وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

جمعه 01 جون 2018 اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

اجمالی خاکہ:
نام: خدیجہ ،والد: خویلد بن اسد ، والدہ: فاطمہ بنت زائدہ،سن پیدائش :55 سال قبل از بعثت، قبیلہ:قریش شاخ بنو اسد،زوجیت رسول:15 سال قبل از بعثت، سن وفات: 10 نبوی ہجرت سے تین برس قبل،مقام تدفین: جنت المعلیٰ مکہ مکرمہ ،کل عمر: 64 سال تقریباً
نام و نسب: آپ کا نام خدیجہ تھا سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے خدیجہ بنت خویلدبن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی بن کلاب، آپ رضی اللہ عنہا کا نسب چوتھی پشت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جاتاہے۔ آپ کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو اسدسے تھا،بنو اسد اپنی شرافت، ایمانداری اورکاروباری معاملات کی وجہ سے میں لوگوں کی نگاہ میں قابل عزت و احترام تھا۔
بچپن: آپ رضی اللہ عنہا بچپن ہی سے نہایت نیک تھیں اور مزاجاً شریف الطبع خاتون تھیں، مکارمِ اَخلاق کا پیکرِ جمیل تھیں۔ رحم دلی،غریب پروری اور سخاوت آپ کی امتیازی خصوصیات تھیں۔یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں آپ’’ طاہرہ‘‘یعنی پاک دامن کے لقب سے مشہور تھیں۔مالدار گھرانے میں پرورش پانے کی وجہ سے دولت و ثروت بھی خوب تھا علاوہ ازیں حسن صورت اور حسن سیرت میں بھی اپنی ہم عصر خواتین میں ممتاز تھیں۔

ازدواجی زندگی: پہلی شادی ابو ہالہ ہند بن نباش تمیمی سے ہوئی، ابو ہالہ کے انتقال کے بعد دوسری شادی عتیق بن عاید مخزومی سے ہوئی، کچھ عرصہ بعد وہ بھی چل بسے تو دنیوی معاملات سے دل برداشتہ ہو کرزیادہ وقت حرم کعبہ میں گزارتیں۔ جس کے باعث آپ کے مزاج مبارک میں تقدس و شرافت مزید بڑھ گئی۔ قریش کے نامور صاحب ثروت سرداروں نے آپ رضی اللہ عنہا کو پیغام نکاح بھجوایا لیکن سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے سب کو یکسر انکار کر دیا۔

تجارت میں دلچسپی: آپ کے والد محترم خویلد بن اسد اعلی درجے کے تاجر تھے، جب بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچے تو انہوں نے اپنا سارا کاروبار اپنی بیٹی حضرت خدیجہ کے سپرد کردیا۔ تیس سال کی عمر میں آپ رضی اللہ عنہا تجارت سے وابستہ ہوئیں۔ جس کی وجہ آپ رضی اللہ عنہا حجاز مقدس میں سب سے زیادہ مالدار خاتون شمار ہوتی تھیں آپ کی تجارت کا سامان عرب سے باہر ملک شام اور یمن میں سال میں دو مرتبہ جاتا تھا۔بعض محدثین نے لکھا ہے کہ اکیلا حضرت خدیجہ کا سامان تجارت مکہ کے سارے تجارتی قافلوں کے سامان کے برابر ہوتا تھا۔

طریقہ تجارت: خاتون ہونے کی وجہ سے تجارتی معاملات میں سفر کرنا دشوار بلکہ ناممکن تھا اس لیے کسی کو بطور نیابت سامان تجارت دے کر روانہ کرتیں۔ آپ کے تجارتی نمائندوں کی دو صورتیں تھیں یا وہ ملازم ہوتے اْن کی اْجرت یا تنخواہ مقرر ہوتی جو اْنہیں دی جاتی‘نفع و نقصان سے اْنہیں کوئی سروکار نہ ہوتا۔ یا نفع میں اْن کا کوئی حصّہ،نصف،تہائی یا چوتھائی وغیرہ مقرر کر دیا جاتا اگر نفع ہوتا تو وہ اپنا حصّہ لے لیتے جبکہ نقصان کی صورت میں ساری ذمہ داری حضرت سیّدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا پر ہوتی۔

حضرت خدیجہ کی درخواست: تقریباً دس سال تک معاملات یونہی چلتے رہے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہا کے کانوں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت و صداقت کا چرچا پہنچا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سامان تجارت لے کرملک شام جانے کی درخواست کی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا۔ اس دوران آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام میسرہ کو خصوصی ہدایت کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی معاملے میں دخل اندازی نہ کرے۔

تجارت میں نفع اور میسرہ کا مشاہدہ: اس تجارتی سفر میں اللہ تعالیٰ نے بے حد برکت دی اورنفع پہلے سے بھی دوگنا ہوا، چونکہ میسرہ دوران سفر قریب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حْسن اخلاق، معصومانہ سیرت کا تجربہ اور معاملہ فہمی کا مشاہدہ کر چکا تھا اس لیے اس نے برملا اس کا اظہار کرتے ہوئے ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کوبتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت معاملہ فہم، تجربہ کار، خوش اخلاق، دیانت دار، ایماندار، شریف النفس اورمدبرشخص ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس پہنچ کر تجارتی معاملات کا عمدہ حساب پیش کیا، جس سے ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت متاثر ہوئیں۔

خدیجہ، ام المومنین بنتی ہیں: ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یعلیٰ بن اْمیہ کی بہن نفیسہ بنت امیہ پیغام نکاح لے کر گئیں۔ نفیسہ کا بیان ہے کہ میں آپ کے پاس آئی اور کہا کہ آپ نکاح کیوں نہیں کرلیتے؟ آپ نے فرمایا کہ میں نادار اور خالی ہاتھ ہوں،کس طرح نکاح کرسکتاہوں؟ میں نے کہا کہ اگر کوئی ایسی عورت آپ سے نکاح کرنے کی خواہش مند ہو جو ظاہری حسن و جمال اور طبعی شرافت کے علاوہ دولت مند بھی ہو اور آپ کی ضروریات کی کفالت کرنے پر بھی خوش دلی سے آمادہ ہوتو آپ اس سے نکاح کرلینا پسند کریں گے؟ آپ نے دریافت کیا کہ ایسی کون خدا کی بندی ہو سکتی ہے؟ میں نے کہا خدیجہ بنت خویلد۔

مقام ِنکاح: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب سے ذکر کیا، انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفیسہ کو جواب دے دیا کہ اگر وہ اس کے لیے آمادہ ہیں تو میں بھی راضی ہوں۔نفیسہ نے آکر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اس کی اطلاع دی،پھرباہمی مشاورت سے طے ہوگیا کہ آپ اپنے خاندان کے بزرگوں کو لے کر فلاں دن میرے یہاں آجائیں،چنانچہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور ابوطالب اور خاندان کے دیگر اہم شخصیات آپ رضی اللہ عنہا کے مکان پر آئے۔ اْس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد زندہ نہ تھے وہ پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔اس لیے آپ کے چچا عمرو بن اَسد اور خاندان کے دیگر بزرگ شریک تھے۔

بوقت نکاح: خطبہ نکاح خواجہ ابو طالب نے پڑھایا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمدہ اوصاف، جلالت شان اور عزت و مقام کا ان الفاظ میں تذکرہ کیا:میرے بھتیجے محمد کی یہ شان ہے کہ کوئی بھی شخص شرافت، دانائی، فضیلت اور عقلمندی میں ان سے بڑھ کر نہیں۔ باقی رہا مال و دولت… یہ سایے کی طرح ڈھلنے اور بدل جانے والی چیز ہے۔ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا عمرو بن اَسد کے مشورہ سے500 درہم مہر مقرر ہوا۔ بوقت نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 25 سال جبکہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمرچالیس برس تھی۔آپ کا یہ پہلا نکاح تھا جو اعلان نبوت سے تقریبًا 15 سال پہلے ہوا۔

برے ماحول میں نیک فطرت: ذرا آپ تصور کریں عرب کے اس فحش معاشرے میں جہاں صدیوں سے شراب و کباب اور عورت کی آبرو سرِعام بکتی ہو، ایسے میں 25 سال تک جوانی کی اْمنگوں اور جذبات کے ولولوں کو ضبطِ نفس کی پاکیزگی میں ڈھانپ کر کسی نوجوان دوشیزہ سے نہیں بلکہ 40 سالہ بیوہ عورت سے شادی کر کے پاکبازی کی ایسی مثال قائم کی جس کی مثال نہ پہلے ملتی ہے نہ بعد میں، دونوں کا کردار اتنا اجلا اور شفاف کہ دشمن تک کو اخلاقی پہلو پر منفی بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔

سیدہ خدیجہ کی وجہ انتخاب: ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو ان الفاظ میں موجود ہے:میں نے آپ کو آپ کے حسن اخلاق اورزبان کی سچائی کی وجہ سے اپنے لیے منتخب کیا۔

فضائل ومناقب: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا خود بیان کرتی ہیں کہ جبرائیل امین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ خدیجہ آرہی ہیں ان کے ساتھ ایک برتن ہے اس میں سالن اور کھانا ہے، جب وہ آپ کے پاس آجائیں تو ان کو ان کے پروردگار کی طرف سے سلام پہنچایئے اور میری طرف سے بھی، اور ان کو خوشخبری سنایئے جنت میں موتیوں سے بنے ہوئے ایک گھر کی، جس میں نہ شور و شغب ہوگا اور نہ کوئی زحمت و مشقت ہوگی۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے: جبرائیل کی یہ آمد اس وقت ہوئی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غارحرا میں تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ واقعہ غارحرا میں حضرت جبرائیل کی پہلی آمد کے بعد کا ہے۔ اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ مکہ کی سب سے زیادہ دولت مند اور بوڑھی خاتون ہونے کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانے پینے کا سامان گھر پر تیار کر کے مکہ سے اڑھائی تین میل پیدل سفر کرنا بلکہ غار حراکی بلندی تک چڑھنا کس قدر دشوار معلوم ہوتا ہے؟چونکہ یہ عمل خلوص دل سے تھا اس لیے پروردگار عالم اور جبرئیل امین کے سلام پہنچتے ہیں۔ سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر خدیجہ بنت خویلد ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کی مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج میں سے کسی پر ایسا رشک نہیں آیا جیسا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر آیا حالانکہ میں نے ان کو دیکھا نہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بہت یاد کرتے اور بکثرت ان کا ذکر فرماتے، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ آپ بکری ذبح فرماتے، پھر اس میں سے حصے بنا کر سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے میل جول اور محبت رکھنے والیوں کے ہاں بھیجتے۔بسا اوقات میں کہہ دیتی…… دنیا میں بس خدیجہ ہی ایک عورت تھیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ خدیجہ تو خدیجہ تھی اور ان سے میری اولاد ہوئی۔

نوٹ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری اولاد ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ہے سوائے حضرت ابراہیم کے یہ حضرت ماریہ قبطیہ کی بطن سے پیدا ہوئے۔

اولاد: محدثین نے لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک جب 30 برس کی ہوئی یعنی رشتہ ازدواج کے تقریباً 5 سال بعدآپ کے پہلے صاحب زادے قاسم پیدا ہوئے، انہیں کے نام پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی کنیت ابو القاسم رکھی، ان کاچھوٹی عمر میں ہی انتقال ہوگیا، ان کے بعد آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی زینب پیدا ہوئیں، ان دونوں کی پیدائش اعلان نبوت سے پہلے ہوئی، اس کے بعد صاحبزادے عبداللہ کی ولادت ہوئی، ان کی پیدائش دور نبوت میں ہوئی اسی لیے ان کو طیب اور طاہر کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا انتقال بھی کم سنی میں ہوگیا، پھر ان کے بعد مسلسل تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں جن کے نام رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہن رکھے گئے۔

ذیل میں حضرت ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی چند امتیازی خصوصیات کا تذکرہ کیا جاتا ہے ۔
نمبر1: کڑے حالات میں تسلی: نکاح کے تقریباً 15برس بعد اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شرف ختم نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور آپ پر شدید حالات آئے تو اس کڑے وقت آپ کو جس طرح کی دانش مندانہ و ہمدردانہ تسلی کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و توفیق سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہی سے ملی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان نبوت سے پہلے تنہائی میں عبادت کرنے کے لیے غار حرا میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانے پینے کا سامان تیار کر کے دے دیا کرتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرا میں کئی کئی راتیں ٹھہرتے، اللہ کی یاد میں مصروف رہتے، کچھ دنوں بعد تشریف لاتے اور سامان لے کر واپس چلے جاتے۔ایک دن حسب معمول آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں مشغول عبادت تھے کہ جبرئیل امین تشریف لائے اور فرمایا کہ اِقرا یعنی پڑھئے!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَا اَنَا بِقَارِی میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ جبرئیل امین نے آپ کو پکڑ کر اپنے سے چمٹا کر خوب زور سے بھینچ کر چھوڑ ا اور عرض کی اِقرا (پڑھئے) آپ نے بھر وہی جواب دیا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ جبرائیل امین نے دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سے چمٹا کر خوب زور سے دبا کر چھوڑا اور پھر پڑھنے کو کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہو ا نہیں ہوں فرشتے نے پھر تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر اپنے سے چمٹایا اور خوب زور سے دبا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا اور خود پڑھنے لگے:اِقرا بِاسمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ o خَلَقَ الاِنسَانَ مِن عَلَقٍ o اِقرا وَرَبّْکَ الاَکرَمْ o الَّذِی عَلَّمَ بِالقَلَمِ o عَلَّمَ الاِنسَانَ مَالَم یَعلَم oیہ آیات مبارکہ سن کر آپ نے یاد فرما لیں اور ڈرتے ہوئے گھر تشریف لائے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: زملونی زملونی مجھے کپڑا اوڑھا دو مجھے کپڑا اوڑھا دو۔انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑا اوڑھا دیا اور کچھ دیر بعد وہ خوف کی کیفیت ختم ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو واقعہ سنایا،فرمایا:مجھے اپنی جان کا خوف محسوس ہو رہا ہے۔عموماً خواتین ایسے حالات میں گھبرا جاتی ہیں اورتسلی دینے کے بجائے پریشان کن باتیں شروع کر دیتی ہیں لیکن آپ رضی اللہ عنہا ذرہ برابر بھی نہ گھبرائیں اور تسلی دیتے ہوئے فرمایا:خدا کی قسم!اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ توصلہ رحمی کرتے ہیں،بے کس و ناتواں لوگوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، دوسروں کو مال واخلاق سے نوازتے ہیں۔ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق بجانب امور میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

نمبر2: اسلام کی خاتونِ اوّل ہونے کا اعزاز: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نزول وحی کے ابتدائی ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مکہ کی پوری آبادی میں موحد صحیح العقیدہ نصرانی اور توریت و انجیل کے بڑیعالم و عامل تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غارحرا میں جبرائیل اور نزول وحی کی سرگزشت سن کر پختہ یقین کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی بات کہی توآپ رضی اللہ عنہا نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔ پوری امت میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سب سے پہلیآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برحق نبی ہونے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔

نمبر3: اپنی دولت رسول اللہ پر لٹا دی: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اللہ کریم نے دولت مندی کی نعمت سے بھی خوب نوازا تھا،آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی پوری دولت اور اپنے غلام زید کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیا اور آپ کودین اسلام کی اشاعت کے مقدس مشن میں گھریلو معاشی افکار سے بے نیاز کر دیا۔

نمبر4: بت پرستی سے بیزاری: اہل مکہ بت پرستی کے شرک میں مبتلا تھے،لیکن جاہلیت کے اس دور میں گنتی کے دوچار آدمی ایسے بھی تھے جن کو فطری طور پر بت پرستی سے نفرت تھی، ان میں ایک ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔

نمبر5: شِعبِ ابی طالب میں تین سالہ محصوری: مشرکین مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اسلام کو روکنے کے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کا اور آپ کے خاندان بنو ہاشم کے ان تمام لوگوں کا بھی جنہوں نے اگرچہ آپ کی دعوت اسلام کو قبول نہیں کیا تھا لیکن نسبی اور قرابتی تعلق کی وجہ سے آپ کی کسی درجہ میں حمایت کرتے تھے سوشل بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور آپ کے وہ قریبی رشتہ دار بھی شعب ابی طالب میں محصور کر دیے گئے، کھانے پینے اور بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا گیا اور یہ بائیکاٹ تین سال کے عرصہ تک محیط رہا، یہاں تک کہ ان لوگوں کو کبھی کبھی درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرنا پڑا۔ ایام محصوری کے اس تین سالہ دور میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہیں۔

نمبر6: آپ کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح نہیں کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کی اس کے بعد تقریباً 24 سال تک آپ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں، اس پورے 24 سالہ دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دوسرا نکاح نہیں فرمایا۔

وفات: ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا 24 سال تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانثار، ا طاعت گزار اور وفا شعار بیوی بن کر زندہ رہیں اور ہجرت سے 3 برس قبل 64 سال کی عمر پاکرتقریباً ماہ رمضان المبارک کی 10 تاریخ کو مکہ معظمہ میں وفات پا گئیں۔حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جحون (جنت المعلی) میں آپ رضی اللہ عنہا کو اپنے ہاتھوں قبر مبارک میں اتارا۔ چونکہ اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، اس لیے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔


متعلقہ خبریں


مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پوری دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، برطانوی رکن پارلیمنٹ وجود - جمعه 21 فروری 2020

پاکستان کے دورے پر آئی برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمز نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ قرار دے دیا۔لاہور میں گورنر پنجاب سے ڈیبی ابراہمز سمیت برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے ملاقات کی جس میں مسئلہ کشمیر اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ وفد میں ممبر برطانوی پارلیمنٹ مارک ایسٹوڈ ، سارہ برٹکلف، لارڈ قربان ، جوڈی کمننز، طاہر علی اور عمران حسین شامل تھے ۔وفد نے گورنر کو کشمیریوں پر مظالم کے خلاف برطانوی پارلیمنٹ میں آواز بلند کرنے کی یقین دہانی کراتے ...

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پوری دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، برطانوی رکن پارلیمنٹ

پاکستان کو دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا پر تشویش ہے ،ترجمان دفتر خارجہ وجود - جمعه 21 فروری 2020

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان کو دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا، زینوفوبیا اور نسلی نفرت کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش ہے ۔اسلام آباد سے جاری ہونے والے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جرمنی میں حملوں کی سخت مذمت کی ہے ، ان گھنائونے حملوں سے کئی معصوم اپنی جان گنوا بیٹھے اور بہت سے زخمی ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان جرمنی کے ساتھ کھڑا ہے جب کہ اس حملے میں ترک شہریوں کی جانیں جانے پر ترکی کے ساتھ بھی تعزیت کرتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ان ح...

پاکستان کو دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا پر تشویش ہے ،ترجمان دفتر خارجہ

چین کورونا وائرس سے مزید 118افراد ہلاک ،تعداد2247ہو گئی وجود - جمعه 21 فروری 2020

کورونا وائرس سے مزید 118 افراد جان کی بازی ہارگئے ،مرنیوالوں کی تعداد 2247ہو گئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں نہ رک سکیں اورمزید 118 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد2247ہوگئی۔899 نئے مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 76700ہوگئی۔ صرف صوبہ ہوبئی میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 62ہزارسے زائد ہے جبکہ 11ہزار633مریضوں کی حالت نازک ہے ۔دوسری جانب شنگھائی میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے پلازما تھراپی ...

چین کورونا وائرس سے مزید 118افراد ہلاک ،تعداد2247ہو گئی

میکسیکو، اجتماعی قبر سے 10نعشیں برآمد وجود - جمعرات 20 فروری 2020

میکسیکو کی ریاست میشواکان میں اجتماعی قبر سے 10نعشیں برآمد کر لی گئیں۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ میکسیکو حکام نے مغربی ریاست میشواکان کے علاقے کومانجا میں اجتماعی قبر دریافت کی جس کی کھدائی کر کے بوسیدہ حالت میں 10نعشیں برآمد کی گئیں جنہیں ہلاکت کی وجوہات جاننے کے لیے فرانزک ماہرین کے تجزیے کے لیے بھیجا جائے گا۔بیان میں بتایا گیا کہ جرائم میں ملوث افراد کی شناخت کر لی گئی ۔

میکسیکو، اجتماعی قبر سے 10نعشیں برآمد

یوکرین اسکینڈل، امریکی نائب وزیرِ دفاع مستعفی وجود - جمعرات 20 فروری 2020

یوکرین اسکینڈل سے وابستہ امریکی نائب وزیر دفاع جان روڈ مستعفی ہو گئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی نائب وزیرِ دفاع برائے پالیسی جان روڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر استعفی دیدیا۔ مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں جان روڈ کا کہنا تھا کہ وزیرِ دفاع سے معلوم ہوا ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دوں۔انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپ کی درخواست پر میں اپنا استعفیٰ بھیج رہا ہوں، 28 فروری سے عہدہ خالی ہو گا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جان روڈ نے تصدیق ...

یوکرین اسکینڈل، امریکی نائب وزیرِ دفاع مستعفی

بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے کے کام کو آگے بڑھایا جائے ، چین وجود - بدھ 19 فروری 2020

چین کی وزارت تجارت نے ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے مختلف ملکوں سے مطالبہ کیا کہ بیرونی تجارت ،بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے اور اصراف کو فروغ دینے کے کام کو آگے بڑھایا جائے اور تجارتی ترقی پر وبا کے اثرات کو کم سے کم کیا جائے ۔نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بیرونی تجارت ،بیرونی سرمایہ کاری ،لاجسٹکس اور ای کارمرس سے منسلک صنعتی اداروں کی پیداوار بحال کرنے میں مددفراہم کی جائے ،دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ اہم منصوبوں کو منظم طور پر آگے بڑھایا جائے ۔

بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے کے کام کو آگے بڑھایا جائے ، چین

مصر میں مٹی کے تاریخی قبرستان دریافت وجود - بدھ 19 فروری 2020

مصری وزارت سیاحت و آثار قدیمہ نے اعلان کیا ہے کہ الدقھلیہ صوبے کے معروف مقام ام الخلجان میں 83تاریخی قبرستان دریافت ہوئے ہیں۔ یہ مصر کا ڈیلٹا کہلاتا ہے ۔ دریافت ہونے والے آثار کا تعلق 4ہزار قبل مسیح کے نصف اول سے ہے ۔یہ مصر زیریں یا بوتوتمدن کے نام سے مشہور ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق قبرستان بیضوی شکل کے ہیں۔ قبریں ریگستانی جزیرے میں تراش کر بنائی گئی ہیں۔ قبروں میں نعشیںاکڑوںشکل میں رکھی ہوئی ہیں۔میتوں کے ساتھ سامان وغیرہ بھی موجود ہے ۔وہاں سے ملنے والا سامان مختلف ...

مصر میں مٹی کے تاریخی قبرستان دریافت

سعودی عرب کی طرف 47 ممالک میں 4 ارب ڈالر کی امداد وجود - بدھ 19 فروری 2020

کنگ سلمان سینٹر برائے انسانی امداد نے کہا ہے کہ جنوری 2020 تک 47ممالک میں 4ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دی ہے ۔سب سے زیادہ امداد یمن میں دی گئی جہاں سینٹر نے اب تک دو بلین ریال مالیت سے زیادہ منصوبے ، امدادی سامان، علاج معالجہ اور دیگر سہولتیں مستحقین کو فراہم کی ہیں۔فلسطین دوسرے نمبر پر جہاں 355ملین ڈالر کی امداد دی گئی۔شام چوتھے نمبر پر ہے جہاں 286ملین ڈالر سے زیادہ امداد کی گئی جبکہ پانچویں نمبر پر صومالیہ ہے جہاں 186ملین ڈالر سے زیادہ امداد دی گئی۔سینٹر نے کہا ہے کہ اس نے س...

سعودی عرب کی طرف 47 ممالک میں 4 ارب ڈالر کی امداد

کورونا وائرس کی وبا ، عالمی خطر ے کے درجے میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ، عالمی ادارہ صحت وجود - منگل 18 فروری 2020

عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھنوم نے کہا کہ چین کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق نوول کورونا وائرس سے متاثرہ نئے کیسز میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔اس لئے عالمی ادارہ صحت موجودہ نتائج کو برقرار رکھے گا یعنی نوول کرونا وائرس نمونیا عالمی سطح پر وبائی بیماری نہیں اور عالمی سطح پر وبا کے خطر ے کی درجہ بندی کو نہیں بڑھایا جائے گا۔عالمی ادارہ صحت کے تحت ہنگامی صحت عامہ پروگرام کے انچارج م...

کورونا وائرس کی وبا ، عالمی خطر ے کے درجے میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ، عالمی ادارہ صحت

ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں،چین وجود - منگل 18 فروری 2020

چین نے ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کردیا ۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان چینی کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جو ایران اوردوسرے ممالک کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے داخلی قوانین اور یکطرفہ طور پر دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیوں اور اداروں پر پابندی عائد کرے ۔گنگ شوانگ نے ایران کے خلاف امریک...

ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں،چین

سعودی عرب دنیا کے 10پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل وجود - منگل 18 فروری 2020

سعودی عرب دنیا کے دس پرکشش ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق2020 کے دوران سعودی عرب مختلف تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے نمایاں ترین ملک بن جائے گا۔عالمی بنک نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں سعودی عرب کو دنیا کے دس پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے ۔ سعودی عرب دبئی کا طاقتور حریف بننے جارہا ہے ۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں سعودی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کی بدولت کمپنیاں دبئی سے سعودی عرب منتقل ہونے لگی ہیں۔ کئی کمپنیوں نے اپنے کاروبار کا ...

سعودی عرب دنیا کے 10پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل

سوڈانی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز وجود - پیر 17 فروری 2020

سوڈان میں گزشتہ برس صدر عمر البشیر کا تختہ الٹے جانے کے بعد نئی حکومت نے اسرائیلی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز کردیا ۔ سوڈان کی خود مختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کی اجازت سے اسرائیل کے لیے سوڈان کی فضائی حدود کو کھول دیا گیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوڈان اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے باب میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔ سوڈان نے اسرائیلی سول طیاروں کو اپنی حدودمیں استعمال کرنے کی اجازت دے دی ۔رپورٹ کے مطابق ایک سول طیارہ تل ابیب سے سو...

سوڈانی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز