وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 25 مارچ 2018 استقبال کتب

نام کتاب:نانگا پربت کا عقاب(سفر نامہ)
موضوع:سفر نامہ
مصنف:ندیم اقبال
ضخامت:320 صفحات
قیمت:800 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر:مجید فکری
پیشِ نظر کتاب ندیم اقبال کے سفر نامہ سے متعلق ہے جسے خاصے اہتمام سے رنگ ادب پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔ موصوف کی سفرنامے سے متعلق یہ پہلی تحریر ہے جو کتابی شکل میں پیش کی گئی ہے۔
چونکہ ندیم اقبال کی یہ پہلی کتاب ہے میں نے سمجھا کہ ان کی تحریر ناپختہ اور کچے پن کا شکار ہوگی مگر جب کتاب کی ورق گردانی کی تو پتہ چلا کہ یہ تو کوئی منجھاہوا لکھاری ہے اس کی تحریرمیں کہیں بھی تحریر کی ناپختگی، لوچ اور ذرہ بھر ٹوٹ پھوٹ نظر نہ آئی اور کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ وہ ایک نوآموز قلمکار ہیں۔ انہوں نے تو بڑی روانی اور آسانی سے اپنی نثر نگاری کا جوہر دکھایا ہے۔
مزید بر آں کتاب کے متعلق چند دوسرے حضرات کے تبصرے اور تجزیات بھی پڑھے۔ کتاب کے اندرونی فلیپ پر معروف سفر نامہ نگار مستنصر حسین تارڑ کا مختصر مگر واضح لکھا ہو اتبصرہ بھی پڑھا وہ لکھتے ہیں کہ ’’نانگا پربت کے پہاڑ کے دامن میں جو لوگ رہائش پذیر ہیں ا س پہاڑ کو نانگا پربت نہیں کہتے بلکہ ’’جھل مگسی‘‘ کا نام دیتے ہیں جس کے معنی ’’سو چہروں والا پہاڑ‘‘ ہے۔‘‘یہی مستنصر حسین تارڑ نے ندیم اقبال کے اندازِ تحریر کی بھی کچھ اس طرح تعریف کی ہے کہ ’’ان کے بیان میں کچا پن نہیں ہے بلکہ بیان میں پختگی ہے کہیں بھی نو آموزی کی جھلک نہیں۔‘‘
اسی طرح کتاب کے اندرونی صفحات پر برلن۔ جرمنی سے سرور غزالی نے لکھا کہ ’’ندیم اقبال کی تحریر اس لحاظ سے مجھے منفرد لگی کہ انہوں نے جیتی جاگتی حقیقت کو ایک خوب صورت داستان کا روپ دے کر اسے دیو مالی کہانیوں کا سا حسن بخشا ہے ان کا انداز بیان خوب صورت اور لاجواب ہے۔‘‘جبکہ اقلیم علیم کا خیال ہے کہ ’’ندیم اقبال کے اپنے رنگ ڈھنگ میں لکھی ہوئی تحریر پڑھنے کے قابل ہے اور تفریح طبع کے ساتھ ساتھ بہت سی معلومات ملتی ہیں۔‘‘اس کے علاوہ بھی متعدد افراد نے ندیم اقبال اور اس کی کتاب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور انہیں دادِ تحسین اور مبارکباد پیش کی ہے۔
روزنامہ ایکسپریس کے محمد عثمان جامعی، پرویز بلگرامی کے اظہاریے بھی کتاب کا حصہ ہیں جو کتاب کے اندرونی صفحات پر موجود ہیں۔
البتہ پیش نظر کتاب کے بیک فلیپ پر عذرا رسول صاحبہ مدیرہ سرگزشت ، ماہنامہ پاکیزہ، جاسوسی ڈائجسٹ اور سسپنس ڈائجسٹ کا ایک مختصر مگر ٹھوس اور جامع تبصرہ بھی موجود ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ ماہنامہ ’’سرگزشت میں صرف وہی تحریریں شامل ہوتی ہیں جن کے لکھنے والوں کی قلم پر پکڑ مضبوط ہو اور مطالعہ وسیع ہو۔ سفرناموں میں بھی معروف قلم کاروں ہی کو شامل کیا جاتا ہے۔علی سفیان آفاقی، قر علی عباسی، الطاف شیخ جیسے منجھے ہوئے قلم کاروں کو ہی اول ترجیح دی جاتی رہی ہے۔کیونکہ یہ تمام قلم کار سفر نامہ نگاری میں ایک مقام رکھتے ہیں۔ سرگزشت کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی نئے قلم کار کا طویل سفر نامہ شاملِ اشاعت ہوا ہے۔‘‘
گویا اس بات کی تصدیق تو ہوگئی کہ ندیم اقبال پہلے سفر نامہ نگار ہی سہی لیکن ان کے قلم میں پختگی، برجستگی اور انفرادیت بھی ہے۔
لہٰذا میں ہرگز یہ نہیں کہوں گا کہ ان کی تحریر میں کسی قسم کا کوئی بھی عیب نہیں ہے لیکن جب میں نے کتاب میں شامل ان کی ’’اپنی بات‘‘ میں ان کا یہ لکھا دیکھا کہ انہوں نے یہ سفر نامہ شفیق الرحمٰن سے متاثر ہو کر اور ان کی تقلید کرتے ہوئے لکھا ہے تو یہ واضح ہوا کہ وہ شفیق الرحمٰن سے متاثر نظر آتے ہیں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ انہوںنے اپنے لکھے ہوئے سفرنامے میں ان کے انداز کو اپناتے ہوئے یہ کوشش کی ہے۔
مگر یہ ضرور ہے کہ ندیم اقبال نے ان کے سفرنامے سے کچھ چُرایا نہیں ہے۔ یہ ان کی اپنی تحریر اپنا تجربہ اوران کا اپنا اندازِ نگارش ہے:
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ،اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ جلد از جلد کچھ اور لکھیں گے اور ہم جیسے قارئین کو چونکا دیں گے۔ چونکہ یہ ان کی پہلی کتاب ہے اور جب ناقدین کرام اسے پڑھیں گے تب اندازہ ہوگا کہ وہ کتنے کامیاب سفر نامہ نگار ہیں…!
میں نے ان کا تحریر کردہ سفر نامہ بغور پڑھا ہے جس سے مجھے بڑی حیرت اور استعجاب ہو اکہ ایک پہلی دفعہ کا نثر نگار اتنے عمدہ اور بہترانداز میں لکھ سکتا ہے جو کہ بہت مشکل تھا اتنا مشکل کہ اپنا سفر نامہ سنانے سے بھی زیادہ پیچیدہ اور دشوار ہے۔
بہرحا ل یہ مرحلۂ دشوار ندیم اقبال نے سر کرلیا ہے۔بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے ’’نانگا پربت پہاڑ‘‘ کو سر کیا ہے۔ میں نے اوربھی کئی سفر نامہ نگاروںکو پڑھا اور ان پر اپنا بے لاگ تبصرہ بھی لکھا جنہوں نے سفر ناموں سے متعلق جہان ادب پر اپنی بے مثال کتابیں ترتیب دے لی ہیں۔ فی الحال جو سفر نامہ نگار اس موضوع پر اپنی کتابیں پیش کرچکے ہیں ان میں سے ایک شخصیت قیصر سلیم کی ہے جنہوں نے اچھوتے انداز میں بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ بدقسمتی سے وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کی بے مثال کتب ابھی تک گردش میں ہیں جو انہوں نے امریکہ کے سفر کے دوران لکھیں اورا س کا عنوان بھی یہی تجویز کیا ’’امریکہ جیسا میں نے دیکھا جیسے میں نے جانا‘‘۔ اسی طرح ایک اور اہم شخصیت جو فاضل مصنف بھی ہیں شاعر بھی ہیں مقرر بھی ہیں او رماہرِ تعلیم بھی، وہ ہیں پروفیسر انوار احمد زئی، انہوں نے بیشتر سفر ناموں کا حال دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے ایک اور سفر نامہ نگار غالباً جس کا نام وجاہت حسین ہے اس کے سفر نامے کی روداد کافی عرصے تک اخبار جنگ کے صفحات پر چھپتی رہی اور اس نے 50 روپے میں دنیا دیکھ لی اخبار میں اس سرخی کے ساتھ نمایاں رہا ’’آوارگی میں ہم نے زمانے کی سیر کی‘‘اور مستنصر حسین تارڑ سے تو آپ سب واقف ہیں بلکہ وہ سفر نامہ نگاروں میں سرفہرست بھی ہیں۔
مستنصر حسین تارڑ نے ندیم اقبال کی کتاب کے بارے میں نامہ نگار کے بارے میں اورا س کی نثر نگاری کے بارے میں اپنا جامع تبصرہ کتاب کے اندرونی فلیپ پر رقم کردیا ہے۔
اب مزید اس سفر نامہ کے بارے میں اور اس کے نامہ نگار کے بارے میں کچھ اور نہیں کہا جاسکتا:
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار شجر سایہ دار راہ میں ہے
٭٭٭
نام کتاب:جدید غزل کا باب ظفر
مصنف:طارق ہاشمی
ضخامت:144 صفحات
قیمت: 300 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر: مجید فکری
پیش نظر کتاب طارق ہاشمی نے معروف شاعر صابر ظفر کے بارے میں تصنیف کی ہے اور ابتدا ہی میں ان کے سات مضامین جو شاعر کے بارے میں ہیں اس کتاب میں شامل ہیں۔
میں نے مصنف کے یہ ساتوں مضامین پڑھے تو یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ اتنے عمیق، گہرائی اور گہرائی کے بعد یہ مضامین تخلیق کرنے کے بعد طارق ہاشمی نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی کہ صابر ظفر کے لئے مزید کچھ لکھا جائے۔
طارق ہاشمی کے تعارف اور ادبی حیثیت کا مختصر جائزہ کتاب کے بیک فلیپ پر طارق نظامی نے پیش کردیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ’’طارق ہاشمی‘‘ نے تخلیق کار ہونے کے ساتھ ساتھ اردو شاعری کی عملی تنقید میں گزشتہ چند برسوں میں ایک فعال اور متحرک نقاد کے طور پر اپنی پہچان قائم کی ہے۔آپ نے جدید غزل اور جدید نظم کے عصری رویوں پر جم کر لکھا ہے اور فکری رجحانات کے ساتھ ساتھ اسلوب اور بیان کے تجربات پر بھی نظر کی ہے۔‘‘
گویا یہ کتاب صابر ظفر کے شعری ارتقاء کی ایک روداد ہے او رمصنف نے جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا کہ انہوںنے اپنے پیش لفظ کے بعد 7 (سات) مضامین لکھے ہیں جو سب کے سب صابر ظفر کی شاعرانہ جہت اور شخصیت سے متعلق ہیں جو کہ ایک دستاویز کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔
اب آئیے صابر ظفر کی شاعرانہ کاوشوں پر نظر ڈالتے ہیں:
صابر ظفر جدید دور کا جدید شاعر ہے۔ اس کی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہو کر دادِ تحسین حاصل کرچکے ہیں۔ وہ ہر طور پر خود کو زمانے کے ساتھ چلنے والا ہم سفر ثابت کرنے کی کوشش میں سرگرداں رہا ہے۔اُس نے ہر پرانے خیال کو بھی نئے سانچے میں ڈھال کر اپنی شاعرانہ انفرادیت کا ثبوت دیا ہے۔میں اسی کتاب میں شامل طارق ہاشمی کا ایک مضمون پڑھ رہا تھا انہوںنے میر تقی میرؔ کا ایک شعر اور پھر صابر ظفر کی جدت طرازی کے بعد لکھا ہوا ایک شعر نقل کیا آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
میر تقی میرؔ:
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
اب صابر ظفر کی اختراع دیکھیے:
دراصل نہیں ہے رنگ کوئی
سب اپنے خیال کی دھنک ہے
گویا پرانے مضمون کو نئے رنگ میں ڈھالنا بھی ان کے نزدیک ایک فن ہے اور صابر ظفر اس فن میں کمال رکھتے ہیں اور یہی جدید اندازِ فکر یا تخلیقی انداز شاعر کی پہچان میں شمار کیا جاتا ہے۔
صابر ظفر یقیناً ایک کامیاب شاعر ہے اور اس کی کامیابی کی دلیل یہ ہے کہ ناصر کاظمی اور شکیب جلالی کے بعدایک ایسا شاعر بھی موجود ہے جس کے کافی اشعار ضرب المثل کہلانے کا درجہ رکھتے ہیں۔ وہ بڑے دھیمے انداز میں بلکہ آسان الفاظ میں وہ با ت کہہ جاتا ہے جس کے لئے زمانے لگتے ہیں۔اس کااندازِ بیان سہل ممتنع کے ساتھ چلتا ہے اور وہ چھوٹی چھوٹی بحروں میں بڑی سے بڑی بات کہہ جاتا ہے اور پہلے شعر کے بعد دوسرے اس کے بعد تیسرے شعر بھی اس تسلسل کے ساتھ اُترتے چلے جاتے ہیں کہ جیسے دریا کی موجوں میں روانی ہوتی ہے۔اسی بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ شاعری دراصل خیالات کے تسلسل ہی کا نام ہے۔اب اسے تقلیدی عمل کہا جائے یا کوئی اور نام دیا جائے۔اصل میں ہم وہی کچھ دُہرا رہے ہیں جو اس سے پہلے بھی موجود تھا مگر موجودہ نسل کو سمجھانا اور ان کی زبان میں پیش کرنا ایک مشکل ترین عمل ہے۔کیونکہ یہ دور الیکٹرانک میڈیا او رانٹر نیٹ کا دور ہے مگر صابر ظفر نے یہ فریضہ بڑی آسانی سے سرانجام دیا ہے اور ہر پرانی بات کو نئے انداز میں اپنی کوشش و کاوش سے پیش کیا ہے۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ صابر ظفر نے صرف پرانے خیالات اور قدیم شاعری کو جدید انداز میں ہی پیش کرنا اپنا وطیرہ یا طریقہ بنایا ہے ۔ اُس نے اپنی بھی شاعری اپنے ہی انداز میں پیش کرنے کی جہد کی ہے۔اُس نے اپنے ہی دور میں اپنے انداز کی شاعری کا ایک طویل ذخیرہ جمع کرلیا ہے جو وقتاً فوقتاً مجموعہ کی شکل میں ہمارے سامنے آتا رہتا ہے۔
صابر ظفر کے دیگر مجموعۂ ہائے غزل کا مطالعہ کیجئے تو وہ ہرنئے خیال کو پیش کرنے کے لئے نئی نئی بحریں اور زمینیں تلاش کرتا ہوا نظر آئے گا۔ جہاں کام چھوٹی اور مختصر بحر میں چل سکتا ہے وہاں انہی بحروں میں موزوں شعر نکالنے کی کوشش کرتا ہے وگرنہ بڑی بڑی بحریں بھی استعمال کرتا ہے۔ لیکن اس کی تخلیقی کاریگری کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے اسلوب ، طرزِ بیان اور سادگی و پُر کاری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔
کہتے ہیں کہ ابتدائی شاعری کے دور میں غالبؔپر مشکل پسندی کا بھوت سوار تھا جب اُن سے کہا جاتا کہ حضرت آسان زبان استعمال کیجیے تو فرماتے:
آساں لکھنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل
یعنی آسان لکھنا ہی تو بڑی مشکل ہے۔ پھر ایک ایسادور آیا کہ بیدلؔ کے انداز میں شاعری کے لئے اصرار کیا جانے لگا تو غالبؔ فرمانے لگے:
رنگِ بیدلؔ میں ریختہ لکھنا
اسد اللہ خاں قیامت ہے
مگر میں یہاں غالبؔ کو برسبیل تذکرہ کے طور پر لے آیا وگرنہ یہاں بات صرف صابر ظفر کے انداز و اسلوب پر ہورہی ہے جو اپنی شاعری آسان اور سہل انداز میں پیش کرنے کا عادی ہے اور یہی خوبی شاعر کی بڑی خوبی ہے۔ سہل ممتنع میں شعر کہنا اس کا پسندیدہ طرزِ عمل معلوم دیتا ہے۔ آپ اس کی تمام غزلوں میں سے ا گر سہل ممتنع کی بحروں میں کہے گئے اشعار تلاش کریں گے تو ان کی تعداد دیگر مشکل اور طویل بحروں میں کہے گئے اشعار کی تعداد سے کہیں زیادہ ہوگی۔لیکن مشکل بحروں میں بھی اس کا شعری سفر بڑی روانی سے دوڑتا ہے مثلاً ایک مشکل اور حوصلہ طلب کام’’رانجھا تخت ہزارے‘‘ کا ہے، یہ غزل’’ بحر، ترج مثمن محذوف اشترالصدر و ابتدا مضائف ‘‘ ہے۔
میں اپنے بیان مذکورہ میں کہہ چکا ہوں اس بیان کی تائید میں صابر ظفر کے یہ شعر پیش کردوں تو غیر مناسب نہ ہوگا۔
اسی گردشِ مہ و سال میں
کبھی آملو کسی حال میں
آزاد ہوں تجھ کو سوچنے میں
زنداں میں بھی شام ہے سہانی
اسی طرح اسی مجموعہ میں شامل پہلی غزل کا پہلا شعر شہرۂ آفاق حیثیت کا حامل :
دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے
اگرچہ بولتا کوئی نہیں ہے
اسی طرح لاتعداد اشعار اور ایسے ہیں جو ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں:
کلام کرتا ہوا راستہ بناتا ہوا
گزر رہا ہوں میں اپنی فضا بناتا ہوا
ہماری جان ہے جانی تو جائے
مگر یہ دل کی ویرانی تو جائے
اک تری یاد رہ گئی باقی
جو تیرے بعد رہ گئی باقی
تو دیکھا آپ نے صابر ظفر کا سادہ، سلیس او رسہل ممتنع میں کہنے کا انداز! اب ذر اآگے چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اُس نے اور کون کون سے رُخ اختیار کئے ہیں، اپنی شاعرانہ کاوش کے بطور یقیناً وہ اردو کی دیگر بحو ر میں بھی غلطاں ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ذرا اس کی رعایت لفظی کو ہی ملاحظہ کرلیجئے:
ترا بدن خطِ تعلیق کا تھا چشمہ کوئی
اسی کے نم سے ہمیشہ میں خود کو نم کرتا
اگر لکھے تو’’ خطِ استخواں ‘‘میں ایسے لکھو
کہ زندگی کی رمق خال خال ظاہر ہو
اوپر کے یہ دونوں شعر اس کی مشہور غزل ’’خطاطی‘‘ میں شامل ہیں جو غالباً 2009ء میں لکھی گئی۔ یہ ایک تخلیقی صلاحیت ہے اور صابر ظفر کی منفرد او ربے مثال جہت وگرنہ یہ فن اب خال خال ہی نظر آتا ہے مگر صابر ظفر نے اس بات کو بھی اپنے اشعار میں ملحوظ خاطر رکھا ہے کہ خطوں کے نام سے لُغت کا گماں نہ ہونے پائے اور وہ اس مقصد میں کامیاب دکھائی دیتا ہے اور ایسی غزلوں میں جہاں خطاطی سے وابستہ لفظیات کا ذکر کیا ہے تو ا س احتمال سے کہ لفظوں کی حرمت بھی اپنی جگہ قائم رہے اسی لیے وہ شاعرانہ سلیقے سے کام لیتے ہوئے لفظوں میں مزا، اور دلچسپی پیدا کرتا ہے مگر کہیں کہیں بھول چوک ہو بھی جاتی ہے وہ حرمت لفظی خواہ اشاروں کنائوں سے ہی کی گئی ہے آشکار ہوتی نظر آتی ہے۔ ذرا اس شعر کو دیکھئے جس میں عُریانیت کا شائبہ بھی موجود ہے:
میں دیکھتا رہا دو ’’نون‘‘ اس کے سینے پر
مگر نہ تذکرہ ان کا مِرے بیاں میں ہوا
اسے کہتے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں!
اسی فنِ خطاطی کے زمرے میں اپنے شعری وجدان کو مزید وسعت دے کر کہتا ہے:
جس طرح زیر کسی حرف کے نیچے ہو لگی
دل ترے قدموں تلے بے سروسامان ہے گم
اسی وسعت نگاری میں صابر ظفر ان کتبوں تک بھی پہنچ گیا جن سے تہذیب انسانی کی تاریخ کا بھی انکشاف ہوتا ہے:
بہت سے لوگوں نے چھوڑے محبتوں کے نقوش
خطوط ان کے ملے ہیں قدیم کتبوں سے
مگر یہ تمام مثالیں پیش کرنے سے میں کہیں اپنے پچھلے اظہاریے سے نہ ہٹ جائوں اسی شاعری کی طرف آتا ہوں جو روانی اور سیلِ رواں کے ساتھ آگے بڑھتی نظر آتی ہے :
غزل میں دیکھنا میری روانی
کبھی باڑہ، کبھی کُرم رہا ہوں میں
اب آئیے مصنف کے ’’اساطیر کم نما کی نمود‘‘ والے مضمون کی طرف۔ یہ طویل تو بہت ہے مگر اشعارِ ظفر سے اس کی معنویت او روضاحت کا پتہ چل جاتا ہے:
تجھے بھی سمجھوں اساطیر کم نما کا فسوں
کہ تو نہیں ہے تو میں کیوں تجھے تلاش کروں
پھر ’’یہ زبانِ غزل‘‘ میں صابر کا مزید استفسار دیکھئے:
یہ وہ غزل ہے کہ محشر ہی جس کا مقطع ہے
اسی کا نور ہے سب مطلعٔ ازل نے کہا
اس کے بعد بھی وہ غزل مسلسل کے نئے قرینے کے ساتھ کچھ اس طرح وارد ہوتا ہے:
ہو گیا ہے آرزو میں آرزو کرتا ہوا
ایک روح گم شدہ کی جستجو کرتا ہوا
مجھے اُمید ہے بلکہ یقینِ واثق کے ساتھ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ صابر ظفر نے شاعر ی کا کوئی ایسا موضوع نہیں چھوڑا کہ جس کے لئے اس سے اصرار کیا جائے کچھ اس پر بھی لکھو۔ وہ ایک مکمل اور مستند پختہ گو شاعر ہے اور میری گزارش ہے علم و دانش سے اور ناقدین عصر سے کہ وہ صابر ظفر کو ایک ممتاز شاعر ثابت کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
میں محترم طارق ہاشمی کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنے لکھے ہوئے سات مضامین میں صابر ظفر کی عظمتِ شعری اور شہرتِ دوامی کے لئے کوئی گوشہ چھوڑا نہیں ہے میں ان کے ساتوں مضامین کے عنوانات درج کرتاہوں:
٭پیش لفظ،ابتدا سے آئینوں کی راہداریوں تک،ظفریاب غزل…چند اور پڑائو،غزل خطاطی کے شعری خطوط،اباسین کے کنارے پر،اساطیر کم نما کی نمود،بہ زبانِ غزل،غزل مسلسل کے نئے قرینے


متعلقہ خبریں


ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ وجود - جمعرات 12 فروری 2026

فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی وجود - جمعرات 12 فروری 2026

خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع وجود - جمعرات 12 فروری 2026

سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا وجود - جمعرات 12 فروری 2026

ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے وجود - جمعرات 12 فروری 2026

دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو وجود - جمعرات 12 فروری 2026

شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو

کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ وجود - بدھ 11 فروری 2026

جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...

کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی وجود - بدھ 11 فروری 2026

امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع وجود - بدھ 11 فروری 2026

پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

مضامین
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

بونوں کا راج وجود جمعرات 12 فروری 2026
بونوں کا راج

مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق وجود جمعرات 12 فروری 2026
مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق

نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے! وجود بدھ 11 فروری 2026
نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے!

وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی وجود بدھ 11 فروری 2026
وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر