... loading ...
پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے لائن آف کنٹرول پر شہریوں کو نشانہ بنانے والی بھارتی پوسٹ گزشتہ روز تباہ کردی۔ اس سلسلہ میں پاک فوج کے کنٹرول لائن پر تعینات دستے نے تتہ پانی سیکٹر پر بھارتی پوسٹ پر بمباری کرکے اسے تباہ کیا جبکہ اس میں پانچ بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی بھارتی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن پر ایک سکول وین کو فائرنگ کا نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئی۔ اس بھارتی فائرنگ کے نتیجہ میں سکول وین کا ڈرائیور شہید ہوگیا تھا۔ بھارتی فوج کی جانب سے نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے پر گزشتہ روز بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور بھارتی فوج کی طرف سے ایک سکول وین کو نشانہ بنانے کے واقعہ کی مذمت کی گئی اور اس پر سخت احتجاج کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیاء ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے انہیں احتجاجی مراسلہ تھمایا۔ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے بٹل سیکٹر پر جان بوجھ کر سکول کے بچوں کی ایک وین کو نشانہ بنایا۔ یہ وین بٹل مدھاپور روڈ پر جارہی تھی۔ فائرنگ سے وین میں موجود بچے سخت خوفزدہ ہوگئے۔ احتجاجی مراسلے میں پاکستان کی جانب سے نئی دہلی کو باور کرایا گیا ہے کہ باربار تحمل کی ضرورت پر زور دینے کے باوجود بھارت جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایل او سی پر سکول وین پر بھارتی فائرنگ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلااشتعال اور غیراخلاقی اقدامات سے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ بھارت معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر جنیوا کنونشن کی مسلسل خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے بھی بھارتی فوج کی جانب سے ا سکول وین پر فائرنگ کے واقعہ کی سخت مذمت کی ہے۔
ہندو انتہاء پسندوں کی ترجمان بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی سرکار درحقیقت پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کے ایجنڈے پر ہی عمل پیرا ہے۔ یہ بی جے پی کے اس انتخابی منشور کو عملی جامہ پہنانے کا ایجنڈا ہے جس کے تحت بھارت میں مسلم دشمنی کو پروان چڑھایا گیا اور نریندر مودی کی انتخابی مہم کے دوران ہی بھارت میں موجود پاکستانی باشندوں بشمول سیاست دانوں‘ دانشوروں‘ فنکاروں‘ کھلاڑیوں پر حملے اور انہیں ہراساں کرکے پاکستان واپس جانے پر مجبور کیا جاتا رہا جبکہ پاکستان اور بھارت کے مابین چلنے والی دوستی بس اور سمجھوتہ ایکسپریس کا بھی گھیرائو کیا جاتا رہا۔ اس طرح نریندر مودی کی انتخابی مہم میں اشتعال کا عنصر شامل کرکے پاکستان دشمنی کی آگ بھڑکائی جاتی رہی جبکہ نریندر مودی نے اقتدار میں آتے ہی پاکستان دشمنی پر مبنی پارٹی منشور کو اپنی حکومتی پالیسی کا حصہ بنالیا جس کے ماتحت ورکنگ بائونڈری اور کنٹرول لائن پر روزانہ کی بنیاد پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کرکے سرحدی کشیدگی بڑھائی جانے لگی اور پھر بھارت میں ہونیوالی دہشت گردی اور تخریب کاری پر پاکستان کو موردالزام ٹھہرانے کا لامتناہی سلسلہ شروع کردیا گیا۔ پاکستان بھارت کشیدگی بڑھانے کی سازش کے تحت ہی پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ اور دوسرے کھیلوں میں بھارتی کھلاڑیوں کو پاکستان بھجوانے کی سخت مخالفت کی گئی اور اپنے کھلاڑی پاکستان بھجوانے سے انکار کیا جاتا رہا۔ اسی سازش کے تحت گزشتہ سال شیڈول کے مطابق اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس سبوتاڑ کی گئی اور اپنے کٹھ پتلی اسکے رکن ممالک کو پاکستان جانے سے روک کر سارک کانفرنس کا انعقاد ناممکن بنادیا گیا۔ اسی طرح پاکستان اور بھارت کے مابین شیڈول کے مطابق ہونیوالے مذاکرات میں ہر سطح پر رخنہ ڈالا جاتا رہا اور پھر مودی سرکار پاکستان اور چین کے باہمی تعاون سے شروع ہونیوالے اقتصادی راہداری منصوبے کے پیچھے لٹھ لے کر چڑھ دوڑی جسے سبوتاڑ کرنے کیلیے بھارت نے بلوچستان میں ’’را‘‘ کے حاضر سروس جاسوس کلبھوشن یادیو کے ذریعے تخریب کاری کا نیٹ ورک پھیلایا جس کے ماتحت پورے ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا جبکہ یہی نیٹ ورک بھارتی ایماء پر بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر کی بھی سرپرستی کرتارہا۔
ان تمام تر سازشوں کا اولین مقصد پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کا ہے جس پر بھارت آج بھی کاربند ہے جبکہ اب ٹرمپ کی قیادت میں امریکی سرپرستی حاصل ہونے پر بھارت کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں اور اسکی سیاسی اور عسکری قیادتیں پاکستان پر ہرزہ سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی نوجوان کشمیریوں کی حق خودارادیت کیلیے اٹھنے والی توانا آواز کو دبانے کی خاطر اس مقبوضہ وادی کو بھی جنونی کارروائیوں کیلیے اپنے ہدف پر رکھ لیا گیا چنانچہ مودی سرکار کے قیام سے اب تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب کشمیری عوام نے سکون و راحت کے ساتھ اپنا دن گزارا ہو۔
اس بھارتی مخاصمانہ رویے سے کشمیری عوام بالخصوص نئی نسل میں اپنے حق خوداختیاری کیلیے نیا جذبہ پیدا ہوا اور انہوں نے بھارتی فوجوں کے مظالم کا ترکی بہ ترکی جواب دینے کی مو?ثر حکمت عملی طے کرلی۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر عبور رکھنے والی کشمیریوں کی یہ نئی نسل اتنی متحرک ہوئی کہ بھارتی حکومت اور فوج کیلیے کشمیریوں پر توڑے جانیوالے مظالم کے حوالے سے اپنا دفاع کرنا مشکل ہوگیا۔ بھارتی فوج نے نوجوان نسل کے مستعد نمائندے برہان وانی کی انہیں بھگا بھگا کر تھکا دینے والی پالیسی سے زچ ہوکر اسے شہید کردیا تو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگیا اور انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے بھارتی فوجوں کے مظالم دنیا بھر کی آنکھوں کے سامنے پیش کردیئے‘ نتیجتاً عالمی قیادتوں اور تنظیموں کی اکثریت کشمیریوں کے حق خودارادیت پر قائل ہوگئی جبکہ بھارتی پیلٹ گنوں کی فائرنگ سے زخمی اور مستقل اپاہج ہونیوالے کشمیری نوجوانوں کے خون سے لکھی جانیوالی کشمیریوں کی تحریک آزادی کی تاریخ کے ذریعے بھارتی مکروہ چہرے دنیا بھر میں بے نقاب ہونے لگے۔
مودی سرکار کو کشمیر کو مستقل طور پر ہڑپ کرنے سے متعلق اپنے بھیانک عزائم کیلیے دنیا بھر میں سراپا احتجاج بنے نوجوان کشمیریوں سے ہی سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے چنانچہ وہ انکی آواز اور جدوجہد کو دبانے کیلیے بھی ہر حربہ آزمارہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ کنٹرول لائن پر آئے روز کی اشتعال انگیزی اور پاکستان کے سرحدی دیہات میں معصوم و بے گناہ شہریوں پر فائرنگ اور گولہ باری کرکے پاکستان کو جوابی کارروائی کیلیے مشتعل کرنے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے تاکہ کسی جوابی کارروائی کو جواز بنا کر پاکستان پر پہلے کی طرح جنگ مسلط کی جاسکے جس کیلیے بھارت کی سول اور عسکری قیادتوں کی جانب سے گیدڑ بھبکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مودی سرکار کو پاکستان میں موجود سیاسی عدم استحکام کے باعث اس ملک خداداد کی سلامتی کیخلاف سازشیں پروان چڑھانے کا زیادہ موقع مل رہا ہے چنانچہ وہ ان حالات کی بنیاد پر ہی پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی جلدی میں نظر آتی ہے۔ پاکستان بہرصورت امن و آشتی کا داعی ہے اور یواین قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا مذاکرات کی میز پر حل چاہتا ہے جبکہ مودی سرکار پاکستان کی مذاکرات کی ہر کوشش سبوتاڑ کررہی ہے مگر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور قابل قبول حل کے پاکستان کے بیانیے کو آج پوری دنیا میں پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی گزشتہ روز اسی تناظر میں جارح بھارت کو باور کرایا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلیے مذاکرات کی راہ پر آجائے۔ اگر بھارت مذاکرات کے بجائے اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ہے اور پاکستان کے ساتھ امن سے رہنے کی پالیسی مودی سرکار کی پالیسیوں میں شامل ہی نہیں ہے تو اس سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ بھارت پاکستان کی سلامتی اور علاقائی و عالمی امن کے درپے ہے۔ اگر مقبوضہ کشمیر میں اور کنٹرول لائن پر اسکی جنونیت برقرار رہی تو جہاں کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے کوئی بھی قدم اٹھانے میں حق بجانب ہونگے‘ وہیں پاکستان کو بھی اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کیلیے کوئی بھی لائن آف ایکشن وضع کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اگر بھارت اس ملک خداداد پر جارحیت مسلط کرنے پر تلا بیٹھا ہے تو پاکستان کے دفاعی اقدامات میں ایٹمی ٹیکنالوجی بروئے کار لانا اسکی ضرورت بن جائیگا جو پاکستان کا مضبوط دفاعی حصار ہے۔ اس سے پاکستان اور بھارت میں ایٹمی جنگ کی نوبت آئی تو اس کا جارحیت پر اترا ہوا بھارت ہی ذمہ دار ہوگا۔ ایٹمی جنگ کی صورت میں یہ کرہ? ارض کتنی تباہی سے دوچارہوگا اس کا یقیناً عالمی قیادتوں اور اداروں کو ادراک ہے۔ انہوں نے دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچانے کیلیے بھارت کے جنونی ہاتھ بہرصورت روکنے ہیں اور اس کیلیے ٹرمپ‘ مودی گٹھ جوڑ کو توڑنے کی حکمت عملی طے کرنی ہے کیونکہ مودی سرکار کی جنونیت اسی گٹھ جوڑ کے تابع ہے۔
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...