وجود

... loading ...

وجود

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم ، عوام کے آئینی حقوق کے منافی ہے

پیر 16 اپریل 2018 ٹیکس ایمنسٹی اسکیم ، عوام کے آئینی حقوق کے منافی ہے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے گزشتہ روز بیرون ملک دولت جمع کرنے والوں کو اپنی دولت پاکستان واپس لانے کی ترغیب دینے کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے اعلان کے بعد سے پوری سرکاری مشینری یہ ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے کہ وزیر اعظم کی اعلان کردہ اس ٹیکس ایمنسٹی پر عملدرآمد کے نیتجے میںپاکستان کی تمام مالی مشکلات دور ہوجائیں گی اورپاکستان کو اپنے موجودہ مالی مسائل حل کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے کوئی بیل آئوٹ پیکیج لینے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔جہاں تک وزیراعظم مشیر خزانہ اور دیگر سرکاری کارپردازوں کے ان دعووں کاتعلق ہے کہ اس پر عملدرآمد سے پاکستان کو فی الوقت درپیش مالی مشکلات سے نجات دلانا ممکن ہے تو اس کی اصلیت تو وقت آنے پر ہی ثابت ہوسکے گی ،صدر ممنون حسین نے اس اسکیم کوقانونی شکل دینے کے لیے گزشتہ روز فارن ایسٹ (ڈکلریشن اینڈ ری پیٹری ایشن )آرڈی ننس20018 ,، پروٹیکشن آف اکنامکس ریفارمز (امینڈمنٹ )آرڈی ننس ،2018 اور انکم ٹیکس(امینڈمنٹ) آرڈی ننس 2018 جاری کردیاہے۔لیکن ماہرین معاشیات اس اسکیم کو مسلسل ہدف تنقید بنائے ہوئے ہیں اور ان کا موقف یہ ہے کہ اس اسکیم کا مقصد حکومت کے منظور نظر ایک مخصوص طبقے کونوازنا ہے اورناجائز طریقے سے بیرون ملک منتقل کیے گئے کالے دھن کو سفید کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے، تاہم جہاں تک اس کی قانونی حیثیت کا تعلق ہے تو اس بارے میں دو رائے نہیں ہیں کہ بیرون ملک جمع کی گئی دولت کوایمنسٹی اسکیم کا سہارا لے کر دولت پاکستان واپس لانے والوںکے کوائف خفیہ رکھنے کافیصلہ پاکستان کے آئین میں دئے گئے معلومات کے بنیادی حق کے خلاف ہے اس طرح کسی بھی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کیے جانے کی صورت میں حکومت مشکل میں پڑسکتی ہے۔

پاکستان کے1973 کے آئین کی دفعہ 19اے میں واضح طورپر ہر ایک کو معلومات حاصل کرنے کاحق دیاگیا ہے یعنی پاکستان کاکوئی بھی شہری کسی بھی معاملے میں حکومت سے معلومات طلب کرسکتاہے اور حکومت شہری کو معلومات فراہم کرنے کی پابند ہے۔پاکستان کے1973 کے آئین کی دفعہ 19اے میں شہریوں کو دئے گئے اس حق کے تحت کوئی بھی شہری کسی بھی معاملے کو خفیہ رکھنے کے حکومت کے فیصلے کوچیلنج کرسکتاہے ۔ٹیکس کی مشاورتی فرم ٹولہ ایسوسی ایٹس نے بھی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر تبصرہ کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی ہے کہ آئین کے تحت کوئی بھی شخص اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی تفصیلات خفیہ رکھنے کے فیصلے کوچیلنج کرسکتاہے اور حکومت معلومات افشا کرنے کی پابند ہوگی اور ایسی صورت میں حکومت اپنی دولت واپس لانے والوں کو ان کے کوائف خفیہ رکھنے کی یقین دہانی کرانے کے وعدہ شکنی کی مرتکب ہوگی اور متاثرہ فرد اس حوالے سے حکومت کے اس عمل کو چیلنج کرکے ہرجانہ طلب کرسکتاہے۔

غیر ملکی اثاثوں سے متعلق آرڈی ننس کے تحت کسی بھی فرد کی جانب سے اپنے اثاثے ظاہر کرنے یا اس حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی فراہم کردہ معلومات کوخفیہ رکھا جائے گا خواہ ملک میں نافذ العمل قانون اس کے برعکس ہی کیوں نہ ہو۔

وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ ایمنسٹی اسکیم صدر مملکت کی جانب سے جاری کیے گئے آرڈی ننس کے بعد سے نافذ العمل ہوگئی ہے اور اس اسکیم کے تحت کوئی بھی فرد رواں سال 30جون تک بیرون ملک موجود اپنی کوئی بھی دولت اور اثاثے ظاہر کرکے اس سہولت سے فائدہ اٹھاسکتاہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایمنسٹی اسکیم کے تحت اپنے آف شور دولت پاکستان لانے پر صرف 2فیصد ٹیکس دے کر قانونی بنانے اور بیرون ملک اثاثے ظاہر کرکے 5فیصد ٹیکس ادا کرکے اسے قانونی بناسکتاہے۔اس ایمنسٹی اسکیم کے تحت بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے پر 5فیصد ٹیکس ادا کرناہوگا جبکہ غیر ملکی اکائونٹس صرف 2 فیصد ٹیکس کی ادائیگی کے ذریعے قانونی بنائے جاسکتے ہیں۔

ایک طرف وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، مشیر خزانہ اور دیگر ارباب حکومت یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ بیرون ملک سے دولت واپس لانے والوں سے کوئی باز پرس نہیں کی جائے گی لیکن اس کے برعکس سپریم کورٹ کے ماہر وکلا کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننسوں کے باوجود حکومت کسی بھی وقت ایمنسٹی اسکیم کے تحت فائدہ اٹھانے والے کسی بھی فرد کے مقد مات غیر ملکی اثاثوں کے اعلان اور انھیں واپس لانے سے متعلق آرڈی ننس 2018 کی دفعہ 4بی کے تحت یہ دولت یا اثاثے مجرمانہ طریقے سے بنانے کے الزام میں کھول سکتی ہے اور ان اثاثوں کے حوالے سے متعلقہ فرد سے باز پرس کی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب ٹیکسوں کی مشاورتی فرم کاکہنا ہے کہ غیرملکی اثاثوں سے متعلق آرڈی ننس اور ملکی اثاثوں سے متعلق آرڈی ننس وقتاً نافذالعمل رہنے والے قانون سے بالاتر ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ منشیات یا کسی اور غیر قانونی طریقے سے جمع کی گئی دولت کوبھی متعلقہ قوانین سے استثنیٰ حاصل ہوگاجس کے نتیجے میں فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔

ٹولہ ایسوسی ایٹس کاکہناہے کہ وزیر اعظم نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ واضح کیاتھا کہ یہ ایمنسٹی اسکیم ایک مرتبہ کی ایمنسٹی یا استثنیٰ ہے۔جس میں کسی فرد کی جانب سے دولت ظاہر نہ کرنے والوں یا جس کی دولت کاپتہ چلایاجائے پر کسی طرح کے جرمانے کی کوئی شق نہیں رکھی گئی ہے،ٹیکس مشاورتی اداروں کاکہناہے کہ پاکستانی روپے کی قدر میں ہونے والی حالیہ کمی اور اعلان کردہ ملکی دولت پر3فیصد اور منقولہ اور غیر منقولہ املاک پر 5فیصد ٹیکس کی شرح بہت کم ہے۔ اس طرح غیر ملکی اثاثے رکھنے والے لوگ پاکستانی روپے کی قدر کی شرح کے مطابق اپنے اثاثوں کی قیمت بتائیں گے اور اس طرح آسانی کے ساتھ اپنے اثاثوںکی ری ویلیوایشن کرالیں گے۔

ٹولہ ایسوسی ایٹس کاکہناہے کہ حکومت دسمبر2017سے اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں10فیصد تک کی کمی کرچکی ہے۔اس کے ساتھ ہی قانون میں ایک سقم یہ بھی موجود ہے جس کے تحت ڈالر کوبیرون ملک لے جانا آسان ہے۔ روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی کے ساتھ حکومت نے ڈالر کے بیرون ملک بھیجنے پرکوئی پابندی نہیں لگائی اور غیرملکی سرمایہ کاری کے نام پر ڈالر کی بیرون ملک منتقلی کاسلسلہ بلاروک ٹوک جاری ہے۔ٹولہ ایسوسی ایٹس کاکہناہے کہ حکومت کو انفرادی طورپر سرمایہ کاری کی شرح 5لاکھ ڈالر کی حد مقرر کرنی چاہئے۔

حکومت نے لوگوں سے کہاہے کہ وہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں حکومت اس اسکیم کو انقلابی اقتصادی پیکیج کانام دے رہی ہے ،حکومت کاموقف ہے کہ اس اسکیم کا مقصد ٹیکسوں کا دائرہ وسیع تر کرنااور بیرون ملک موجود دولت کووطن واپس لانے کی ترغیب دینا ہے۔ٹیکسوں کے مشاورتی اداروں اورماہرین کاکہناہے کہ حکومت نے اس اسکیم کے تحت کم از کم 200ارب ڈالر پاکستان لائے جانے کی توقع باندھ رکھی ہے لیکن اس اسکیم کے تحت 2ارب ڈالر سے زیادہ وطن واپس آنے کی توقع کم ہے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط وجود - منگل 27 جنوری 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار وجود - پیر 26 جنوری 2026

گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

مضامین
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے! وجود منگل 27 جنوری 2026
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے!

بھارتی مسلمانوں کا قتل عام وجود منگل 27 جنوری 2026
بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود پیر 26 جنوری 2026
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود پیر 26 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود پیر 26 جنوری 2026
صبر یا جبر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر