وجود

... loading ...

وجود

امریکاکے لیے نامزدسفیرعلی جہانگیرکے گرد بھی نیب کا گھیراتنگ

بدھ 21 مارچ 2018 امریکاکے لیے نامزدسفیرعلی جہانگیرکے گرد بھی نیب کا گھیراتنگ

نیب حکام نے امریکا کے لیے نامزد سفیر علی جہانگیر صدیقی سے تفتیش کے لیے سوالنامہ تیارکرلیا ہے۔ نیب ڈائریکٹوریٹ لاہور میں جمعرات کے روز علی جہانگیر صدیقی پیش ہوں گے اور کرپشن الزامات بارے بیس سوالات کے جواب دیں گے۔ نیب حکام نے علی جہانگیر صدیقی سے تفتیش کے لیے پانچ اعلیٰ افسران پر مشتمل ٹیم تشکیل دی ہے جس میں ایک ممبر کا تعلق پراسیکیوٹر برانچ سے بھی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ علی جہانگیر صدیقی سے چالیس ارب روپے بارے کرپشن الزامات کے حوالے سے پوچھ گچھ ہوگی جس کے لیے باقاعدہ ایک ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ علی جہانگیر صدیقی سے سوال کیا جائے گا کہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ایسے کاروبار کی حقیقت بیان کریں جبکہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں مختلف وزارتوں سے حاصل کیے گئے فوائد کی تفصیلات بارے بھی سوال کیا جائے گا اس کے علاوہ علی جہانگیر صدیقی سے اربوں روپے کے اثاثے بنانے اور ان کے بدلے قومی خزانہ سے جمع کرایا گیا ٹیکس ادائیگی بارے بھی سوال کیا جائے گا اس کے علاوہ جے ایس بینک کے سٹاک ایکسچینج مین شیئرز کے اتار چڑھائو بارے بھی سوالات پوچھے جائیں گے جبکہ ملک کے تمام معاملات میں بھی علی جہانگیر صدیقی کو حقائق بتانا ہوں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ تمام دستاویزات کی روشنی مین بیس والوں کا ایک پرفارما تیار کیا ہے جس میں ایک بڑے میڈیا کے مالک سے تعلقات اور اس گروپ کے کاروباری کمپنیوں کو دیئے گئے قرضوں اور ادائیگیوں بارے بھی سوالات پوچھے جائیں گے۔ ایک اعلیٰ حکام نے بتایا کہ غیر تسلی بخش جوابات دینے کی روشنی میں علی جہانگیر صدیقی کو گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے جیسا کہ سی ڈی اے کے سابق چیئرمین عنایت الٰہی کو کیا گیا تھا عنایت الٰہی کو بھی پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا جنھیں بعد میں زیر حراست لے لیا گیا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں آئین بننے کے بعد ملک میں وفاقی سرکاری افسران اور اداروں کی کرپشن کو پکڑنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ بھی بن گیا لیکن بدقسمتی سے دیگر سرکاری اداروں کی طرح یہ ادارہ بھی اپنے اردگرد کے ماحول سے الگ نہ رہ سکا اور وہی کام کرنے لگا جو دیگر ادارے کررہے تھے کرپٹ افسران کی سرپرستی بحالت مجبوری کاروائی کرنا پڑجائے تو ایک بے حد کمزور کیس ہوتا ہے تاکہ رہائی بھی یقینی بنائی جاسکے ایف آئی اے افسران کو راتوں رات امیر بننے کا ایک دھندا امیگریشن برانچ کی شکل میں ملا پاکستان سے جعلی دستاویزات پر جانے والے مسافروں سے بھرے جہاز یورپ امریکا کینیڈا بھجوائے جاتے رہے ان تمام ممالک میں جہاں جہاں پاکستانی امیگریشن کی ہاتھ کی صفائی کا سراغ لگتا رہا وہاں پاکستانیوں کا داخلہ مشکل ہوتا گیا اور پھر نائن الیون کے بعد پاکستانیوں کی چیکنگ سخت کرنے کے لیے غیر ملکی معاونت سے کمپیوٹر سسٹم تمام ائیر پورٹوں پر لگایا گیا ایف آئی اے کی بدنامی صرف بیرون ملک نہیں اندرون ملک بھی اس قدر بڑھی کہ پہلے میاں نواز شریف نے ایف آئی اے کو نکیل ڈالنے کے لیے اپنے قریبی ساتھی سیف الرحمن کی سربراہی میں احتساب سیل بناڈالا سیف الرحمن کو احتساب الرحمان کا نام دیا گیا اور پھر باکمال احتساب کے منظر دیکھنے کو ملے ایف آئی اے کے 36 اختیارات میں سے نصف اس سے چھین کر اسے بے بس بنانے کی پوری کوشش کی گئی12 اکتوبر1999 کو جنرل پرویز مشرف کا مارشل لاء آیا تو احتساب کا نیا ادارہ نیب بن گیا،بیوروکریسی خصوصاً ڈی ایم جی والے پریشان ہیں کہ ان کا کہنا ہے کہ بھائی لاکھ پتی سے کروڑ پتی اور کروڑ پتی سے ارب پتی بننے کا سفر طے کرتے وقت سوچا تھا کہ حساب دینا ہے نہیں تو اب حساب دینا ہوگا جسٹس جاوید اقبال نے بیک وقت بہت سے کیس کھول کر کافی محاذوں پر جنگ شروع کردی چنانچہ اب طاقتوروں سے بچنے کے لیے رینجر کاتحفظ حاصل کیا جارہا ہے پانامہ کیس کہاں سے شروع ہوا؟نیب پر مسلم لیگ(ن) کیخلاف مہم چلانے کے الزامات کی بوچھاڑ ہوگئی حالانکہ اسی نیب کے چیئرمین قمر الزمان چودھری نے پانامہ کیس دبانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی نیب کا قمر الزمان چودھری کا دور یقینا سیاہ دور کہا جائے گا جسٹس جاوید اقبال نے صرف سیاستدانوں کے احتساب کی گالی سے بچنے کے لیے احتساب کا دائرہ بڑھادیا۔

انہوں نے جہاں بارہ میڈیکل کالجوں کے الحاق میں بدعنوانی کے الزام میں وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ اور پاکستان میڈیکل ڈینٹل کونسل کے صدر کیخلاف انکوائری شروع کردی وہیں ریلوے میں کرپشن کے الزام میں لیفٹیننٹ جنرل(ر) سعید الظفر میجر جنرل(ر) حسن بٹ جی ایم ریلوے اقبال محمد خان جی ایم ائیر بس خورشید احمد خان ممبر فنانس بریگیڈئر (ر) اختر علی بیگ ڈائریکٹر عبدالغفار رمضان شیخ ڈائریکٹر حسن کنسٹرکشن وہ دیگر کیخلاف قومی خزانے کو دو ارب کے نقصان کو پوچھ گچھ شروع کرنے کی اجازت دی ہے سابق چیئرمین واپڈا طارق حمید ممبر پاور انور خالد ممبر واٹر واپڈا محمد مشتاق ممبر فنانس امتیاز انجم اور دیگر کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری ہوچکی ہے جنہوں نے عام قوانین کیخلاف ورزی کرکے من پسند کمیٹی کو ٹھیکہ دے کر اربوں کا نقصان پہنچایا سی ڈی اے کے سابق چئیر مین فرخند اقبال سابق ممبر سٹیٹ خالد محمود مرزا جاوید جہانگیر دیگر کیخلاف تحقیقات کی منظوری ان کا جرم تجارتی پلاٹ کوڑیوں کے دام دینا بتایا گیاجس سے صرف پچاس کروڑ کا نقصان ہوا سندھ سمال انڈسٹریز میں غیر قانونی تقرریوں الاٹمنٹوں کے الزام میں سابق وزیر عبدالروف صدیقی عادل صدیقی ثروف فہیم مشتاق علی غفاری،محمود احمد غلام نبی مہر عبدالغنی دھارہ،امداد علی شاہ،امید علی شاہ دیگر کیخلاف انکوائری کا حکم جاری ہوچکا ہے پشاور ترقیاتی ادارہ کے سابق ڈی جی صاحبزادہ سعید احمد سید طاہر شاہ سریر احمد سابق جی ایم محمد طارق عبدالعلیم دیگر کے خلاف انکوائریز ناظم پشاور کے خلاف انکوائری وزیر صحت بلوچستان کے خلاف انکوائری سمیت دیگر بڑے بڑے کیس کھول دیتے ہیں جس کی ایک مثال وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ اور ان کے ماتحت محکمے سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر اختر گنجرا کیخلاف بھی انکوائری شروع ہوچکی ہے ۔

پنجاب میں افسران پر ہاتھ ڈالنے کا آغاز ہوتے ہی شور مچ گیا لاہور ویسٹ مینیجمنٹ کمیٹی کے سربراہ بلال مصطفی سید دو مرتبہ حاضری دینے میں ناکامی کے بعد بیماری کی رخصت بھجواچکے ہیں جبکہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے احمد چیمہ کو نیب نے بیرون ملک فرار ہونے سے روکنے کے لیے گرفتار کرلیا احمد چیمہ پنجاب کے ان افسران میں شامل ہیں جو میاں شہباز شریف کے اس قدر قریب ہیں کہ چیف سیکرٹری بھی اگر کسی میٹنگ میں احد چیمہ بول رہے ہوں تو مداخلت سے گریز کرتے ہیں احمد چیمہ کی گرفتاری پنجاب میں بیوروکریسی کے لیے اس قدر ڈرائونی ثابت ہوئی ہے کہ دوسروں کو ہڑتال سے روکنے کے ذمہ دار ڈی ایم جی افسر اپنے دفتروں کو تالے لگا کر نیب عدم تعاون کا کھلا پیغام دے چکے ہیں ان افسران کو بخوبی علم ہے کہ احد چیمہ کی گرفتاری آخری نہیں بلکہ یہ تو اس بارش کا پہلا قطرہ ہے جو ابھی برسے گی کہا جارہا ہے کہ اس قدر دھواں دھار ہوگی کہ تمام چہیتے خوف کے مارے فرار کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں مگر جائے فرار میسر نہیں ہے پنجاب حکومت بولنے نہیں دیتی نیب کہتی ہے کہ منہ کھولو ایک بے حد مشکل امتحان کا سامنا ہے ان افسران کو جو سفید پوشی سے ارب پتی بننے کا سفر چند برسوں کی نوکری میں پورا کرچکے ہیں ان افسران کے صرف پاکستان نہیں بیرون ملک اثاثے موجود ہے جنہیں بچانے کے لیے یہ افسران کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں ۔


متعلقہ خبریں


خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

 مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

اگر مجھے یا کسی پارلیمنٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی ہوں گے ، صوبائی وزیر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی پولیس نے ان سمیت دیگر اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے سماجی رابطے کی ویب سائ...

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا جائے گا، وزیراعظم ہائوس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے، کابینہ اراکین خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی...

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

ریاض ایئرپورٹ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں سرفہرست آگیا سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد فضائی سفر کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا جہاں دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ سے سیکڑوں پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ متعدد طیاروں کا رخ دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔فلائ...

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

مضامین
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان وجود پیر 12 اکتوبر 2026
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر