وجود

... loading ...

وجود

بھارتی آبی دہشت گردی کا توڑ وقت کی ناگزیرضرورت

پیر 07 مئی 2018 بھارتی آبی دہشت گردی کا توڑ وقت کی ناگزیرضرورت

وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے آبی وسائل ڈویڑن کو بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا معاملہ سرعت اور پوری طاقت کے ساتھ عالمی بنک کے روبرو اٹھانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں عالمی بنک کی سستی سے بھارت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ بدھ کے روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت منعقد ہونیوالے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن نے 24 اپریل کو مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے منظور کی گئی واٹر پالیسی اور آبی منشور کے بارے میں مفصل بریفنگ دی۔ اجلاس میں بحرہند میں سلامتی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس امر کی ہدایت کی گئی کہ اس آبی خطہ میں ملکی مفادات کو یقینی بنانے کے لیے سلامتی کا مزید متحرک بندوبست کیا جائے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر اور اس کے لیے ریفرنڈم نہ کرانے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے گزشتہ روز وفاقی حکومت سے ایک ہفتے کے اندر اندر واٹر پالیسی طلب کرلی۔ فاضل عدالت نے دوران سماعت اپنے ریمارکس میں باور کرایا کہ پانی کے لیے کام نہ کرنیوالے ملک کے دوست نہیں‘ وہ مستقبل کے بچوں کے لیے کیا چھوڑ کر جارہے ہیں۔ اسی طرح ایک شہری ملک عابد حسین نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ انکی دائر کردہ رٹ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالاباغ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے 35‘ ایکڑ ملین فٹ سے زائد پانی اور 70‘ ارب روپے سے زائد رقم کا سالانہ نقصان ہورہا ہے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر حکومت نے سیاسی بنیادوں پر روک رکھی ہے حالانکہ اس ڈیم کو مکمل کرنے سے ملک میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائیگا۔

ہمارے دیرینہ دشمن بھارت نے تو پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی اپنی شروع دن کی سازش کے تحت پاکستان کا پانی روکنے کی خاطر ہی کشمیر پر تسلط جمایا تھا اور اس سازشی منصوبے پر ہی وہ عمل پیرا ہے مگر ہمارے مفاد پرست سیاست دانوں اور منصوبہ سازوں نے بھی پاکستان کے لیے آبی ذخائر بڑھانے میں تساہل سے کام لے کر اور بھارتی سازشوں کا موقع پر توڑ نہ کرکے ملک کی سلامتی کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ حقیقت ہے کہ پانی کے وسائل ہی ہماری زرعی معیشت کے فروغ کی بنیاد ہیں جبکہ پانی ہر ذی روح کی زندگی کی علامت ہے جسے محفوظ کرنا زندگیوں کو محفوظ کرنے کے مترادف ہے۔ اگر اس معاملہ میں کسی قسم کے تساہل سے کام لیا جاتا ہے یا ہمیں اس نعمت سے محروم کرنے کی دشمن کی سازش کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچانے میں کوئی آلہ¿ کاربنتا ہے تو اس سے بڑی ملک دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں اس معاملہ میں دشمنوں ہی نہیں‘ اپنوں کی سازشوں کا بھی سامنا رہا ہے۔ بھارت نے تو پاکستان کو اپنے زیرنگیں رکھنے کی نیت سے ہی کشمیر کا تنازعہ کھڑا کیا چنانچہ وہ آج کے دن تک کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی پر قائم ہے جس نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے 1948ء سے 1955ء تک یواین جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کی گئی درجن بھر قراردادوں کو بھی کبھی درخوراعتناء￿ نہیں سمجھا اور اس مسئلہ کے دوطرفہ مذاکرات کے تحت حل کے لیے 1972ء￿ میں کیے گئے شملہ معاہدہ کو بھی آج تک روبہ عمل نہیں ہونے دیا جبکہ مذاکرات کی ہر میز وہ رعونت کے ساتھ خود الٹاتا رہا ہے۔

کشمیر پر اس کے تسلط کا بنیادی مقصد ہی کشمیر کے راستے پاکستان آنیوالے دریاوں پر اپنا تسلط جمانا تھا تاکہ ان کا پانی روک کر کسی بھی طرح پاکستان کو خشک سالی اور قحط کی کیفیت سے دوچار کیا جاس کے‘ اسی تناظر میں جب بھارت نے آبی تنازعہ کو فروغ دینا شروع کیا تو پاکستان نے پہلی بار 1960ء میں اس تنازعہ کے حل کے لیے عالمی بنک سے رجوع کیا چنانچہ عالمی بنک نے ثالث کی حیثیت میں دونوں ممالک کے مابین سندھ طاس معاہدہ کرایا۔ اس میں بھی بھارت کے حق میں ڈنڈی ماری گئی اور تین دریا راوی‘ ستلج اور بیاس مکمل طور پر بھارت کے حوالے کر دیئے گئے جن کا پانی اپنے مصرف میں لانے کا پاکستان کا حق چھین لیا گیا جبکہ دوسرے تین دریا?ں نیلم (چناب)‘ جہلم اور سندھ پر اس معاہدے کے تحت پاکستان کو پہلے ڈیمز تعمیر کرنے کا حق دیکر بھارت کو بھی ساتھ ہی یہ حق دے دیا گیا کہ پاکستان کے بعد وہ بھی ان دریاوں پر ڈیمز تعمیر کر سکتا ہے۔ شومئی قسمت کہ ہمارے منصوبہ سازوں اور حکومتی ارکان نے اپنے کانوں اور آنکھوں پر غفلت کی روایتی پٹی باندھے رکھی اور پاکستان کے لیے انتہائی ضروری ہونے کے باوجود منگلا اور تربیلا ڈیم کے بعد کوئی نیا ڈیم بنانے کی حکمت عملی ہی طے نہ کی جاسکی چنانچہ بھارت کو ہماری ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا جس نے سندھ طاس معاہدے کا سہارا لے کر پاکستان کے حصے میں آنیوالے متذکرہ دریاوں پر بھی دھڑا دھڑ ڈیمز کی تعمیر شروع کردی۔

ہمارے لیے اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ بھارت نے جب دریائے نیلم پر اپنی جانب بگلیہار ڈیم کی تعمیر مکمل کرلی تو ہمارے آبی ماہرین گہری نیند سے بیدار ہوئے اور انہوں نے متذکرہ ڈیم کیخلاف عالمی بنک سے رجوع کرنے کے لیے محض خانہ پری کے طور پر کیس تیار کیا جو اتنا کمزور تھا کہ عالمی بنک کے روبرو پہلی ہی پیشی میں اس جواز کے تحت خارج ہوگیا کہ کسی تعمیر شدہ ڈیم کو گرانے کا حکم دینا مناسب نہیں۔ ہمارے منصوبہ سازوں نے پہلی غلطی تو پاکستان کے حصے میں آنیوالے دریاوں پر کوئی ڈیم تعمیر نہ کرنے کی صورت میں کی جبکہ اس کے بعد وہ پاکستان پر آبی دہشت گردی مسلط کرنے کی بھارتی سازشوں سے بھی بے نیاز ہوگئے۔ اسی بنیاد پر ہم عالمی بنک میں بھارت کیخلاف کوئی کیس نہ جیت سکے جبکہ بھارت کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے کہ اس نے پاکستان کی طرف آنیوالے دریاوں پر مزید ڈیم تعمیر کرنا شروع کر دیئے۔ پھر بھارتی سپریم کورٹ نے قطعی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو پاکستان آنیوالے دریاوں کا رخ موڑنے کی بھی اجازت دے دی چنانچہ ایسے سازگار حالات میں ہی ہندو انتہاء پسندوں کے نمائندے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو یہ بڑ مارنے کا موقع ملا کہ پاکستان کو پانی کے ایک ایک قطرے سے محروم کر دیا جائیگا۔ یہ درحقیقت پاکستان مخالف بھارتی ایجنڈے کا اہم ترین نکتہ ہے جس پر آج مودی سرکار مکمل طور پر کاربند ہے۔

اس کے برعکس ہمارا یہ معاملہ ہے کہ ایوب خان کے دور میں دریائے سندھ پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا طے پانے والا منصوبہ بھی اس ڈیم کو متنازعہ بنا کر ہمارے مفاد پرست سیاست دانوں نے غارت کردیا جس کی تعمیر کی صورت میں اسے بم سے اڑانے کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔ یہ درحقیقت ہمارے دشمن بھارت ہی کا ایجنڈا تھا جسے اس نے ہمارے مخصوص سیاست دانوں کو دھن‘ دولت کے زور پر اپنا آلہ کار بنا کر پایہ تکمیل کو پہنچایا ہے۔ اسی سازش کے تحت کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لیے قومی اتفاق رائے کا شوشہ چھوڑا گیا اور پھر دو صوبوں سندھ اور خیبر پی کے کے نام نہاد قوم پرستوں کو کالاباغ ڈیم پر قومی اتفاق رائے نہ ہونے دینے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ چنانچہ وہ چاہے پیپلزپارٹی میں ہوں یا اے این پی میں اور چاہے تحریک انصاف میں ہوں‘ انہوں نے کابالاغ ڈیم کی بذریعہ دھونس مخالفت کی ٹھان رکھی ہے۔ اس طرح ہمارا دشمن بھارت ہمارے ایسے مفاد پرست سیاست دانوں کی بدولت اپنے سازشی منصوبوں میں کامیاب ہو رہا ہے جبکہ اس نے ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے حصے کے دریائوں پر کشن گنگا اور رتلے پن بجلی کے منصوبے بھی مکمل کرلیے ہیں اور ہمارے منصوبہ سازوں کو ان بھارتی آبی منصوبوں کی تکمیل کے بعد ہی ہوش آیا ہے جنہوں نے پھر عالمی بنک سے رجوع کیا ہے مگر ہمارے کمزور کیس کے باعث بھارت کو عالمی بنک سے ہمارے خلاف حکم امتناعی لینے کا پھرموقع مل گیا ہے۔ بے شک عالمی بنک بھارت کے حق میں ہی ڈنڈی مارتا ہے مگر اپنی ہزیمتوں کا اہتمام کرانے میں ہم خود بھی تو کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

پاکستان کی طرف سے گزشتہ ماہ کے آغاز میں عالمی بنک کو مراسلہ بھجوایا گیا تھا کہ پاکستان کو کشن گنگا اور رتلے پن بجلی کے بھارتی منصوبوں کے ڈیزائن پر اعتراضات ہیں۔ ابھی عالمی بنک میں یہ مراسلہ ثالثی کے کردار کے تعین کے مراحل سے گزر رہا ہے کہ بھارت نے ہٹ دھرمی کی انتہاء￿ کرتے ہوئے 860 میگاواٹ کے اس منصوبے پر کام بھی شروع کردیا ہے۔ اس طرح ہم احتجاج ہی کرتے رہیں گے اور ہماری قومی سلامتی کمیٹی آبی وسائل ڈویڑن کو بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر عالمی بنک کے روبرو پوری طاقت سے آواز اٹھانے کی ہدایات ہی جاری کرتی رہے گی جبکہ بھارت بگلیہار کی طرح کشن گنگا اور رتلے ڈیم کی تعمیر بھی مکمل کرلے گا۔ ملک میں آج آبی بحران کس قدر سنگین ہوچکا ہے اس کا اندازہ بی بی سی کی دو ماہ قبل جاری کی گئی رپورٹ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آبی بحران کے باعث پاکستان کے لیے گندم کے پیداواری ہدف کا حصول بھی مشکل ہو جائیگا۔ رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ پنجاب کو پانی کی فراہمی میں 60 فیصد اور سندھ کو 70 فیصد شارٹ فال کا سامنا ہے جبکہ پاکستان میں پانی کی قلت پر آگاہی نہ ہونے کے باعث ملکی سیکورٹی‘ استحکام اور ماحولیاتی پائیداری سخت خطرے کا شکار ہے۔ آج پانی کی کمیابی پاکستان کی زراعت و معیشت کے لیے سنگین خطرے کی گھنٹی بجارہی ہے تو ہمارے پاس کالاباغ ڈیم ہی ایسا منصوبہ ہے جسے مکمل کرکے ہم اپنی آبی اور توانائی کی ضرورتیں پوری کرسکتے ہیں۔ یہ امر واقع ہے کہ قدرت کے نظام میں ہونیوالی موسمیاتی تبدیلیوں نے اس دھرتی پر پانی کی قلت کے منفی اثرات مرتب کرنا شروع کردیئے ہیں اور اس وقت زیرزمین پانی کی سطح انتہائی تیزی سے نیچے گررہی ہے۔ اگر مفاداتی سیاست میں الجھے ہمارے سیاسی قائدین نے اس صورتحال کا بروقت ادراک نہ کیا اور ملک اور عوام کی آبی ضروریات پر توجہ نہ دی تو ہم اپنی بے تدبیریوں کے باعث اس ارض وطن کو ریگستان بنانے کی بھارتی سازشیں خود ہی پایہ تکمیل کو پہنچا دینگے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر