور مسئلہ ہوتا ہے۔میں جس ادارے میں کام کرتا ہوں وہاں پاکستانی کمیونٹی کے علاوہ فلپائن،مصر،سری لنکا،نیپال اور شامی نسل کو لوگ بھی کام کرتے ہیں۔ماسوا پاکستانی کمیونٹی کے باقی سب کمیونٹی کے لوگ ایک دوسرے کو منہ مارنے کے ساتھ ساتھ انگریزی کو بھی اچھا خاسا منہ مار لیتے ہیں۔کیونکہ انگریزوں نے بھی ان چند علاقوں میں منہ مارے رکھا ہوا ہے۔ہمارے اکاؤنٹنٹ کا اسسٹنٹ ایک سری لنکن تھا جو چند ہفتے قبل ہی سری لنکا سے’’ لنگر انداز‘‘ ہوا تھا۔وہ ماسوا سنہالی اور انگریزی کے کسی بھی زبان سے نابلد تھا۔اور ہمارے اکاؤنٹنٹ کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی کہ ماسوا اردو کے ہر زبان کا اتنا ہی احترام کرتا ہے جتنا کہ اپنی بیوی کا۔ ایک روز ہم سب بس کے انتظار میں تھے کہ کیا دیکھتا ہوں کہ اکاؤنٹنٹ اس نو وارد سری لنکن سے ہنس ہنس کے گفتگو فرما رہا ہو،حیرانی ہوئی،ان دونوں کے قریب پہنچا تو کیا سنتا ہوں کی سری لنکن بچہ فر فر اردو میں بات کر رہا ہو یعنی اکائنٹنٹ صاحب نے خود انگریزی سیکھنے کا کشٹ نہیں کیا بلکہ اسے ہی اردو سکھا دی تا کہ اسے سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ ہو۔میں نے کہا کہ یار شرم کرو تم نے اسے اردو سکھا دی ہے تو خود انگریزی کب سیکھو گے تو کہنے لگا کہ دیکھو مراد صاحب میرا کمال کہ میں نے اس سری لنکن کو صرف دو ہفتوں میں اردو سکھا دی ہے۔اور خود اس لیے نہیں سیکھ رہا کہ میں اسے ترسا ترسا کے ماروں گا۔یعنی انگریزی کو۔

ہم پاکستانیوں کے لیے سب سے مشکل کام ترجمہ کرنا ہے چاہے اردو سے انگریزی یا انگریزی سے اردو میں ہو۔جیسے سائیکل کے کتے فیل ہو گئے کا ترجمہ کچھ اس طرح سے ہوگا،cycle,s dog failed اور بتی آ گئی ہےthirty two comes ،یہ تو طے ہے کہ ترجمہ اردو سے انگریزی یا انگریزی سے اردو ہو دونوں صورتوں میں ٹانگیں تو انگریزی کی ہی ٹوٹنی ہیں۔جیسے کہ جب ہماری قوم کو انگریزی میڈیم کا دورہ پڑا تو پرانے اساتذہ کو تو جیسے بوڑھے طوطوں کو پڑھنا سکھایا جا رہا ہو،کی سی حالت ہو گئی۔پھر بھی ان کی محنت اور کاوش کی داد تو بنتی ہے کہ سیکھنے میں لگے ہوئے ہیں۔جیسے کہ ایک سینئر استاد کو انگریزی میڈیم کے ایک نالائق بچے کو یہ بتانا مقصود تھا کہ پڑھنا ہے تو پڑھو وگرنہ میرا کیا جاتا ہے۔تمھارے باپ کا جائیگا یا ماں کا جائیگا۔اب ذرا ترجمہ ملاحظہ ہو کہ read,read,not read,not read,what my goes,your father goes,your mother goes۔لفظی ترجمہ بھلے ٹھیک ہی لگتا ہو مگراس اسکول کے بند ہونے میں مجھے رتی بھر شبہ نہیں تھا اور آجکل اس جگہ پان والے کی دکان ہے۔عرصہ دراز سے چونکہ ایک عرب ریاست میں بسلسلہ روزگار مقیم ہوں۔جہاں دنیا بھر سے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ایک دن ایک ریستوران میں دو مختلف کمیونٹی کے افراد کی گفتگو سننے کا اتفاق ہوا جو کچھ اس طرح سے تھی کہ اس کا taste آج بھی محسوس ہوتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے میرے سامنے کھانا کھانے کے بعد گاہک نے کہا تھا کہ taste has come (سواد آگیا بادشاہو)۔ہوا کچھ یوں کہ میں اور میرا دوست مظفر ریستوران میں کھانا کھا رہے تھے کہ ایک آواز نے سب کو متوجہ کیا کہoh deaf listen یعنی او بیرے سنو۔اب بیرا بھی ماشااللہ فل انگریزی اور مستعدی سے جواب میں بولا oh yeah my head. یعنی جی سر۔گاہک،what ,what is یعنی کیا کیا ہے۔بیرا،foot and head (سری پائے)گاہک کھانا کھاتا ہے اور اپنا بل کچھ اس طرح سے منگواتا ہے کہbring my math (میرا حساب بلاؤ)اور آخر میں کھانے کی تعریف اس طرح سے کرتا ہے کہ taste has come یعنی مزہ آ گیا۔

اسی سے ایک ضمنی واقعہ یاد آ گیا کہ ایک سردار جی جن کا انگریزی میں ہماری طرح ہاتھ کافی تنگ تھا جو کہ ایک عدد کینیڈین بیوی کو کھلے دل سے قبولیت بخشتے ہوئے گھر داماد کے طور رہ رہا تھا۔ایک روز بیوی کی فرمائش پہ ایک اسٹور میں سردا لینے چلا گیا۔اب سردار کو نہیں پتہ تھا کہ’’ سردے‘‘کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں۔کافی سوچ بچار کے بعد ذہن ناتوا میں یہ خیال لانے میں کامیاب ہو گیا کہ اگر سردی کو انگریزی میں cold کہتے ہیں تو سردے کو یقیناًcolda ہی کہتے ہونگے،سردار جی سیل مین کو بلا کر مدعا بتاتے ہیں تو سیل مین بے چارہ پریشانی کے عالم میں مینجر کو بلا کہ پوچھتا ہے کہ سردار جی کا مسئلہ حل کریں،ابھی سبھی لوگ باجماعت پریشانی کے عالم میں سوچ رہے تھے کہ ایک اور سردار وارد ہوئے تو انہیں دیکھ کر سب کی جان میں جان آئی کہ چلو یہ سردار مسئلہ کا حل نکال دیتے ہیں۔پہلا سردار دوسرے سے کہتا ہے کہ دیکھو سردارجی پچھلے ایک گھنٹہ سے میں colda مانگ رہا ہوں اور ان کو پتہ ہی نہیں چل رہا کیسا اسٹور ہے یہ،یہ سنتے ہی دوسرا سردار چلایا کہ ابے نالائق تم ایک گھنٹہ کی بات کر رہے ہو میں پچھلے ایک ماہ سے HEATA تلاش کر رہا ہوں مجھے ابھی تک وہ نہیں ملا تمہیں ایک دن میں کیسے مل جائے گا۔خیر یہ تو کچھ بھی نہیں سکول کی PTM میں ایک بچہ کے والد سے یہ شکائت کی گئی کہ آپ کا بچہ انگریزی لکھنے میں بہت کمزور ہے تو جواب ملا کہ اچھا تو ’’لکھنے‘‘ میں کیسا ہے۔لیجئے جناب بیٹا نمبری تو باپ دس نمبری۔چلیے اس ساری بحث سے ایک نتیجہ تو نکلا کہ جیسے انگریز جاتے جاتے چلے ہی گئے،ایسے ہی انگریزی آتے آتے آ ہی جائیگی۔یہ ظالم ہے ہی ایسی غریبوں کے پاس آتی نہیں اور امیروں کے پاس سے جاتی نہیں۔میری نظر میں تو اس کا ایک ہی حل ہے کہ گھر میں ایک عدد انگریزنی بیاہ کے لے آئیں انگریزی خود بخود ہی آ جائے گی۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر