... loading ...
جنم دن کو ہر معاشرے میں بڑی خوشیوں اور ہلہ گلہ کے ساتھ منایا جاتا ہے،کیا امیر کیا غریب ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس دن کو اس طرح منایا جائے کہ یہ دن یاد گار بن جائے ۔والدین کی خواہشات میں سب سے اہم خواہش یہ ہوتی ہے کہ ہمارا بچہ جوان ہو کر دنیا میں ہمارا نام روشن کرے ،اس کی ترقی ہی ہمارے شملہ کو بلند کر دے گی،اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ اپنی صحت اور روپے پیسے کا خیال بھی دل سے نکال کر دن رات ایک کر دیتا ہے اس کی آنکھوں کے سامنے صرف ایک ہی خواب ہوتا ہے کہ ہمارا بچہ ترقی کی بلندیوں کو چھوئے اور وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اس کو دنیا میں راج کرتا دیکھے،یہ نظریہ صرف ایک بچے کی پیدائش کے گرد ہی نہیں گھومتا،یہ کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انسان کی زندگی کا جنون بھی ہو سکتا ہے۔یہی جنون آج سے اٹہتر سال پہلے بانی پاکستان اور ان کی تحریک کے ساتھیوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا نظر آتا تھامخالف قوتیں اس کو دیوانے کے خواب سے تعبیر کرتیں تھیں مگر 23مارچ کے تاریخی دن نے اس وقت تاریخ کے ابواب میں ایک اور خوبصورت باب کا اضافہ کر دیا جب قرار داد پاکستان کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔اس جلسہ میں ہر کسی کا جوش اور جذبہ دیدنی تھا کیا امیر کیا غریب اس جلسے میں جوق در جوق آئے اور اپنی موجودگی سے اپنی رائے کے حق میں کھلے عام ووٹ دیا کہ کچھ بھی ہو جائے بن کے رہے گا پاکستان ۔اور وقت نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ ان کے مضبوط ارادوں کے سامنے دنیا کا کوئی ظلم و ستم بھی رکاوٹ حائل نہ کر سکا ۔یہ جذبات اور مضبوط ارادوں کی گاڑی ایسے چلی کہ منزل مقصود پر پہنچ کر ہی دم لیا۔
بانی پاکستان کی نظر میں منزل کو پا لینا ہی کارنامہ نہیں تھا بلکہ وہ مستقبل میں اس کو دنیا کے نقشہ پر ایک چمکتا دمکتا ستارہ دیکھنا چاہتے تھے،اپنے اس مقصد کو عملی طور پر کامیاب دیکھنے کے لیے انھوں نے ایک باپ کے جذبات کی طرح اپنی صحت کا خیال کیے بغیر دن رات کام کیااور ناممکن کو ممکن بنا کر دنیا کو بتا دیا کہ جب انسان کسی نیک کام کا ارادہ کر لے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کو شکست نہیں دے سکتی۔انھوں نے اپنے اعمال سے آنے والی نسلوں کو پیغام دیا کہ حق اور سچ کے راستے میں مصائب اور مشکلات تو آتیں ہیں مگر ثابت قدمی اور خلوص نیت کے سامنے یہ سب ریت کی دیوار ثابت ہوتیں ہیں۔آپ نے ملک وقوم کے پیسے کو ایک امانت کے طور پر استعمال کیا جس کی واضع مثالیں موجود ہیں ،ایک میٹنگ کے لیے آپ سے پوچھا گیا کہ جو وزراء اس میٹنگ کے لیے آرہے ہیں ان کی تواضع کا کیا بندوبست کیا جائے تو آپ نے فوراََ یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ہم قوم کا پیسہ ایسے کاموں پر ضائع نہیں کر سکتے جس نے چائے پینا ہے وہ اپنے گھر سے پی کرآئے۔اس بات کے سامنے آتے ہی آج کے ملکی حالات سے دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے،کہ اس ملک کو کتنی قربانیوں اور مشکلات کے بعد حاصل کیا مگر جو کوئی بھی آیا اس نے اس ملک کے لیے قربانیاں دینے والوں کی ارواح کو سوائے دکھ پہنچانے کے اور کچھ نہیں دیا،کسی بھی پارٹی سے بالا تر ہو کر آج اگر اپنا احتساب کیا جائے تو ہر کسی نے اس کو اپنی جاگیر تصور کیا ہے ان کے اپنے اثاثے اور کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے چلے گئے مگر پیارا پاکستان دن بدن قرضوں کی دلدل میں دھنستا چلا گیا ۔بدقسمتی سے اداروں کو اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
ذاتی مفادات کو ملک کے مفاد پر ترجیح دی گئی ملک میں جاری ہونے والی یہ اقربا پروری آج ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے چند ٹولوں نے ملک کی بائیس کروڑ عوام کو یرغمال بنا کر رکھ دیا ہے،غریب بے چارہ بے بسی کے عالم میں انہیں ٹولوں کی طرف دیکھتا ہے کہ شاید کہیں سے اس کے حالات کی بہتری کا اشارہ بھی مل جائے ،اسی امید کے پیچھے جب بھی کوئی احتساب کا نعرہ لگاتا ہے تو غریب کی آنکھ میں امید کی ایک چمک پیدا ہو جاتی ہے کہ بس اب یہ اگر اس طرح ہو گیا تو اس کے دن پھر جائیں گے ،مگر کچھ وقت گزرنے کے بعداس کی یہی امید ایک سراب ثابت ہوتی ہے کیونکہ انھوں نے جس سے امید لگائی ہوتی ہے اس کو ایک مفاد پرست ٹولہ اپنے حصار میں اس طرح جکڑ لیتا ہے کہ وہ سب کچھ بھول کر اپنی رنگینیوں میں مست ہو جاتا ہے،عوام کا دکھ درد اس کیلیے قصہ دیرینہ بن جاتا ہے،عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ایک وقت میں روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ بلند کیا گیا مگر کئی بار حکومت کے مزے لینے کے باوجود بھی آج تک وہ نعرہ صرف نعرہ ہی ثابت ہوا ،حکمرانی کی کشتی میں سوار ہر کسی نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس بہتی گنگا میں خوب ہاتھ صاف کیے مگر غریب بیچارہ اس نعرے کی عملی شکل دیکھنے کی حسرت لیے ہی اس دنیا فانی سے رخصت ہو لیا اور اپنی اس امید کو اپنی آنے والی نسل کو دے گیا ۔اور جو زیادہ محبت کرنے والے تھے انھوں نے تواپنی پارٹی کے لیے ناختم ہونے والی دشمنیوں کو بھی اپنی آنے والی نسل کی جھولی میں ڈالنے کو بھی عیب محسوس نہ کیا۔وہ خود تو اس دنیا فانی سے چلے گئے مگر ان کی اولاد آج تک ان کی دشمنیوں کو بھگت رہیں ہیں اور انکی پارٹی قیادت اس سارے عمل سے بے نیاز ہوکر اپنے کاموں میں مشغول ہے،روٹی کپڑا مکان کا نعرہ ابھی کمزور نہیں ہوا تھا کہ ملکی ترقی کے لیے قرض اتاروملک سنوارو،اور ایٹمی دھماکوں کی گونج نے عوام کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ۔ اسٹوڈنٹ تھا یا کے مزدور ،تاجر تھا یا کہ گورنمنٹ ملازم ،حتی کہ بیرون ملک میں مقیم لوگوں نے اپنے خون پسینے کی کمائی اپنے ملک کی بقا اور اپنے آنے والی نسلوں کے بہترین مستقبل کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے پانی کی طرح بہا دیا ۔مگر سب بے سود ملک کے قرضے دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے چلے گئے۔اور ان کے اپنے کاروبار اثاثہ جات نہر سے دریا اور دریا سے سمندر ہوتے چلے گئے،مگر کوئی ادارہ کوئی طاقت اس کا حساب نہ لے سکی۔
اسی دوران ملک میں تبدیلی کا نعرہ بلند ہوا ،عوام ایک بار پھر نادان بچے کی طرح دیوانہ وار اس کے پیچھے بھاگی،مگر سب بے سود ،اس کے گرد بھی مفاد پرستوں کا حصار اتنا مضبوط ہوتا چلا گیا کہ غریب بیچارہ پھر اپنا سا منہ لیکر رہ گیا۔ ملکی مفاداورسیاست میں سب جائز کے کا نعرہ لگا کر عوام کو مطمئن کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ترقی کے دعوئوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا،مستقبل میں پیدا ہونے والا ہر بچہ مقروض پیدا ہو رہا ہے اور ڈالر میں کمی بیشی اس کے قرضے میں بھی اضافہ کرتی چلی جارہی ہے۔آج سے اٹہتر سال پہلے شاید غریب اتنا مقروض اور بے بس نہیں تھا جتنا کہ آج کے 23مارچ والے دن نظر آ رہا ہے۔اس 23مارچ کے تاریخی دن کو حقیقی معنوں میںاپنے قائد کی امنگوں کے مطابق بنانے کے لیے اس خود غرضی کی زندگی سے باہر نکلنا ہو گا،تاکہ قائد اعظم محمد علی جناح کے خواب کوپورا کیا جاسکے۔
دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...
مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...
بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...
ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...
پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...
9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...
ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...
حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...
اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...
2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...
یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...
بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...