وجود

... loading ...

وجود

آسام کے مسلمانوں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ

بدھ 28 مارچ 2018 آسام کے مسلمانوں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ

برما میں روہنگیا مسلمانوں کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا اور انہیں ان کے آبائی گھروں سے نکال کر دربدر ہونے پر مجبور کیا گیا اس سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ اب بھارتی ریاست آسام میں بھی مسلمانوں کے خلاف یہی حربہ آزمانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق آسام میں سو سال پہلے آباد ہونے والے بنگالی مسلمانوں کو غیر ریاستی باشندے قرار دے کر انہیں آسام سے بے دخل کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے جس پر عنقریب عمل درآمد شروع ہوجائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اس چھانٹی سے آسام میں آباد چونتیس فی صد مسلمان متاثر ہوں گے جن کی تعداد بیس لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر غریب، مزدور اور زرعی محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی اتحادی انتہا پسند ہندو جماعتیں اس پر زور دے رہی ہیں کہ آسام میں ’’غیر قانونی‘‘ مقیم بنگالی مسلمانوں کے نام ووٹروں کی فہرست سے خارج کیے جائیں۔

بھارتی الیکشن کمیشن انتہا پسندوں کے دباؤ میں آکر اِن مسلمانوں کو مشکوک شہری قرار دے رہا ہے، اس کا موقف ہے کہ ان لوگوں کے پاس اپنی شہریت کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے تاہم ان لوگوں کو شہریت سے محروم کرنے کی کارروائی بھارتی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تیار کردہ فہرست کی روشنی میں مکمل ہوگی اور اس کے بعد انہیں ریاست سے بے دخل کرنے کا عمل شروع ہوجائے گا۔ مسلمانوں کو آسام سے بے دخل کرنے اور انہیں آبائی گھروں سے نکالنے کی کارروائی راشٹریہ سیوک سنگھ اور دیگر انتہا پسند ہندو تنظیموں کے وہ مسلح کارکن کریں گے جو اِس وقت پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مصروف عمل ہیں اور جن کا نعرہ یہ ہے کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے یہاں جو لوگ بھی رہنا چاہتے ہیں انہیں ہندو بن کر رہنا ہوگا۔ مسلمانوں کے بارے میں ان کا موقف یہ ہے کہ انہوں نے اپنا الگ وطن ’’پاکستان‘‘ بنا کر ہندوستان میں رہنے کا حق خود ساقط کرلیا ہے اب انہیں ہندوستان میں رہنے کا حق نہیں ہے، وہ مسلمان کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں تو پاکستان چلے جائیں اگر ہندوستان میں رہنے کی خواہش ہے تو پھر ہندو بن کر رہیں۔ اس مقصد کے لیے ہندو تنظیموں نے مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے شدھی اور گھر واپسی کی تحریک بڑی شدومد سے شروع کر رکھی ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ مسلمانوں کے پْرکھے کئی سو سال پہلے ہندو ہی تھے پھر وہ غیر ملکی مسلمان حکمرانوں کے دباؤ سے اپنا مذہب بدل کر مسلمان ہوگئے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے گھر واپس آجائیں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ ہندو بن کر امن سے رہیں۔ مسلمان اس تحریک کا بے جگری سے مقابلہ تو کررہے ہیں اور مسلمانوں میں تبدیلی مذہب کا شاذ و نادر ہی کوئی واقعہ پیش آتا ہے‘ وہ بھی انتہائی غریب اور پسماندہ علاقے میں، البتہ شدت پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے مسلمان اپنی شناخت ضرور چھپانے پر مجبور ہورہے ہیں اور ایسے نام رکھ رہے ہیں جن سے یہ پتا نہیں چلتا کہ وہ مسلمان ہیں، عیسائی ہیں یا ہندو۔

مسلمان اِس وقت بھارت میں سب سے بڑی غیر ہندو اقلیت ہیں، بھارت کے سیکولر آئین میں انہیں مذہبی آزادی بھی دی گئی ہے اور ان کے جان و مال کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے لیکن عملاً ایسا نہیں ہے۔ مذہبی آزادی تو رہی ایک طرف، ہندو

اکثریت تو ان کا محض مسلمان ہونا بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے، جہاں تک جان و مال کے تحفظ کا معاملہ ہے تو بھارت میں آزادی کے بعد سے اب تک پچاس ہزار سے زیادہ مسلم کش فسادات ہوچکے ہیں جن میں لاکھوں مسلمان تہ تیغ کیے گئے ہیں اور ان کی اربوں ڈالر مالیت کی جائداد، صنعتیں، کاروباری مراکز اور مکانات تباہ کیے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔

انتہا پسند ہندو تنظیمیں بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمانوں کو معاشی اعتبار سے مفلوج بنانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ انہوں نے مانیٹرنگ ٹیمیں بنا رکھی ہیں جو مسلم آبادی والے علاقوں میں ان کے کاروبار، صنعتوں اور کارخانوں کا جائزہ لیتی رہتی ہیں اور جہاں وہ یہ دیکھتی ہیں کہ مسلمانوں کا کاروبار پھول پھل رہا ہے اور وہ معاشی طور پر مستحکم ہورہے ہیں تو وہ فوری طور پر اپنی قیادت کو اس کی رپورٹ دیتی ہیں اور اس رپورٹ کی روشنی میں مخصوص علاقے میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ 2002ء میں ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد کو ایسی ہی رپورٹ کی روشنی میں تاراج کیا گیا تھا جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ کسی زمانے میں مسلم اکثریت والا شہر تھا، برصغیر کی تقسیم کے بعد اس شہر میں ہندوؤں نے بھی پاؤں جمانے شروع کیے اور متعدد علاقوں میں وہ چھا گئے لیکن اس کے باوجود اس شہر پر مسلمانوں کو اجارہ داری حاصل تھی۔ احمد آباد سے ریاستی اسمبلی کا رکن بھی مسلمان تھا اور بعض گھریلو صنعتوں پر بھی مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ چناں چہ شہر میں اچانک فسادات پھوٹ پڑے۔ مسلمانوں کو سنبھلنے کا بھی موقع نہیں دیا گیا اور انتہا پسندوں کے جتھے مسلم آبادیوں پر حملہ آور ہو کر ان کا قتل عام کرنے لگے اس وقت نریندر مودی گجرات کا وزیراعلیٰ تھا، اس نے مسلمانوں کے قتل عام میں سرکاری مشینری کا بھرپور استعمال کیا۔ مسلمان رکن اسمبلی نے پولیس حکام اور صوبائی وزیروں سے رابطہ کرکے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نے اس کی پکار پر کان نہ دھرا اور اسے نہایت بے دردی سے ذبح کردیا گیا۔ مودی کو مسلمانوں کے ساتھ اس سفاکی پر گجرات کا قصائی کہا گیا لیکن اس نے کبھی ندامت محسوس نہیں کی، اب یہی شخص گزشتہ چار سال سے بھارت کا وزیراعظم ہے اور اس نے پورے بھارت میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔

ہم نے ابتدا میں آسام کے مسلمانوں کا ذِکر کیا ہے جنہیں غیر ریاستی باشندے قرار دے کر بے گھر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جب کہ اتر پردیش کے مسلم آبادی والے شہروں لکھنؤ، رام پور، مراد آباد اور بجنور وغیرہ پر بھی انتہا پسندوں کی نظر ہے اور وہ یہ بے بنیاد پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ ان شہروں کے مسلمان درپردہ ہتھیار جمع کرنے میں مصروف ہیں تا کہ وہ موقع پا کر بغاوت کرسکیں اور مسلم اکثریت والے علاقوں میں ایک اور پاکستان بناسکیں۔ اس پروپیگنڈے کی بنیاد پر اتر پردیش کے مسلمانوں پر بھی کسی دن قیامت ٹوٹ سکتی ہے۔لیاقت نہرو معاہدے کے تحت دونوں ملک اپنی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور جان و مال کے تحفظ کے ذمے دار ہیں لیکن افسوس بھارت نے اپنی ذمے داری پوری نہ کی اور پاکستان اپنی بزدلانہ پالیسی کے سبب بھارت کو اس معاہدے پر عمل درآمد پر مجبور نہ کرسکا۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو ناروا سلوک ہورہا ہے اس میں پاکستان کی غفلت اور بے اعتنائی کا بھی بڑا دخل ہے جب تک پاکستانی حکمران بھارت کے مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھائیں ان کا مستقبل غیر یقینی رہے گا۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو باہر، اسرائیلی صدر کی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت وجود - اتوار 08 نومبر 2026

حکومت بنانے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو کینیسٹ کو توڑ دیا جائے گا اور دوبارہ الیکشن کرائے جائیں گے، صدر اسرائیل کے صدر ہرزوگ نے نیتن یاہو کے حریف آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دیدی۔ غزہ میں نسل کشی اور ایران جنگ چھیڑنے والے نیتن یاہو حکومت بنانے کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔ اسرائیلی ا...

نیتن یاہو باہر، اسرائیلی صدر کی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر