وجود

... loading ...

وجود

نوازشریف کاگرین سگنل ،پارٹی قیادت کاہماشہبازشریف کے سرپربیٹھنے کوبے تاب

منگل 27 فروری 2018 نوازشریف کاگرین سگنل ،پارٹی قیادت کاہماشہبازشریف کے سرپربیٹھنے کوبے تاب

شہباز شریف کو مسلم لیگ کا صدر بنانے پر جماعت کی مجلس عاملہ اور تمام دیگر ارکان متفق اورپرجوش ہیں۔نوازشریف اس بارے میں پہلے ہی فیصلہ کر چکے ہیں۔عام تاثر یہی ہے کہ مسلم لیگ کے پاس شہباز شریف کو صدر بنانے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن یا چوائس موجود نہیں ہے۔نواز شریف پہلے ہی 2018ء کے عام انتخابات کے لیے شہبازشریف کو مسلم لیگ (ن)کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کے لیے امیدوار قرار دے چکے ہیں۔نواز شریف خود بھی ان کی صلاحیتوں اوراعلیٰ منتظم ہونے کے معترف ہیں ۔ انہوں نے اپنے بڑے بڑے جلسوں میں شہباز شریف کی بطور وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر ایک طرح سے مہم شروع کررکھی ہے اور نواز شریف جلسوں میں ان کی تعریف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ نواز شریف کی بوجہ غیر موجودگی میں شہباز شریف ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو مسلم لیگ ن کو متحد رکھ اور ملک کو موجودہ بحران سے نکال کر اس کو منزل تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نواز شریف سمیت مسلم لیگی اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ 2013ء کے عام انتخابات میں پنجاب میں کیے گئے تعمیروترقی کے کام گڈگورننس کے باعث مسلم لیگ کو کامیاب حاصل ہوئی تھی۔ اب2013ء سے لے کر اب تک انہوں نے صوبے میں جس طرح تیز رفتاری اور ایک خاص وڑن کے تحت تعمیر وترقی کے کام کیے ہیں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ چین میں ان کی برق رفتاری کو بے حد سراہا جاتا ہے۔ چینی حکومت اور بیوروکریسی میں شہباز شریف کی بے حد تعریف و توصیف کی جاتی ہے کہ جس برق رفتاری سے انہوں نے بجلی کے منصوبوں، میٹروبس اور اب اورنج لائن ٹرین کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی سعی کی ہے اس پر چین میں تیز رفتار کام کرنے کوانہیں محاورتاً پنجاب سیڈ کہا جاتا ہے۔ شہباز شریف کی ایک خاص خوبی چین، سعودی عرب، ترکی کی اعلیٰ قیادت سے روابطہ اور تعلقا ت ہیں۔ اس بنا پر وہ ان حکومتوں سے پنجاب کے منصوبے اور رعاتیں بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ مسلم لیگی اس بات پر مطمئن ہیں کہ شہباز شریف اپنے وژن اور بیانیے سے مسلم لیگ کو اور ساتھ ہی نواز شریف کو موجودہ مسائل اور مصائب سے نکالنے میں کامیاب ہو جائینگے، اس لیے کھلے دل کے ساتھ نواز شریف نے ان کو آگے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ خیال ہے کہ شہبا ز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے میں کامیاب ہو جائینگے۔ان کی بطور صدر مسلم لیگ اور بطور امیدوار وزیراعظم کے طور پرنامزدگی کو بھی اسی حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ ماضی میں بھی وہ ان تعلقات کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ عام تاثر ہے کہ وہ مسلم لیگ کو آج بنانے والی آزمائش اور امتحان سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے دھرنا ون اور دھرنا ٹو سے نبردآزما ہونے میں ان کا کردار اہم تھا۔اس وقت عمران خان یہ تاثر دے رہے تھے کہ تھرڈ ایمپائر ان کے ساتھ ہے اور ایمپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے۔ ماضی کے اس مشکل وقت سے برا وقت میں ہے حالات کو اب بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے یہ تبدیلی بھی ممکن ہے کہ صورتحال کو تبدیل اور حملہ آور قوتوں کو مطمئن کیا جائے۔

شہباز شریف کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کو باپ کی جگہ دیتے ہیں اور ان کو غیرمشروط اور بلا حیل و حجت اپنا لیڈر قرار دیتے ہیں تاہم موجودہ صورتحال میں کچھ لو کچھ دو کی پالیسی کے تحت موجودہ بحرانی کیفیت سے نکلا جا سکتا ہے۔ شہباز شریف نے مسلسل ملاقاتوں میں نواز شریف کو یقین دلایا ہے کہ وہ نواز شریف، مسلم لیگ اور ملک کے لیے ہر طرح سے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ نواز شریف کے بیانئے کو عوام میں بے حد پذیرائی مل رہی ہے لیکن بڑے بڑے جلسوں میں نوازشریف کے بیانئے کی مقبولیت سے ایک خطرہ بھی نظر آ رہا ہے کہ جن قوتوں نے ان کو آئوٹ کیا تھا وہ یہ منظر دیکھ کر کہیں عام انتخابات کے انعقاد میں کوئی رخنہ نہ ڈال دیں۔ان کو ڈر ہے کہ نوازشریف عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے سویلین بالادستی اور ووٹ کے تقدس کی مہم کو عروج پر لے جائیں گے۔کہیں آئین میں ترامیم اور اس سلسلے میں قانون سازی نہ کر ڈالیں۔ سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کو اکثریت حاصل کرنے سے روکنے کی منصوبہ بندی بھی اس سلسلے کی ایک کڑی نظر آتی ہے۔بلوچستان اسمبلی اور حکومت اسی منصوبے کی ایک کڑی نظر آتی ہے۔عام خیال تھا کہ اس کے بعد یہ سلسلہ رک جائے گا لیکن اب پوری مسلم لیگ ن کو ان انتخابات میں سینٹ سے فارع کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔شہباز شریف اس چیلنج کو پنجاب میں قبول کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پنجاب سے کوئی ایک نشست بھی نہیں کھوئیں گے۔

گو کہ شہباز شریف پر بعض نادیدہ قوتیں اس سے پہلے بھی حملہ آور ہو چکی ہیں۔ ملتان میٹرو پراجکیٹ کے حوالے سے ان پر منی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا گیا لیکن چین کی حکومت نے روایت سے ہٹ کر ان کا دفاع کیا اور ایسی کسی کرپشن کی سختی سے تردید کی۔اس طرح ایک حال ہی میں شہباز شریف کی حکومت کو ہلانے کی کوشش کی گئی۔پیر حمید الدین سیالوی صاحب کو ایک خاص مسئلے پر دھرنے پر اکسایا گیا لیکن شہباز شریف نے مخصوص حکمت عملی اور مفاہمتی طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اس منصوبہ بندی کو ناکام بنا دیا، اسی طرح مفاہمتی طرز عمل آئندہ بھی کام آسکتا ہے۔جہاں تک ان افواہوں یا پھیلائی ہوئی باتوں کا تعلق ہے کہ خاندان میں کسی طرح کی اقتدار یا پارٹی لیڈر شپ کے حوالے سے کوئی دو رائے یا اختلاف موجود ہے پچھلے چند دنوں کے مناظراور بیانات نے ان کو غلط ثابت کیا ہے۔ لودھراں میں نواز شریف، شہباز شریف کے علاوہ مریم نواز اور حمزہ شہباز کی موجودگی کوئی اتفاقی امر نہ تھا، یہ ایک واضح پیغام تھا۔ پچھلے دنوں مریم نواز نے بھی کہا کہ وہ اور حمزہ شہباز ایک ہی گھر کے باسی ہیں، کوئی فرق نہیں۔ دونوں بھائیوں کی والدہ پیرانہ سالی میں بھی دونوں کو سمجھانے اور جوڑ کر رکھنے میں ایک بنیادی کڑی ہیں۔ تمام مسلم لیگی بشمول شریف فیملی کے امید رکھتے ہیں کہ شہباز شریف اپنی خوبیوں، صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر امتحان کی اس مشکل گھڑی میں مسلم لیگ (ن ) کو نہ صرف سرخرو کرینگے بلکہ آئندہ عام انتخابات میں کامیاب بھی کرائینگے اور ایسی مفاہمتی پالیسی تشکیل دینگے جس سے تمام ادارے مطمئن ہو جائیں اور ملک بحرانی کیفیت سے نکل آئے۔


متعلقہ خبریں


اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر