... loading ...
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ریاست کی ایک اپنی طاقت ہوتی ہے حکومت اور انتظامیہ اگر اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے کوئی حتمی فیصلہ کرلیں تو وہ اپنا ہدف حاصل کر کے دم لیتی ہیں لیکن یہ کامیابی حکومت اور انتظامیہ کی ہم آہنگی سے مشروط ہونے کے علاوہ بنیادی طور پر عوام کی بھرپور تائید و حمایت سے جڑی ہوئی ہوتی ہے ویسے تو ہمارے ملک کے قومی امور کو چلانے کا جو طرز عمل ہے حکومت اورنتظیموں اس سے خود مطمئن نہیں ہے۔ یہ ایک الگ تفصیلی بحث ہے لیکن دنیا میں آج صحت کا نظام جہاں بھی کامیابی سے چل رہا ہے اس کی بنیاد نیم طبی عملہ ہے۔ ان ممالک کے نظام صحت میں طبی اور نیم طبی عملے کے حقوق اور احترام تقریباً یکساں ہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں نیم طبی اور نرسنگ اسٹاف کی اہمیت دو چند ہے ان کی تنخواہوں ، مراعات میں زیادہ فرق نہیں ہے سب سے بڑی بات یہ کہ معاشرے میں بھی طبی اور نیم طبی عملے کی عزت اور احترام یکساں ہے طبی نظام کے یہ دونوں ہی عناصر اپنے پیشہ وارانہ فرائض کے دوران اپنی خدمات کا استعمال طبی اخلاقیات کے مطابق سر انجام دیتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں آزادی کے ستر سال گزرنے کے باوجود ہمارے طبی نصاب میں طبی اخلاقیات کا ذکر ہی نہیں ہے جس کے باعث ہم تاحال طب کے منظم نظام سے محروم ہیں اور جو نظام موجود ہے تو اس میں طب کے اہم شعبے نظر انداز فہرست میں شامل ہیں آج تک پیرا میڈیکل اسٹاف ، نرسنگ اسٹاف، ہیلتھ ٹیکنیشنز کی تعلیم و تربیت کا کوئی تحریری نصاب نہیں۔ یہ تو اللہ بھلا کرے ڈاکٹر شیر شاہ سید کا کہ انہوں نے چند سال قبل اپنی مدد آپ کے تحت پیرا میڈیکل، نرسنگ، لیڈی ہیلتھ ورکر، ہیلتھ ٹیکنیشن، مڈ وائف کی تعلیم و تربیت کیلئے قومی زبان میں مختلف کتابوں کو بطور نصاب متعارف کرایا یہ اور بات ہے کہ سندھ میڈیکل فیکلٹی، سندھ نرسز ایگزامنیشن بورڈ نے باضابطہ طور پر نہیں لیکن مذکورہ کتاب کو عملی طور پر اپنانے کا آغاز کیا ہے ورنہ اس سے قبل فوٹو اسٹیٹ لیکچر ہی طب کے ان بنیادی کارکنوں کا نصاب ہوا کرتے تھے۔ یہ بھی ہمارا قومی المیہ ہے کہ سندھ میڈیکل فیکلٹی میں غریب طلبہ کی امتحانی فیسوں سے حاصل ہونے والی کروڑوں روپے کی آمدنی کے باوجود سندھ میڈیکل فیکلٹی کی اپنی علیحدہ آج تک کوئی عمارت تعمیر نہیں ہو سکی ہے جبکہ یہ کروڑوں روپے کی رقم سیکریٹری صحت کے رحم و کرم پر ہوتی ہے وہ بلا شرکت غیرے مذکورہ فنڈ کے سیاہ سفید کا مالک ہوتا ہے ہر سیکریٹری صحت ڈگری، ڈپلومے پر دستخط کرنے کے عوض من مانا اعزازیہ وصول کرنے کو اپنا حق تصور کرتا ہے بلکہ اس رقم سے ہر ماہ اپنے ماتحت من پسند اسٹاف کو بھی نوازتا ہے لیکن آج تک کسی سیکریٹری صحت کو مذکورہ فنڈ سے پیرا میڈیکل کی بہبود کا کوئی خیال نہیں آیا اس پس منظر میں محکمہ صحت سندھ کا پیرا میڈیکل اسٹاف ، ہیلتھ ٹیکنیشن وغیرہ نہایت مظلوم اور محکوم طبقہ ہے درد ناک پہلو یہ ہے کہ اسے طبی عملے کی اکثریت ذہنی اور عملی طور پر تسلیم نہیں کرتی بلکہ ہمارے بوسیدہ طبی نظام میں جب بھی کوئی طبی غفلت کا واقعہ پیش آتا ہے تو اسے فی الفور نیم طبی عملے یا نرس سے منسلک کر کے طبی عملہ معصوم مسیحائوں کی ہی صف میں شامل رہتا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔ یہ تو مسیحائوں کی آبرو پروفیسر ادیب رضوی کا وصف ہے کہ وہ طبی غفلت کی سچ پر غم اور شرم سے خود جاں بلب ہو جاتے ہیں گرانی کہ اس دور میں محکمہ صحت سندھ کا وہ نیم طبی عملہ جو 17 ہزار سے20 ہزار روپے ماہوار تنخواہ پر اپنا گھر چلانے کیلئے مجبور ہے وہ ہیلتھ الائونس کے حصول کیلئے گزشتہ دو ماہ سے فقیروں کی طرح محکمہ صحت کا فریادی ہے۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے بعد جب وہ آٹھ مختلف تنظیموں کے اتحاد پیرا میڈیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سپریم کونسل کی قیادت میں پر امن طریقے سے وزیراعلیٰ ہائوس جا کر انصاف طلب کرنا چاہتا ہے تو پولیس بے رحمانہ تشدد کے ذریعے اسے وزیر اعلیٰ ہائوس جانے سے روک دیتی ہے۔ یہ زخموں سے چور بھی ہو جاتے ہیں اور پولیس انہیں گرفتار بھی کر لیتی ہے لیکن اس کے باوجود جوابی طور پر ایک پتھر کا نہ چلنا اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ طبی نیم طبی عملہ مسیحا ہونے کے ناطے پر امن ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید میراد علی شاہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ سیکریٹری صحت کی وجہ سے ان کی حکومت کا صحت کے حوالے سے میزانیہ قابل ذکر ہی نہیں بلکہ صفر ہے ان کی آئینی مدت پوری ہونے والی ہے۔ ہیلتھ الائونس کا آغاز ان کے کو چیئر مین آصف علی زرداری نے اپنے عہدہ صدارت کے دور میں شروع کیا تھا۔ ہیلتھ الائونس اس نیم طبی عملے کیلئے اس لئے ضروری ہے کہ یہی عملہ نظام صحت اور محفوظ نظام طب کی ضمانت ہے اس اتحاد کی سپریم کونسل نے اب تک صبر و تحمل اور باوقار راستہ اختیار کیا ہے وزیراعلیٰ سندھ کیلئے یہ ضرور بڑ امتحان ہے لیکن وزیراعلیٰ یہ بھی یاد رکھیں کہ صوبے میں آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں مریض کے سرہانے طبی عملہ نہیں ہوتا ، نرس، پیرا میڈیکل اسٹاف، ہیلتھ ٹیکنیشنز ہی اس کے معیاری نظام صحت کی بنیاد ہیں لہٰذا وزیراعلیٰ اپنے ہسپتالوں کی بہتری کیلئے اس طبقے کو مضبوط کریں اور ان کا جائز مطالبہ فوری منظور کریں۔
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...