وجود

... loading ...

وجود

بھارت کی اشتعال انگیز کارروائیاں، پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کا منصوبہ!

منگل 20 فروری 2018 بھارت کی اشتعال انگیز کارروائیاں، پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کا منصوبہ!

پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے لائن آف کنٹرول پر شہریوں کو نشانہ بنانے والی بھارتی پوسٹ گزشتہ روز تباہ کردی۔ اس سلسلہ میں پاک فوج کے کنٹرول لائن پر تعینات دستے نے تتہ پانی سیکٹر پر بھارتی پوسٹ پر بمباری کرکے اسے تباہ کیا جبکہ اس میں پانچ بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی بھارتی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن پر ایک سکول وین کو فائرنگ کا نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئی۔ اس بھارتی فائرنگ کے نتیجہ میں سکول وین کا ڈرائیور شہید ہوگیا تھا۔ بھارتی فوج کی جانب سے نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے پر گزشتہ روز بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور بھارتی فوج کی طرف سے ایک سکول وین کو نشانہ بنانے کے واقعہ کی مذمت کی گئی اور اس پر سخت احتجاج کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیاء ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے انہیں احتجاجی مراسلہ تھمایا۔ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے بٹل سیکٹر پر جان بوجھ کر سکول کے بچوں کی ایک وین کو نشانہ بنایا۔ یہ وین بٹل مدھاپور روڈ پر جارہی تھی۔ فائرنگ سے وین میں موجود بچے سخت خوفزدہ ہوگئے۔ احتجاجی مراسلے میں پاکستان کی جانب سے نئی دہلی کو باور کرایا گیا ہے کہ باربار تحمل کی ضرورت پر زور دینے کے باوجود بھارت جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایل او سی پر سکول وین پر بھارتی فائرنگ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلااشتعال اور غیراخلاقی اقدامات سے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ بھارت معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر جنیوا کنونشن کی مسلسل خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے بھی بھارتی فوج کی جانب سے ا سکول وین پر فائرنگ کے واقعہ کی سخت مذمت کی ہے۔

ہندو انتہاء پسندوں کی ترجمان بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی سرکار درحقیقت پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کے ایجنڈے پر ہی عمل پیرا ہے۔ یہ بی جے پی کے اس انتخابی منشور کو عملی جامہ پہنانے کا ایجنڈا ہے جس کے تحت بھارت میں مسلم دشمنی کو پروان چڑھایا گیا اور نریندر مودی کی انتخابی مہم کے دوران ہی بھارت میں موجود پاکستانی باشندوں بشمول سیاست دانوں‘ دانشوروں‘ فنکاروں‘ کھلاڑیوں پر حملے اور انہیں ہراساں کرکے پاکستان واپس جانے پر مجبور کیا جاتا رہا جبکہ پاکستان اور بھارت کے مابین چلنے والی دوستی بس اور سمجھوتہ ایکسپریس کا بھی گھیرائو کیا جاتا رہا۔ اس طرح نریندر مودی کی انتخابی مہم میں اشتعال کا عنصر شامل کرکے پاکستان دشمنی کی آگ بھڑکائی جاتی رہی جبکہ نریندر مودی نے اقتدار میں آتے ہی پاکستان دشمنی پر مبنی پارٹی منشور کو اپنی حکومتی پالیسی کا حصہ بنالیا جس کے ماتحت ورکنگ بائونڈری اور کنٹرول لائن پر روزانہ کی بنیاد پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کرکے سرحدی کشیدگی بڑھائی جانے لگی اور پھر بھارت میں ہونیوالی دہشت گردی اور تخریب کاری پر پاکستان کو موردالزام ٹھہرانے کا لامتناہی سلسلہ شروع کردیا گیا۔ پاکستان بھارت کشیدگی بڑھانے کی سازش کے تحت ہی پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ اور دوسرے کھیلوں میں بھارتی کھلاڑیوں کو پاکستان بھجوانے کی سخت مخالفت کی گئی اور اپنے کھلاڑی پاکستان بھجوانے سے انکار کیا جاتا رہا۔ اسی سازش کے تحت گزشتہ سال شیڈول کے مطابق اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس سبوتاڑ کی گئی اور اپنے کٹھ پتلی اسکے رکن ممالک کو پاکستان جانے سے روک کر سارک کانفرنس کا انعقاد ناممکن بنادیا گیا۔ اسی طرح پاکستان اور بھارت کے مابین شیڈول کے مطابق ہونیوالے مذاکرات میں ہر سطح پر رخنہ ڈالا جاتا رہا اور پھر مودی سرکار پاکستان اور چین کے باہمی تعاون سے شروع ہونیوالے اقتصادی راہداری منصوبے کے پیچھے لٹھ لے کر چڑھ دوڑی جسے سبوتاڑ کرنے کیلیے بھارت نے بلوچستان میں ’’را‘‘ کے حاضر سروس جاسوس کلبھوشن یادیو کے ذریعے تخریب کاری کا نیٹ ورک پھیلایا جس کے ماتحت پورے ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا جبکہ یہی نیٹ ورک بھارتی ایماء￿ پر بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر کی بھی سرپرستی کرتارہا۔

ان تمام تر سازشوں کا اولین مقصد پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کا ہے جس پر بھارت آج بھی کاربند ہے جبکہ اب ٹرمپ کی قیادت میں امریکی سرپرستی حاصل ہونے پر بھارت کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں اور اسکی سیاسی اور عسکری قیادتیں پاکستان پر ہرزہ سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی نوجوان کشمیریوں کی حق خودارادیت کیلیے اٹھنے والی توانا آواز کو دبانے کی خاطر اس مقبوضہ وادی کو بھی جنونی کارروائیوں کیلیے اپنے ہدف پر رکھ لیا گیا چنانچہ مودی سرکار کے قیام سے اب تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب کشمیری عوام نے سکون و راحت کے ساتھ اپنا دن گزارا ہو۔

اس بھارتی مخاصمانہ رویے سے کشمیری عوام بالخصوص نئی نسل میں اپنے حق خوداختیاری کیلیے نیا جذبہ پیدا ہوا اور انہوں نے بھارتی فوجوں کے مظالم کا ترکی بہ ترکی جواب دینے کی مو?ثر حکمت عملی طے کرلی۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر عبور رکھنے والی کشمیریوں کی یہ نئی نسل اتنی متحرک ہوئی کہ بھارتی حکومت اور فوج کیلیے کشمیریوں پر توڑے جانیوالے مظالم کے حوالے سے اپنا دفاع کرنا مشکل ہوگیا۔ بھارتی فوج نے نوجوان نسل کے مستعد نمائندے برہان وانی کی انہیں بھگا بھگا کر تھکا دینے والی پالیسی سے زچ ہوکر اسے شہید کردیا تو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگیا اور انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے بھارتی فوجوں کے مظالم دنیا بھر کی آنکھوں کے سامنے پیش کردیئے‘ نتیجتاً عالمی قیادتوں اور تنظیموں کی اکثریت کشمیریوں کے حق خودارادیت پر قائل ہوگئی جبکہ بھارتی پیلٹ گنوں کی فائرنگ سے زخمی اور مستقل اپاہج ہونیوالے کشمیری نوجوانوں کے خون سے لکھی جانیوالی کشمیریوں کی تحریک آزادی کی تاریخ کے ذریعے بھارتی مکروہ چہرے دنیا بھر میں بے نقاب ہونے لگے۔

مودی سرکار کو کشمیر کو مستقل طور پر ہڑپ کرنے سے متعلق اپنے بھیانک عزائم کیلیے دنیا بھر میں سراپا احتجاج بنے نوجوان کشمیریوں سے ہی سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے چنانچہ وہ انکی آواز اور جدوجہد کو دبانے کیلیے بھی ہر حربہ آزمارہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ کنٹرول لائن پر آئے روز کی اشتعال انگیزی اور پاکستان کے سرحدی دیہات میں معصوم و بے گناہ شہریوں پر فائرنگ اور گولہ باری کرکے پاکستان کو جوابی کارروائی کیلیے مشتعل کرنے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے تاکہ کسی جوابی کارروائی کو جواز بنا کر پاکستان پر پہلے کی طرح جنگ مسلط کی جاسکے جس کیلیے بھارت کی سول اور عسکری قیادتوں کی جانب سے گیدڑ بھبکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مودی سرکار کو پاکستان میں موجود سیاسی عدم استحکام کے باعث اس ملک خداداد کی سلامتی کیخلاف سازشیں پروان چڑھانے کا زیادہ موقع مل رہا ہے چنانچہ وہ ان حالات کی بنیاد پر ہی پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی جلدی میں نظر آتی ہے۔ پاکستان بہرصورت امن و آشتی کا داعی ہے اور یواین قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا مذاکرات کی میز پر حل چاہتا ہے جبکہ مودی سرکار پاکستان کی مذاکرات کی ہر کوشش سبوتاڑ کررہی ہے مگر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور قابل قبول حل کے پاکستان کے بیانیے کو آج پوری دنیا میں پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی گزشتہ روز اسی تناظر میں جارح بھارت کو باور کرایا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلیے مذاکرات کی راہ پر آجائے۔ اگر بھارت مذاکرات کے بجائے اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ہے اور پاکستان کے ساتھ امن سے رہنے کی پالیسی مودی سرکار کی پالیسیوں میں شامل ہی نہیں ہے تو اس سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ بھارت پاکستان کی سلامتی اور علاقائی و عالمی امن کے درپے ہے۔ اگر مقبوضہ کشمیر میں اور کنٹرول لائن پر اسکی جنونیت برقرار رہی تو جہاں کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے کوئی بھی قدم اٹھانے میں حق بجانب ہونگے‘ وہیں پاکستان کو بھی اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کیلیے کوئی بھی لائن آف ایکشن وضع کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اگر بھارت اس ملک خداداد پر جارحیت مسلط کرنے پر تلا بیٹھا ہے تو پاکستان کے دفاعی اقدامات میں ایٹمی ٹیکنالوجی بروئے کار لانا اسکی ضرورت بن جائیگا جو پاکستان کا مضبوط دفاعی حصار ہے۔ اس سے پاکستان اور بھارت میں ایٹمی جنگ کی نوبت آئی تو اس کا جارحیت پر اترا ہوا بھارت ہی ذمہ دار ہوگا۔ ایٹمی جنگ کی صورت میں یہ کرہ? ارض کتنی تباہی سے دوچارہوگا اس کا یقیناً عالمی قیادتوں اور اداروں کو ادراک ہے۔ انہوں نے دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچانے کیلیے بھارت کے جنونی ہاتھ بہرصورت روکنے ہیں اور اس کیلیے ٹرمپ‘ مودی گٹھ جوڑ کو توڑنے کی حکمت عملی طے کرنی ہے کیونکہ مودی سرکار کی جنونیت اسی گٹھ جوڑ کے تابع ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی وجود - بدھ 04 مارچ 2026

واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

مضامین
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد وجود بدھ 04 مارچ 2026
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید وجود بدھ 04 مارچ 2026
بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید

امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو! وجود منگل 03 مارچ 2026
امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو!

مودی سرکار کی اسرائیل نوازی وجود منگل 03 مارچ 2026
مودی سرکار کی اسرائیل نوازی

ہمارے بچے مت مارو !! وجود پیر 02 مارچ 2026
ہمارے بچے مت مارو !!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر