وجود

... loading ...

وجود

مقبرہ فرعون،آج بھی سیاحوں کی دلچسپی کامرکز

اتوار 27 مئی 2018 مقبرہ فرعون،آج بھی سیاحوں کی دلچسپی کامرکز

مصر دنیا کے آٹھ قدیم عجوبوں میں واحد بچ جانے والے ایک عجوبے یعنی اہراموں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں اور ماہرین آثار قدیمہ کی دلچسپی کامحورہے۔ان اہراموں کے راز سے پردہ اٹھانے کے لیے ماہرین آثار قدیمہ کئی برسوں سے وادی مصرکی ریت چھان رہے ہیں۔جس کے تلے برآمدہونے والی ان گنت دریافتوں نے حیرت کاایک جہاں آباد کررکھا ہے۔

انہی دریافتوں میں ایک دریافت قدیم مصری فرعون توتن خامن کے مقبرے کی بھی ہے۔انسانی تاریخ کے طویل باب میں شاید ہی آثار قدیمہ کی اس دریافت میں اس قدر عالمگیر شہرت کسی نے حاصل کی ہو جتنی شہرت توتن خامن کامقبرہ ایک عرصہ تک دنیا سے پوشیدہ رہا۔ماہرین آثار قدیمہ اور مہم جو ایک عرصہ تک اس کی کھوج میں رہے انہی میں ایک نام برطانوی ماہر آثار قدیمہ ہاورڈ کارٹرکا بھی تھا۔

کارٹرتوتن خامن کے گم شدہ مقبرے میں دلچسپی رکھتا تھا تاہم اس مہم کے لیے کثیرسرمایہ درکار تھا۔تین برس تک نامساعد حالات میں مقبرے کی تلاش میں سرگرواں رہنے کے بعد بالآخر1907ء میں کارٹرکواس مہم کے لییجارج ہربرٹ کارنارون کی صورت میں ایک مالدارسپانسرمل گیا۔سرمایہ تومیسر آگیا مگر کھدائی کاکام آسان نہ تھا۔توتن خامن کے مقبرے کی تلاش کئی برسوں تک جاری رہی بالآخر مقبرے کاداخلی دروازہ4نومبر1922ء کو دریافت کرلیا گیا۔

توتن خامن کے مقبرے کی دریافت آثار قدیمہ کی تاریخ کا ایک مشہور اور ہیجان خیزواقعہ ثابت ہوئی کیونکہ یہ پہلا اور واحد ایسا مقبرہ تھا کولٹیروں کی لوٹ مار سے بچارہا تھا۔مقبرے میں وہ خزانہ دریافت ہواتھا جس کاخواب میں بھی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔خالص سونے کے ڈھیر،اس کے علاوہ مصرکے سنہرے دور کی دستکاری اور آرٹ کے بہترین نمونے بھی منظر عام پرآئے تھے۔

دوسوبرس بعد رامس ششم کے مقبرے کی کھدانی کے نتیجے میں توتن خامن کا مقبرہ مکمل طور پر ٹنوں کے حساب سے چونے کے پتھر کے نیچے دب چکا تھا۔

ابتداء میں ماہرین کاخیال تھاکہ توتن خامن کا باپ آمون ہوتپ چہارم تھا تاہم بعد میں ان ماہرین نے توتن خامن کی جسمانی مشابہت اخناتن تھے کہ اخناتن اس کا بڑا بھائی تھا۔1925ء میں اس کی ممی کامعائنہ کرنے والوں کے مطابق اخناتن یاتو اس کاباپ تھا پھر اس کاسسر۔موجودہ دور میں ڈی این اے رپورٹس بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔فراعین کے دور میں بہن بھائیوں کی باہمی شادیوں کاثبوت بھی ملتاہے۔اس لحاظ سے اخناتن کوتوتن خامن کاباپ اور سسر دونوں ہونے کے امکان کومستردنہیں کیاجاسکتا۔یہ وہ دور تھا جب مصرکی سلطنت ایک عظیم قوت اور طاقت کی حامل تھی۔جو شمال میں فلسطین اور شام اور جنوب میں سوڈان تک پھیلی ہوئی تھی۔

اس قوت اور خوشحالی میں مصری آرٹ اپنی انتہا کوچھورہاتھاتاہم ملک مذہبی انتشار کاشکار بھی تھا۔توتن خامن نے اس مذہبی پہچان کے وسط میں جنم لیا۔اس کی نوجوانی کے دور میں ملک انقلاب کی زد میں رہا۔اخناتن کی قوی ترین مخالف نہ صرف پرانے مذہب کے مذہبی رہنماتھے بلکہ اس کی اپنی بیوی تفرتتی بھی اس کے مخالفین کی صف میں جاکھڑی ہوئی اور اس کے ساتھ رہنا چھوڑدیا۔اخناتن نے اپنے دامادکواپنے ہمراہ اقتدار میں شریک کرلیا مگر تھوڑے عرصے بعددونوں ہی پراسرار طور پر ہلاک ہوگے اور توتن خامن فرعون بن گیا۔اس نے پہلا کام یہ انجام دیاکہ مصریوں کی زندگی میں قدیم دیوتاؤں کودوبارہ بحال کردیا۔یعنی اخناتن کے پیش کیے گئے مذہب پرپانی پھیر دیا۔ توتن خامن نے خلل اور خلفشار سے دو چار اس سلطنت پر دس برس تک حکومت کی۔

اس کی شادی اپنی بہن سمیخا کارنے سے ہوئی جوعمر میں اسے سے دوبرس بڑی تھی۔ان کی اولاد قبل ازوقت ہی مردہ پیدا ہوئی توتن خامن تقریباََ اٹھارہ برس کی عمر می ہی اس دارفانی سے چل بسا۔تاریخی وستاویزنے اگرچہ اس کے بارے میں کافی معلومات میسر آئیں لیکن اس کی موت کی وجہ ایک معمہ ہی بنی رہی اور صدیوں گزر جانے کے بعد بھی یہ معمہ حل نہ ہو مکا۔کہ مصریوں کایہ چہیتا فرعون آخر کس کی سازش کاشکارہوا۔

تاریخی شواہد کے مطابق اس کی نوجوان بیوہ نے مایوسی کی حالت میں شاہی سلسلہ برقرار رکھنے کی کوشش کی اور ایک شہزادے کو اپنا متنبیٰ بنانے کافیصلہ کیا۔مگر اس شہزادے نے جونہی مصرکی سرزمین پر قدم رکھا تووہ بھی موت سے ہمکنارہوگیا غالباََ اس کی موت میں ہورم ہب کاہاتھ تھاجو مصر کا ایک فوجی رہنماتھا۔جس نے توتن خامن کی موت کے فوراََ بعد اقتدار پر قبضہ کرلیا لہٰذا اس سانحہ کاذمہ دار اس کوٹھہرایاگیا۔

اگرچہ ہورم ہب نے عبادت گاہوں اور عوامی مقامات سے توتن خامن کانام حرف غلط کی طرح مٹادیاتھالیکن اس نے اس نوجوان فرعون کے مقبرے کوہاتھ لھانے کی قطعاََکوشش نہ کی۔جس کو انتہائی پرشکوہ انداز میں تعمیرکیاگیا تھا جبکہ اس میں سونے کے ذخائر بھی دفن کیے گئے تھے۔ہورم ہب نے ملک میں مختلف اصلاحات سرانجام دیں اور مصر کی عظمت کودوبارہ بحال کیا۔توتن خامن کی موت کے بعد 70روز تک مذہبی رہنما توتن خامن کی نعش کومنوط کرتے رہے اور اس کورفنانے کی تیاریوں میں مصروف رہے۔اس کے جسم پرکئی سوگزبہترین ریشمی کپڑا لپیٹا گیا جس میں نایاب ہیرے اور موتی لگے ہوئے تھے۔مقدس سیال اس کی نعش پرچھڑکا گیا اور اس کی نعش کوٹھوس سونے کے تابوت میں بند کیاگیا۔اس کی نعش کے چہرے پر سونے کاایک ماسک سجایاگیا جوتوتن خامن کی مشابہت کاحامل تھا اس کے بعد سونے کے تابوت کودیگر دوتابوتوں میں بندکیاگیا اور ہر ایک تابوت میں موت کاشکار ہونے والے فرعون کا سونے کاماسک بنایا گیا اور پھر زیرزمین مقبرے میں دفن کردیا گیا اس کے بعد مقبرے کاداخلی دروازہ بند کردیا گیا اور نوجوان توتن خامن کو اس سونے کے تابوت میں تنہا چھور دیا گیا۔

یہاں تک کہ ارل کارٹارون نے کارٹر کے ساتھ مل کر28نومبر1922ء کوا یک طویل تلاش کے بعد مقبرہ دریافت کرلیا۔اس مقبرے سے طلائی تخت ،سونے کابستر۔سونے کارتھ،منقش مرتبان، سونے کے مجسمے ،سونے کے زیورات جن پر نہایت قیمتی چمکتے ہیرے جواہرات جڑے تھے حتیٰ کہ فرعون توتن خامن کی نعش کو بھی زیورات سے سجایا گیا۔ہر وہ زیورجوتوتن خامن نے اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی پہنا ہوگا وہ بھی اس کی نعش کے ساتھ رکھا گیا ۔ طلائی کمربند،قیمتی پتھروں کی انگوٹھیاں ، بازوؤں میں کنگن اور بازو بند، ٹانگوں اور رانوں پر طلسمی نقوش اور خنجر ، انگلیوں اور پنجوں میں سونے کے خول ،ٹخنوں پر پازیبیں اور اس کے علاوہ کل 143 تعویز نما اشیاء ملیں۔اس کے مقبرے سے بیش قیمت خزانہ ، کئی برتن ، گلدان کھلونے ، مجسمے اور زیورات جو سونے اور ہاتھی دانت اور گلاس ورک سے بنے ہوئے تھے۔ سونے اور پیپائرس کے کاغذوں پر بنی تصاویر، پتھر ، لکڑی ، سونے اور ہاتھی دانت سے بنے ظروف، کشتیوں کے ماڈلز سکے ، کتابیں جو پیپائرس اور پتھروں کے سیلوں پر لکھی گئی تھی۔
سونے کی کرسی جس پر توتن خامن اور اس کی بیوی کی تصویر سونے سے نقش کی ہوئی تھی۔

کارنارون کی اچانک موت کے بعد یکے بعد دیگر ے پیش آنے والے پراسرارواقعات کاسلسلہ شروع ہوگیا۔کارٹر کے دومعاونین میک اور ہیتھل بھی پہلے بخار میں مبتلا ہوئے اور پھر اسی حالت میں ان کی موت واقع ہوگئی۔کارنارون ،میک اور ہیتھل کی اموات کے ساتھ ہی ہلاکتوں کاایک پراسرار سلسلہ شروع ہوگی اگرچہ بددعا کی سچائی پرکم ہی لوگوں نے یقین کیا۔

لیکن پھر بھی کچھ لوگ اس بددعا کی وجہ سے ہلاکتوں کے قائل رہے ہیں ۔ لارڈ کارنارون کے بیٹے کااس بددعا کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ نہ تو اس بددعا کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ نہ تو اس بددعا کوجھٹلاتا ہے اور نہ ہی اس پریقین رکھتا ہے۔ اس کے مطابق اس کے والد کی وفات کے فوراََ بعد ایک اجنبی عورت اس سے ملنے آئی اور تنبیہہ کی کہ وہ اپنے بات کی قبر پرنہ جائے۔

کارنارون کے بیٹے نے اسی اجنبی عورت کے حکم کی تعمیل کی۔کئی ماہرین آثار قدیمہ اور سیاح مقبرہ دیکھنے گئے۔بعدازاں ان کی موت بھی انتہائی حیرت انگیز دطریقے سے ہوئیں۔ ان میں سے ایک پروفیسر ڈاکٹر لافلور مقبرہ دیکھنے گے اسی رات ہوٹل کے کمرے میں ان کی نعش پائی گئی۔ ایک کروڑ پتی امریکی سیاح مقبرہ دیکھنے گیا اگلے ہی ون بخار چڑھاجوتیز ہوتا گیا اور اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوئی۔

ڈاکٹر کیمبل ایڈن شعبہ نوادرات کے ڈائریکٹر تھے۔وہ توتن خامن کی ایک یادگار اپنے ساتھ امریکا لے گئے وہ تو ہمات کواپنے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتے تھے بلکہ ان کامذاق اراتے تھے انہیں مقبرے کے بھوت یابددعا کابالکل بھی یقین نہ تھا ان کاکہنا تھاکہ ’’تمام عمرمیراواسطہ مقبروں، اہراموں اوت ممیوں سے رہاہے میں اس کاجیتا جاگتا ثبوت ہوں تو یہ سب بکواس اورتوہمات ہیں۔
اتفاقاََ چندہی ہفتوں بعد اچانک انتہائی غیر متوقع طور پر ان کی بھی موت واقع ہوگئی۔

1950ء میں برطانوی ٹیلی ویڑن نے ایک فلم بنانا شروع کی جس کاعنوان تھا۔بادشاہ توتن خامن کی بددعا‘‘شوٹنگ کے پہلے ہی دن ایک ہولناک واقعہ رونماہوا جس میں فلم کے ہیروکی ٹانگ دس جگہ سے ٹوٹ گئی یہ کردار ایک ایک اور اداکار کودیالیکن ٹیم کاکوئی بھی رکن کام کے لییتیارنہ ہوا۔

ان واقعات کے باوجود لوگوں میں مقبرے کارازجاننے کاشوق کم نہ ہوابلکہ بڑھتا چلاگیا۔طویل تحقیق کے بعد ماہرین نے مختلف اموات کی مختلف توجیہات پیش کیں جن میں کچھ کے مطابق مصر کے قدیم باشندے مختلف اقسام کے زہروں کے خواص کے ماہرہوا کرتے تھے وہ چاہتے تھے کہ ان کے چہیتے بادشاہ کامقبرہ محفوظ رہے اور کوئی بھی اس کے آرام میں مخل نہ ہو۔اگر کوئی مقبرے میں داخل ہوبھی جائے تو وہ زندہ واپس نہ جاسکے۔بددعا انسان کو نفسیاتی طور پرڈرانے کے لیے لکھی گئی۔بددعا کا نفسیاتی اثر مقبرے کے مسموم فضا،چیزوں پرلگا ہوازہر سے بچ بھی جاتے توصدیوں سے بند مقبرے کی دیواروں پر اسفنج نماسماروخ کی وجہ سے مختلف النوع الرجی یاانفیکشن کاشکار ہوجاتے


متعلقہ خبریں


مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

صدرزرداری، نوازشریف اور وزیراعظم کی مشاورت سیحکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے،عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے،ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا، شہیدوں کا خون رائ...

مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوتاہی قابل قبول نہیں،جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے جبکہ وزیراعظم نے ...

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

ایف ڈبلیو او کے تعاون سے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری ،وزیراعلیٰ کا523ترقیاتی اسکیموں کا اعلان تمام میگا اور اہم منصوبے عالمی معیار کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے تحت ہونے چاہئیں، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، محکم...

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

سلمان اکرم راجاکا بیرسٹر گوہر سے متعلق بیان، واٹس ایپ گروپس میں شدید تنقید،ذرائع سیکریٹری جنرل نے پارٹی کو اس نہج پر پہنچایا وہ پارٹی میں گروپنگ کر رہے ہیں، اراکین پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیرسٹر گوہر کے بیان کے بعد پی ٹی آئی میں اختلافات سامنے آگئے، پ...

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے ا سپیکر ایاز صادق کو وزیراعظم کا گرین سگنل وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات ہوں گے،غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہیں کریں گے،حکومتی ذرائع حکومتی وفد تیار ،ابھی تک مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابط رابطہ نہیں کیا، ذرائع اسپیکر آفس وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے گرین سگ...

پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے ا سپیکر ایاز صادق کو وزیراعظم کا گرین سگنل

کسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں،سیاسی جماعتیں بحران کا حل نکالیں،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 07 جنوری 2026

خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم ہے، خیبر پختونخوا میں آپریشن نہیں کرنا تو کیا خارجی نور ولی کو وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کرلی جائے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر وزیر اعلیٰ کے پی فرما رہے ہیں کابل ہماری سکیورٹی کی گارنٹی دے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارس...

کسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں،سیاسی جماعتیں بحران کا حل نکالیں،ترجمان پاک فوج

عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات نہیں ہوں گے، سیکرٹری جنرل تحریک انصاف وجود - بدھ 07 جنوری 2026

اب تک کہیں سے اشارہ نہیں ملا ، بانی پی ٹی آئی سے ہم ملے گے ان سے مکالمہ ہو گا،ہدایت لیں گے پھر ان سے بات ہوسکتی ہے،سلمان اکرم راجا کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار سندھ حکومت احسان نہیں کر رہی، سہیل آفریدی کو پروٹوکول دینا آئینی حق ،رانا ثنا 5 بڑوں وال...

عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات نہیں ہوں گے، سیکرٹری جنرل تحریک انصاف

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار وجود - منگل 06 جنوری 2026

مصدقہ اطلاعات پرکئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن،گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید، نیاز قادر عرف کنگ، حمدان عرف فرید شامل ہیں کارروائی میں 30 عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، 5 دھماکہ خیز سلنڈرز، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار...

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار

عمران خان کا پیغام سندھ کے شہر شہر لے جایا جائے گا،حلیم عادل شیخ وجود - منگل 06 جنوری 2026

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا 9 سے 11 جنوری تک سندھ کا تاریخی دورہ کریں گے،پی ٹی آئی آٹھ فروری یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا،پریس کانفرنس پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے انصاف ہاؤس کراچی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ...

عمران خان کا پیغام سندھ کے شہر شہر لے جایا جائے گا،حلیم عادل شیخ

وینزویلا میں تیل تک رسائی نہیں دی تودوبارہ حملہ کرینگے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - منگل 06 جنوری 2026

ڈیلسی روڈریگز نے درست کام نہیں کیا تو مادورو سے زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی گرین لینڈ امریکی دفاع کیلئے ضروری ہے ،امریکی صدرکی نائب صدر وینزویلا کو دھمکی واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کر دے ...

وینزویلا میں تیل تک رسائی نہیں دی تودوبارہ حملہ کرینگے، ڈونلڈ ٹرمپ

کراچی میں گندے اور کھلے نالوںقائم فوڈ اسٹالز امراض کا گڑھ بن گئے وجود - منگل 06 جنوری 2026

روشنیوں کا شہر مختلف مسائل کا شکار، ٹوٹی سڑکیں، کھلے نالوں نے شہر کی شکل بگاڑ دی،ماہرین نے صحت کیلئے ہولناک قرار دیدیا ان فوڈ اسٹریٹس اور غذائی اسٹالز میں پہلے ہی حفظان صحت کے اصولوں کا فقدان ہے رہی سہی کسر اڑتی دھول مٹی نے پوری کردی روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی مختلف مسا...

کراچی میں گندے اور کھلے نالوںقائم فوڈ اسٹالز امراض کا گڑھ بن گئے

صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی،سہیل آفریدی وجود - منگل 06 جنوری 2026

15 نکاتی ایجنڈے میں واضح کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تمام فریق مل کر بیٹھیں گے تو مؤثر پالیسی بنے گی اور امن بحال ہوگا،صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن...

صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی،سہیل آفریدی

مضامین
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں وجود جمعه 09 جنوری 2026
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں

وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق وجود جمعه 09 جنوری 2026
وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق

اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت وجود جمعه 09 جنوری 2026
اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت

اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات وجود جمعه 09 جنوری 2026
اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود جمعرات 08 جنوری 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر