وجود

... loading ...

وجود

جلسوں اور دعوئوں کی بہار

جمعه 04 مئی 2018 جلسوں اور دعوئوں کی بہار

گزشتہ اتوار کو ملک بھر میں کئی جلسے ہوئے جن میں لاہور میں پی ٹی آئی کا جلسہ شرکاء کی تعداد کے لحاظ سے بہت بڑا تھا۔ اب اس میں اہل لاہور یا اہل پنجاب کی تعداد کتنی تھی اور خیبر پختونخوا سے آنے والے کتنے تھے، یہ متنازع مسئلہ ہے لیکن یہ واضح ہے کہ پی ٹی آئی نے پنجاب میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کردیا جس پر عمران خان کا دعویٰ ہے کہ اب پنجاب میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کا مقابلہ ہو گا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پی ٹی آئی پنجاب میں تیزی سے آگے بڑھی ہے لیکن کیا وہ پنجاب میں ن لیگ کی جگہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی، اس میں شبہ ہے کیوں کہ وسطی پنجاب میں اب بھی ن لیگ کا سکہ چل رہا ہے البتہ جنوبی پنجاب میں صورت حال مختلف ہے لیکن وہاں پی ٹی آئی کے علاوہ اور بھی کئی کھلاڑی ہیں۔ جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو آصف زرداری پورا زور لگانے کے باوجود پنجاب میں قدم جمانے میں ناکام رہے ہیں۔ اب اس کا حل یہ نکالا ہے کہ پنجاب سے امیدوار کھڑے کرکے ان کی ضمانتیں ضبط کرانے کے بجائے آصف زرداری کا کہنا ہے کہ وہ آزاد امیدواروں پر داؤ لگائیں گے اور ان کی حمایت کریں گے۔ حمایت خالی خولی نہیں ہوتی اس کا ایک مطلب خریدو فروخت بھی ہے اور اس کام میں زرداری صاحب ماہر ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات میں وہ اپنا کمال دکھا چکے ہیں کہ اٹھتے بیٹھتے پی ٹی آئی پر تبرّا بھیجنے کے باوجود اس کے گھوڑوں کو خرید لیا اور عمران خان نے، بقول کسے، پورا اصطبل ہی پیپلز پارٹی کے حوالے کر دیا۔

اب آصف علی زرداری پنجاب میں آزاد امیدواروں کو اپنانے کی تیاری کر رہے ہیں فی الوقت تو یہ ہوا ہے کہ بڑے بڑے جلسوں میں بڑے بڑے دعوے کیے گئے ہیں۔ ان دعویداروں میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ وہ ہیں جو اقتدار میں کئی کئی باریاں لے چکے ہیں البتہ پی ٹی آئی کو ابھی صرف ایک صوبے میں اقتدار ملا ہے۔ انہوں نے لاہور کے جلسے میں اپنے منشور کے طور پر 11 نکات کا اعلان کیا ہے لیکن ان کے مخالفین پوچھ رہے ہیں کہ ان نکات کا اعلان خیبر پختون خوا میں کب ہو گا۔ وہاں تو ابھی یہ تعین نہیں ہو سکا کہ ایک ارب پودے لگانے کا دعویٰ کس حد تک پورا ہوا۔ صحت اور تعلیم کی صورت حال پر چیف جسٹس کڑی تنقید کر چکے ہیں۔ عمران خان کے 11 نکات میں کرپشن کا خاتمہ، یکساں تعلیم، صحت، روزگار اور سیاحت کا فروغ قابل ترجیح ہیں۔ یہ وہ نکات ہیں جن سے کوئی بھی اختلاف نہیں کر سکتا لیکن ابھی تو ہر طرف سے دعووں اور وعدوں کا مقابلہ چل رہا ہے۔ بلاشبہ کرپشن نے پاکستان کو کھوکھلا کر دیا ہے لیکن عمران خان تو اپنے 20 ارکان اسمبلی کو بھی کرپشن سے نہیں روک سکے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان کو فارغ کر دیا گیا اور ان میں سے کئی ایسے ہیں جو قرآن کریم پر حلف اٹھا کر الزامات کی تردید کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے لوگ عمران خان نے اپنی پارٹی میں رکھے ہی کیوں تھے۔ ان کے سب سے بڑے مالی معاون جہانگیر ترین بھی نا اہل ہو چکے ہیں۔ اب عمران خان کرپشن ختم کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں خدا کرے کوئی تو یہ کام کر گزرے۔

جہاں تک ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم اور دینی مدارس کو قومی دھارے میں شریک کرنے کا تعلق ہے تو یہ بھی پوری قوم کا برسوں کا مطالبہ ہے خاص طور پر پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم تو بہت ضروری ہے کہ اس وقت ملک میں کئی طرح کے تعلیمی نظام رائج ہیں۔ ایک نظام صرف کلرک بناتا ہے اور دوسرا نظام حکمران طبقہ پیدا کرتا ہے۔ علماء کرام نے دینی مدارس کو سنبھالا ہوا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان علما اور مدارس ہی نے ملک میں اسلام کو سنبھالا ہوا ہے ورنہ تو یہ ملک کبھی کا سیکولر اور لادین نظریات کے سیلاب میں بہہ جاتا۔ عمران خان کے ان نکات میں سب کو روزگار فراہم کرنا تو محض انتخابی نعرہ ہے البتہ سیاحت کو فروغ آسانی سے دیا جا سکتا ہے، خاص طور پر خیبر پختون خوا میں ایسے بے شمار علاقے ہیں جو سیاحوں کے لیے کشش رکھتے ہیں بس آمد ورفت اور قیام کی سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ لوگ خود کھنچے چلے آئیں گے۔ یہ کام دوسرے صوبے بھی کر سکتے ہیں مگر جانے کیوں معمولی سی توجہ بھی نہیں کہ سیاحوں کو سہولتیں فراہم کی جا سکتیں۔ اتوار ہی کو پاکستان پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے فیڈرل کپیٹل یا ایف سی ایریا کو اپنے جلسے کے لیے منتخب کیا تاکہ ایم کیو ایم کا زور توڑا جا سکے۔ نو آموز اور نو عمر بلاول زرداری نے ایم کیو ایم اور لندن قیادت کو خوب خوب لتاڑا کہ اس نے کراچی کو یرغمال بنا رکھا تھا، بوری بند لاشوں اور بھتے کا ذکر بھی کیا۔ لیکن ان کو تقریر لکھ کر دینے والوں نے یہ نہیں بتایا کہ لندن والی ایم کیو ایم پیپلزپارٹی کی وفاقی اور صوبائی حکومت میں کئی بار شریک رہ چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اس کو اپنے کلیجے سے لگائے رکھا تاکہ صوبائی حکومت بچ جائے۔ سندھ کے سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے جب کھل کر ایم کیو ایم کا کچا چٹھا کھولا تو انہی کو چلتا کر دیا گیا ایم کیو ایم پر بلاول کے الزامات کوئی نئی بات نہیں لیکن ایم کیو ایم والے بھی تو پوچھ رہے ہیں کہ آپریشن پکا قلعہ میں سیکڑوں افراد کا قتل عام کس نے کروایا۔

بلاول نے طالبان کو عمران خان کا بھائی قرار دیا لیکن وہ اگر اپنی والدہ کے ٹی وی پروگرام کی وڈیو نکلوا کر دیکھ لیں تو اچھا ہو گا جس میں بے نظیر نے کہا تھا کہ: ’’میں طالبان کی ماں ہوں‘‘۔ اس رشتے سے تو بلاول طالبان کے بھائی ہوئے۔ پیپلزپارٹی کے جواب میں اب ایم کیو ایم نے اگلے ہفتے اسی مقام پر جلسے کا اعلان کیا ہے، اس دعوے کے ساتھ کہ اس میں صرف علاقے کے لوگ شریک ہوں گے اور سرکاری ملازمین کو سادہ لباس میں لا کر نہیں بٹھایا جائے گا۔ اس معاملے میں ایم کیو ایم زیادہ تجربہ کار ہے۔ بہر حال انتخابی معرکہ گرم ہو چکا ہے اور سب ایک دوسرے کو لتاڑ رہے ہیں۔ ان میں سے سوائے متحدہ مجلس کے کسی نے بھی اسلام اور شریعت کا نام نہیں لیا کہ ان کا کیا لینا دینا۔ ایم ایم اے نے بھی مردان میں بڑا جلسہ کیا ہے۔ انتخابات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ تو مستقبل کے پردے میں ہے لیکن اس دعوے میں بھر پور سچائی ہے کہ کرپشن فری پاکستان صرف مجلس عمل بنا سکتی ہے کہ اس میں شامل کسی پارٹی پر کرپشن کا داغ نہیں۔ عوام داغدار لوگوں کو نظر انداز کرکے ایسے لوگوں کو آزمائیں جو بے داغ کردار کے امین ہوں۔


متعلقہ خبریں


امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت م...

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس وجود - بدھ 08 اپریل 2026

سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملوں پر اظہار تشویش،حملے غیر ضروری،کشیدگی میں اضافہ قرار، مشرق وسطی تنازع حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزکاپاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پ...

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

مقدمات میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا بانی پی ٹی آئی کی پر امن رہائی تحریک کیلئے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے ،وزیراعلیٰ کی صحافی سے گفتگو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر ...

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل وجود - منگل 07 اپریل 2026

آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد وجود - منگل 07 اپریل 2026

ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد

مضامین
کینیڈا میں جرائم، بھارتی ملوث وجود جمعرات 09 اپریل 2026
کینیڈا میں جرائم، بھارتی ملوث

ہم جسمانی نہیں روحانی طور پر قیدی ہیں! وجود جمعرات 09 اپریل 2026
ہم جسمانی نہیں روحانی طور پر قیدی ہیں!

بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد وجود بدھ 08 اپریل 2026
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان وجود بدھ 08 اپریل 2026
پاکستان میں مہنگائی کا طوفان

امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر