وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اکیسویں صدی میں اردو نعت

اتوار 03 جون 2018 اکیسویں صدی میں اردو نعت

غزل اور آزاد نظم کی ہیت میں اگرچہ نعت کا ایک وقیع ذخیرہ منظر عام پر آیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مسدس، مخمس، گیت ، ماہیا ، ہائیکو، نثری نظم، قطعہ اوررباعی میں بھی نعت لکھی گئی اور لکھی جارہی ہے۔رواں سال نعتیہ ادب کے ایک وقیع جریدے ’’نعت رنگ ‘‘ کا سلور جوبلی نمبر شائع ہوا جسے اکیسویں صدی میں نعت کے سلسلہ میں ایک اہم دستاویز کی حیثیت کا حامل قرار دیا جاسکتا ہے۔نامور نعت نگار اورنعت خواں سید صبیح الدین صبیح رحمانی کی ادارت میں شائع ہونے والا یہ کتابی سلسلہ’’نعت رنگ‘‘کا شمارہ روایتی آب وتاب کے ساتھ منظر عام پر آیا ہے۔’’نعت رنگ‘‘ کا یہ کتابی سلسلہ نعتیہ ادب کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں میں مرکز کی حیثیت رکھتا ہے ۔صبیح رحمانی صاحب نعت لکھنے،پڑھنے اور اس کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں اور یہ کام ایک تحریک کی صورت انجام دے رہے ہیں۔نعت رنگ کے علاوہ وہ ایک ریسرچ سنٹر بھی قائم کرچکے ہیں جو نعت کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا ادارہ ہے۔نعت رنگ کے پچیسویں شمارے کا آغاز مہمان مدیر مبین مرزا کے ابتدائیہ سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے اردو کی شعری تہذیب کے تناظر میں نعت کے سفر کا جائزہ لیا ہے۔ان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ اگر غزل نے ہمارے دل کی دھڑکنوں کو گنا ہے تو نعت نے ہماری روح کے وجد آفریں نغمے سے انہیں ہم آہنگ کیا ہے۔ اب عصر حاضر کے چند اہم نعت گو شعراکا اختصار سے ذکر کرتے ہیں۔

عبدالعزیز خالد (2010-1927)
عصر جدید کے نعت گو شعرامیںعبدالعزیز خالدکو جداگانہ اسلوب اور اپنے خاص رنگ ِشعر کے باعث امتیازی مقام حاصل ہے ،ان کی انفرادیت کا سبب ان کا لب ولہجہ اور زبان و بیان ہے،ان کی نعت اپنے منفرد خدوخال کے باعث دور سے پہچانی جاتی ہے، عبدالعزیزخالد کے ہاں موضوعات ومضامین، وسعت ِ علمی، اسا طیری عناصر، تاریخ وتمدن،تہذیب و ثقافت،ملت ِاسلامیہ کے عروج و زوال کے تذکرے ،معاشرت اور عمرانیات کے مختلف حوالوں نے ایک الگ کائنات تخلیق کی ہے ،انہوں نے نہ صرف منفرد انداز میںکلام ِپاک اور احادیث ِنبویؐ کا ایک وسیع ذخیرہ نعت کا حصہ بنا یا بلکہ قوتِ بیان اور قادر الکلامی کابھی ثبوت دیا۔انہوں نے اپنی نعتوں میں عربی ، فارسی اور ہندی الفاظ کا کثرت سے استعمال کیا اورنئی تراکیب بھی وضع کیں، یہ بات بھی ان کی اختراع پسند طبیعت کا اظہار ہے کہ انہوں نے اپنی کتابوںکے نام قدیم صحائف میں مذکورحضورؐ کے اسمائے مبارکہ ’’فارقلیطؐ ‘‘ ’’ ، منحمناؐ، ’’حمطایاؐ‘‘، ’’ماذماذؐ‘‘، ’’عبدہؐ‘‘ پر رکھے اور ایک زمانے کو ان ناموںسے متعارف کرایا ۔ انہوں نے ایجادو اختراع،جمیل و جلیل اور نئے الفاظ کا استعمال کرکے اجتہادکا راستہ روشن کیا تاہم ناقدین نے ان کے ہندی آمیز لہجے کو ناپسند کیا اور اسے نعت کے تقدس کے منافی قرار دیا ۔عبدالعزیز خالدایک وسیع اور وقیع ذخیرہ نعت یادگار چھوڑ کر گزشتہ برس جہانِ فانی سے دارِ بقا کی جانب روانہ ہوگئے:

بچھائوں تری سیج چن چن کے کلیاں
تو صاحب ہے میرا تو میرا ملا ہے
٭
تلقیط و طاب طاب ، حما طیط و حاط حاط
دوری کے باوجود وہ ہر وقت پاس ہے
ادیب رائے پوری( 2004-1928)
ادیب رائے پوری دنیائے نعت کا ایک روشن حوالہ ہیں،منفرد نعت خوانی کے ساتھ پہلے نعتیہ رسالے’’نوائے وقت‘‘ کے اجرا،اشاعت اور اس کی ادارت کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہوا،انہوں نے ایک تحریک کے طور پر نعت کے سلسلہ میں متعدد علمی اور تحقیقی کاموںکا آغاز بھی کیا۔انہوں نے اس قدم کے نشاں،تصویر ِکمال ِمحبت،مقصود کائنات،موجِ اضطراب سمیت کئی کتابیں یادگار چھوڑی ہیں:
خدا کا ذکر کرے ذکرِ مصطفےؐ نہ کرے
ہمارے منہ میں ہو ایسی زباں خدا نہ کرے
مدینہ جا کے نکلنا نہ شہر سے باہر
خدا نخواستہ یہ زندگی وفا نہ کرے
مسرور کیفی (2003-1928 )

مسرور کیفی اردو نعت گوئی میں حب رسولؐ کا پرچار کرنے والے شاعر ہیں،انہوں نے عشق و محبت سے سرشار ہو کر نعت کہی جسے سادگی اور بے ساختگی نے نکھار بخشا،ان کی نعت میں اسوہ ِ رسولؐ کے مضامین بھی دل نشین انداز میں بیان ہوئے ہیں ،خلوص ،اثر انگیزی اور وارفتگی نے ان کی نعت کو تاثیر سے لبریز کردیا ہے،انہوں نے چراغ ِحرا،جمال ِ حرم،مولائے کل،سیدالکونین اور نور ِیزداں سمیت درجن بھر مجموعے یادگار چھوڑے ہیں:
قدموں سے میں مسرور لپٹ جائوں،جو مل جائے
سرکارِ دو عالم ﷺ کا کوئی چاہنے والا
٭
پھول میں ہے نہ وہ صبا میں ہے
ایک خوشبو جو خاکِ پا میں ہے
حفیظ تائب(2004-1931 )
حفیظ تائب عہد موجود کے ایک ایسے شاعر تھے جنہیںایک دبستاں کی حیثیت حاصل رہی،انہوں نے نئی نعت کی ترویج اور تشہیر کے لیے ایک تحریک کے طور پر کام کیا اور ساری زندگی اس کے لیے وقف کردی،ان کے نعتیہ کلام میںتخلیقی واردات کے ساتھ طرز اظہار کا دھیما پن،اسلوب کی دل کشی ،محبت وعقیدت، دردمندی اور جذبہ واحساس کا رچائوپوری دل آویزی کے ساتھ موجودہے،ڈاکٹرابو لخیر کشفی نے انہیں کوثری نغموں والا شاعر کہا جبکہ ڈاکٹر سید عبداللہ ان کی کتاب صلو اعلیہ وآلہ کے پیش نامہ میں لکھتے ہیں’’حفیظ تائب کی نعت پڑھ کے یوں محسوس ہوتاہے کہ وہ ایک ایسا وصاف ہے جو حضورؐ کے روبرو کھڑا ہے،اس کی نگاہیں جھکی ہوئی ہیں اور اس کی آواز احترام کی وجہ سے دھیمی ہے،مگر نہ ایسی کہ سنائی نہ دے اورنہ ایسی اونچی کہ سوئے ادب کا گمان گذرے، شوق ہے کہ امڈا آتا ہے اور ادب ہے کہ سمٹا جا رہا ہے۔‘‘حفیظ تائب نے حضورﷺ کے ارشادات، سیرت کے تابدار نقوش اور مقصدِ ِنبوت و رسالت کو اپنی نعت کا موضوع بنایااور تسلسل کے ساتھ امت مسلمہ کے لیے اصلاحی مقاصدکے چراغ روشن کیے، انہوں نے فہم سیرت ِ رسولؐ کو نعت گوئی کے لیے لازمی شرط قرار دیا:

نعت گوئی کے لیے حسنِ ارادت شرط ہے
ساتھ کچھ فہمِ کتاب و علمِ سیرت شرط ہے

حفیظ تائب نے مسلمانوں کو پیش آمدہ مسائل،پاکستان میں زوال آمادہ اخلاقی،سیاسی اورمذہبی اقدار کے ساتھ عالمی سطح پر مسلمانوںکو درپیش مشکلات کو بھی اپنی نعت کا موضوع بنا یااور آج کے انسان کی حاجتیں بھی بارگاہ ِرسالت میں پیش کیں،اس بات پر اہل نقد و نظر کا اتفاق ہے کہ حفیظ تائب نے اردو اور پنجابی نعت گوئی کو نئی زندگی دی اور عہد موجود کے لکھنے والے ان کے جلائے گئے چراغوں کی روشنی سے استفادہ کر رہے ہیں۔ حفیظ تائب کے اردو نعتیہ مجموعہ ہائے کلام جن میں صلوعلیہ وآلہ،وسلموتسلیما،وہی یسیٰن وہی طٰہٰ اورکوثریہ شامل ہیں کے علاوہ غزل،ملی شاعری اورپنجابی نعتیہ و مناقب پر مشتمل کتابیںبھی شائع ہوئیں ،ان کے انتقال کے بعد ان کا کلیات 2005میں شائع ہوا جبکہ نعتیہ مجموعہ حضوریاں2010اورطاقِ حرم2007میں منظر عام پر آئے۔انہوں نے تحقیق و تدوین کے حوالے سے بھی کئی کتابیںیادگار چھوڑیں:
دے تبسم کی خیرات ماحول کو، ہم کو درکار ہے روشنی یا نبیؐ
ایک شیریں جھلک، ایک نوریں ڈلک، تلخ و تاریک ہے زندگی یا نبیؐ
کام ہم نے رکھا صرف اذکار سے، تیری تعلیم اپنائی اغیار نے
حشر میں منہ دکھائیں گے کیسے تجھے، ہم سے ناکردہ کار امتی یا نبیؐ
مظفر وارثی(2011-1933)

مظفر وارثی عہدِحاضر کے ایسے منفرد نعت گو تھے جنہوں نے نعت میں مترنم اسلوب متعارف کرایا، انہوں نے نغمہ کاری کے ساتھ دردمندی،محبت و عقیدت اورقومی و ملی مسائل کو سادہ لب و لہجے اور دل نشین انداز میں پیش کیا،وہ ایک عمدہ غزل گو بھی تھے اس لیے ان کی غزل کی طرح ندرت و جدت اور تازہ کاری ان کی نعت کابھی حصہ بن گئی۔ ڈاکٹر ریاض مجید لکھتے ہیں’’انہوں نے لفظ اور جذبہ کی خوشگوار ہم آہنگی، عقیدے اور ادبیت کو یکجا کرکے ایسی نعتیں لکھی ہیں جن کو اردو نعت گوئی کی تاریخ میں یقینا نمایاں حیثیت حاصل ہوگی‘‘۔
(اردو میں نعت گوئی ۔ص 519)

ان کی نعتیہ کتابوں میں کعبہء عشق،نورِ ازل،بابِ حرم، میرے اچھے رسولؐ،دل سے در ِنبی ؐتک،صاحب التاج ؐاور امی لقبیؐ شامل ہیں، علاوہ ازیں حمدیہ کلام اورخود نوشت سمیت ان کی شاندار غزلیہ شاعری کے بھی کئی مجموعے شائع ہوئے اور شائقین سے داد پائی۔’’ وہی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے ،مرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے،یا رحمت للعالمین‘‘جیسے ان کے حمدیہ ونعتیہ کلام کو عالمی سطح پر شہرت نصیب ہوئی:
پوری تاریخِ جہاں میں روشنی اتنی نہیں
لمحے لمحے میں اجالا جس قدر انؐ سے ہوا
٭
مجھے کعبہ بہت پیارا ہے لیکن
نبیؐ کے ساتھ ہجرت کر رہا ہوں
سید ریاض الدین سہروردی (2001-1919)

سید ریاض الدین سہروردی کا تعلق ایک مذہبی،روحانی اور علمی گھرانے سے تھا،نعت گوئی اور نعت خوانی کا ذوق انہیں ورثہ میں ملا،صاحب سلسلہ بزرگ تھے،انہوں نے نعت کے فروغ کے لیے بزم جلال اور بزم ریاض قائم کیں اور اس کام کو ایک تحریک کے طور پر آگے بڑھایا،خزینۂ ریاض،کلام ریاض،گلد ستہ ء نعت اور دیوان نعت ان کی یادگار کتابیں ہیں،ان کے صاحب زادے سید فصیح الدین سہروردی نے نعت خوانی میں عالمی شہرت حاصل کی ہے اور اپنے والد کے نعتیہ کلام کو دنیا بھرمیں متعارف کرایا۔ سیدریاض الدین سہروردی کا کلام عشق رسول ؐ سے لبریز ہے،ذوق و شوق،وارفتگی اور شیفتگی ان کے کلام کا نمایاں وصف ہیں:
جلوے چمک رہے ہیں دربارِ مصطفےؐ میں
اور دل مہک رہے ہیں دربارِ مصطفےؐ میں
ہے زائروں کی جانب انؐ کی نگاہِ رحمت
چہرے چمک رہے ہیں دربارِ مصطفےؐ میں
بشیر حسین ناظم(2012-1932 )

علامہ بشیر حسین ناظم عصرِموجود کے نامور نعت گو شاعر،نعت خواں ،دانشور اور سچے عاشق ِ رسول ؐ تھے،ان کی نعتوں میں سرکار ﷺ سے والہانہ محبت،جذب و کیف اور مترنم لب و لہجہ پورے فنی رچائو کے ساتھ موجود ہیں، محبت اورشیفتگی کے ساتھ قادر الکلامی ان کا نمایاں وصف رہا،اسوہ ِ رسولؐ کے بیان کے ساتھ ساتھ ان کی نعت روحانی واردات کا بھی خوبصورت اظہار ہے، انہوں نے نعت کے فروغ اور تشہیر کے لیے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں،ناظم صاحب چونکہ فارسی زبان پر بھی دستِ کمال رکھتے تھے اس لیے انہوں نے فارسی کے قدیم شعراکے نعتیہ کلام پر تضامین بھی لکھیں ،انہوں نے کشف المحجوب اور امام احمد رضا بریلویؒ کے مشہورِعالم سلام ’’مصطفےؐ جان ِرحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ کا انگلش میں ترجمہ بھی کیا اوراس پر تضمین بھی لکھی، انہوں نے دیوان ِغالب کی تمام غزلوں پر نعتیں کہیں اور یہ مجموعہ ’’جمال جہاں فروز ‘‘کے نام سے شائع کرایا،اردو اورپنجابی حمدیہ ،نعتیہ کلام پر مشتمل مجموعوں سمیت 32 کتابوں کے خالق تھے،وہ کافی عرصہ نوائے وقت میں اسلامی صفحہ ترتیب دیتے رہے ،میرا ان سے دس سال تک عقیدت و محبت کا تعلق رہا ،بہت محبت کرنے والے،کثیر المطالعہ ،خوش طبع اور خوش گفتار انسان تھے ، لفظ کی صحت کاخیال رکھتے اور غلط تلفظ پر محفل ہی میں ٹوک دیتے ،وہ محافل کی جان تصور کیے جاتے اور اپنے خاص لحن سے نعت پڑھ کر محفل پہ وجد طاری کر دیتے۔ انہوں نے متعدد حج کیے اور قریبا دو کروڑ مرتبہ درود شریف پڑھنے کی سعادت بھی حاصل کی۔ان کی شاعر ی کی متعدد کتابیں زیر طبع ہیں:

نبیؐ کے خوانِ رحمت کے ہیں ریزے
مودت کیا، محبت کیا، وفا کیا
آپؐ کی بدولت ہے، آپؐ کی عنایت ہے
جو بھی ہے یہاں اپنا، جو بھی ہے وہاں اپنا
راجا رشید محمود

راجا رشید محمودنامور نعت نگار،صاحب ِطرز ادیب،ممتاز نقاد،مورخ اورسیرت نگار کی حیثیت سے عالم گیر شہرت رکھتے ہیں،انہوں نے نعت کے حوالے سے بے مثال خدمات انجام دی ہیں،ان کی نعت میں اظہار محبت وعقیدت،سلام،ذکرِمدینہ،تحفظِ ناموس ِ رسالت،عظمتِ مصطفےؐ،واقعہ ِمعراج،استغاثہ،صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتؓ سے محبت کے مضامین کثرت سے ملتے ہیں،انہوں نے نعت میں نئے امکانات کی بازیافت اور اس کے کینوس کی توسیع کی کوشش کی ہے، انہیںپہلی منظوم سیرت بصورتِ قطعات اور مخمساتِ نعت لکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا،علاوہ ازیں انہوں نے نعت کے حوالے سے تحقیق،تنقید اورتدوین کے میدان میںبھی قابل قدر کام کیا ہے،راجا رشید محمود ’’ورفعنالک ذکرک،حدیثِ شوق، منشورِ نعت،شہرِ کرم اور مدیح سرکارؐسمیت درجنوں کتابوں کے خالق ہیں:

اسوہ رسولِ پاکؐ کا، جادہ ہے نور کا
نقشِ قدومِ حضرتِ محبوبِ ربؐ، چراغ
٭
نبیؐ کے شہرِ حسیں تک رسائیوں کے لیے
وسیلے ہم نے تو مدحت سرائیوں کے لیے
امین راحت چغتائی

امین راحت چغتائی کی نعت روحانی تجربات اور محبت رسولؐ کا ایسا والہانہ اظہارہے جو مدحِ سرکارؐ کے حوالے سے اسلوب کی سطح پر نئے پن کا حامل بھی ہے اورتہذیبی اقدار کامرقع بھی، انہوں نے اپنے سارے نعتیہ سفر میں موضوع اوراسلوب کی ہم آہنگی سے جدت پیدا کرنے کی سعی کی اور زندگی مدحت ِ رسولؐ کے لیے وقف کردی:
وہ بھی دن آئے کہ پہنچوں جو درِ اقدس پر
دل مرا دل نہ رہے، انؐ کی تمنا بن جائے
٭
مہک پھیلی ہوئی ہے ہر طرف اسمِ محمدؐ کی
جہاں ہوتی نہیں پت جھڑ ،میں اس گلزار میں آیا
اعجاز رحمانی
اعجاز رحمانی نے شاعری کے تقا ضوں کو مد نظر رکھ کر اسوہ ء رسولؐ کا پیغام عام کرنے کاپرچم بلند کیا اوریہ کوشش کی کہ پیامِ سرکارؐ جذبہ و احساس کی ایسی کیف آور لے میں پیش کیاجائے جو دلوں میں عشق ِمصطفٰےؐ کے چراغ روشن کر دے،وہ اسلامی تعلیمات سے آگاہ ہیں اور معاشرے کواسلامی اقدار کا حامل دیکھنا چاہتے ہیں،ان کے کلام میں خیال کی تابندگی بھی ہے اور فکر کی بلندی بھی،روانی بھی ہے اور سلاست بھی،انہوں نے اپنی فکر کے اظہار کے لیے جہاں اپنے جذب دروں اور بالغ نظری سے کام لیا ہے وہیں مترنم لب و لہجے کو بھی کام میں لائے ہیں جس نے ان کی نعت کوپرتاثیراور دل آویز بنا دیا ہے، خواجہ رضی حیدرلکھتے ہیں ’’اعجاز رحمانی کی نعتیہ شاعری کا اعجاز یہ کہ انہوں نے رسولﷺ کے پیغام کی اصل غایت کو پیش نظر رکھ کر انسان کی تمدنی زندگی کو اسوہ ِرسولؐ کے مطابق بنانے کے لیے اپنی فکری توانائیوں کو الفاظ میں اس طرح ڈھالا ہے کہ شاعری کی مقتضیات بھی پوری ہوں‘‘۔(پیش لفظ۔آسمان رحمت) اعجازرحمانی کے نعتیہ مجموعوں میں اعجازِ مصطفٰے ؐ،پہلی کرن آخری روشنی،افکار کی خوشبو،چراغ مدحت اور آسمان رحمت شامل ہیں،اعجاز رحمانی کی نظموں اور غزلوں کے بھی کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں:
آپؐ نے محنت کی عظمت کا لوگوں کو احساس دیا
آپؐ سے پہلے دنیا میں خوشحال کوئی مزدور نہ تھا
٭
یہ آپؐ کا صدقہ ہے جو دنیا میں ہے جاری
تہذیب و تمدن کا سفر، رحمتِ عالمؐ
ریاض حسین چودھری
ریاض حسین چودھری کی نعتیہ شاعری جدید رنگ ِشعر کی ایک عمدہ مثال ہے، ان کا اسلوب دل کش اور پرتاثیر ہے۔ ان کی نعت میں سرکارؐ کی ثنا، عقیدت،خواہش و حسرت ،امید سمیت زندگی کے رنگ جب ندرت ِفن، کیف ، جذب و مستی اور تخلیقی سچائی کے ساتھ منعکس ہوتے ہیں تو ایک ایسی کہکشاں ظہور پاتی ہے جو قاری پر سحر طاری کر دیتی ہے۔ان کی نعت کی ایک اہم خوبی ان کی شعریت اور تغزل ہے جو ان کے ہر شعر اور ہر نعت میںاپنی چھب دکھا رہے ہیں۔ریاض حسین چودھری نے غزل ،آزاد نظم اور قطعات کی ہیئت میں نعت کہی اور خوب کہی۔ان کے اب تک چھ نعتیہ مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن میں تمنائے حضوری،متاع ِقلم،زرِمعتبر، رزقِ ثنا،کشکول ِآرزو اور سلام علیک شامل ہیں۔تمنائے حضوری اور سلام علیک میں طویل نعتیہ نظمیں ہیں جو ان کی مہارت ِ فن کا بھی عمدہ نمونہ ہیںاورسلام علیک کو تو اکیسویں صدی کی پہلی طویل نعتیہ نظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے:
طوافِ گنبدِ خضرا میں عمر کٹ جائے
عجیب شوق مرے بال و پر میں رہتے ہیں
٭
گنبدِ خضرا کے دامان ِکرم میں بیٹھ کر
سوچتا ہوں، بعد اس کے اور کیا چاہوں گا میں
عابد سعید عابد
عابد سعید عابد کا شمار عہد ِحاضر کے باکمال نعت گو شعرا میں ہوتا ہے،ان کی اب تک کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور نئی صدی کی پہلی دہائی میں ان کے سات نعتیہ مجموعے زیور طبع سے آراستہ ہوئے جن میں نجات،زیارت، رسائی،قبولیت،عافیت،ودیعت اور آبنائے گداز شامل ہیں،بعد ازاں ان کا کلیاتِ نعت بھی خلد ِنظر کے نام منظر عام پر آچکا ہے،عابد سعید عابد نے چونکہ غزل سے نعت کی طرف مراجعت کی اس لیے ان کی نعت میں غزل کا رنگ بھی در آیاہے،ان کا اسلوب سادہ بھی ہے اور منفرد بھی ،تازہ کاری بھی ان کے ہاں اپنی چھب دکھاتی ہے اور ذوق و شوق کا والہانہ پن بھی،انہوںنے سیرت ِ رسولؐ کے مختلف گوشوں کا تذکرہ بھی کیا ہے اورعقیدت و محبت کا اظہار بھی:
قدم ڈر ڈر کے رکھتا ہوں زمیں پر
کہ اس پہ نقشِ پائے مصطفےؐ ہے
٭
سبز گنبد کی روشنی عابد
جان و دل میں سمو کے آیا ہوں
راغب مراد آبادی(2011-1918)
راغب مرادآبادی کی نعت فنی پختگی اور استادانہ مہارت کاعمدہ نمونہ ہے،انہوں نے زیادہ تر غالب کی زمینوں میں نعت لکھی جو بلندیِ خیال کی حامل بھی ہے اورکیف وسرمستی کاحاصل بھی ،انہوں نے ’’مدح رسول ؐ ‘‘‘کے نام سے ایک غیر منقوط نعتیہ مجموعہ ترتیب دیا اور اپنے ایک سفرنامہ ِ حجاز کو رباعیات کی صورت میں منظوم بھی کیا،ان کی شاعری اور نثرکی40 سے زائد کتب منظر عام پر آئیں،مشاعرہ کلچر کے فروغ کے لیے بھی ان کی خدمات ہمیشہ یا د رکھی جائیں گی:
جن کا امتی ہونا زندگی کا حاصل ہے
آکے انؐ کے قدموں میں زیست کا مزا پایا
٭
پر نور مدینے کا ہے کونا کونا
کم تر ذروں سے ہے یہاں کے، سونا
لیکن ہے نشاطِ روح مومن کے لیے
روزے پہ حضورؐ آپؐ کے حاضر ہونا


متعلقہ خبریں


طالبان کا تاجکستان جانے والی مرکزی سرحدی گزرگاہ پر قبضہ وجود - بدھ 23 جون 2021

طالبان نے افغانستان کی تاجکستان کے ساتھ مرکزی سرحدی گزرگاہ پر قبضہ کرلیا اور حفاظت پر مامور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار وہاں سے سرحد پار کر کے فرار ہو گئے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق قندوز شہر سے 50 کلو میٹر کے فاصلے پر افغانستان کے شمال میں شیر خان بندر پر قبضہ امریکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد سے طالبان کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن خالدین حکیمی نے بتایا کہ بدقسمتی سے صبح ڈیڑھ گھنٹہ لڑائی کے بعد طالبان نے شیر خان بندرگاہ اور تاجکستان کے ساتھ واقع قصبے ...

طالبان کا تاجکستان جانے والی مرکزی سرحدی گزرگاہ پر قبضہ

سندھ میں گرمی میں بھی گیس کا بحران ، صنعتوں کو گیس فراہمی بند وجود - بدھ 23 جون 2021

سندھ میں گرمی میں بھی گیس کا بحران ہے جس کے باعث صنعتوں کو گیس فراہمی بند کردی گئی ہے ۔ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق نان ایکسپورٹ صنعتوں کو گیس کی فراہمی آج سے غیر معینہ مدت کے لیے بند کردی گئی ہے ، جنرل انڈسٹریز کی کیپٹو پاور 50 فیصد بند کی گئی ہے ، کنڑ گیس فیلڈ میں مرمت کا کام جاری ہے ۔ دوسری جانب کراچی کے علاقے ڈیفنس میں 20 انچ گیس پائپ لائن پرترقیاتی کام جاری ہے جس سے ڈیفنس اور کلفٹن کے مختلف علاقوں میں رات 8 بجے سے اگلے 14 گھنٹے کیلیے گیس کی فراہمی متاثرہوسکتی ہے ۔...

سندھ میں گرمی میں بھی گیس کا بحران ، صنعتوں کو گیس فراہمی بند

وزیراعظم کے انٹرویو کا بھارت سے متعلق حصہ سنسر، امریکی ٹی وی سے وضاحت طلب وجود - بدھ 23 جون 2021

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو کو سنسر کرنے کا معاملہ سامنے آنے پر پاکستان نے امریکی ٹی وی سے وضاحت مانگ لی ۔حکومتی ذرائع کے مطابق امریکی ٹی وی چینل نے وزیراعظم عمران خان کا انٹرویو سنسر کیا، انٹرویو میں بھارتی ہندوتوا سوچ کے بارے میں وزیراعظم کے تاثرات سنسر کیے گئے ۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کا انٹرویو سنسر کرنے پر امریکی ٹی وی سے وضاحت مانگ لی۔حکومتی ذرائع کے مطابق امریکی ٹی وی نے وزیراعظم کا انٹرویو سنسر کرکے آزادی اظہ...

وزیراعظم کے انٹرویو کا بھارت سے متعلق حصہ سنسر، امریکی ٹی وی سے وضاحت طلب

طالبان کی کارروائیاں، پینٹاگون نے انخلا کی رفتار سست کرنیکا عندیہ دیدیا وجود - بدھ 23 جون 2021

پینٹاگون نے انتباہ کیا ہے کہ طالبان کی کارروائیوں اور انہیں حاصل ہونے والے فوائد کے باعث افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا عمل سست کیا جا سکتا ہے ۔ میڈیا سے گفتگو میں پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن برقرار رہے گی لیکن انخلا کے عمل کو صورتحال کی مناسبت سے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے مختلف اضلاع پر حملوں اور پر تشدد کارروائیوں کے بعد صورتحال تبدیل ہو رہی ہے ۔جان کربی نے کہا کہ...

طالبان کی کارروائیاں، پینٹاگون نے انخلا کی رفتار سست کرنیکا عندیہ دیدیا

سینیٹر محسن عزیر کا نام ا سمگلروں کی لسٹ میں موجود ہے ، قائمہ کمیٹی میں انکشاف وجود - بدھ 23 جون 2021

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں انکشاف ہواہے کہ سینیٹر محسن عزیر کا نام سمگلروں کی لسٹ میں موجود ہے کسٹم نے ان کے گودام سے سمگلنگ کا سامان برآمد کیا تھا۔ منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر طلحہ محمود کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ذرائع کے مطابق کمیٹی میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سینیٹر محسن عزیز کے کولڈ اسٹوریج/ گودام پر ریڈ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کسٹم کے 100 گن مین نے چھاپہ مارا، سامان ضبط کیا اور گودام کے مالک سینیٹر محسن عزیز کو سمگلر...

سینیٹر محسن عزیر کا نام ا سمگلروں کی لسٹ میں موجود ہے ، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

ٹرمپ کورونا میں مبتلا امریکی شہریوں کو گوانتاناموبے بھیجنا چاہتے تھے ، امریکی صحافیوں کا انکشاف وجود - بدھ 23 جون 2021

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہ کورونا میں مبتلا امریکی شہریوں کو گوانتاناموبے بھیجنا چاہتے تھے ۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دو صحافیوں کی جانب سے لکھی گئی کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر کا خیال تھا کہ امریکا میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے شہریوں کو گوانتاناموبے کی جیل میں رکھا جائے ۔رپورٹ کے مطابق کتاب میں بتایا گیاہے کہ امریکا میں کورونا وائرس کی صورتحال خراب ہونے کے بعد ٹرمپ نے فروری 2020 میں ہونے والی ایک میٹنگ میں اپنے سٹ...

ٹرمپ کورونا میں مبتلا امریکی شہریوں کو گوانتاناموبے بھیجنا چاہتے تھے ، امریکی صحافیوں کا انکشاف

برطانوی وزیر برائے جنوبی ایشیا لارڈ احمد کی پاکستان آمد وجود - بدھ 23 جون 2021

برطانوی وزیرِ مملکت برائے جنوبی ایشیا اور کامن ویلتھ اور تنازعات میں جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے برطانوی وزیرِ اعظم کے نمائندہ خصوصی لارڈ )طارق( احمد آف ومبلڈن اپنے دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ۔ ان کے دو شہروں پر محیط اس دورے سے برطانیہ اور پاکستان کے مابین دوستی کو مزید تقویت ملے گی۔اس دورے کے دوران لارڈ احمد کی وفاقی وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی و دیگرسے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ان ملاقاتوں کے دوران لارڈ احمد موسمیاتی تغیر سمیت عالمی طور پر درپ...

برطانوی وزیر برائے جنوبی ایشیا لارڈ احمد کی پاکستان آمد

بلی آئلش نے نامناسب زبان کے استعمال پر ایشیائی افراد سے معافی مانگ لی وجود - بدھ 23 جون 2021

کم عمری میں ہی متعدد ریکارڈز اپنے نام کرنیوالی پاپ گلوکارہ 19سالہ بلی آئلش نے لاعلمی میں ایشیائی اور سیاہ فام افراد کے حوالے سے نامناسب زبان استعمال کرنے پر معافی مانگی لی۔میڈیا رپورٹکے مطابق بلی آئلش نے انسٹاگرام اسٹوری پر ایشیائی نژاد اور سیاہ فام افراد سے معافی مانگتے ہوئے دعوی کیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے گانے کی ایک ویڈیو میں وہ جس زبان کا استعمال کر رہی ہیں، انہیں اس وقت مذکورہ زبان کے مفہوم کا علم نہیں تھا۔گلوکارہ نے اپنے معافی نامے میں لکھا کہ وائرل ہونے والی ...

بلی آئلش نے نامناسب زبان کے استعمال پر ایشیائی افراد سے معافی مانگ لی

اپوزیشن نے عثمان کاکڑ کے انتقال پر سوال اٹھا دیے ، تحقیقات کا مطالبہ وجود - منگل 22 جون 2021

سینیٹ میں اپوزیشن اراکین نے نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کے گھر میں زخمی ہونے کے بعد انتقال پر سوال اٹھاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔پیر کو سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضٰی نے کہا کہ عثمان کاکڑ کا خاندان ان کے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے عثمان کاکڑ واش روم میں گرے تھے لیکن عثمان کاکڑ واش روم میں نہیں گرے بلکہ گھر میں جب وہ ...

اپوزیشن نے عثمان کاکڑ کے انتقال پر سوال اٹھا دیے ، تحقیقات کا مطالبہ

طالبان کا افغان حکومت کے خلاف عسکری دبا ئومیں مزید اضافہ ،چھ اضلاع پر قبضہ وجود - منگل 22 جون 2021

طالبان نے کابل حکومت کے خلاف عسکری دبا ئومیں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران انہوں نے مزید چھ اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے ۔ متعدد حکومتی اہلکاروں نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ۔ دوسری جانب طالبان جنگجو ملک کے شمال میں تخار اور فاریاب کی صوبائی دارالحکومتوں کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔ یکم مئی کو افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کا آغاز ہوا تھا اور اس کے بعد سے مجموعی طور پر طالبان اکتالیس اضلاع پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ افغانستان کے ...

طالبان کا افغان حکومت کے خلاف عسکری دبا ئومیں مزید اضافہ ،چھ اضلاع پر قبضہ

اسرائیلی زندانوں میں 20 سال سے قید فلسطینیوں کی تعداد 78ہوگئی وجود - منگل 22 جون 2021

فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کی طرف سے گذشتہ روز جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی زندانوں میں 20 سال سے زاید عرصے سے قید فلسطینیوں کی تعداد 78 ہوگئی ہے ۔ااس گروپ میں مزید 3 فلسطینی قیدی شامل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کی تعداد اٹھہتر ہوگئی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسیران اسٹڈی سینٹر کے ترجمان ریاض الاشقر نے بتایا کہ بیت لحم سے تعلق رکھنے والے اسماعیل دائود حسین ردایدہ، رام اللہ کے محمد ھاشم احمد نوارہ اور القدس کے یاسر محمد عبید ربایعہ عمد الاسری میں شامل ہوگئے ۔ خیال رہے...

اسرائیلی زندانوں میں 20 سال سے قید فلسطینیوں کی تعداد 78ہوگئی

بھارت تخریب کاری کیلئے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے ، دفتر خارجہ وجود - منگل 22 جون 2021

پاکستان نے امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کرنے سے دوٹوک الفاظ میں انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں تخریب کاری کیلئے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے امن کے حصول میں افغان فریقین کی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور ترکی نے خطے میں امن کیلئے باہمی مشاورت پر اتفاق کیا ہے ۔

بھارت تخریب کاری کیلئے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے ، دفتر خارجہ