وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

استقبال کتب

اتوار 25 مارچ 2018 استقبال کتب

نام کتاب:نانگا پربت کا عقاب(سفر نامہ)
موضوع:سفر نامہ
مصنف:ندیم اقبال
ضخامت:320 صفحات
قیمت:800 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر:مجید فکری
پیشِ نظر کتاب ندیم اقبال کے سفر نامہ سے متعلق ہے جسے خاصے اہتمام سے رنگ ادب پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔ موصوف کی سفرنامے سے متعلق یہ پہلی تحریر ہے جو کتابی شکل میں پیش کی گئی ہے۔
چونکہ ندیم اقبال کی یہ پہلی کتاب ہے میں نے سمجھا کہ ان کی تحریر ناپختہ اور کچے پن کا شکار ہوگی مگر جب کتاب کی ورق گردانی کی تو پتہ چلا کہ یہ تو کوئی منجھاہوا لکھاری ہے اس کی تحریرمیں کہیں بھی تحریر کی ناپختگی، لوچ اور ذرہ بھر ٹوٹ پھوٹ نظر نہ آئی اور کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ وہ ایک نوآموز قلمکار ہیں۔ انہوں نے تو بڑی روانی اور آسانی سے اپنی نثر نگاری کا جوہر دکھایا ہے۔
مزید بر آں کتاب کے متعلق چند دوسرے حضرات کے تبصرے اور تجزیات بھی پڑھے۔ کتاب کے اندرونی فلیپ پر معروف سفر نامہ نگار مستنصر حسین تارڑ کا مختصر مگر واضح لکھا ہو اتبصرہ بھی پڑھا وہ لکھتے ہیں کہ ’’نانگا پربت کے پہاڑ کے دامن میں جو لوگ رہائش پذیر ہیں ا س پہاڑ کو نانگا پربت نہیں کہتے بلکہ ’’جھل مگسی‘‘ کا نام دیتے ہیں جس کے معنی ’’سو چہروں والا پہاڑ‘‘ ہے۔‘‘یہی مستنصر حسین تارڑ نے ندیم اقبال کے اندازِ تحریر کی بھی کچھ اس طرح تعریف کی ہے کہ ’’ان کے بیان میں کچا پن نہیں ہے بلکہ بیان میں پختگی ہے کہیں بھی نو آموزی کی جھلک نہیں۔‘‘
اسی طرح کتاب کے اندرونی صفحات پر برلن۔ جرمنی سے سرور غزالی نے لکھا کہ ’’ندیم اقبال کی تحریر اس لحاظ سے مجھے منفرد لگی کہ انہوں نے جیتی جاگتی حقیقت کو ایک خوب صورت داستان کا روپ دے کر اسے دیو مالی کہانیوں کا سا حسن بخشا ہے ان کا انداز بیان خوب صورت اور لاجواب ہے۔‘‘جبکہ اقلیم علیم کا خیال ہے کہ ’’ندیم اقبال کے اپنے رنگ ڈھنگ میں لکھی ہوئی تحریر پڑھنے کے قابل ہے اور تفریح طبع کے ساتھ ساتھ بہت سی معلومات ملتی ہیں۔‘‘اس کے علاوہ بھی متعدد افراد نے ندیم اقبال اور اس کی کتاب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور انہیں دادِ تحسین اور مبارکباد پیش کی ہے۔
روزنامہ ایکسپریس کے محمد عثمان جامعی، پرویز بلگرامی کے اظہاریے بھی کتاب کا حصہ ہیں جو کتاب کے اندرونی صفحات پر موجود ہیں۔
البتہ پیش نظر کتاب کے بیک فلیپ پر عذرا رسول صاحبہ مدیرہ سرگزشت ، ماہنامہ پاکیزہ، جاسوسی ڈائجسٹ اور سسپنس ڈائجسٹ کا ایک مختصر مگر ٹھوس اور جامع تبصرہ بھی موجود ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ ماہنامہ ’’سرگزشت میں صرف وہی تحریریں شامل ہوتی ہیں جن کے لکھنے والوں کی قلم پر پکڑ مضبوط ہو اور مطالعہ وسیع ہو۔ سفرناموں میں بھی معروف قلم کاروں ہی کو شامل کیا جاتا ہے۔علی سفیان آفاقی، قر علی عباسی، الطاف شیخ جیسے منجھے ہوئے قلم کاروں کو ہی اول ترجیح دی جاتی رہی ہے۔کیونکہ یہ تمام قلم کار سفر نامہ نگاری میں ایک مقام رکھتے ہیں۔ سرگزشت کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی نئے قلم کار کا طویل سفر نامہ شاملِ اشاعت ہوا ہے۔‘‘
گویا اس بات کی تصدیق تو ہوگئی کہ ندیم اقبال پہلے سفر نامہ نگار ہی سہی لیکن ان کے قلم میں پختگی، برجستگی اور انفرادیت بھی ہے۔
لہٰذا میں ہرگز یہ نہیں کہوں گا کہ ان کی تحریر میں کسی قسم کا کوئی بھی عیب نہیں ہے لیکن جب میں نے کتاب میں شامل ان کی ’’اپنی بات‘‘ میں ان کا یہ لکھا دیکھا کہ انہوں نے یہ سفر نامہ شفیق الرحمٰن سے متاثر ہو کر اور ان کی تقلید کرتے ہوئے لکھا ہے تو یہ واضح ہوا کہ وہ شفیق الرحمٰن سے متاثر نظر آتے ہیں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ انہوںنے اپنے لکھے ہوئے سفرنامے میں ان کے انداز کو اپناتے ہوئے یہ کوشش کی ہے۔
مگر یہ ضرور ہے کہ ندیم اقبال نے ان کے سفرنامے سے کچھ چُرایا نہیں ہے۔ یہ ان کی اپنی تحریر اپنا تجربہ اوران کا اپنا اندازِ نگارش ہے:
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ،اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ جلد از جلد کچھ اور لکھیں گے اور ہم جیسے قارئین کو چونکا دیں گے۔ چونکہ یہ ان کی پہلی کتاب ہے اور جب ناقدین کرام اسے پڑھیں گے تب اندازہ ہوگا کہ وہ کتنے کامیاب سفر نامہ نگار ہیں…!
میں نے ان کا تحریر کردہ سفر نامہ بغور پڑھا ہے جس سے مجھے بڑی حیرت اور استعجاب ہو اکہ ایک پہلی دفعہ کا نثر نگار اتنے عمدہ اور بہترانداز میں لکھ سکتا ہے جو کہ بہت مشکل تھا اتنا مشکل کہ اپنا سفر نامہ سنانے سے بھی زیادہ پیچیدہ اور دشوار ہے۔
بہرحا ل یہ مرحلۂ دشوار ندیم اقبال نے سر کرلیا ہے۔بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے ’’نانگا پربت پہاڑ‘‘ کو سر کیا ہے۔ میں نے اوربھی کئی سفر نامہ نگاروںکو پڑھا اور ان پر اپنا بے لاگ تبصرہ بھی لکھا جنہوں نے سفر ناموں سے متعلق جہان ادب پر اپنی بے مثال کتابیں ترتیب دے لی ہیں۔ فی الحال جو سفر نامہ نگار اس موضوع پر اپنی کتابیں پیش کرچکے ہیں ان میں سے ایک شخصیت قیصر سلیم کی ہے جنہوں نے اچھوتے انداز میں بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ بدقسمتی سے وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کی بے مثال کتب ابھی تک گردش میں ہیں جو انہوں نے امریکہ کے سفر کے دوران لکھیں اورا س کا عنوان بھی یہی تجویز کیا ’’امریکہ جیسا میں نے دیکھا جیسے میں نے جانا‘‘۔ اسی طرح ایک اور اہم شخصیت جو فاضل مصنف بھی ہیں شاعر بھی ہیں مقرر بھی ہیں او رماہرِ تعلیم بھی، وہ ہیں پروفیسر انوار احمد زئی، انہوں نے بیشتر سفر ناموں کا حال دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے ایک اور سفر نامہ نگار غالباً جس کا نام وجاہت حسین ہے اس کے سفر نامے کی روداد کافی عرصے تک اخبار جنگ کے صفحات پر چھپتی رہی اور اس نے 50 روپے میں دنیا دیکھ لی اخبار میں اس سرخی کے ساتھ نمایاں رہا ’’آوارگی میں ہم نے زمانے کی سیر کی‘‘اور مستنصر حسین تارڑ سے تو آپ سب واقف ہیں بلکہ وہ سفر نامہ نگاروں میں سرفہرست بھی ہیں۔
مستنصر حسین تارڑ نے ندیم اقبال کی کتاب کے بارے میں نامہ نگار کے بارے میں اورا س کی نثر نگاری کے بارے میں اپنا جامع تبصرہ کتاب کے اندرونی فلیپ پر رقم کردیا ہے۔
اب مزید اس سفر نامہ کے بارے میں اور اس کے نامہ نگار کے بارے میں کچھ اور نہیں کہا جاسکتا:
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار شجر سایہ دار راہ میں ہے
٭٭٭
نام کتاب:جدید غزل کا باب ظفر
مصنف:طارق ہاشمی
ضخامت:144 صفحات
قیمت: 300 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر: مجید فکری
پیش نظر کتاب طارق ہاشمی نے معروف شاعر صابر ظفر کے بارے میں تصنیف کی ہے اور ابتدا ہی میں ان کے سات مضامین جو شاعر کے بارے میں ہیں اس کتاب میں شامل ہیں۔
میں نے مصنف کے یہ ساتوں مضامین پڑھے تو یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ اتنے عمیق، گہرائی اور گہرائی کے بعد یہ مضامین تخلیق کرنے کے بعد طارق ہاشمی نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی کہ صابر ظفر کے لئے مزید کچھ لکھا جائے۔
طارق ہاشمی کے تعارف اور ادبی حیثیت کا مختصر جائزہ کتاب کے بیک فلیپ پر طارق نظامی نے پیش کردیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ’’طارق ہاشمی‘‘ نے تخلیق کار ہونے کے ساتھ ساتھ اردو شاعری کی عملی تنقید میں گزشتہ چند برسوں میں ایک فعال اور متحرک نقاد کے طور پر اپنی پہچان قائم کی ہے۔آپ نے جدید غزل اور جدید نظم کے عصری رویوں پر جم کر لکھا ہے اور فکری رجحانات کے ساتھ ساتھ اسلوب اور بیان کے تجربات پر بھی نظر کی ہے۔‘‘
گویا یہ کتاب صابر ظفر کے شعری ارتقاء کی ایک روداد ہے او رمصنف نے جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا کہ انہوںنے اپنے پیش لفظ کے بعد 7 (سات) مضامین لکھے ہیں جو سب کے سب صابر ظفر کی شاعرانہ جہت اور شخصیت سے متعلق ہیں جو کہ ایک دستاویز کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔
اب آئیے صابر ظفر کی شاعرانہ کاوشوں پر نظر ڈالتے ہیں:
صابر ظفر جدید دور کا جدید شاعر ہے۔ اس کی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہو کر دادِ تحسین حاصل کرچکے ہیں۔ وہ ہر طور پر خود کو زمانے کے ساتھ چلنے والا ہم سفر ثابت کرنے کی کوشش میں سرگرداں رہا ہے۔اُس نے ہر پرانے خیال کو بھی نئے سانچے میں ڈھال کر اپنی شاعرانہ انفرادیت کا ثبوت دیا ہے۔میں اسی کتاب میں شامل طارق ہاشمی کا ایک مضمون پڑھ رہا تھا انہوںنے میر تقی میرؔ کا ایک شعر اور پھر صابر ظفر کی جدت طرازی کے بعد لکھا ہوا ایک شعر نقل کیا آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
میر تقی میرؔ:
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
اب صابر ظفر کی اختراع دیکھیے:
دراصل نہیں ہے رنگ کوئی
سب اپنے خیال کی دھنک ہے
گویا پرانے مضمون کو نئے رنگ میں ڈھالنا بھی ان کے نزدیک ایک فن ہے اور صابر ظفر اس فن میں کمال رکھتے ہیں اور یہی جدید اندازِ فکر یا تخلیقی انداز شاعر کی پہچان میں شمار کیا جاتا ہے۔
صابر ظفر یقیناً ایک کامیاب شاعر ہے اور اس کی کامیابی کی دلیل یہ ہے کہ ناصر کاظمی اور شکیب جلالی کے بعدایک ایسا شاعر بھی موجود ہے جس کے کافی اشعار ضرب المثل کہلانے کا درجہ رکھتے ہیں۔ وہ بڑے دھیمے انداز میں بلکہ آسان الفاظ میں وہ با ت کہہ جاتا ہے جس کے لئے زمانے لگتے ہیں۔اس کااندازِ بیان سہل ممتنع کے ساتھ چلتا ہے اور وہ چھوٹی چھوٹی بحروں میں بڑی سے بڑی بات کہہ جاتا ہے اور پہلے شعر کے بعد دوسرے اس کے بعد تیسرے شعر بھی اس تسلسل کے ساتھ اُترتے چلے جاتے ہیں کہ جیسے دریا کی موجوں میں روانی ہوتی ہے۔اسی بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ شاعری دراصل خیالات کے تسلسل ہی کا نام ہے۔اب اسے تقلیدی عمل کہا جائے یا کوئی اور نام دیا جائے۔اصل میں ہم وہی کچھ دُہرا رہے ہیں جو اس سے پہلے بھی موجود تھا مگر موجودہ نسل کو سمجھانا اور ان کی زبان میں پیش کرنا ایک مشکل ترین عمل ہے۔کیونکہ یہ دور الیکٹرانک میڈیا او رانٹر نیٹ کا دور ہے مگر صابر ظفر نے یہ فریضہ بڑی آسانی سے سرانجام دیا ہے اور ہر پرانی بات کو نئے انداز میں اپنی کوشش و کاوش سے پیش کیا ہے۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ صابر ظفر نے صرف پرانے خیالات اور قدیم شاعری کو جدید انداز میں ہی پیش کرنا اپنا وطیرہ یا طریقہ بنایا ہے ۔ اُس نے اپنی بھی شاعری اپنے ہی انداز میں پیش کرنے کی جہد کی ہے۔اُس نے اپنے ہی دور میں اپنے انداز کی شاعری کا ایک طویل ذخیرہ جمع کرلیا ہے جو وقتاً فوقتاً مجموعہ کی شکل میں ہمارے سامنے آتا رہتا ہے۔
صابر ظفر کے دیگر مجموعۂ ہائے غزل کا مطالعہ کیجئے تو وہ ہرنئے خیال کو پیش کرنے کے لئے نئی نئی بحریں اور زمینیں تلاش کرتا ہوا نظر آئے گا۔ جہاں کام چھوٹی اور مختصر بحر میں چل سکتا ہے وہاں انہی بحروں میں موزوں شعر نکالنے کی کوشش کرتا ہے وگرنہ بڑی بڑی بحریں بھی استعمال کرتا ہے۔ لیکن اس کی تخلیقی کاریگری کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے اسلوب ، طرزِ بیان اور سادگی و پُر کاری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔
کہتے ہیں کہ ابتدائی شاعری کے دور میں غالبؔپر مشکل پسندی کا بھوت سوار تھا جب اُن سے کہا جاتا کہ حضرت آسان زبان استعمال کیجیے تو فرماتے:
آساں لکھنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل
یعنی آسان لکھنا ہی تو بڑی مشکل ہے۔ پھر ایک ایسادور آیا کہ بیدلؔ کے انداز میں شاعری کے لئے اصرار کیا جانے لگا تو غالبؔ فرمانے لگے:
رنگِ بیدلؔ میں ریختہ لکھنا
اسد اللہ خاں قیامت ہے
مگر میں یہاں غالبؔ کو برسبیل تذکرہ کے طور پر لے آیا وگرنہ یہاں بات صرف صابر ظفر کے انداز و اسلوب پر ہورہی ہے جو اپنی شاعری آسان اور سہل انداز میں پیش کرنے کا عادی ہے اور یہی خوبی شاعر کی بڑی خوبی ہے۔ سہل ممتنع میں شعر کہنا اس کا پسندیدہ طرزِ عمل معلوم دیتا ہے۔ آپ اس کی تمام غزلوں میں سے ا گر سہل ممتنع کی بحروں میں کہے گئے اشعار تلاش کریں گے تو ان کی تعداد دیگر مشکل اور طویل بحروں میں کہے گئے اشعار کی تعداد سے کہیں زیادہ ہوگی۔لیکن مشکل بحروں میں بھی اس کا شعری سفر بڑی روانی سے دوڑتا ہے مثلاً ایک مشکل اور حوصلہ طلب کام’’رانجھا تخت ہزارے‘‘ کا ہے، یہ غزل’’ بحر، ترج مثمن محذوف اشترالصدر و ابتدا مضائف ‘‘ ہے۔
میں اپنے بیان مذکورہ میں کہہ چکا ہوں اس بیان کی تائید میں صابر ظفر کے یہ شعر پیش کردوں تو غیر مناسب نہ ہوگا۔
اسی گردشِ مہ و سال میں
کبھی آملو کسی حال میں
آزاد ہوں تجھ کو سوچنے میں
زنداں میں بھی شام ہے سہانی
اسی طرح اسی مجموعہ میں شامل پہلی غزل کا پہلا شعر شہرۂ آفاق حیثیت کا حامل :
دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے
اگرچہ بولتا کوئی نہیں ہے
اسی طرح لاتعداد اشعار اور ایسے ہیں جو ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں:
کلام کرتا ہوا راستہ بناتا ہوا
گزر رہا ہوں میں اپنی فضا بناتا ہوا
ہماری جان ہے جانی تو جائے
مگر یہ دل کی ویرانی تو جائے
اک تری یاد رہ گئی باقی
جو تیرے بعد رہ گئی باقی
تو دیکھا آپ نے صابر ظفر کا سادہ، سلیس او رسہل ممتنع میں کہنے کا انداز! اب ذر اآگے چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اُس نے اور کون کون سے رُخ اختیار کئے ہیں، اپنی شاعرانہ کاوش کے بطور یقیناً وہ اردو کی دیگر بحو ر میں بھی غلطاں ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ذرا اس کی رعایت لفظی کو ہی ملاحظہ کرلیجئے:
ترا بدن خطِ تعلیق کا تھا چشمہ کوئی
اسی کے نم سے ہمیشہ میں خود کو نم کرتا
اگر لکھے تو’’ خطِ استخواں ‘‘میں ایسے لکھو
کہ زندگی کی رمق خال خال ظاہر ہو
اوپر کے یہ دونوں شعر اس کی مشہور غزل ’’خطاطی‘‘ میں شامل ہیں جو غالباً 2009ء میں لکھی گئی۔ یہ ایک تخلیقی صلاحیت ہے اور صابر ظفر کی منفرد او ربے مثال جہت وگرنہ یہ فن اب خال خال ہی نظر آتا ہے مگر صابر ظفر نے اس بات کو بھی اپنے اشعار میں ملحوظ خاطر رکھا ہے کہ خطوں کے نام سے لُغت کا گماں نہ ہونے پائے اور وہ اس مقصد میں کامیاب دکھائی دیتا ہے اور ایسی غزلوں میں جہاں خطاطی سے وابستہ لفظیات کا ذکر کیا ہے تو ا س احتمال سے کہ لفظوں کی حرمت بھی اپنی جگہ قائم رہے اسی لیے وہ شاعرانہ سلیقے سے کام لیتے ہوئے لفظوں میں مزا، اور دلچسپی پیدا کرتا ہے مگر کہیں کہیں بھول چوک ہو بھی جاتی ہے وہ حرمت لفظی خواہ اشاروں کنائوں سے ہی کی گئی ہے آشکار ہوتی نظر آتی ہے۔ ذرا اس شعر کو دیکھئے جس میں عُریانیت کا شائبہ بھی موجود ہے:
میں دیکھتا رہا دو ’’نون‘‘ اس کے سینے پر
مگر نہ تذکرہ ان کا مِرے بیاں میں ہوا
اسے کہتے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں!
اسی فنِ خطاطی کے زمرے میں اپنے شعری وجدان کو مزید وسعت دے کر کہتا ہے:
جس طرح زیر کسی حرف کے نیچے ہو لگی
دل ترے قدموں تلے بے سروسامان ہے گم
اسی وسعت نگاری میں صابر ظفر ان کتبوں تک بھی پہنچ گیا جن سے تہذیب انسانی کی تاریخ کا بھی انکشاف ہوتا ہے:
بہت سے لوگوں نے چھوڑے محبتوں کے نقوش
خطوط ان کے ملے ہیں قدیم کتبوں سے
مگر یہ تمام مثالیں پیش کرنے سے میں کہیں اپنے پچھلے اظہاریے سے نہ ہٹ جائوں اسی شاعری کی طرف آتا ہوں جو روانی اور سیلِ رواں کے ساتھ آگے بڑھتی نظر آتی ہے :
غزل میں دیکھنا میری روانی
کبھی باڑہ، کبھی کُرم رہا ہوں میں
اب آئیے مصنف کے ’’اساطیر کم نما کی نمود‘‘ والے مضمون کی طرف۔ یہ طویل تو بہت ہے مگر اشعارِ ظفر سے اس کی معنویت او روضاحت کا پتہ چل جاتا ہے:
تجھے بھی سمجھوں اساطیر کم نما کا فسوں
کہ تو نہیں ہے تو میں کیوں تجھے تلاش کروں
پھر ’’یہ زبانِ غزل‘‘ میں صابر کا مزید استفسار دیکھئے:
یہ وہ غزل ہے کہ محشر ہی جس کا مقطع ہے
اسی کا نور ہے سب مطلعٔ ازل نے کہا
اس کے بعد بھی وہ غزل مسلسل کے نئے قرینے کے ساتھ کچھ اس طرح وارد ہوتا ہے:
ہو گیا ہے آرزو میں آرزو کرتا ہوا
ایک روح گم شدہ کی جستجو کرتا ہوا
مجھے اُمید ہے بلکہ یقینِ واثق کے ساتھ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ صابر ظفر نے شاعر ی کا کوئی ایسا موضوع نہیں چھوڑا کہ جس کے لئے اس سے اصرار کیا جائے کچھ اس پر بھی لکھو۔ وہ ایک مکمل اور مستند پختہ گو شاعر ہے اور میری گزارش ہے علم و دانش سے اور ناقدین عصر سے کہ وہ صابر ظفر کو ایک ممتاز شاعر ثابت کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
میں محترم طارق ہاشمی کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنے لکھے ہوئے سات مضامین میں صابر ظفر کی عظمتِ شعری اور شہرتِ دوامی کے لئے کوئی گوشہ چھوڑا نہیں ہے میں ان کے ساتوں مضامین کے عنوانات درج کرتاہوں:
٭پیش لفظ،ابتدا سے آئینوں کی راہداریوں تک،ظفریاب غزل…چند اور پڑائو،غزل خطاطی کے شعری خطوط،اباسین کے کنارے پر،اساطیر کم نما کی نمود،بہ زبانِ غزل،غزل مسلسل کے نئے قرینے


متعلقہ خبریں


لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

لندن کے جنوبی علاقے میں پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بلیک لائیوز میٹر کے نام سے وائرل کردی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ لندن کے علاقے کرائیڈن میں پیش آیا جہاں اہلکار وں نے نوجوان کو دھکے دئیے اور لاتیں مارکر فٹ پاتھ پر گرادیا،گرفتاری کے باوجود نوجوان کو مکے مارے گئے ۔ پولیس کو شبہ تھا کہ نوجوان کے پاس تیز دھار آلہ ہے تاہم اس کے قبضے سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا جاسکا۔

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں وجود - جمعه 03 جولائی 2020

قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحی کے موقع پر کانگو بخار کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر اسکی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے ،اس ایڈوائزری کے علاوہ قومی ادارہ صحت نے موسمی بیماریوں سے آگاہی کے حوالے سے اپنا 48 واں سہہ ماہی انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا ہے ۔کانگو ہیمرجک بخار(سی سی ایچ ایف)جسے مختصرا کانگو بخار کہا جاتا ہے ایک خطرناک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے ۔ایڈوائزری کے مطابق، عیدالاضحی سے قبل قربانی کے جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے کانگو بخار کا خطرہ نمایا...

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں بچہ بتارہا ہے کہ کس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گو لیاں مار کر شہید کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کے سامنے ظالم بھارتی فوج نے 60 سالہ بزرگ شہری کو نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیا تھا۔ ننھا بچہ اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھ کر بے بسی سے روتا رہا لیکن کسی نے اسے دلاسہ نہ دیا۔بچے کی بے بسی نے پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے اور اس کی ن...

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان وجود - جمعه 03 جولائی 2020

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی جماعت اے کے پی کے ارکان سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے یوٹیوب، ٹویٹر اور نیٹ فلکس جیسے میڈیا سے فحاشی اور بداخلاقی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایردوآن کے خاندان خاص طور سے ان کی بیٹی کو توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کے ہاں حال ہی میں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس الزام میں 11 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ...

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام وجود - جمعه 03 جولائی 2020

بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی میں ملوث عناصر، انکے سہولت کاروں، معاونین اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ، بیان کا مطالبہ چین نے کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی سفارتکاری کو منہ کی کھانا پڑی، مودی حکومت کے ہزار جتن اور کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی ک...

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی وجود - هفته 27 جون 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 97 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے ۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 52 لاکھ 79 ہزار سے زائد ہوگئی ہے ۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 57 ہزار 619 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں 25 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔برازیل امریکہ کے بعد 12 لا...

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک وجود - هفته 27 جون 2020

بھارتی ریاست بہار اور اترپردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے صرف ایک دن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریبا 130 افراد ہلاک ہوگئے ۔بجلی گرنے سے ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی جارہی ہے ۔ درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بہار کے متعدد اضلاع میں بجلی گرنے سے کم از کم 97 افراد کی موت ہوگئی۔ بہار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر لکشمیشور رائے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ری...

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار وجود - جمعرات 25 جون 2020

یورپی یونین نے کورونا وبا کے سبب امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار کرلیا، پابندی کے اطلاق کا حتمی فیصلہ یکم جولائی تک کرلیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یورپی حکام ان ممالک کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں محفوظ قراردیا جاسکتا ہے اور جن کے شہریوں کو موسم گرما میں سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے ، اس بارے میں مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔فی الحال امریکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں، یورپی حکام کا خیال ہیک ہ امریکا کوروناوبا کو پھیلنے سے روکنے می...

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ وجود - جمعرات 25 جون 2020

امریکا میں متعدی امراض سے بچا کے ادارے کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کہاہے کہ کورونا وائرس نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے ۔غیرملکی خبررسا ں ادارے کے مطابق ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی کئی ریاستوں میں وائرس کے باعث کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔انھوں نے یہ بات کانگریس کے سامنے کہی۔ خیال رہے کہ امریکہ میں اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ 23 لاکھ کے قریب متاثر ہو چکے ہیں۔ریڈفیلڈ نے کہا کہ ہم اس وائرس کا مقابلہ ...

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

افریقا کے صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول ہزاروں میل دور جزائر غرب الہند کے ملکوں پر چھانے لگی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صحرائے اعظم یا صحرائے صہارا کی یہ دھول تیزی سے وسطی امریکا کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ماہرین کے مطابق اس کی وجہ حالیہ دنوں میں افریقہ میں آنے والے مٹی کے طوفان ہیں جس کی وجہ سے اتنی بڑی مقدار میں دھول فضا میں پھیل گئی ہے ۔دھول کے باعث جزائر غرب الہند میں ہوا کا معیار انتہائی نیچے گر چکا ہے ۔عام طور پر نیلگوں نظر آنے والا کیریبین ملکوں کا آسمان اب سرمئی نظر ...

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا وجود - جمعرات 25 جون 2020

نئی دہلی (این این آئی)بھارت نے چین کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی کے بعد چینی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے ساٹھ کروڑ ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر کام عارضی طور پر روک دیا ہے ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹر کے وزیرِ صنعت سبھاش ڈیسائی کا کہنا تھا کہ وہ تین چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر آگے بڑھنے کے لیے مرکزی حکومت کی پالیسی کے منتظر ہیں۔چین اور بھارتی ریاست مہاراشٹر کے درمیان ابتدائی معاہدوں کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا جس کا مقصد کورونا سے متاثرہ بھارتی معیشت کی بحالی می...

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

برطانیا میں ایک خاتون کسی دماغی عارضے کی شکار ہونے کے بعد دو ماہ تک کچھ بھی بولنے سے قاصر رہیں۔ لیکن اچانک ان کی گویائی لوٹ آئی ہے لیکن اب وہ چار مختلف لہجوں میں بات کرتی ہیں۔31 سالہ ایملی ایگن کی اس کیفیت سے خود ڈاکٹر بھی حیران ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کسی عارضی فالج یا دماغی چوٹ کی وجہ سے ایسا ہوا لیکن اس کے ثبوت نہیں مل سکے ۔ اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ ان کا لہچہ اور بولنے کا انداز یکسر تبدیل ہونے لگا۔دو ماہ تک ایملی کمپیوٹر ایپ اور دیگر مشینی طریقوں سے اپنی بات کرتی رہی تھی۔ ت...

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی