وجود

... loading ...

وجود

مقبرہ قطب الدین ایبک

اتوار 29 اپریل 2018 مقبرہ قطب الدین ایبک

انارکلی بازار لاہور سے ایک سڑک جومیو ہسپتال کی طرف جاتی ہے اسے ایبک روڈ کہتے ہیں ۔ اس چھوٹی سی سڑک پر ایک بہت بڑا اور ہندوستان کا پہلا باقاعدہ مسلمان بادشاہ قطب الدین ایبک آسودہ خاک ہے۔قطب الدین ایبک ایک ترک غلام تھا۔نیشاپور کے قاضی فخرالدین نے اسے ترکستان کے ایک تاجر سے خریدا اور غزنی لے گئے۔

سلطان شہاب الدین غوری کی جہاں دیدہ نگاہوں نے قطب الدین ایبک کی صلاحیتوں کو پہچان لیا اور ایبک کو خرید کر اس کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا۔قطب الدین ایبک نے چھوٹی عمر میں ہی قرآن مجید حفظ کر لیا اور عربی و فارسی علوم پر دسترس حاصل کرلی،اس کے علاوہ اس نے حربی کمالات پر عبور حاصل کر لیا۔رفتہ رفتہ اس کی صلاحیتوں اور کمال فن کا ڈنکا بجنے لگا ،وہ ہر معرکے میں سلطان شہاب الدین غوری کے ہمراہ ہوتا اور اپنی بہادری ،شجاعت اور ذہانت کے جوہر دکھاتا۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس کی صلاحیتوں پر بادشاہ کا اعتماد بڑھتا گیا اور وہ اس کی ذمہ داریوں اور مراتب میں اضافہ کرتا گیا۔قطب الدین ایبک ہر موقع پر بادشاہ کے اعتماد پر پورا اترتا رہا ،لہذا سلطان شہاب الدین غوری نے اسے ہندوستان میں اپنا نائب مقرر کردیا اور اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی بھی اس سے کردی۔

شہاب الدین غوری کی وفات کے بعد اس کا بھتیجا تخت نشین ہوا تو اس نے قطب الدین ایبک کو ہندوستان کی حکومت سونپ دی۔قطب الدین ایبک کی شجاعت اور سخاوت کی داستانیں ہر طرف پھیل چکی تھیں۔عوام اس سے محبت کرتے تھے،لاہور شہر کے باسیوں نے اس کی آمد کی خبر سنی توان میں خوشی کی لہر دوڑگئی۔25جون 1206ء کو جب وہ لاہور آیا تو اگلے دن اس کی تاج پوشی کا جشن منایاگیا۔

اس کے عوامی وسماجی بہبود کے کاموں کی وجہ سے عوام میں اس کی مقبولیت بڑھتی گئی،وہ اپنی رعایا پر اتنا مہربان تھا کہ پیار اورعقیدت سے لوگ اسے ’’لکھ بخش‘‘ اور ’’لکھ داتا‘‘ کہتے تھے،آپ سخاوت کرنے کے معاملے میں مسلم اور غیر مسلم کافرق نہیں کرتے تھے،آپ کی سخاوت کی بارش تمام رعایا پر بلا تفریق ہوتی تھی۔ایک مرتبہ اس کے دربار میں بہت سامال واسباب لایا گیا تو اس نے فوراََ وہ سب عوام میں تقسیم کر دیا،آج جس جگہ قطب الدین ایبک کا مقبرہ ہے یہاں اس کا وسیع محل ہوا کرتا تھا۔

تب سے اس علاقہ کا نام محلہ قطب غوری مشہور ہے،محل اس قدر وسیع وعریض تھا کہ قطب الدین ایبک محل میں چوگان یعنی پولو بھی کھیلا کرتاتھا۔وہ اس کھیل کا بہت شوقین تھا۔یہی کھیل اس کی موت کا سبب بن گیا۔1210میں وہ اپنے محل میں پولو کھیل رہا تھا کہ گھوڑے سے گرپڑاور اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔کہا جاتا ہے کہ گھوڑے سے گرتے وقت لوہے کی زین اس کے سینے میں پیوست ہوگئی تھی جس کے باعث اس کی موت واقع ہو گئی۔

یوں ہندوستان پر چار سال تک مثالی حکومت کرنے کے بعد وہ اپنے محل میں ہی آسودہ خاک ہوا۔1215ء میں جب سلطان شمس الدین التمش لاہور آیا تو وہ سلطان قطب الدین ایبک کے مزار پر حاضر ہوا۔فاتحہ خوانی کی اور یہاں ایک شاندار مقبرہ تعمیر کرنے کا حکم دیا،اس وسیع وعریض اور خوبصورت مقبرے کی تعمیر پر کثیر دولت خرچ ہوئی۔لوگ بادشاہ سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ ہر سال 14 رجب کو بادشاہ کا عرس منایا جاتا تھا۔

تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ عظیم اور ہر دلعزیز بادشاہ قطب الدین ایبک کے شایان شان اس کے مقبرے کی تعمیر کی گئی تھی لیکن مغلیہ دور میں شہر کی توسیع ہوتی گئی تو مقبرہ اور باغ اجڑنے لگا۔مسلمانوں کے زوال کے بعد دیگر تاریخی عمارات کی طرح یہ مقبرہ بھی زمانے کی دست برد کا شکار ہونے لگا۔رنجیت سنگھ کے دور میں بھی اس مقبرے کو کافی نقصان پہنچا۔

مقبرے سے قیمتی پتھر اور سامان لوٹ لیا گیا اور مقبرے کو خستہ حال چھوڑ دیا گیا۔انگریز کے دور میں مقبرے کے گردونواح میں آبادی بڑھنے لگی۔محل کانام ونشان مٹنے لگا البتہ مقبرے کا دروازہ قبر موجود رہی۔انگریزوں نے قبر کی مرمت کروادی جبکہ میونسپل کمیٹی نے بازار اور گلی کا نام ایبک روڈ رکھ کر اس کا نام مٹنے سے بچالیا ورنہ شاید لوگ بادشاہ کے نام اور قبر کے محل وقوع کو ہی بھول جاتے ہیں۔

انگریز چونکہ مسلمانوں میں ان کے بادشاہوں کے حوالے سے احساس کمتری کی کیفیت قائم رکھنا چاہتے تھے۔اس لیے مسلمانوں کے مطالبے پر مقبرے کو محکمہ آثار قدیمہ کی نگرانی میں دے تو دیا لیکن اس کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات نہ کیے جو ضروری تھے۔

نومبر1953 ء میں حکومت پاکستان نے اس طرف توجہ دی اور مقبرہ قطب الدین ایبک کی نئے سرے سے تعمیر کے لیے محکمہ آثار قدیمہ نے مقبرے کے ارد گرد کے مکانات سمیت ڈھائی ایکڑ اراضی خریدی۔

1968 ء میں مقبرے کی ازسر نو تعمیر کا آغاز ہوا مگر ملکی حالات کی وجہ سے تاخیرکا شکار ہوتا رہا آخر جولائی 1979 ء میں اس کی تعمیر کا کام مکمل کر لیا گیا۔مقبرے کی تعمیر پر 921560 روپے لاگت آئی۔مقبرے کی تعمیر سنگ مرمر اور پیلے پتھر سے کی گئی۔کوشش کی گئی کہ اسے اسی انداز میں تعمیر کیا جائے جو انداز تعمیر اس دور میں مسلمانوں کا تھا۔

مقبرہ چوکورہے۔چاروں طرف سنگ مرمر کی جالیاں لگی ہوئی ہیں۔فرش اور دیوار بھی سنگ مرمر کی ہیں۔مقبرے کا گنبد منفرد انداز کا ہے جس کے وسط میں فانوس لگا ہوا ہے۔مقبرے کی پیشانی پر کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کندہ ہیں۔نامور خطاط حافظ یوسف سیدیدی نے فن خطاطی کا ایسا مظاہرہ کیا ہے کہ دیکھنے والے حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔خطاطی کا اندازبھی ایبک دورکا اپنایا گیا ہے۔

6 اپریل 1981 ء کو نو تعمیر شدہ مقبرے کا افتتاح وفاقی وزیر ثقافت وسیاحت محمد ارباب نے کیا۔مقبرے کے احاطے میں چھوٹا سا باغیچہ ہے۔چار دیواری پر قطب مینار بنائے گئے ہیں جو دہلی میں قطب الدین ایبک کے تعمیر کردہ قطب مینار کی یاد دلاتے ہیں۔محمد نعیم مرتضی نے اپنی کتاب’’نیا لاہور‘‘ میں ا س مقبرے کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔انارکلی میں خریداری کے لیے آنے والے اور غیر ملکی سیاح مقبرہ دیکھنے ضرور آتے ہیں۔قطب الدین ایبک کا نام اپنے عدل وانصاف بہادری وشجاعت اور سخاوت و خدا ترسی کی وجہ سے تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔


متعلقہ خبریں


سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ وجود - منگل 20 جنوری 2026

پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب وجود - منگل 20 جنوری 2026

اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن وجود - منگل 20 جنوری 2026

گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی وجود - منگل 20 جنوری 2026

واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

سانحہ گل پلازہ ،ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی،شرجیل میمن وجود - پیر 19 جنوری 2026

سندھ حکومت نے فوری طور پر آگ کے واقعے کا نوٹس لیا ہے،وزیر اطلاعات سندھ کتنا نقصان ہوا اس کا تخمینہ آگ بھجانے کے بعد ہی لگایا جائے گا،نجی ٹی وی سے گفتگو وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں لگی آگ میں کوتاہی سامنے آئی تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروا...

سانحہ گل پلازہ ،ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی،شرجیل میمن

گرین لینڈکاغصہ، ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا وجود - پیر 19 جنوری 2026

نفاذ یکم فروری سے کیا جائیگا،جب تک گرین لینڈ نہیں مل جاتا ٹیرف بڑھتا ہی جائیگا معاہدہ نہ ہونے پر یکم جون سے ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا،امریکی صدر گرین لینڈ ملنے میں رکاوٹ اور ساتھ نہ دینے پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جس کا باقاعد...

گرین لینڈکاغصہ، ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان وجود - اتوار 18 جنوری 2026

قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان ...

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی وجود - اتوار 18 جنوری 2026

ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کسی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ہری پور کی عوام بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ،کارکنان کا وزیر اعلی کا شاندار استقبال ہماری بدقسمتی ہے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ منیڈیٹ چوری کیا، تین سال سے ہم ہر جگہ تحریک چلا رہے ہی...

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 18 جنوری 2026

کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، مراد علی شاہ ملزم کیخلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لیجایا جائے،ملزم کی گرفتاری پرپولیس کو شاباش وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔اس...

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار وجود - اتوار 18 جنوری 2026

متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی ملزم عمران اور وقاص خان نے 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار ...

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار

مضامین
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

تھیوکریسی وجود پیر 19 جنوری 2026
تھیوکریسی

معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار وجود پیر 19 جنوری 2026
معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار

شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر