وجود

... loading ...

وجود

کیا شہدائے کشمیر سے قیمتی گائے کاگوشت اور کالاہرن ہے ؟

منگل 10 اپریل 2018 کیا شہدائے کشمیر سے قیمتی گائے کاگوشت اور کالاہرن ہے ؟

بھارت کے ایک مسلمان اداکار سلمان خان کو ایک کالا ہرن مارنے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق راجستھان کی عدالت نے بالی ووڈ کے سپر اسٹار اداکار سلمان خان کو کالے ہرن کے شکار کے 20برس پرانے مقدمے میں مجرم قرار دے کر 5برس قید کی سزا سنادی۔ سلمان خان کو سینٹرل جیل جودھپور میں خطرناک قیدیوں کی بیرک میں منتقل کرکے سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔ سلمان خان کو دس ہزار جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی ہے اس مقدمے میں سلمان خان کے علاوہ اور دیگر چار افراد ان سب کو رہا کردیا گیا۔ سلمان کو جودھپور سینٹرل جیل کی بیرک نمبر ایک میں رکھا گیا ہے جہاں انہیں قتل کی دھمکیاں دینے والے گینگسٹر لارینس بشنوئی سمیت دیگر خطرناک مجرم بھی قید ہیں۔ سلمان خان کی سزاپر انتہا پسند ہندوؤں نے جشن منایا پٹاخے پھوڑے اور رقص کیا۔

یہ ہے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کا طرز انصاف کہ چند روز قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری نوجوانوں پر بھارت کی غاصب فوج نے فائرنگ کرکے بیس سے زیادہ لوگوں کو شہید اورسینکڑوں افراد کو شدید زخمی کردیا لیکن ظالم مودی کی حکومت نے اس کی کوئی تحقیقات کی اور نہ ہی کسی فوجی کے خلاف کوئی مقدمہ قائم کیا گیا جنہوں نے پرامن جلوس اور جنازے کے جلوسوں پر فائرنگ کی تھی۔ بھارت میں ایک کالا ہرن اتنا قیمتی ہے کہ اس کا شکار کرنے والے کو تو سزا دے دی گئی۔ اور کشمیری مسلمانوں کا خون اتنا سستا ہے کہ ان کے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں۔ اداکار سلمان خان نے تو 1998 میں یہ شکار کیا تھا اور آج بیس سال بعد سزا سنائی گئی اور 1998سے آج تک ہزاروں کشمیریوں کو شہید کردیا گیا اور اس سے کہیں زیادہ کو معذور کردیا گیا لیکن کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ کشمیر کے علاوہ بھارت میں تقسیم کے بعد سے اب تک ہندو مسلم فسادات میں لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔

بھارت میں آئے دن یہ خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ گائے کے گوشت رکھنے یا کھانے کے جھوٹے الزام میں متعصب ہندوؤں نے کسی مسلمان کو بے دردی سے قتل کردیا۔ سوشل میڈیا پر میں نے ویڈیو دیکھی تھی جس میں کسی تھانے میں دو مسلمان نوجوانوں کو جن میں سے ایک پیروں سے معذور تھا ہندو پولیس اہلکار بڑی بے دردی سے ڈنڈوں سے پٹائی کررہے ہیں کہ ان پر الزام تھا کے وہ چوری چھپے گائے کا گوشت بیچ رہے تھے مجھ سے یہ منظر زیادہ دیر تک دیکھا نہ گیا۔

پچھلے دنوں ایک اور ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک باڈی بلڈنگ کلب چلانے والے مسلمان نوجوان کو انتہا پسند ہندوؤں نے تلواروں کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتاردیا اس کو زخمی حالت میں کلب کے اندر سے گھسیٹ کر لائے اس کے جسم پر تلوار کے اتنے وار کیے وہ اسی وقت ہلاک ہوگیا اس کے مردہ جسم پر بھی ہندو باری باری آتے پورے جسم پر آٹھ دس وار کرتے۔ کسی نے اس کے قتل کے مناظر کو سوشل میڈیا پر وائرل کردیا تو وہاں کی پولیس ان مجرموں کو جن کی تصاویر بالکل واضح ہو کر سامنے آچکی تھیں پکڑنے کے بجائے اس فرد کو تلاش کرتی رہی جس نے ویڈیو بنا کر نیٹ پر ڈال دی۔

مسلمانو ں کے بھارت میں جو اجتماعی قتل ہوئے ہیں جیسے کہ ٹرین والا واقعہ، احمد آباد میں مسلمانوں کی بستی پر حملہ کرکے آگ لگادی گئی سینکڑوں مردوں، خواتین اور بچوں کو انتہا پسند ہندوؤں نے جان سے مار دیا۔ ان اجتماعی واقعات میں اکثر سرکاری اہلکاروں کے علاوہ وزرا تک ملوث پائے گئے لیکن کمزور عدالتی تحقیقات کے نتیجے میں کسی کو کوئی سزا نہ مل سکی ہاں اگر کوئی مسلمان بھارت میں کسی مقدس جانور جیسے گائے اور بندر مار دے تو اگر وہ انتہا پسند ہندوؤں سے بچ گیا وہاں کی عدالت اس کو ضرور سزا دے گی۔ اگر سلمان خان کی جگہ کوئی ہندو یہ حرکت کرتا تو اسے یہ سزا نہ ملتی بلکہ تنبیہ کرکے چھوڑ دیا جاتا۔
ایک بھارتی مسلم دانشور نے آج کے نام نہاد سیکولر بھارت کے چہرے کے اصل خدوخال کو ان الفاظ میں نمایاں کیا ہے۔ ’’مظالم میں اضافہ جہاں ایک جانب بھارت میں رائج لا اینڈ آرڈر کی کمزور صورت حال کو پیش کرتا ہے وہیں سماجی انتشار کو بھی بطور شہادت پیش کرتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں انسانوں کے درمیان ہی انسان تقسیم کر دیے گئے ہوں، جہاں چند لوگوں نے اپنی حیثیت کو مقدم رکھنے کے لیے سماجی رشتوں میں دراڑ پیدا کی ہو، جہاں کسی کو ذلیل تو کسی کو حقیر درجہ میں فٹ کیا جانے لگے، جہاں پیدائش کی بنا پر کوئی اعلیٰ ٰتو کوئی ادنیٰ کہا جائے ایسے معاشرے میں مظالم سر چڑھ کر نہیں بولیں گے تو اور کیا ہو گا اور شاید یہی سلسلہ ہندوستان میں بھی ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔‘‘

حالیہ دنوں میں ایک ایسا دردناک اور ذلت آمیز واقعہ پیش آیا ہے کہ بھارت میں مسلمان ہی نہیں بلکہ نچلی ذات کے ہندو بھی بالخصوص دلت بھی اونچی ذات کے انتہا پسند ہندوؤ سے محفوظ نہیں ہیں گجرات کے بھؤ نگر ضلع میں ایک دلت نوجوان کا قتل صرف اس بنا پر کردیا گیا کہ اس کے پاس ایک گھوڑا تھا اور گھڑ سواری اسے پسند تھی لیکن اعلیٰ ذات کے چند لوگوں کو اس نوجوان کا یہ عمل پسند نہیں آیا، انہیں اس عمل میں اپنی بے عزتی اور اس کی برتری محسوس ہوئی لہٰذا اسے موت کے گھاٹ اتار دیاگیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ایک واقعہ ہے یا دو ذاتوں کی صدیوں پرانی اعلیٰ و ادنیٰ اور معززو حقیر کی رنجشیں ہیں۔

قیام پاکستان کے موقع پر کسی نے قائد اعظم سے یہ سوال کیا کہ آپ پاکستان تو بنا رہے ہیں لیکن یہ تو بتائیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی حفاظت کون کرے گا قائد اعظم نے جواب دیا تھا کہ ایک مضبوط پاکستان ہندوستان کے مسلمانوں کا محافظ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکا کیا تھا تو کشمیر سمیت ہندوستان کے مسلمانوں نے جشن منایا تھا۔ اور آج بھی جب پاکستان کسی سے کرکٹ میچ جیتتا ہے تو پورے بھارت کے مسلمانوں میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے اور اگر وہ کسی میچ میں بھارت کو ہرا دے تو یہ خوشی اور دوبالا ہو جاتی ہے پچھلے دنوں چمپئن ٹرافی میں پاکستان نے بھارت کو ہرایا تو کشمیر میں نوجوان پاکستا ن کا جھنڈا لے کر نعرے لگاتے ہوئے جلوس کی شکل میں گلیوں اور سڑکوں پر آگئے تھے۔ آج کشمیر کے نوجوان اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی ہر ممکن مدد کریں۔


متعلقہ خبریں


سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

مضامین
نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر