... loading ...
ایک ماہر نفسیات کا دعویٰ ہے کہ جدید طرز زندگی جہاں ہماری بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، وہیں بدلے میں، ہمیں بے صبرا اور غصہ کرنے والا بنا رہی ہے۔ برطانیا میں لنکاشائر سے تعلق رکھنے والی نفسیات کی پروفیسر سینڈی مان کہتی ہیں کہ ‘جارحیت جو کبھی ہماری بقا کے لیے ضروری تھی اس کا ہمارے دماغ کیساتھ آج بھی ربط موجود ہے، جو کبھی بھی غلط نشانہ چن لیتا ہے، جب کہ اس کی وجہ موجود نہیں ہوتی۔’ ڈاکٹر مان ایک ڈائجسٹ میں لکھتی ہیں کہ ‘کبھی انسان کی توانائیاں سرپر چھت قائم رکھنے اور خوراک کی فراہمی کی کوششوں تک مرکوز ہوا کرتی تھیں۔ لیکن اکیسویں صدی میں ترقی یافتہ ملکوں میں لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کے بارے میں خدشات کم ہو گئے ہیں۔’ وہ کہتی ہیں کہ ‘آرام دہ زندگی ہمیں نازک مزاج بنا رہی ہے جو نسبتاً معمولی اور چھوٹے واقعات کے بارے میں ہمیں جلد ہی غصے کی طرف لے جاتی ہے، اور ساتھ ہی، جدید طرز زندگی کی عادت نے ہماری توقعات اس قدر بڑھا دی ہیں کہ کمال کی حد سے کچھ کم ہمیں پسند نہیں آتا، جس پر اکثر ہم کسی بچے کی مانند ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ روزنامہ ’ٹیلی گراف‘ کے مطابق، ڈاکٹر مان کا نظریہ ہے کہ ‘غصہ انسانی جبلت کا حصہ ہے، جو مخصوص حالات میں جبکہ انسانی جذبات کسی چیز کو حاصل کرنے کے لیے مچل رہے ہوں مثلا بھوک کے وقت چڑ چڑا ہونا اورغصہ میں آنا۔ دراصل خون میں Serotonineکی مقدار کے اضافے کے ذریعے ہمیں خوراک کی تلاش کے لیے متحرک بناتا ہے۔’ ان کا کہنا ہے کہ غصہ انسان کے ابتدائی ایام میں سماجی سرگرمیوں میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے میں مدد کرتا تھا۔ خاص طور پر یہ ان لوگوں کے لیے ایک انتباہ کا کام کرتا تھا جن کا رویہ دوسروں کے لیے پریشان کن ہوتا تھا۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر مان کے مطابق، غصے کی حالت میں لال بھبوکا ہونا یا آپے سے باہر ہوجانا ایسی کیفیت تھی جس سے ہمارے باپ دادا کو زندہ رہنے میں مدد ملی، کیونکہ، ان کی غیر موجودگی میں خوراک کا چوری ہونا یا دشمن کا انہیں جان سے مارنے کی کوشش کے بدلے میں ان کے پاس اپنے بچائوکے لیے خطرناک تیور اور دھاڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔
ڈاکٹر مان کے مطابق،’آج ہماری بنیادی ضرورتیں تو پوری ہو رہی ہیں لیکن ساتھ ہی، ہماری توقعات بے لگام ہوتی جارہی ہیں’۔ انھوں نے کہا کہ یہ غصہ ہمیں معمولی باتوں پر پرتشدد ردعمل کی طرف راغب کر سکتا ہے، مثلا روڈ پر ہونے والے واقعات اور چھوٹی چھوٹی باتوں مثلا ریستوران میں کھانا گرم نہ ملنے پر بھی بھڑکا سکتا ہے،جبکہ بعض حالات اس غصہ کو بڑھانے میں کسی ایندھن کا کام سر انجام دیتے ہیں، جن میں غیر حقیقی توقعات ضرورت سے زیادہ بڑھا دی جاتی ہے۔ مثلاً سپر مارکیٹ کا دعویٰ ہے کہ سامان کی ادائیگی کے لیے لمبی قطار میں کھڑے لوگوں کو انتظار کی زحمت سے بچانے کے لیے نئی قطار کھول دیں گے۔ اکثر لوگوں کو اس وقت بھڑکا دیتی ہے جب انہیں ایسا ہوتا نظر نہیں ا?تا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس بات پر کہ ہم بچوں کی طرح خراب ہو رہے ہیں، دلیل دی جا سکتی ہے کیونکہ ہم ہر چیز اپنی توقع کے عین مطابق چاہتے ہیں۔ اور جب ایسا نہیں ہوتا، تو ہم کسی بچے کی طرح ہی پیر پٹخنے لگتے ہیں۔‘ ڈاکٹر مان نے ایک سادہ سی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے غصے پر قابو پانے کے لیے خود سے بار بار یہ سوال کرنا ہوگا کہ آیا یہ واقعہ ہماری زندگی کی بقا کے لیے کوئی دھمکی ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں اپنے غصے کو لگام ڈالناچایئے۔اور آرام سے بات کرنا چاہئے۔
علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل...
صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...
ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...
حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...
خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...
ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...
پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...
گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...
حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...
خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...
8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...
خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...