وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اسمارٹ فون۔۔نقصانات سے بچنے کے طریقے

هفته 05 مئی 2018 اسمارٹ فون۔۔نقصانات سے بچنے کے طریقے

اسمارٹ فون عام ہو چکا ہے۔ اگرچہ یہ چوکور سی شے اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ جیب میں آ جاتی ہے لیکن اس کی وجہ سے دوسروں سے گفتگو اور رابطہ کرنے کے طریقوں میں انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ سمارٹ فون کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اس سے دوستوں کے ساتھ تصویریں لی جا سکتا ہیں اور فیس بک کی وسیع ’’سیاحت‘‘ کی جا سکتی ہے۔ سننے اور پڑھنے میں آتا ہے کہ ا سمارٹ فون نے نئی نسل کو تباہ کر دیا یا سوشل میڈیا نے معاشرے کو تقسیم کر دیا ہے۔ لیکن اس بارے میں تحقیقات کیا کہتی ہیں؟ دراصل اسمارٹ فون جیسی الیکٹرونک ڈیوائسز استعمال کرنے والوں میں ڈپریشن یا یاسیت اور برے موڈ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ا سمارٹ فون سے تعلقات میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔ تو آپ ا سمارٹ فون سے کس طرح باہمی تعلقات کو خراب ہونے سے بچا سکتے ہیں؟ ذیل میں اس بارے میں کچھ مشورے دیے گئے ہیں جو آپ کے تعلقات کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔

بالمشافہ ملاقات
ا سمارٹ فون کے آنے کے بعد ہمارے الیکٹرونک رابطے بڑھ گئے ہیں۔ ہمارے پاس وقت محدود ہوتا ہے۔ اس لیے ا سمارٹ فون کی مصروف کی وجہ سے دوسروں کے لیے وقت نہیں نکل پاتا۔ اس سے ہماری زندگی پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔ کیسے؟ ایک تحقیق کے مطابق ذہنی و جسمانی صحت کے لیے سب سے اچھی شے مضبوط سماجی یا باہمی رشتوں کا قیام ہے۔ اور ایسے رشتے روبرو ملاقات سے قائم ہوتے ہیں۔ بالمشافہ تعامل سے آپ کا موڈ بہتر ہوتا ہے اور ڈپریشن میں کمی آتی ہے۔ ویسے ہی جیسے دوسری سرگرمیاں جیسا کہ مذہبی عبادت گاہ جانا، ورزش کرنا یا کھیلنا ہماری ذہنی صحت کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ ان کے بغیر ہماری ذہنی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ اسمارٹ فون کی وجہ سے بامعنی تعلق اور تعامل نہیں ہو پاتا۔ ہم دوستوں سے براہ راست ان کا حال احوال پوچھنے کی بجائے ان کے فیس بک پیجز دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم دوستوں کے ساتھ کسی تھیٹر یا سینما میں جانے کی بجائے انٹرنیٹ پر ڈرامے اور فلمیں دیکھتے ہیں۔ لیکن ذہنی صحت کے لیے لازمی ہے کہ جب بھی موقع ملے ہم اکٹھے ہوں۔

دوسروں کے ساتھ:
اگر آپ کچھ دوستوں کے ساتھ ہیں اور وہ ا سمارٹ فون استعمال کر رہے ہیں تو باہمی گفتگو کا معیار گر جائے گا۔ آپ نے خود بھی اس کا اندازہ لگایا ہو گا۔ اس سے گفتگو کا ربط بھی ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی بات کو سنا نہیں جا رہا۔ زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ کسی محفل میں ا سمارٹ فون کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ 82 فیصد افراد کے خیال میں کسی محفل میں ا سمارٹ فون باہمی گفتگو کو متاثر کرتا ہے۔ بہرحال یہ جانتے ہوئے بھی ہم اپنے ا سمارٹ فون کو استعمال کرتے رہتے ہیں۔ امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 89 فیصد شرکا نے کہا کہ انہوں نے جس حالیہ محفل میں شرکت کی تھی اس میں وہ ا سمارٹ فون استعمال کرتے رہے۔ جب ہم سماجی میل جول کے دوران ا سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں تو اس سے ہماری اپنی شمولیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ باہر دوستوں کے ساتھ رات کے کھانے پر سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں وہ دوسروں کی نسبت کم انجوائے کرتے ہیں اور زیادہ بور ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم نے جان بوجھ کر اس حقیقت پر آنکھیں بند کر لی ہیں۔ پس جب کسی محفل میں آپ جیب سے ا سمارٹ فون نکالنے لگیں تو یہ ضرور سوچیں کہ جب دوسرا ایسا کرنے لگتا ہے تو آپ کے احساسات کیا ہوتے ہیں۔

نظروں سے اوجھل:
بعض اوقات ا سمارٹ فون کے استعمال سے محض احتراز کافی نہیں ہوتا۔ ایک تحقیق کے مطابق ا سمارٹ فون سے توجہ تقسیم ہوتی ہے۔ نصف سے زائد امریکیوں کا خیال ہے کہ ا سمارٹ فون کی وجہ سے دوسروں کی جانب ان کی توجہ بٹ جاتی ہے۔ بعض تحقیقات کے مطابق ا سمارٹ فون کی میز پر موجودگی تک بامعنی گفتگو مشکل بنا دیتی ہے۔ تصور کریں کہ آپ کسی سے دل کی بات کہہ رہے ہیں، وہ سن یا سمجھ نہیں رہا یا پھر جواب نہیں دے رہا اور اس کی نظریں وقتاً فوقتاً اپنے فون پر پڑتی ہیں جو ساتھ ہی پڑا ہے۔ دوسروں کے ساتھ بھروسے اور یقین کا رشتہ استوار کرنے کے لیے توجہ سے سننا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اگر ہم ایسا نہیں کر تے تو ہم اپنے تعلقات کو خراب کرتے ہیں۔ اگلی بار دوسروں سے بامعنی گفتگو کرتے وقت اس امر کا خیال رکھیں۔

اجنبیوں سے بات
بہت سی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ اجنبیوں سے گفتگو، مثلاً کسی دکاندار، رکشے والے یا کیشیئر سے ہلکی پھلکی بات چیت ہمیں سماجی طور پر جڑے ہوئے ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ لیکن ا سمارٹ فون اس پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟ جی ہاں جب ہم اپنے ا سمارٹ فون میں مصروف ہوتے ہیں یا جب اس پر انحصار کرتے ہیں، تو ایسا ہوتا ہے۔ مثلاً ہم اجنبی لوگوں سے راستہ پوچھتے ہیں۔ لیکن ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر ہاتھ میں ا سمارٹ فون ہو تو لوگ دوسروں سے راستہ پوچھنے کی بجائے ا سمارٹ فون کی مدد سے راستہ تلاش کرتے ہیں۔ ان جانے لوگوں سے کسی قسم کا تعلق ختم کر دینے سے بیگانگی جنم لیتی ہے اور یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ معاشرے سے کٹے ہوئے ہیں۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ اجنبیوں سے بات مت کرو۔ ان سے بات کرتے ہوئے ہچکچاہٹ بھی ہوتی ہے۔ لیکن متعدد بار صورت حال ایسی ہوتی ہے جس میں دوسرے انسانوں سے گفتگو کرنی چاہیے اور ایسا کرنا ہمارے اور دوسرے پر خوش کن اثر ڈالتا ہے۔

بامقصد آن لائن
ہمارا خیال ہے، یا ہمیں بتایا گیا ہے کہ فیس بک اور ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایک دوسرے کو جوڑتے ہیں۔ لیکن معلوم یہ ہوا ہے کہ سماجی رابطوں کے لیے ا سمارٹ فون جیسے الیکٹرونک آلات کا استعمال اتنا بھی اچھا نہیں۔ ہمارے موڈ اور احسات پر آن لائن گفتگو کا اثر متعدد بار ایسا ہوتا ہے جیسے ہم نے بات ہی نہ کی ہو۔ دوسرے الفاظ میں یہ بے معنی سا ہوتا ہے۔ تعلق قائم کرنا انسانی فطرت ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا یا آئن لائن ہو کر ادھر ادھر لوگوں کو ٹٹولتے رہنے سے بہتر ہے کہ اپنے دوست یا جاننے والے سے بھرپور چیٹ کر لی جائے۔ اس سے احساس زیاں نہیں ہوتا۔

حالِ دل
اگرچہ زیادہ تر تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ آپ کو الیکٹرونک آلات کی بجائے آمنے سامنے گفتگو کو ترجیح دینی چاہیے، لیکن ہر وقت ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ جب والدین کسی کام سے سفر کر رہے ہوں یا کوئی قریبی دوست کسی دوسرے شہر چلا گیا ہو، تو آپ کیا کریں گے؟ انہیں افراد کو آپ حال دل سناتے ہیں۔ اس صورت میں سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ باآسانی ہو سکتا ہے۔ تعلقات کی برقراری کے لیے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں رابطہ یا تعلق منقطع ہو سکتا ہے۔ پس ا سمارٹ فون اور اس میں موجود اپلی کیشنز ترک کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ہمارے تعلقات پر اثرانداز نہ ہو سکے۔


متعلقہ خبریں


سعودی عرب کا ایران پرجوہری پروگرام سے متعلق دھوکا دہی سے کام لینے کا الزام وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کی وزیرخارجہ نے ایران پر اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ’’دھوکا دہی اور ابہام‘‘ سے کام لینے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو اپنی حساس جوہری سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں تاخیری حربے استعمال کررہا ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزیرمملکت برائے خارجہ عادل الجبیر نے ایران پر زور دیا کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے اور اس کے معائنہ کاروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔

سعودی عرب کا ایران پرجوہری پروگرام سے متعلق دھوکا دہی سے کام لینے کا الزام

میری شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں،سعودی بیٹی کا والد کوپیغام وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کے دمام میں ایک دو شیزہ کا اپنے والد کے نام مکتوب سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد اس پر تحائف کی بارش کردی۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے شہردمام سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی نے اپنے والد کو شادی سے چند دن قبل ایک مکتوب لکھا جس میں ان سے کہا کہ اس کی شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں۔ اس کا حق مہر25 ہزار ریال سے زیادہ نہ ہو اور اس کی شادی پراٹھنے والے اخراجات بھی اس رقم سے زیادہ نہ ہوں۔سعودی دو شیزہ کا والد کو پیغام سوشل میڈیا پروائرل ہوتے ہی صارفین کی طرف سے ...

میری شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں،سعودی بیٹی کا والد کوپیغام

لیبیا کے جسمانی طور پرآپس میں جڑے دو بچوں کا سعودی عرب میں آپریشن وجود - بدھ 13 نومبر 2019

لیبیا سے تعلق رکھنے والے دو شیرخوار بچے جن کے دھڑ ایک دوسرے کے ساتھ جْڑے ہوئے ہیں کوآپریشن کے ذریعے الگ کرنے کے لیے سعودی عرب لایا گیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے ماہر سرجن ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ اور ان کی ٹیم نے بچوں کے معائنے کی تکمیل کے بعد ان کی سرجری کا فیصلہ کیا ہے۔ آپس میں جڑے بچوں کے نام احمد اور محمد رکھے گئے ہیں۔ ان کی سرجری کا عمل کل جمعرات کو شاہ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کے شاہ عبداللہ اسپتال میں کیا جائے گا۔سرجری ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربی...

لیبیا کے جسمانی طور پرآپس میں جڑے دو بچوں کا سعودی عرب میں آپریشن

ٹوئٹر نے حسن نصراللہ کے فرزند کا اکائونٹ بھی بلاک کردیا وجود - بدھ 13 نومبر 2019

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹویٹر نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے بیٹے جواد نصراللہ کا اکائونٹ بھی بلاک کردیاہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹویٹر کی طرف سے یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ منگل کوامریکا نے جواد نصراللہ کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔ٹویٹر کا دعویٰء ہے کہ جواد نصراللہ اپنے سخت موقف اور متنازع فتووں کی تشہیر کے لیے اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتا تھا جو کہ ٹویٹر کی پالیسی کے خلاف ہے۔ کمپنی کا کہناتھا کہ جواد نصراللہ کے خلاف بار بار شکایات ا...

ٹوئٹر نے حسن نصراللہ کے فرزند کا اکائونٹ بھی بلاک کردیا

سعودی عرب میں دہشت گردی کے 38 ملزمان کو قید اور ملک بدری کی سزا وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کی ایک خصوصی فوجداری عدالت نے دہشت گردی اور متعدد الزامات میں قصوروار ثابت ہونے کے بعد کل 41 ملزمان میں سے 38 کو قید اور ملک بدری کی سزائیں سنادیں۔میڈیارپورٹس کیے مطابق ان ملزمان پر منہج کتاب و سنت کے برخلاف انتہا پسندانہ نظریات اختیار کرنے ،دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے ، دہشت گرد تنظیم قائم کرنے، لوگوں کو اس میں بھرتی کرنے، کچھ کو ایک انتہا پسند تنظیم کے ہاتھ پر بیعت کرنے، ملک میں بد امنی پھیلانے اور ملک کے نظم ونسق میں خلل پیدا کرنے کے لیے ...

سعودی عرب میں دہشت گردی کے 38 ملزمان کو قید اور ملک بدری کی سزا

مصنوعی گردوں کے ذریعے ڈائیلاسز کے عمل میں کامیاب پیشرفت وجود - منگل 12 نومبر 2019

گردوں کے امراض کے دوران ڈائیلاسز کرانا مریض کے لیے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے تاہم لگتا ہے کہ مستقبل میں اس سے نجات مل جائے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ آٹومیٹڈ وئیرایبل مصنوعی گردے سے کڈنی فیلیئر کے مریضوں کے خون میں سے زہریلے مواد کو موثر طریقے سے نکالنے میں مدد مل سکے گی۔سائنسدانوں کی جانب سے اس مصنوعی گردے والی ڈیوائس کی ڈائیلاسز کے لیے آزمائش کی جارہی ہے جس سے تھراپی کے کئی گھنٹوں اور بڑی مشینوں کے استعمال سے نجات مل جائے گی۔اس ٹیکنالوجی میں ڈائیلاس...

مصنوعی گردوں کے ذریعے ڈائیلاسز کے عمل میں کامیاب پیشرفت

امریکا، تبت میں مداخلت کیلئے اقوام متحدہ کو استعمال کررہا ہے، چین وجود - منگل 12 نومبر 2019

چین نے تبت کے دلائی لامہ کے جانشین کے انتخاب کے حوالے سے واشنگٹن کی مبینہ سرگرمیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا، تبت میں مداخلت کے لیے اقوام متحدہ کو استعمال کر رہا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے سفیر برائے مذہبی آزادی سیم براون بیک نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ تبت کے روحانی رہنما کی جانشینی کے معاملے کو اقوام متحدہ دیکھے۔ان کا کہنا تھا کہ دلائی لامہ کے جانشین کا انتخاب تبت کے بدھ مذہب کے ماننے والوں سے متعلق ہے اور اس پر چینی حکومت کا کوئی ت...

امریکا، تبت میں مداخلت کیلئے اقوام متحدہ کو استعمال کررہا ہے، چین

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں کیس وجود - منگل 12 نومبر 2019

مغربی افریقی ملک گیمبیا کی حکومت نے جنوبی ایشیائی ملک میانمار کے خلاف روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ کی عدالت میں قانونی کارروائی کے لیے درخواست دائر کردی۔ یہ مقدمہ 57 ملکی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کی جانب سے میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں لایا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں دارے کے مطابق قانونی درخواست میں کہا گیا کہ میانمار نے اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن 1948 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست رخائن میں مسلم اقلیت روہنگیا کے خلاف فوجی کارروائی کی۔گیمبیا کے وزیر انصاف...

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں کیس

21ویں صدی میں جنگی جرائم کی گنجائش نہیں ، امریکی ذمے دار کا ایردوآن کو انتباہ وجود - منگل 12 نومبر 2019

امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ وہ شامی کْردوں کے خلاف کسی بھی قسم کے جنگی جرائم یا نسلی تطہیر سے باز رہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن کے دورے کی تیاری میں مصروف ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اوبرائن کا کہنا تھا کہ وہ شمال مشرقی شام میں ترکی کے حملے کے بعد وہاں ممکنہ جنگی جرائم ...

21ویں صدی میں جنگی جرائم کی گنجائش نہیں ، امریکی ذمے دار کا ایردوآن کو انتباہ

مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل وجود - منگل 12 نومبر 2019

آئندہ اتوار کو مصر کی مشہور زمانہ نہر سویزکی کھدائی کے افتتاح کو 150 سال ہوجائیں گے۔ نہر سویز کی کھدائی کے بارے میں بہت سی زبانوں میں کافی مواد موجود ہے۔مصری میڈیا نے بتایاکہ مستند معلومات کے مطابق اس نہر کی کھدائی میں ایک ملین مصریوں نے حصہ لیا جن میں ایک لاکھ 20 ہزار مزدورمختلف حادثات میں کھدائی کے دوران لقمہ اجل بن گئے۔ اس نہر کی کھدائی کا سلسلہ 10 سال تک دن رات جاری رہا۔ طویل اور مشقت سے بھرپور کھدائی کے بعد 1993 کلو میٹر طویل نہر کھودی گئی۔ اس کی کم سے کم چوڑائی 280 میٹر...

مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل

روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے،نئی تحقیق وجود - پیر 11 نومبر 2019

آسٹریلیا کی مشہور وکٹوریہ یونیورسٹی نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ ہفتے میں ایک مرتبہ 50 منٹ کی دوڑ انسان کو قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رنرز ورلڈ کے مطابق ملبورن کی وکٹوریا یونیورسٹی کی تحقیق میں 14 تحقیق کی معلومات کو اکٹھا کیا گیا جس میں 23 لاکھ سے زائد لوگ شامل تھے۔ ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ دوڑ صحت کیلئے بے حد مفید ہے اور یہ انسان کے قبل از وقت مرنے کے امکانات یا خطرات کو 27 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ ...

روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے،نئی تحقیق

فیس بک اورٹوئٹرصہیونیوں کے آلہ کار بن گئے،حماس رہ نما وجود - پیر 11 نومبر 2019

اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے فلسطینی مزاحمت کے حامی سوشل صحافت کی بندش پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹویٹرکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے بیرون ملک امور کے انچار محمد نزال نے ایک بیان میں کہا کہ فیس بک اورٹویٹرصہیونی ریاست کی مسلسل طرف داری کرکے اپنی غیر جانب ادارانہ ساکھ کھو چکے ہیں۔ ان دونوں ویب سائٹس کی طرف سے صہیونی ریاست کے خاکوں میں رنگ بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اوردونوں سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم غاصب ...

فیس بک اورٹوئٹرصہیونیوں کے آلہ کار بن گئے،حماس رہ نما

مضامین
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 13 نومبر 2019
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر)

پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی
(عطا محمد تبسم)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی <br>(عطا محمد تبسم)

دھرنے کی آکاس بیل۔!
(راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
دھرنے کی آکاس بیل۔!  <br>(راؤ محمد شاہد اقبال)

سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر) وجود جمعرات 07 نومبر 2019
سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر)

مولانا فضل الرحمن اور مسئلہ کشمیر
(حدِ ادب...انوار حسین حقی)
وجود پیر 04 نومبر 2019
مولانا فضل الرحمن  اور مسئلہ کشمیر  <BR>(حدِ ادب...انوار حسین حقی)

جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 04 نومبر 2019
جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟ <BR>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

طالبان تحریک اور حکومت
(جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)
وجود هفته 02 نومبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت <br> (جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)

سخت فیصلے کا سیزن۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود هفته 02 نومبر 2019
سخت فیصلے کا سیزن۔۔ <br> (علی عمران جونیئر)

سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی
(جلال نُورزئی)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی<br>(جلال نُورزئی)

آٹھ آنے کا بچہ۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
آٹھ آنے کا بچہ۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

ڈکیتی!!!... (شعیب واجد) وجود پیر 28 اکتوبر 2019
ڈکیتی!!!... (شعیب واجد)

’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 28 اکتوبر 2019
’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

اشتہار