وجود

... loading ...

وجود

کیا آپ اڑن کار چلانا چاہیں گے؟

پیر 12 مارچ 2018 کیا آپ اڑن کار چلانا چاہیں گے؟

ایک ولندیزی کمپنی پال وی نے جنیوا کے موٹر شو میں تازہ ترین اڑن کار کا مظاہرہ کیا ہے۔ کیا یہ خواب جلد ہی حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے؟یہ تین پہیوں والی چھوٹی سی کار ہے، لیکن یہ سڑک پر چلنے کے علاوہ اپنے پروں کی مدد سے ہوا میں بھی اڑ سکتی ہے۔لیکن کیا یہ صرف امیروں کا کھلونا ہی ہے یا اس کی عام لوگوں کے لیے بھی کوئی افادیت ہے؟
اس اڑن کار کا نام ‘لبرٹی یعنی آزادی رکھا گیا ہے۔اس کے ہیلی کاپٹر کی طرح پر ہیں جو اسے زمین سے اوپر اٹھنے میں مدد دیتے ہیں، جب اس کے اندر دو ایک سو ہارس پاور کے انجن نصب ہیں۔اسی طرح کی ایک کار جیمز بانڈ کی فلم ‘یو اونلی لِو ٹوائس میں بھی دیکھنے میں آئی تھی۔تاہم لبرٹی اس سے تھوڑی بڑی ہے اور اسے سڑک پر بھی چلایا جا سکتا ہے۔
زمین پر اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو رابرٹ ڈنگےمانسے کہتے ہیں: ‘یہ ہوا بازی کا عام المیہ ہے۔ چھوٹا جہاز یا ہیلی کاپٹر اس جگہ سے اڑتا ہے جہاں آپ نہیں جانا چاہتے اور وہاں اترتا ہے جہاں سے آپ آنا نہیں چاہتے۔ لیکن اس گاڑی میں آپ اپنے گھر سے سیدھے اس جگہ تک جا سکتے ہیں جہاں آپ موجود ہونا چاہتے ہیں۔
تاہم ہیلی کاپٹر جیسے ڈیزائن کی اپنی خامیاں بھی ہیں۔ برطانیہ کی لینکاسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر ہیری ہوسٹر کہتے ہیں: ‘جائروکاپٹر عام ہیلی کاپٹر کے برعکس بہت چھوٹی سی جگہ پر بھی اتر سکتے ہیں، لیکن انھیں اوپر اٹھنے کے لیے آگے بڑھنے کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے انھیں عمارتوں کے اوپر بنے ہیلی پیڈز سے نہیں اڑایا جا سکتا۔
‘اس کے علاوہ زیادہ گنجان علاقوں میں بھی مسئلہ ہو گا کیوں کہ اس کے پروں کو گھومنے کے لیے خاصی بڑی خالی جگہ درکار ہو گی۔وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ شور بھی ایک مسئلہ ہو گا۔پال وی واحد کمپنی نہیں ہے جو اڑن کار کو عام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری کمپنیاں بھی اسی قسم کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں، تاہم وہ زیادہ تر تہہ ہونے والے پروں والی گاڑیاں بنا رہی ہیں۔
مثال کے طور پر امریکی کمپنی ٹیرافوگیا نے ایسی اڑن کار بنائی ہے جو جس کے پر پرواز کے بعد بڑی صفائی سے تہہ کیے جا سکتے ہیں۔
ٹیرافوگیا کے چیف ایگزیکٹیو کرس جیرن نے بی بی سی کو بتایا: ‘آپ اسے اپنے گیراج میں کھڑی کر سکتے ہیں، آپ اسے کسی بھی ہوائی اڈے تک چلا کر لے جا سکتے ہیں، پھر اس کے پر کھولیں، اسے اڑا کر دوسرے ہوائی اڈے تک لے جائیں، اور پھر اپنی منزل تک چلا کر لے جائیں۔
پیٹرول سے چلنے والی یہ گاڑی سڑکوں پر 113 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہے جب کہ فضا میں اس کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے۔
لیکن اس اڑن کار کو عوام تک پہنچنے میں ایک مشکل کا سامنا ہے۔ اس کی قیمت دو لاکھ 80 ہزار ڈالر ہے۔ایک اور کمپنی بھی اڑن کار بنا رہی ہے۔ سلوویکیا کی کمپنی ایروموبیل کی اس گاڑی کی قیمت 12 لاکھ ڈالر ہے۔ایرو ٹیکنالوجی کے ماہر نک ورتھ کہتے ہیں کہ اڑن کاروں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قواعد و ضوابط ہیں، نہ کہ ٹیکنالوجی۔ ‘پچھلے ایک سو سال سے جہازوں کے بارے میں قواعد وضع کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے کسی گاڑی کو پرواز کے لیے کلیئر کرنے پر سالہاسال لگتے ہیں۔ گاڑی کے حادثے کے مقابلے پر جہاز کا حادثہ کہیں زیادہ سنگین ہوتا ہے، اور گاڑی چلانے کی نسبت جہاز اڑانے میں بہت بڑا فرق ہے۔
حالیہ قوانین کے مطابق اڑن گاڑی چلانے کے لیے ڈرائیور کا نہیں بلکہ پائلٹ کا لائسنس درکا ہے۔ورتھ کہتے ہیں: ‘مسئلہ یہ ہے کہ اڑن گاڑی ایسی چیز ہے جس میں بہت زیادہ انجینیئرنگ اور قواعد و ضوابط آتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی قیمت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔
‘کیا اس کی مارکیٹ موجود ہے؟ ممکنہ طور پر ہاں، لیکن یہ مارکیٹ بہت چھوٹی ہے۔ دوسری طرف برطانیہ کی رائل ایروناٹیکل سوسائٹی کے بل ریڈ کہتے ہیں کہ ‘اگر آپ بہت سی اڑن گاڑیاں لے آئیں تو اس سے فضائی ٹریفک جام کا مسئلہ شروع ہو جائے گا۔ اس لیے آپ کو مخصوص فضائی پٹیاں بنانی پڑیں گی۔
‘میرے خیال سے خودکار ہوائی ٹیکسیوں کو اجازت ملنے کا امکان اڑن کاروں کی نسبت زیادہ ہے۔


متعلقہ خبریں


آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

اسٹاک ایکسچینج بدترین مندی کے بعد کریش، کاروبار معطل، سرمایہ کاروں کا انخلا وجود - منگل 10 مارچ 2026

100انڈیکس میں 11015 پوائنٹس کی کمی سے 146480 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا خطے کی کشیدہ صورتحال پر انویسٹرز سرمائے کے انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں،ماہرین کی گفتگو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی ریکارڈ کی گئی جس میں ہنڈریڈ انڈیکس 9453 پوائنٹس کی کمی سے 14804...

اسٹاک ایکسچینج بدترین مندی کے بعد کریش، کاروبار معطل، سرمایہ کاروں کا انخلا

خلیجی ممالک پر حملے ، ایران کاسب سے زیادہ نقصان ہوگا،سعودیہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

اپنی سرزمین، شہریوں، قومی سلامتی کے دفاع کیلئے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں خطے میں امن اور استحکام کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے،وزارت خارجہ سعودی عرب نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید ب...

خلیجی ممالک پر حملے ، ایران کاسب سے زیادہ نقصان ہوگا،سعودیہ

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ وجود - پیر 09 مارچ 2026

جنگ کے نویں روز امریکی اور اسرائیلی کی جانب سے تہران کے نیلوفر اسکوائر پر بمباریم آئل ریفائنر اور آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا،اصفہان کے 8 شہروں پر فضائی حملے، نجف آباد پر بمباری،ایرانی میڈیا ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل داغے،21 امریکی بحرین میں نیول اڈے پر مارے گئے،امریکی تی...

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ وجود - پیر 09 مارچ 2026

795زخمی ، 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ،وفاقی وزیر اطلاعاتعطا تارڑ پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 583افغان طالبان ہلاک جبکہ 795زخمی ہو گئے ہیں ۔وفاقی وزیر ا...

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ

مضامین
منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

بھارتی کال سنٹرز سے سائبر فراڈ وجود بدھ 11 مارچ 2026
بھارتی کال سنٹرز سے سائبر فراڈ

ایران پر حملے وجود بدھ 11 مارچ 2026
ایران پر حملے

امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ وجود منگل 10 مارچ 2026
امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ

آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت وجود منگل 10 مارچ 2026
آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر