وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اکیسویں صدی میں اردو نعت

اتوار 03 جون 2018 اکیسویں صدی میں اردو نعت

غزل اور آزاد نظم کی ہیت میں اگرچہ نعت کا ایک وقیع ذخیرہ منظر عام پر آیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مسدس، مخمس، گیت ، ماہیا ، ہائیکو، نثری نظم، قطعہ اوررباعی میں بھی نعت لکھی گئی اور لکھی جارہی ہے۔رواں سال نعتیہ ادب کے ایک وقیع جریدے ’’نعت رنگ ‘‘ کا سلور جوبلی نمبر شائع ہوا جسے اکیسویں صدی میں نعت کے سلسلہ میں ایک اہم دستاویز کی حیثیت کا حامل قرار دیا جاسکتا ہے۔نامور نعت نگار اورنعت خواں سید صبیح الدین صبیح رحمانی کی ادارت میں شائع ہونے والا یہ کتابی سلسلہ’’نعت رنگ‘‘کا شمارہ روایتی آب وتاب کے ساتھ منظر عام پر آیا ہے۔’’نعت رنگ‘‘ کا یہ کتابی سلسلہ نعتیہ ادب کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں میں مرکز کی حیثیت رکھتا ہے ۔صبیح رحمانی صاحب نعت لکھنے،پڑھنے اور اس کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں اور یہ کام ایک تحریک کی صورت انجام دے رہے ہیں۔نعت رنگ کے علاوہ وہ ایک ریسرچ سنٹر بھی قائم کرچکے ہیں جو نعت کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا ادارہ ہے۔نعت رنگ کے پچیسویں شمارے کا آغاز مہمان مدیر مبین مرزا کے ابتدائیہ سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے اردو کی شعری تہذیب کے تناظر میں نعت کے سفر کا جائزہ لیا ہے۔ان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ اگر غزل نے ہمارے دل کی دھڑکنوں کو گنا ہے تو نعت نے ہماری روح کے وجد آفریں نغمے سے انہیں ہم آہنگ کیا ہے۔ اب عصر حاضر کے چند اہم نعت گو شعراکا اختصار سے ذکر کرتے ہیں۔

عبدالعزیز خالد (2010-1927)
عصر جدید کے نعت گو شعرامیںعبدالعزیز خالدکو جداگانہ اسلوب اور اپنے خاص رنگ ِشعر کے باعث امتیازی مقام حاصل ہے ،ان کی انفرادیت کا سبب ان کا لب ولہجہ اور زبان و بیان ہے،ان کی نعت اپنے منفرد خدوخال کے باعث دور سے پہچانی جاتی ہے، عبدالعزیزخالد کے ہاں موضوعات ومضامین، وسعت ِ علمی، اسا طیری عناصر، تاریخ وتمدن،تہذیب و ثقافت،ملت ِاسلامیہ کے عروج و زوال کے تذکرے ،معاشرت اور عمرانیات کے مختلف حوالوں نے ایک الگ کائنات تخلیق کی ہے ،انہوں نے نہ صرف منفرد انداز میںکلام ِپاک اور احادیث ِنبویؐ کا ایک وسیع ذخیرہ نعت کا حصہ بنا یا بلکہ قوتِ بیان اور قادر الکلامی کابھی ثبوت دیا۔انہوں نے اپنی نعتوں میں عربی ، فارسی اور ہندی الفاظ کا کثرت سے استعمال کیا اورنئی تراکیب بھی وضع کیں، یہ بات بھی ان کی اختراع پسند طبیعت کا اظہار ہے کہ انہوں نے اپنی کتابوںکے نام قدیم صحائف میں مذکورحضورؐ کے اسمائے مبارکہ ’’فارقلیطؐ ‘‘ ’’ ، منحمناؐ، ’’حمطایاؐ‘‘، ’’ماذماذؐ‘‘، ’’عبدہؐ‘‘ پر رکھے اور ایک زمانے کو ان ناموںسے متعارف کرایا ۔ انہوں نے ایجادو اختراع،جمیل و جلیل اور نئے الفاظ کا استعمال کرکے اجتہادکا راستہ روشن کیا تاہم ناقدین نے ان کے ہندی آمیز لہجے کو ناپسند کیا اور اسے نعت کے تقدس کے منافی قرار دیا ۔عبدالعزیز خالدایک وسیع اور وقیع ذخیرہ نعت یادگار چھوڑ کر گزشتہ برس جہانِ فانی سے دارِ بقا کی جانب روانہ ہوگئے:

بچھائوں تری سیج چن چن کے کلیاں
تو صاحب ہے میرا تو میرا ملا ہے
٭
تلقیط و طاب طاب ، حما طیط و حاط حاط
دوری کے باوجود وہ ہر وقت پاس ہے
ادیب رائے پوری( 2004-1928)
ادیب رائے پوری دنیائے نعت کا ایک روشن حوالہ ہیں،منفرد نعت خوانی کے ساتھ پہلے نعتیہ رسالے’’نوائے وقت‘‘ کے اجرا،اشاعت اور اس کی ادارت کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہوا،انہوں نے ایک تحریک کے طور پر نعت کے سلسلہ میں متعدد علمی اور تحقیقی کاموںکا آغاز بھی کیا۔انہوں نے اس قدم کے نشاں،تصویر ِکمال ِمحبت،مقصود کائنات،موجِ اضطراب سمیت کئی کتابیں یادگار چھوڑی ہیں:
خدا کا ذکر کرے ذکرِ مصطفےؐ نہ کرے
ہمارے منہ میں ہو ایسی زباں خدا نہ کرے
مدینہ جا کے نکلنا نہ شہر سے باہر
خدا نخواستہ یہ زندگی وفا نہ کرے
مسرور کیفی (2003-1928 )

مسرور کیفی اردو نعت گوئی میں حب رسولؐ کا پرچار کرنے والے شاعر ہیں،انہوں نے عشق و محبت سے سرشار ہو کر نعت کہی جسے سادگی اور بے ساختگی نے نکھار بخشا،ان کی نعت میں اسوہ ِ رسولؐ کے مضامین بھی دل نشین انداز میں بیان ہوئے ہیں ،خلوص ،اثر انگیزی اور وارفتگی نے ان کی نعت کو تاثیر سے لبریز کردیا ہے،انہوں نے چراغ ِحرا،جمال ِ حرم،مولائے کل،سیدالکونین اور نور ِیزداں سمیت درجن بھر مجموعے یادگار چھوڑے ہیں:
قدموں سے میں مسرور لپٹ جائوں،جو مل جائے
سرکارِ دو عالم ﷺ کا کوئی چاہنے والا
٭
پھول میں ہے نہ وہ صبا میں ہے
ایک خوشبو جو خاکِ پا میں ہے
حفیظ تائب(2004-1931 )
حفیظ تائب عہد موجود کے ایک ایسے شاعر تھے جنہیںایک دبستاں کی حیثیت حاصل رہی،انہوں نے نئی نعت کی ترویج اور تشہیر کے لیے ایک تحریک کے طور پر کام کیا اور ساری زندگی اس کے لیے وقف کردی،ان کے نعتیہ کلام میںتخلیقی واردات کے ساتھ طرز اظہار کا دھیما پن،اسلوب کی دل کشی ،محبت وعقیدت، دردمندی اور جذبہ واحساس کا رچائوپوری دل آویزی کے ساتھ موجودہے،ڈاکٹرابو لخیر کشفی نے انہیں کوثری نغموں والا شاعر کہا جبکہ ڈاکٹر سید عبداللہ ان کی کتاب صلو اعلیہ وآلہ کے پیش نامہ میں لکھتے ہیں’’حفیظ تائب کی نعت پڑھ کے یوں محسوس ہوتاہے کہ وہ ایک ایسا وصاف ہے جو حضورؐ کے روبرو کھڑا ہے،اس کی نگاہیں جھکی ہوئی ہیں اور اس کی آواز احترام کی وجہ سے دھیمی ہے،مگر نہ ایسی کہ سنائی نہ دے اورنہ ایسی اونچی کہ سوئے ادب کا گمان گذرے، شوق ہے کہ امڈا آتا ہے اور ادب ہے کہ سمٹا جا رہا ہے۔‘‘حفیظ تائب نے حضورﷺ کے ارشادات، سیرت کے تابدار نقوش اور مقصدِ ِنبوت و رسالت کو اپنی نعت کا موضوع بنایااور تسلسل کے ساتھ امت مسلمہ کے لیے اصلاحی مقاصدکے چراغ روشن کیے، انہوں نے فہم سیرت ِ رسولؐ کو نعت گوئی کے لیے لازمی شرط قرار دیا:

نعت گوئی کے لیے حسنِ ارادت شرط ہے
ساتھ کچھ فہمِ کتاب و علمِ سیرت شرط ہے

حفیظ تائب نے مسلمانوں کو پیش آمدہ مسائل،پاکستان میں زوال آمادہ اخلاقی،سیاسی اورمذہبی اقدار کے ساتھ عالمی سطح پر مسلمانوںکو درپیش مشکلات کو بھی اپنی نعت کا موضوع بنا یااور آج کے انسان کی حاجتیں بھی بارگاہ ِرسالت میں پیش کیں،اس بات پر اہل نقد و نظر کا اتفاق ہے کہ حفیظ تائب نے اردو اور پنجابی نعت گوئی کو نئی زندگی دی اور عہد موجود کے لکھنے والے ان کے جلائے گئے چراغوں کی روشنی سے استفادہ کر رہے ہیں۔ حفیظ تائب کے اردو نعتیہ مجموعہ ہائے کلام جن میں صلوعلیہ وآلہ،وسلموتسلیما،وہی یسیٰن وہی طٰہٰ اورکوثریہ شامل ہیں کے علاوہ غزل،ملی شاعری اورپنجابی نعتیہ و مناقب پر مشتمل کتابیںبھی شائع ہوئیں ،ان کے انتقال کے بعد ان کا کلیات 2005میں شائع ہوا جبکہ نعتیہ مجموعہ حضوریاں2010اورطاقِ حرم2007میں منظر عام پر آئے۔انہوں نے تحقیق و تدوین کے حوالے سے بھی کئی کتابیںیادگار چھوڑیں:
دے تبسم کی خیرات ماحول کو، ہم کو درکار ہے روشنی یا نبیؐ
ایک شیریں جھلک، ایک نوریں ڈلک، تلخ و تاریک ہے زندگی یا نبیؐ
کام ہم نے رکھا صرف اذکار سے، تیری تعلیم اپنائی اغیار نے
حشر میں منہ دکھائیں گے کیسے تجھے، ہم سے ناکردہ کار امتی یا نبیؐ
مظفر وارثی(2011-1933)

مظفر وارثی عہدِحاضر کے ایسے منفرد نعت گو تھے جنہوں نے نعت میں مترنم اسلوب متعارف کرایا، انہوں نے نغمہ کاری کے ساتھ دردمندی،محبت و عقیدت اورقومی و ملی مسائل کو سادہ لب و لہجے اور دل نشین انداز میں پیش کیا،وہ ایک عمدہ غزل گو بھی تھے اس لیے ان کی غزل کی طرح ندرت و جدت اور تازہ کاری ان کی نعت کابھی حصہ بن گئی۔ ڈاکٹر ریاض مجید لکھتے ہیں’’انہوں نے لفظ اور جذبہ کی خوشگوار ہم آہنگی، عقیدے اور ادبیت کو یکجا کرکے ایسی نعتیں لکھی ہیں جن کو اردو نعت گوئی کی تاریخ میں یقینا نمایاں حیثیت حاصل ہوگی‘‘۔
(اردو میں نعت گوئی ۔ص 519)

ان کی نعتیہ کتابوں میں کعبہء عشق،نورِ ازل،بابِ حرم، میرے اچھے رسولؐ،دل سے در ِنبی ؐتک،صاحب التاج ؐاور امی لقبیؐ شامل ہیں، علاوہ ازیں حمدیہ کلام اورخود نوشت سمیت ان کی شاندار غزلیہ شاعری کے بھی کئی مجموعے شائع ہوئے اور شائقین سے داد پائی۔’’ وہی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے ،مرا پیمبر ﷺ عظیم تر ہے،یا رحمت للعالمین‘‘جیسے ان کے حمدیہ ونعتیہ کلام کو عالمی سطح پر شہرت نصیب ہوئی:
پوری تاریخِ جہاں میں روشنی اتنی نہیں
لمحے لمحے میں اجالا جس قدر انؐ سے ہوا
٭
مجھے کعبہ بہت پیارا ہے لیکن
نبیؐ کے ساتھ ہجرت کر رہا ہوں
سید ریاض الدین سہروردی (2001-1919)

سید ریاض الدین سہروردی کا تعلق ایک مذہبی،روحانی اور علمی گھرانے سے تھا،نعت گوئی اور نعت خوانی کا ذوق انہیں ورثہ میں ملا،صاحب سلسلہ بزرگ تھے،انہوں نے نعت کے فروغ کے لیے بزم جلال اور بزم ریاض قائم کیں اور اس کام کو ایک تحریک کے طور پر آگے بڑھایا،خزینۂ ریاض،کلام ریاض،گلد ستہ ء نعت اور دیوان نعت ان کی یادگار کتابیں ہیں،ان کے صاحب زادے سید فصیح الدین سہروردی نے نعت خوانی میں عالمی شہرت حاصل کی ہے اور اپنے والد کے نعتیہ کلام کو دنیا بھرمیں متعارف کرایا۔ سیدریاض الدین سہروردی کا کلام عشق رسول ؐ سے لبریز ہے،ذوق و شوق،وارفتگی اور شیفتگی ان کے کلام کا نمایاں وصف ہیں:
جلوے چمک رہے ہیں دربارِ مصطفےؐ میں
اور دل مہک رہے ہیں دربارِ مصطفےؐ میں
ہے زائروں کی جانب انؐ کی نگاہِ رحمت
چہرے چمک رہے ہیں دربارِ مصطفےؐ میں
بشیر حسین ناظم(2012-1932 )

علامہ بشیر حسین ناظم عصرِموجود کے نامور نعت گو شاعر،نعت خواں ،دانشور اور سچے عاشق ِ رسول ؐ تھے،ان کی نعتوں میں سرکار ﷺ سے والہانہ محبت،جذب و کیف اور مترنم لب و لہجہ پورے فنی رچائو کے ساتھ موجود ہیں، محبت اورشیفتگی کے ساتھ قادر الکلامی ان کا نمایاں وصف رہا،اسوہ ِ رسولؐ کے بیان کے ساتھ ساتھ ان کی نعت روحانی واردات کا بھی خوبصورت اظہار ہے، انہوں نے نعت کے فروغ اور تشہیر کے لیے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں،ناظم صاحب چونکہ فارسی زبان پر بھی دستِ کمال رکھتے تھے اس لیے انہوں نے فارسی کے قدیم شعراکے نعتیہ کلام پر تضامین بھی لکھیں ،انہوں نے کشف المحجوب اور امام احمد رضا بریلویؒ کے مشہورِعالم سلام ’’مصطفےؐ جان ِرحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ کا انگلش میں ترجمہ بھی کیا اوراس پر تضمین بھی لکھی، انہوں نے دیوان ِغالب کی تمام غزلوں پر نعتیں کہیں اور یہ مجموعہ ’’جمال جہاں فروز ‘‘کے نام سے شائع کرایا،اردو اورپنجابی حمدیہ ،نعتیہ کلام پر مشتمل مجموعوں سمیت 32 کتابوں کے خالق تھے،وہ کافی عرصہ نوائے وقت میں اسلامی صفحہ ترتیب دیتے رہے ،میرا ان سے دس سال تک عقیدت و محبت کا تعلق رہا ،بہت محبت کرنے والے،کثیر المطالعہ ،خوش طبع اور خوش گفتار انسان تھے ، لفظ کی صحت کاخیال رکھتے اور غلط تلفظ پر محفل ہی میں ٹوک دیتے ،وہ محافل کی جان تصور کیے جاتے اور اپنے خاص لحن سے نعت پڑھ کر محفل پہ وجد طاری کر دیتے۔ انہوں نے متعدد حج کیے اور قریبا دو کروڑ مرتبہ درود شریف پڑھنے کی سعادت بھی حاصل کی۔ان کی شاعر ی کی متعدد کتابیں زیر طبع ہیں:

نبیؐ کے خوانِ رحمت کے ہیں ریزے
مودت کیا، محبت کیا، وفا کیا
آپؐ کی بدولت ہے، آپؐ کی عنایت ہے
جو بھی ہے یہاں اپنا، جو بھی ہے وہاں اپنا
راجا رشید محمود

راجا رشید محمودنامور نعت نگار،صاحب ِطرز ادیب،ممتاز نقاد،مورخ اورسیرت نگار کی حیثیت سے عالم گیر شہرت رکھتے ہیں،انہوں نے نعت کے حوالے سے بے مثال خدمات انجام دی ہیں،ان کی نعت میں اظہار محبت وعقیدت،سلام،ذکرِمدینہ،تحفظِ ناموس ِ رسالت،عظمتِ مصطفےؐ،واقعہ ِمعراج،استغاثہ،صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتؓ سے محبت کے مضامین کثرت سے ملتے ہیں،انہوں نے نعت میں نئے امکانات کی بازیافت اور اس کے کینوس کی توسیع کی کوشش کی ہے، انہیںپہلی منظوم سیرت بصورتِ قطعات اور مخمساتِ نعت لکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا،علاوہ ازیں انہوں نے نعت کے حوالے سے تحقیق،تنقید اورتدوین کے میدان میںبھی قابل قدر کام کیا ہے،راجا رشید محمود ’’ورفعنالک ذکرک،حدیثِ شوق، منشورِ نعت،شہرِ کرم اور مدیح سرکارؐسمیت درجنوں کتابوں کے خالق ہیں:

اسوہ رسولِ پاکؐ کا، جادہ ہے نور کا
نقشِ قدومِ حضرتِ محبوبِ ربؐ، چراغ
٭
نبیؐ کے شہرِ حسیں تک رسائیوں کے لیے
وسیلے ہم نے تو مدحت سرائیوں کے لیے
امین راحت چغتائی

امین راحت چغتائی کی نعت روحانی تجربات اور محبت رسولؐ کا ایسا والہانہ اظہارہے جو مدحِ سرکارؐ کے حوالے سے اسلوب کی سطح پر نئے پن کا حامل بھی ہے اورتہذیبی اقدار کامرقع بھی، انہوں نے اپنے سارے نعتیہ سفر میں موضوع اوراسلوب کی ہم آہنگی سے جدت پیدا کرنے کی سعی کی اور زندگی مدحت ِ رسولؐ کے لیے وقف کردی:
وہ بھی دن آئے کہ پہنچوں جو درِ اقدس پر
دل مرا دل نہ رہے، انؐ کی تمنا بن جائے
٭
مہک پھیلی ہوئی ہے ہر طرف اسمِ محمدؐ کی
جہاں ہوتی نہیں پت جھڑ ،میں اس گلزار میں آیا
اعجاز رحمانی
اعجاز رحمانی نے شاعری کے تقا ضوں کو مد نظر رکھ کر اسوہ ء رسولؐ کا پیغام عام کرنے کاپرچم بلند کیا اوریہ کوشش کی کہ پیامِ سرکارؐ جذبہ و احساس کی ایسی کیف آور لے میں پیش کیاجائے جو دلوں میں عشق ِمصطفٰےؐ کے چراغ روشن کر دے،وہ اسلامی تعلیمات سے آگاہ ہیں اور معاشرے کواسلامی اقدار کا حامل دیکھنا چاہتے ہیں،ان کے کلام میں خیال کی تابندگی بھی ہے اور فکر کی بلندی بھی،روانی بھی ہے اور سلاست بھی،انہوں نے اپنی فکر کے اظہار کے لیے جہاں اپنے جذب دروں اور بالغ نظری سے کام لیا ہے وہیں مترنم لب و لہجے کو بھی کام میں لائے ہیں جس نے ان کی نعت کوپرتاثیراور دل آویز بنا دیا ہے، خواجہ رضی حیدرلکھتے ہیں ’’اعجاز رحمانی کی نعتیہ شاعری کا اعجاز یہ کہ انہوں نے رسولﷺ کے پیغام کی اصل غایت کو پیش نظر رکھ کر انسان کی تمدنی زندگی کو اسوہ ِرسولؐ کے مطابق بنانے کے لیے اپنی فکری توانائیوں کو الفاظ میں اس طرح ڈھالا ہے کہ شاعری کی مقتضیات بھی پوری ہوں‘‘۔(پیش لفظ۔آسمان رحمت) اعجازرحمانی کے نعتیہ مجموعوں میں اعجازِ مصطفٰے ؐ،پہلی کرن آخری روشنی،افکار کی خوشبو،چراغ مدحت اور آسمان رحمت شامل ہیں،اعجاز رحمانی کی نظموں اور غزلوں کے بھی کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں:
آپؐ نے محنت کی عظمت کا لوگوں کو احساس دیا
آپؐ سے پہلے دنیا میں خوشحال کوئی مزدور نہ تھا
٭
یہ آپؐ کا صدقہ ہے جو دنیا میں ہے جاری
تہذیب و تمدن کا سفر، رحمتِ عالمؐ
ریاض حسین چودھری
ریاض حسین چودھری کی نعتیہ شاعری جدید رنگ ِشعر کی ایک عمدہ مثال ہے، ان کا اسلوب دل کش اور پرتاثیر ہے۔ ان کی نعت میں سرکارؐ کی ثنا، عقیدت،خواہش و حسرت ،امید سمیت زندگی کے رنگ جب ندرت ِفن، کیف ، جذب و مستی اور تخلیقی سچائی کے ساتھ منعکس ہوتے ہیں تو ایک ایسی کہکشاں ظہور پاتی ہے جو قاری پر سحر طاری کر دیتی ہے۔ان کی نعت کی ایک اہم خوبی ان کی شعریت اور تغزل ہے جو ان کے ہر شعر اور ہر نعت میںاپنی چھب دکھا رہے ہیں۔ریاض حسین چودھری نے غزل ،آزاد نظم اور قطعات کی ہیئت میں نعت کہی اور خوب کہی۔ان کے اب تک چھ نعتیہ مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن میں تمنائے حضوری،متاع ِقلم،زرِمعتبر، رزقِ ثنا،کشکول ِآرزو اور سلام علیک شامل ہیں۔تمنائے حضوری اور سلام علیک میں طویل نعتیہ نظمیں ہیں جو ان کی مہارت ِ فن کا بھی عمدہ نمونہ ہیںاورسلام علیک کو تو اکیسویں صدی کی پہلی طویل نعتیہ نظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے:
طوافِ گنبدِ خضرا میں عمر کٹ جائے
عجیب شوق مرے بال و پر میں رہتے ہیں
٭
گنبدِ خضرا کے دامان ِکرم میں بیٹھ کر
سوچتا ہوں، بعد اس کے اور کیا چاہوں گا میں
عابد سعید عابد
عابد سعید عابد کا شمار عہد ِحاضر کے باکمال نعت گو شعرا میں ہوتا ہے،ان کی اب تک کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور نئی صدی کی پہلی دہائی میں ان کے سات نعتیہ مجموعے زیور طبع سے آراستہ ہوئے جن میں نجات،زیارت، رسائی،قبولیت،عافیت،ودیعت اور آبنائے گداز شامل ہیں،بعد ازاں ان کا کلیاتِ نعت بھی خلد ِنظر کے نام منظر عام پر آچکا ہے،عابد سعید عابد نے چونکہ غزل سے نعت کی طرف مراجعت کی اس لیے ان کی نعت میں غزل کا رنگ بھی در آیاہے،ان کا اسلوب سادہ بھی ہے اور منفرد بھی ،تازہ کاری بھی ان کے ہاں اپنی چھب دکھاتی ہے اور ذوق و شوق کا والہانہ پن بھی،انہوںنے سیرت ِ رسولؐ کے مختلف گوشوں کا تذکرہ بھی کیا ہے اورعقیدت و محبت کا اظہار بھی:
قدم ڈر ڈر کے رکھتا ہوں زمیں پر
کہ اس پہ نقشِ پائے مصطفےؐ ہے
٭
سبز گنبد کی روشنی عابد
جان و دل میں سمو کے آیا ہوں
راغب مراد آبادی(2011-1918)
راغب مرادآبادی کی نعت فنی پختگی اور استادانہ مہارت کاعمدہ نمونہ ہے،انہوں نے زیادہ تر غالب کی زمینوں میں نعت لکھی جو بلندیِ خیال کی حامل بھی ہے اورکیف وسرمستی کاحاصل بھی ،انہوں نے ’’مدح رسول ؐ ‘‘‘کے نام سے ایک غیر منقوط نعتیہ مجموعہ ترتیب دیا اور اپنے ایک سفرنامہ ِ حجاز کو رباعیات کی صورت میں منظوم بھی کیا،ان کی شاعری اور نثرکی40 سے زائد کتب منظر عام پر آئیں،مشاعرہ کلچر کے فروغ کے لیے بھی ان کی خدمات ہمیشہ یا د رکھی جائیں گی:
جن کا امتی ہونا زندگی کا حاصل ہے
آکے انؐ کے قدموں میں زیست کا مزا پایا
٭
پر نور مدینے کا ہے کونا کونا
کم تر ذروں سے ہے یہاں کے، سونا
لیکن ہے نشاطِ روح مومن کے لیے
روزے پہ حضورؐ آپؐ کے حاضر ہونا


متعلقہ خبریں


ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس'آصف زرداری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور وجود - پیر 08 مارچ 2021

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں نیب کی جانب سے دائر ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظورکر لی گئی جبکہ وکلاء کی ہڑتال کے باعث کیس کی سماعت 15مارچ تک ملتوی کردی گئی۔ پیر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے نیب ریفرنس کی سماعت کی تونیب پراسیکیوٹر اور نیب کے گواہان عدالت میں پیش ہوئے تاہم مقدمہ میں نامزد، ملزمان سابق صدر آصف علی زرداری، عبدالغنی مجید اور ندیم بھٹو عدالت پیش نہ ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر ک...

ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس'آصف زرداری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

سربراہ براڈ شیٹ کمیشن کو سپریم کورٹ جج کے برابر تنخواہ و مراعات دینے کا فیصلہ وجود - پیر 08 مارچ 2021

براڈ شیٹ معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کو سپریم کورٹ کے جج کے برابر تنخواہ اور مراعات دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ وفاقی حکومت نے براڈ شیٹ معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کو سپریم کورٹ کے جج کے برابر تنخواہ اور مراعات دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں کابینہ ڈویژن نے سمری بھی وفاقی کابینہ کو بھجوا دی ہے ۔سمری میں کابینہ سے وفاقی کابینہ سے جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کو سپریم کورٹ کے جج کے برابر تنخ...

سربراہ براڈ شیٹ کمیشن کو سپریم کورٹ جج کے برابر تنخواہ و مراعات دینے کا فیصلہ

شہباز شریف کی بیٹی، داماد کو اشتہاری قرار دینے کا تحریری حکم جاری وجود - پیر 08 مارچ 2021

لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران اور داماد کو اشتہاری قرار دینے کا تحریری حکم جاری کر دیا۔احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چوہدری نے تحریری حکم جاری کیا، حکم میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق رابعہ عمران اور عمران علی ایک ماہ میں عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے ، دونوں کے پیش نہ ہونے پر عدالت رابعہ عمران اور عمران علی کو اشتہاری قرار دیتی ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت تفتیشی افسر کو حکم دیتی ہے کہ دونوں کی جائیدادوں کی تفصیلات آئندہ سماعت پر جمع کرائی جائیں۔

شہباز شریف کی بیٹی، داماد کو اشتہاری قرار دینے کا تحریری حکم جاری

55 فیصد پاکستانیوں کی رائے، کورونانے معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ، گیلپ سروے وجود - پیر 08 مارچ 2021

گیلپ اینڈ گیلانی کے ایک حالیہ سروے کے مطابق55 فیصد پاکستانیوں کے مطابق کورونا وائرس نے پاکستان کی معیشت پر بہت گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ سروے میں ملک بھر سے شماریاتی طور پر منتخب خواتین و حضرات سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ ''برائے مہربانی بتائیں کہ آپ کے خیال میں کورونا وائرس سے پاکستان کی معیشت پر کس حد منفی اثرات پڑے ہیں۔ یعنی بہت زیادہ کچھ حد تک بہت کم یا بالکل نہیں؟ اس سوال کے جواب میں پچپن فیصد جوابدہندگان کے مطابق کورونا وائرس سے پاکستان کی معیشت پر بہت زیادہ منفی اث...

55 فیصد پاکستانیوں کی رائے، کورونانے معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ، گیلپ سروے

میگھن مرکل کا تہلکہ خیز انٹرویو، برطانوی شاہی خاندان میں ہلچل وجود - پیر 08 مارچ 2021

برطانوی شاہی خاندان کی بہو میگھن مرکل نے کہا ہے کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ شہزادی کیٹ میری وجہ سے غمزدہ ہوئی۔ درحقیقت میں نشانہ بنی، شہزادی کیٹ نے معافی مانگی۔ غلطی تسلیم کی اور مجھے پھول بھی پیش کئے۔ میگھن مرکل نے اوپرا ونفرے کو تہلکہ خیز انٹرویو دیتے ہوئے شاہی خاندان کے راز افشا کر دیئے اور کہا کہ انہیں شاہی خاندان کا حصہ بننے کے بعد خاموش کروا دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ انہیں شاہی خاندان کی جانب سے تحفظ نہیں ملا۔ ان کی اور ہیری کی شادی باضابطہ تقریب سے تین دن پہلے ہوچکی تھی۔ان...

میگھن مرکل کا تہلکہ خیز انٹرویو، برطانوی شاہی خاندان میں ہلچل

صوبہ ہلمند کی سابق خاتون پولیس سربراہ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ، خاوند ہلاک وجود - پیر 08 مارچ 2021

افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند میں مسلح افراد کے حملے میں خواتین پولیس کی سابق سربراہ شدید زخمی ہوگئی ہیں اور ان کے خاوند ہلاک ہوگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گورنر ہلمند کے ترجمان عمرژواک نے کہا کہ نامعلوم مسلح افراد نے صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ میں پولیس افسر جوڑے پر فائرنگ کی ۔صوبائی پولیس سربراہ کے دفتر سے تعلق رکھنے والے ایک افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلح افراد نے اس حملے میں خاتون پولیس افسر کو نشانہ بنایا تھا مگر گولیاں لگنے سے ان کے خاوند...

صوبہ ہلمند کی سابق خاتون پولیس سربراہ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ، خاوند ہلاک

60 سال کے افراد کی کورونا ویکسینیشن کا 10 مارچ سے آغاز ہوگا وجود - پیر 08 مارچ 2021

وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے اعلان کیا ہے کہ 60 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی ویکسینیشن 10 مارچ سے شروع ہوگی۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک ٹوئٹ میں اسد عمر نے لکھا کہ بدھ 10 مارچ سے 60 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی ویکسینیشن شروع کی جائے گی اور یہ ویکسینینش عمر کو دیکھتے ہوئے کی جائے گی۔انہوں نے عمر کے لحاظ سے ویکسینینش کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رجسٹر ہونے والے معمر ترین شخص کو ...

60 سال کے افراد کی کورونا ویکسینیشن کا 10 مارچ سے آغاز ہوگا

پاکستان ، افغانستان نے باضابطہ مذاکرات کیلئے مشترکہ گروپ بنالیا، افغان صدارتی نمائندہ وجود - پیر 08 مارچ 2021

پاکستان کیلئے افغانستان کے صدر کے نمائندہ خصوصی عمر دائود زئی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نے امن عمل پر باضابطہ مذاکرات کیلئے مشترکہ گروپ بنایا ہے جس کی سربراہی دونوں ممالک کے خصوصی نمائندے کر رہے ہیں ، انہوںنے پاکستانی فوجی ترجمان کے اس بیان کا خیر مقدم کیا جس میں انہوں نے کہا تھا پاکستان افغانستان میں طالبان کے دوبارہ کنٹرول کی حمایت نہیں کرتا اور یہ کہ افغانستان کا موجودہ ریاستی ڈھانچہ آسانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا ،امید ہے افغان صدر اشرف غنی رمضان سے پہلے پاکستان کا...

پاکستان ، افغانستان نے باضابطہ مذاکرات کیلئے مشترکہ گروپ بنالیا، افغان صدارتی نمائندہ

امریکی ماہرین نے کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والا ماسک تیار کر لیا وجود - پیر 08 مارچ 2021

ماہرین نے کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والا ماسک تیار کر لیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے ماہرین نے ایسے سنسر بنائے ہیں جو کسی بھی ماسک پر لگانے سے ماسک پہنے شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو سکے گی۔کورونا وائرس سے متاثرہ شخص جب سانس لے گا تو اس کے ماسک پر لگی سنسر چپ کا رنگ تبدیل ہوجائے گا۔ جس سے کورونا وائرس کی تصدیق ہو گی۔ماہرین نے ماسک پر رنگ بدلنے والی ایسی پتریاں لگائی ہیں جو کسی شخص کے سانس یا لعاب میں کووڈ 19 کا باعث بننے والے کر...

امریکی ماہرین نے کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والا ماسک تیار کر لیا

افغانستان میں فوجی چیک پوسٹ پر حملہ، سات اہلکار ہلاک وجود - پیر 08 مارچ 2021

افغانستان کے صوبے بلخ میں فوجی پوسٹ پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں سات اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔افغان میڈیا کے مطابق بلخ کے ضلع چمتل میں فوجی چیک پوسٹ پر طالبان نے حملہ کردیا، حملہ اتنا اچانک تھا کہ فوجی اہلکاروں کو سنبھلنے کا موقع نہیں مل سکا تاہم فوجی اہلکاروں کی جانب سے بھی مزاحمت دکھائی گئی۔دو طرفہ جھڑپ ایک گھنٹے تک جاری رہی جس کے دوران 7 افغان فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے جب کہ 10 سے زائد زخمی ہیں۔ حملہ آور کارروائی کے بعد سرکاری اسلحہ اور افغان فوج کی...

افغانستان میں فوجی چیک پوسٹ پر حملہ، سات اہلکار ہلاک

عالمی عدالت کی تحقیقات، اسرائیل مشکل سے دوچار وجود - پیر 08 مارچ 2021

بین الاقوامی فوج داری عدالت کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف صہیونی فوج کے وحشیانہ جنگی جرائم کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد صہیونی ریاست کی لیڈر شپ مشکلات سے دوچار ہو چکی ہے ،اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق دی ہیگ میں قائم عالمی فوج داری عدالت کی طرف سے اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر دفاع بینی گینٹز نے یورپی ممالک سے مدد کی درخواست کی ہے ،وزیر اعظم اور وزیر دفاع نے یورپی حکام کو مکتوب ارسال کیے ہیں جن میں ان سے دی ہیگ میں قائم عالمی ع...

عالمی عدالت کی تحقیقات، اسرائیل مشکل سے دوچار

بھارت ہمارے بھگوڑے پولیس والے واپس کردے ، میانمار وجود - پیر 08 مارچ 2021

میانمار نے بھارتی حکومت سے کہا ہے کہ وہ میانمار سے بھاگ کر بھارت پہنچنے والے آٹھ پولیس اہلکار واپس اس کے حوالے کردے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ذرائع نے بتایاکہ ان سکیورٹی اہلکاروں کے بارے میں خیال ہے کہ انہوں نے فوجی جنتا کے احکامات ماننے سے انکار کردیا تھا۔ بھارتی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں میانمار کے پچاس کے قریب شہری بھارت میں پناہ لینے داخل ہوئے جبکہ مزید کم از کم 85 لوگ انتظار میں ہیں۔ میانمار میں اقتدار پر قبضے کے بعد فوجی حکومت عوامی مظاہرے کچلنے کی کوشش میں مصروف ہے اور...

بھارت ہمارے بھگوڑے پولیس والے واپس کردے ، میانمار