وجود

... loading ...

وجود

مسیحا سیکریٹری کی اناکی نذر ہیلتھ الائونس سرد خانے میں

منگل 27 فروری 2018 مسیحا سیکریٹری کی اناکی نذر ہیلتھ الائونس سرد خانے میں

محکمہ صحت سندھ میں ڈاکٹروں کی ترقیوں کا انصاف پر مبنی معاملہ موجودہ سیکرٹری صحت کی انا کی نذر ہے تو پیرا میڈیکل اسٹاف کے ہیلتھ الائونس کا جائز مطالبہ کمزور قیادت کی نااہلی کے باعث سرد خانے میں جاتا نظر آرہا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے قانون پسند مسیحا پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کے جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر عثمان ماکو کی قیادت میں 7 اگست 2015ء سے تاحال سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے دیئے گئے فیصلے پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔ کراچی پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تمام ڈاکٹرز تاحال ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ کیا محکمہ صحت سندھ کے یہ سرکاری ڈاکٹرز بھی پنجاب کے سول افسروں کی طرح قانون سے بغاوت کرکے اپنا حق حاصل کریں؟ یہ ڈاکٹرز بھی حکومت سندھ کے گزٹیڈ افسر ہیں۔ متعدد تو ترقی حاصل کئے بغیر موت کی ابدی نیند سوگئے اور متعدد ترقی کی حسرت لئے بغیر ہی ریٹائر ہو کر گھر چلے گئے۔ لیکن یہ کیا بے شرمی ہے کہ ریٹائر ہونے والا سیکرٹری صحت عدالت عظمیٰ میں ڈاکٹروں کی ترقیوں کی گمراہ کن رپورٹ جمع کراکے ریٹائرمنٹ کے اپنے نوٹیفکیشن کے اجرا کے باوجود چیف جسٹس آف پاکستان سے اپنی ترقی کی درخواست کرتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کی ناانصافی کا وہ خطرناک پہلو ہے جس سے بالادست طبقہ زبردست طاقتور ہوتا جارہا ہے اور محکوم طبقہ ناانصافیوں کے باعث تیزی سے انارکی کی جانب جارہا ہے۔ خطرے کی یہ گھنٹی وفاق اور صوبوں میں مغلیہ سلطنت کی طرز کی نام نہاد جمہوریت کی بساط کے لئے ہی نہیں بلکہ وطن عزیز کی سلامتی اور ترقی کے حوالے سے بھی کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ان مسیحائوں کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کی کسی نے کوشش نہیں کی جس میں حکومتی وزیر اور نمائندگان، سیاسی جماعتوں کے رہنمایان سمیت محکمہ صحت کے کسی نچلی سطح تک کے افسر کو یہ توفیق نہیں ہوئی۔ بالآخر قومی طب و صحت کے اُفق پر موجود ڈاکٹروں کی مستند نمائندہ تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد نے بھوک ہڑتالی ڈاکٹروں کو جوس پلا کر نہ صرف ان کی بھوک ہڑتال ختم کروائی بلکہ اپنی نگرانی میں بھوک ہڑتالی ڈاکٹروں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال بھی روانہ کیا۔

محکمہ صحت سندھ کی تاریخ میں پہلی بار پیرا میڈیکل اسٹاف نے کراچی پریس کلب پر گزشتہ دنوں ہیلتھ الائونس کے ایک نکاتی مطالبے پر تاریخی بے نظیر مظاہرہ کیا۔ جس میں مظاہرین کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور ان کے پرجوش نعروں نے جہاں سیکورٹی اداروں کو اضافی نفری کے لئے مجبور کردیا وہیں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کمزور قیادت بھی اس غیر متوقع جم غفیر کو دیکھ کر حیران اور پریشان ہوگئی بلکہ میں نے بعض رہنمائوں کو حواس باختگی کی کیفیت میں دیکھا۔ وہیں محکمہ صحت کی تاریخ میں سابق مشیر صحت فیصل گبول کے بعد دوسرے وائسرائے طرز کے سیکرٹری صحت ڈاکٹر فضل اللہ پیجوہو نے بھی معاملے کو ہاتھ سے نہ نکل جانے کی ہنگامی پالیسی پر عمل کیا اور ایڈیشنل سیکریٹری صحت جلال الدین جلالانی کو اپنا ایلچی بنا کر کراچی پریس کلب کے سامنے پیرامیڈیکل رہنمائوں سے مذاکرات کے لئے بھیجا، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پیپلز پیرامیڈیکل اور آل سندھ پیپلز پیرامیڈیکل کے دونوں گروپوں کے علاوہ سندھ پیرا میڈیکل ویلفیئر ایسوسی ایشن اور اسی طرح سے متحدہ قومی موومنٹ کی میڈیکل ایڈکمیٹی کی شکست وریخت کے بعد پاک سرزمین کا میڈیکل ونگ کے علاوہ متحدہ پاکستان کا میڈیکل ونگ اس جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں شامل ہے۔ گوکہ پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور سابق وزیر صحت سندھ ڈاکٹر صغیر احمد نے اپنے میڈیکل ونگ کے تحت کراچی پریس کلب پر ہیلتھ الائونس کے حوالے سے ایک اچھا شو مذکورہ شو سے قبل کرچکے تھے۔ لیکن اس شو کا حفاظتی اداروں سمیت محکمہ صحت تک کے کسی چھوٹے افسر نے بھی کوئی نوٹس نہیں لیا۔ بہرحال جلال الدین جلالانی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں سے بات چیت کے بعد واپس سیکرٹری صحت ڈاکٹر فضل اللہ پیجوہو کے پاس گئے اور کچھ دیر بعد جب واپس آئے تو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں نے احتجاجی ٹرک پر چڑھ کر مذاکرات کی ناکامی کا تو اعلان کردیا لیکن اپنی نااہلی اور ناتجربہ کاری کی بنا پر اس مظاہرے کی اصل قوت کو کوئی واضح لائحہ عمل دینے میں ناکام رہے۔ بس یہی وہ موڑ تھا جب دیئے ہوئے احتجاجی پروگرام پر عمل درآمد ہونے سے پہلے مذکورہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما جب دوسرے روز محکمہ صحت کے چالاک سیکرٹری کے ہاتھوں ٹریپ ہو کر مذاکرات کے لئے پہنچے تو پہلے تو ان کمزور رہنمائوں کا استقبال انتظار سے کرایا گیا اور جب سیکرٹری صحت آئے تو ناقص حکمت عملی اور موثر منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث رہنمائوں کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ یہ تو خیر ہوئی وفد میں شامل ایک بزرگ رہنما نے اپنی بزرگی کو دائو پر لگا کر اور ایڈیشنل سیکرٹری جلال الدین جلالانی نے اپنے سیکرٹری کی پالیسی کے مطابق کمیٹی کے رہنمائوں کو محفوظ راستہ دیا۔ ایکشن کمیٹی میں شامل دو جماعتوں نے سکھ کا سانس لیا کہ ہم معافی تلافی والے مذاکرات میں نہیں تھے۔ اب معافی تلافی والے رہنما ہیلتھ الائونس کے مطالبے کی تکمیل کے بجائے ان چار نیم طبی تنظیموں کو بھی اپنی صف میں لانے کے لئے سرگرم عمل ہیں جو مذکورہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں شامل نہیں تھے۔ اس میں سب سے بڑی نیم طبی تنظیم پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن، پاکستان ہیلتھ ایمپلائز ایسوسی ایشن، انصاف میڈیکل ونگ، فنکشنل میڈیکل ونگ شامل ہیں۔ حالانکہ عام انتخابات قریب ہونے کے باعث 72 ہزار ملازمین کے ہیلتھ الائونس منظور کرانے کا بہترین موقع تھا۔ جسے گنوایا گیا یا فروخت کیا گیا۔ یہ فیصلہ پیرامیڈیکل اسٹاف کے ملازمین کو کرنا ہے، خود ساختہ رہنمائوں کو نہیں۔


متعلقہ خبریں


بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار وجود - پیر 26 جنوری 2026

گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

مضامین
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود پیر 26 جنوری 2026
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود پیر 26 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود پیر 26 جنوری 2026
صبر یا جبر

پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر