وجود

... loading ...

وجود

آج کا 23مارچ

جمعه 23 مارچ 2018 آج کا 23مارچ

جنم دن کو ہر معاشرے میں بڑی خوشیوں اور ہلہ گلہ کے ساتھ منایا جاتا ہے،کیا امیر کیا غریب ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس دن کو اس طرح منایا جائے کہ یہ دن یاد گار بن جائے ۔والدین کی خواہشات میں سب سے اہم خواہش یہ ہوتی ہے کہ ہمارا بچہ جوان ہو کر دنیا میں ہمارا نام روشن کرے ،اس کی ترقی ہی ہمارے شملہ کو بلند کر دے گی،اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ اپنی صحت اور روپے پیسے کا خیال بھی دل سے نکال کر دن رات ایک کر دیتا ہے اس کی آنکھوں کے سامنے صرف ایک ہی خواب ہوتا ہے کہ ہمارا بچہ ترقی کی بلندیوں کو چھوئے اور وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اس کو دنیا میں راج کرتا دیکھے،یہ نظریہ صرف ایک بچے کی پیدائش کے گرد ہی نہیں گھومتا،یہ کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انسان کی زندگی کا جنون بھی ہو سکتا ہے۔یہی جنون آج سے اٹہتر سال پہلے بانی پاکستان اور ان کی تحریک کے ساتھیوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا نظر آتا تھامخالف قوتیں اس کو دیوانے کے خواب سے تعبیر کرتیں تھیں مگر 23مارچ کے تاریخی دن نے اس وقت تاریخ کے ابواب میں ایک اور خوبصورت باب کا اضافہ کر دیا جب قرار داد پاکستان کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔اس جلسہ میں ہر کسی کا جوش اور جذبہ دیدنی تھا کیا امیر کیا غریب اس جلسے میں جوق در جوق آئے اور اپنی موجودگی سے اپنی رائے کے حق میں کھلے عام ووٹ دیا کہ کچھ بھی ہو جائے بن کے رہے گا پاکستان ۔اور وقت نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ ان کے مضبوط ارادوں کے سامنے دنیا کا کوئی ظلم و ستم بھی رکاوٹ حائل نہ کر سکا ۔یہ جذبات اور مضبوط ارادوں کی گاڑی ایسے چلی کہ منزل مقصود پر پہنچ کر ہی دم لیا۔

بانی پاکستان کی نظر میں منزل کو پا لینا ہی کارنامہ نہیں تھا بلکہ وہ مستقبل میں اس کو دنیا کے نقشہ پر ایک چمکتا دمکتا ستارہ دیکھنا چاہتے تھے،اپنے اس مقصد کو عملی طور پر کامیاب دیکھنے کے لیے انھوں نے ایک باپ کے جذبات کی طرح اپنی صحت کا خیال کیے بغیر دن رات کام کیااور ناممکن کو ممکن بنا کر دنیا کو بتا دیا کہ جب انسان کسی نیک کام کا ارادہ کر لے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کو شکست نہیں دے سکتی۔انھوں نے اپنے اعمال سے آنے والی نسلوں کو پیغام دیا کہ حق اور سچ کے راستے میں مصائب اور مشکلات تو آتیں ہیں مگر ثابت قدمی اور خلوص نیت کے سامنے یہ سب ریت کی دیوار ثابت ہوتیں ہیں۔آپ نے ملک وقوم کے پیسے کو ایک امانت کے طور پر استعمال کیا جس کی واضع مثالیں موجود ہیں ،ایک میٹنگ کے لیے آپ سے پوچھا گیا کہ جو وزراء اس میٹنگ کے لیے آرہے ہیں ان کی تواضع کا کیا بندوبست کیا جائے تو آپ نے فوراََ یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ہم قوم کا پیسہ ایسے کاموں پر ضائع نہیں کر سکتے جس نے چائے پینا ہے وہ اپنے گھر سے پی کرآئے۔اس بات کے سامنے آتے ہی آج کے ملکی حالات سے دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے،کہ اس ملک کو کتنی قربانیوں اور مشکلات کے بعد حاصل کیا مگر جو کوئی بھی آیا اس نے اس ملک کے لیے قربانیاں دینے والوں کی ارواح کو سوائے دکھ پہنچانے کے اور کچھ نہیں دیا،کسی بھی پارٹی سے بالا تر ہو کر آج اگر اپنا احتساب کیا جائے تو ہر کسی نے اس کو اپنی جاگیر تصور کیا ہے ان کے اپنے اثاثے اور کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے چلے گئے مگر پیارا پاکستان دن بدن قرضوں کی دلدل میں دھنستا چلا گیا ۔بدقسمتی سے اداروں کو اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

ذاتی مفادات کو ملک کے مفاد پر ترجیح دی گئی ملک میں جاری ہونے والی یہ اقربا پروری آج ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے چند ٹولوں نے ملک کی بائیس کروڑ عوام کو یرغمال بنا کر رکھ دیا ہے،غریب بے چارہ بے بسی کے عالم میں انہیں ٹولوں کی طرف دیکھتا ہے کہ شاید کہیں سے اس کے حالات کی بہتری کا اشارہ بھی مل جائے ،اسی امید کے پیچھے جب بھی کوئی احتساب کا نعرہ لگاتا ہے تو غریب کی آنکھ میں امید کی ایک چمک پیدا ہو جاتی ہے کہ بس اب یہ اگر اس طرح ہو گیا تو اس کے دن پھر جائیں گے ،مگر کچھ وقت گزرنے کے بعداس کی یہی امید ایک سراب ثابت ہوتی ہے کیونکہ انھوں نے جس سے امید لگائی ہوتی ہے اس کو ایک مفاد پرست ٹولہ اپنے حصار میں اس طرح جکڑ لیتا ہے کہ وہ سب کچھ بھول کر اپنی رنگینیوں میں مست ہو جاتا ہے،عوام کا دکھ درد اس کیلیے قصہ دیرینہ بن جاتا ہے،عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ایک وقت میں روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ بلند کیا گیا مگر کئی بار حکومت کے مزے لینے کے باوجود بھی آج تک وہ نعرہ صرف نعرہ ہی ثابت ہوا ،حکمرانی کی کشتی میں سوار ہر کسی نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس بہتی گنگا میں خوب ہاتھ صاف کیے مگر غریب بیچارہ اس نعرے کی عملی شکل دیکھنے کی حسرت لیے ہی اس دنیا فانی سے رخصت ہو لیا اور اپنی اس امید کو اپنی آنے والی نسل کو دے گیا ۔اور جو زیادہ محبت کرنے والے تھے انھوں نے تواپنی پارٹی کے لیے ناختم ہونے والی دشمنیوں کو بھی اپنی آنے والی نسل کی جھولی میں ڈالنے کو بھی عیب محسوس نہ کیا۔وہ خود تو اس دنیا فانی سے چلے گئے مگر ان کی اولاد آج تک ان کی دشمنیوں کو بھگت رہیں ہیں اور انکی پارٹی قیادت اس سارے عمل سے بے نیاز ہوکر اپنے کاموں میں مشغول ہے،روٹی کپڑا مکان کا نعرہ ابھی کمزور نہیں ہوا تھا کہ ملکی ترقی کے لیے قرض اتاروملک سنوارو،اور ایٹمی دھماکوں کی گونج نے عوام کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ۔ اسٹوڈنٹ تھا یا کے مزدور ،تاجر تھا یا کہ گورنمنٹ ملازم ،حتی کہ بیرون ملک میں مقیم لوگوں نے اپنے خون پسینے کی کمائی اپنے ملک کی بقا اور اپنے آنے والی نسلوں کے بہترین مستقبل کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے پانی کی طرح بہا دیا ۔مگر سب بے سود ملک کے قرضے دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے چلے گئے۔اور ان کے اپنے کاروبار اثاثہ جات نہر سے دریا اور دریا سے سمندر ہوتے چلے گئے،مگر کوئی ادارہ کوئی طاقت اس کا حساب نہ لے سکی۔

اسی دوران ملک میں تبدیلی کا نعرہ بلند ہوا ،عوام ایک بار پھر نادان بچے کی طرح دیوانہ وار اس کے پیچھے بھاگی،مگر سب بے سود ،اس کے گرد بھی مفاد پرستوں کا حصار اتنا مضبوط ہوتا چلا گیا کہ غریب بیچارہ پھر اپنا سا منہ لیکر رہ گیا۔ ملکی مفاداورسیاست میں سب جائز کے کا نعرہ لگا کر عوام کو مطمئن کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ترقی کے دعوئوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا،مستقبل میں پیدا ہونے والا ہر بچہ مقروض پیدا ہو رہا ہے اور ڈالر میں کمی بیشی اس کے قرضے میں بھی اضافہ کرتی چلی جارہی ہے۔آج سے اٹہتر سال پہلے شاید غریب اتنا مقروض اور بے بس نہیں تھا جتنا کہ آج کے 23مارچ والے دن نظر آ رہا ہے۔اس 23مارچ کے تاریخی دن کو حقیقی معنوں میںاپنے قائد کی امنگوں کے مطابق بنانے کے لیے اس خود غرضی کی زندگی سے باہر نکلنا ہو گا،تاکہ قائد اعظم محمد علی جناح کے خواب کوپورا کیا جاسکے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر