وجود

... loading ...

وجود

حکومت کی جاتے جاتے ملک کومزید قرضوں میں جکڑنے کی کوششیں

پیر 28 مئی 2018 حکومت کی جاتے جاتے ملک کومزید قرضوں میں جکڑنے کی کوششیں

مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے اقتدار ختم ہوتے ہوتے زرمبادلے کے ذخائر میں مصنوعی اضافہ کرنے کے لیے اس ملک کو مزید قرضوں میں جکڑ کر جانا چاہتے ہیں جس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ وزارت خزانہ کے باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت نے متحدہ عرب امارات کے بینکوں کی سنڈیکیٹ کوایک سال کے لیے کم وبیش20 کروڑ ڈالر قرض فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس معاملے سے آگہی رکھنے والے بینکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی حکومت نے ادائیگیوںمیں بڑھتے ہوئے عدم توازن کے دبائو سے نکلنے کے لیے نئے قرض کی درخواست کی ہے جوایک سال کی مدت کے دوران قابل ادائیگی ہوگی ،اس قرض کاانتظام متحدہ عرب امارات کے 3بینککمرشیل بینک دبئی، امارات این بی ڈی اورنور بینک مل کر مشترکہ طورپر کریں گے۔

دوسری جانب ایک برطانوی اخبارفنانشیل ٹائمز نے دعویٰ کیاہے کہ پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک بار پھر چین کا رْخ کر لیا ہے اور اپریل میں چینی بینکوں سے ’اچھی، مسابقتی شرح‘ پر ایک ارب ڈالر کا قرض لیا جا چکا ہے ۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک پاکستان کے گورنر طارق باجوہ چینی بینکوں سے اچھی شرح پر قرض حاصل کرنے کی تصدیق کرچکے ہیں۔اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے بینکوں سے مسابقتی بنیادپر حاصل کی گئی اس رقم سے دونوں ممالک کے درمیان مالی، سیاسی اور عسکری تعلقات مضبوط ہوں گے۔فنانشیل ٹائمز کی رپورٹ میں اسٹیٹ بینک پاکستان کے گورنر طارق باجوہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’چین کے کمرشل بینکوں کے پاس پیسوں کی بھرمار ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو امید ہے کہ چینی بینکوں سے ملنے والی اس رقم سے پاکستان، قرض کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس جانے سے بچ جائے گا۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں پاکستانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کو قرض دینا چین کے بھی مفاد میں ہے۔فنانشیل ٹائمز کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیاگیاہے گزشتہ ماہ حاصل کیے گئے ایک ارب ڈالر سے قبل بھی پاکستان، چینی بینکوں سے اپریل 2017 سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر حاصل کر چکا ہے، جبکہ مزید قرض لیے جانے کی بھی توقع ہے۔اس رپورٹ کی تصدیق وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار کے اس بیان سے بھی ہوتاہے جس میں اس نے نام ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر بتایا تھا کہ ’پاکستان کی وزارت خزانہ نے چینی حکام سے اپریل 2019 میں مالی سال کے اختتام سے قبل اضافی کم از کم 50 کروڑ ڈالر حاصل کرنے کے لیے غیر رسمی مذاکرات کر لیے ہیں۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مالیاتی خسارے کوپورا کرنے کے لیے فنڈ کی شدید کمی کاسامناہے اور اب حکومت جانے سے پہلے اس کاانتظام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈزکے تخمینے کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مجموعی ملکی پیداوار کے 5.5 کے مساوی رہ گئے ہیں۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی گزشتہ روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان 20 کروڑ ڈالر قرض حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے تاکہ ملک پر واجب الادا قرضوں کی ادائیگی میں مدد مل سکے مفتاح اسماعیل نے گزشتہ روز ایک غیر ملکی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاتھا کہ ہم نئے قرض اپنے زرمبادلے کے ذخائر میں اضافہ کرنے کے لیے حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ ہمیں مختلف اداروں کوادائیگیاں کرنا ہیں یہ ادائیگیاں کرنے کے لیے ہمیں اپنے زرمبادلے کے ذخائر میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم فی الوقت20کروڑ ڈالر حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اگلے ہفتوں کے دوران یہ رقم بڑھا کر 35 کروڑ ڈالر تک کی جاسکتی ہے ،مفتاح اسماعیل نے کہا کہ غیر ملکی بینکوں سے مزید قرض حاصل کرنے کے ساتھ حکومت ملکی کرنسی میں بھی کم وبیش اتنی ہی رقم بطور قرض حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے ہمارے قرضوں کاپروفائل ضرور تبدیل ہوگا لیکن اس سے پاکستان پر واجب الادا قرضوں کے مجموعی بوجھ میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ۔اطلاعات کے مطابق اب متحدہ عرب امارات کے مذکورہ بالا تینوں بینک دوسرے قرض دینے والے اداروں سے قرض جمع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

حکومت پاکستان کے دعوے کے مطابق پاکستان کی اقتصادی شرح نمو5فیصد سے زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود ماہرین اقتصادیات اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے تیزی سے بڑھتے ہوئے کرنٹ اکائونٹ خسارے زرمبادلے کے ختم ہوتے ہوئے ذخائر کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے رواں سال ہی آئی ایم ایف سے نیا بیل آئوٹ پیکیج لینے پر مجبور ہوناپڑے گا ۔پاکستان نے گزشتہ سال بھی ایک ارب ڈالر مالیت کے سکوک بانڈ اور1.5 ارب یعنی ایک ارب 50کروڑ ڈالر مالیت کے روایتی بانڈز جاری کرکے بھی ڈھائی ارب ڈالر جمع کیے تھے، پاکستان میں قرضوں کا توازن بہت زیادہ خراب ہوجانے کے بعد حال ہی میں قرضوں کی منڈی میں پاکستان کو بہت زیادہ فعال دیکھاگیا ،اس سے قبل پاکستان نے گزشتہ سال 10 سال میں ادائیگی کی بنیاد پر 70 کروڑ ڈالر جمع کیے تھے جبکہ اس میں سے کچھ قرضے عالمی بنیک کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل بینک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کی جزوی ضمانت پر پاکستان کودئے گئے۔اب پاکستان ایک دفعہ پھر سال رواں کے اوائل میں کریڈٹ اور انڈسٹریل اور کمرشیل بینک آف چائنا کی زیر قیادت ایک سال کی مدت کے لیے 45کروڑ ڈالر کے قرض کے لیے مارکیٹ میں آیاتھا ۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مبینہ طورپر عدالت کی پیشیوں سے بچنے کے لیے برطانیہ فرار ہوجانے والے سابق وزیر خزانہ سحٰق ڈار کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے جانے والے تحریری جواب میں انھوں نے یہ اعتراف کیاتھا یکم جنوری 2013 سے مارچ 2017 تک حکومت نے اسٹیٹ بینک پاکستان سے تقریباً 220 کھرب 42ارب 20 کروڑ روپے کے قرضے لیے۔جبکہدلچسپ بات یہ ہے کہ جنوری 2013 سے جون 2013 تک حکومت نے اسٹیٹ بینک سے 22 کھرب 74 ارب 70 کروڑ روپے قرض لیا، جولائی 2013 سے جون 2014 تک حکومت نے تیزی سے قرضے لیے اور یہ حجم 59 کھرب 25 ارب 40 کروڑ تک جا پہنچا۔موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد شاہی اللے تللوں اورغیر پیداواری منصوبوں کے لیے جس انداز میں قرض حاصل کیے پاکستان کی پوری تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی،اس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ پاکستانپر قرضوں کامجموعی بوجھ 180 کھرب سے تجاوز کرچکاہے،اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ جولائی 2014 سے جون 2015 کے دوران حکومت نے مجموعی طورپر 52 کھرب 10 ارب 60 کروڑ روپے قرض لیا۔جبکہ جولائی 2015 سے جون 2016 تک قرضوں کاحجم 42 کھرب 94 ارب 30 کروڑ روپے رہا ،جولائی 2016 سے مارچ 2017 کے دوران حکومت نے قرض لینے کا ریکارڈ توڑتے ہوئے 43 کھرب 37 ارب 20 کروڑ روپے کے قرضے حاصل کیے۔حکومت کی جانب سے آنکھ بند کرکے قرض پر قرض حاصل کرنے کی اس روش کی وجہ سے حکومت ان قرضوں پر اب تک 853 ارب روپے کا سود ادا کرچکی ہے۔

30 جون 2013 کوپاکستان پر واجب الادا ملکی و غیر ملکی قرضوں کا مجموعی حجم 134 کھرب 82 ارب 70 کروڑ روپے تھا جو 30 جون 2016 تک بڑھ کر 178 کھرب 24 ارب 60 کروڑ روپے تک جاپہنچا۔رپورٹ کے مطابق جون 2013 میں مقامی قرضوں کا حجم 86 کھرب 86 ارب 20 کروڑ روپے تھا جو جون 2016 میں 117 کھرب 73 ارب 50 کروڑ روپے ہوگیا۔ ان اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ : ‘موجودہ حکومت نے قرضوں میں 8000 ارب روپے کا اضافہ کیا’اس کااندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ جون 2013 میں غیر ملکی قرضوں کا حجم 47 کھرب 96 ارب 50 کروڑ روپے تھا جو جون 2016 تک بڑھ کر 60 کھرب 51 ارب 10 کروڑ روپے ہوگیا۔


متعلقہ خبریں


ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

مضامین
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر