وجود

... loading ...

وجود

دلچسپ مقامات، دلچسپ معلومات

اتوار 18 فروری 2018 دلچسپ مقامات، دلچسپ معلومات

ایفل ٹاور1889ء کو پیرس کی ایک نمائش کے لیے تیار کیا گیا تھا اس وقت ایفل ٹاور کو مستقل طور پر تیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔1909ء میں ایفل ٹاور کو مسمار کر دیا جانا تھا لیکن پھر اس کو ایک بہت بڑے ریڈیو اینٹینا کے طور پر استعمال کرنے پر غور کیا گیا اور اس کو مسمار کرنے کا حکم خارج کر دیا گیا۔2011ء میں ایفل ٹاور پیسے دے کر دیکھے جانے والی دنیا کی مقبول ترین جگہ تھی اس سال تقریباً 6.98ملین لوگوں نے ایفل ٹاور کی سیر کی۔دوسری عالمی جنگ کے دوران جب ہٹلر پیرس پہنچا تو فرانسیسی لوگوں نے ایفل ٹاور کی لفٹ کی تاریں کاٹ دیں تاکہ اگر ہٹلر اوپر جانا چاہے تو اسے سیڑھیاں چڑھ کر جانا پڑے۔وکٹر لسٹنگ نامی ایک جعلساز نے ایفل ٹاور کو ایک ا سکریپ ڈیلر کو بیچ دیا تھا۔ابتدائی طور پر ایفل ٹاور کو بارسیلونا ، اسپین کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن وہاں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس لیے اس کی تعمیر کا آ غاز پیرس میں کر دیا گیا۔درجہ حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے ایفل ٹاور کی لمبائی 15سینٹی میٹر تک کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔فرانز نامی ایک شخص نے اپنا خود کا ڈیزائن کیا ہو ا پیراشوٹ ٹیسٹ کرنے کے لیے ایفل ٹاور سے چھلانگ لگا دی ،ٹیسٹ کامیاب نہیں ہوا اور اتنی اونچائی سے گرنے کے باعث وہ جان کی بازی ہار گیا۔
اگر آپ ایفل ٹاور کے ٹاپ فلور تک جانا چاہتے ہیں تو آپ کو 1,665 سیڑھیا ں چڑھنا ہوں گی۔ایفل ٹاور کو روشن کرنے کے لیے 20ہزار کے قریب بلب لگائے گئے ہیں۔دنیا میں ایفل ٹاور کی تقریباً 30نقول موجود ہیں۔ایفل ٹاور پر کیے جانے والے پینٹ کا وزن کیا جا ئے تو یہ تقریباً 10ہاتھیوں کے وزن کے برابر بنتا ہے۔1891ء کو لندن میں ایفل ٹاور سے زیادہ بلند قامت کا ٹاور بنانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکا اور 1907ء میں اس کو مسما ر کر دیا گیا۔ ایفل ٹاور کے ڈیزائنر گسٹیو ایفل نے امریکا میں موجود مجسمہ آزادی (Statue of Liberty)کے ڈیزائن میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔جب ایفل ٹاور تعمیر کیا گیا اس وقت یہ دنیا کی سب سے اونچی عمارت تھی۔ایفل ٹاور کی تعمیرمیں 3سو مزدوروں نے حصہ لیا جبکہ اس کو تعمیر کرنے میں 18ہزار32 لوہے کے ٹکڑے اور 2.5ملین میخیں استعمال ہوئیں۔اگر ایفل ٹاور آج تعمیر کیا جا ئے تو اس کی لاگت 32ملین ڈالر ہو گی۔بجلی کی بچت کرنے کے لیے ایفل ٹاور کی لائیٹس رات ایک بجے بند کر دی جاتی ہیں۔ایفل ٹاور کا افتتاح اسی سال کیا گیا جس سال ہٹلر کی پیدائش ہوئی۔
مجسمہ آزادی
مجسمہ آزادی (Statue of Liberty ) کو مصر کے لیے بنا یا گیا تھا۔ہر سال 3.2ملین لوگ مجسمہ آزادی کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔مجسمہ آزادی کا پورا نام (Liberty Enlightening the World )ہے۔مجسمہ آزادی کے تاج پر موجود سات نوکیلے ا سپائیکس سات براعظموں اور سات سمندروں کی ترجمانی کر تے ہیں۔1878ء کو پیرس میں ہونے والے عالمی میلے میں مجسمہ آزادی کا سر رکھا گیا تھا۔1984ء کو مجسمہ آزادی کی اصل مشعل کو کاپر کی مشعل سے تبدیل کر دیا گیا تھا جس پر 24قیرات سونے کا لیپ کیا گیا ہے۔امریکامیں ایک ایسا خاندان موجود ہے جو لیبرٹی آئی لینڈ پر رہتا ہے جہاں مجسمہ آزادی نصب ہے۔ایک اندازے کے مطابق آسمانی بجلی مجسمہ آزادی سے ہر سال تقریباً 6سو مرتبہ ٹکراتی ہے۔پاکستان ، ملائشیا ، تائی وان،برازیل اور چائینہ میں مجسمہ آزادی کی نقول موجود ہیں۔
مجسمہ آزادی کو تعمیر کرنے کے لیے 5لاکھ امریکی ڈالر خرچ ہوئے تھے جو کہ موجودہ دور میں 10ملین ڈالر کے برابر ہیں۔اگر مجسمہ آزاد ی کو موجودہ دور میں تعمیر کیا جائے تو اس کی لاگت 1.2ملین ڈالر ہو گی۔
مائونٹ ایورسٹ
آج تک 5ہزار سے زیادہ افراد مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کر چکے ہیںجن میں 13سالہ بچہ،ایک نابینا اور 73سالہ شخص شامل ہے۔مائونٹ ایورسٹ سر کرنے میں تقریباً 65ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ہر سال مائونٹ ایورسٹ کی اونچائی میں تقریباً 4ملی میٹر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔مائونٹ ایورسٹ کے راستے میں آپ کو تیز رفتار انٹر نیٹ ملے گا۔2005ء میں ایک نیپالی جوڑے نے مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی پر شادی کی تھی۔گوگل میپ پر آپ کو مائونٹ ایوریسٹ کے بیس کیمپ کا 360ڈگری کا ویو بھی ملے گا۔ایک خاتو ن جس کو چلتی ٹرین سے دھکا دے کر گر ادیا گیا تھا اور اس حادثے میں اس نے اپنی ایک ٹانگ کھو دی اسی خاتون نے 2013ء میں مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کی۔1974ء کے بعد 2015ء واحد سال تھا جب کسی نے بھی مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی سر نہیں کی۔
اٹلانٹک کامنجمدسمندر
ایک اندازے کے مطابق ایک سمندر کی گہرائی اوسطاً 2.5میل یعنی 4کلو میٹر ہوتی ہے۔ہر سال سمندر میں 6بلین کلو گرام کچرا پھینکا جاتا ہے جس میں زیادہ حصہ پلاسٹک ہوتا ہے۔اگر ہم سمندر کی لہروں سے پیدا ہونے والی کائنیٹک انرجی کا صرف 0.1فیصد حصہ بھی حاصل کر پائیں تو موجودہ دنیا کی توانائی کی ضروریات کو پانچ مر تبہ پورا کیا جاسکتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر کے سمندروں میں تقریباً 20ملین ٹن سونا موجود ہے۔موسم سرما کے دوران نیوفائونڈ لینڈ کینیڈا میں موجود اٹلانٹک کا کچھ حصہ برف سے جم جاتا ہے اور وہاں کے مقامی لوگ اس پر آئس ہاکی کھیلتے ہیں۔70فیصد آکسیجن جس سے ہم سانس لیتے ہیں سمندروں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔دنیا کا 71فیصد حصہ مختلف سمندروں پر مشتمل ہے۔سمندر کی نیچے کی 95فیصد دنیا اب تک دریافت نہیں کی جاسکی یا یوں کہہ لیجئے کہ اب تک اس دنیا کے متعلق کو ئی کچھ نہیں جانتا۔امریکہ اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ اس نے 1944ء سے 1970ء تک خفیہ طور پر سمند ر میں64ملین پائونڈ نرو اور مسٹرڈ گیس پھینکی اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ 4لاکھ کیمیکل بم اور 5سو ٹن تابکاری مادہ بھی پھینک چکا ہے۔ہر سال سمند ر میں 10ہزار کنٹینرز ڈوب جاتے ہیں جن میں سے 10فیصدمیں کیمیکلز موجود ہوتے ہیں۔
میلوں پھیلاطویل صحر’’صحارا‘‘
دنیا کا ایک تہائی صحرا پر مشتمل ہے۔ 1979ء کو صحارا میں برف باری بھی ہو چکی ہے۔چلی کے ایٹاکاما صحرا میں کبھی بارش ریکارڈ نہیں کی گئی اس لیے اس کو دنیا کا سب سے زیادہ خشک حصہ قرار دیا جاتا ہے ۔ صحارا کا ا سٹریٹ ویو لینے کے لیے ایک اونٹ کرائے پر لیا تاکہ اس کا ویو گوگل میپ میں شامل کیاجاسکے۔


متعلقہ خبریں


فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل وجود - بدھ 04 فروری 2026

صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک وجود - بدھ 04 فروری 2026

خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 03 فروری 2026

ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...

وزیراعظماور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات، امن کیلئے تعاون پر تیار

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی وجود - منگل 03 فروری 2026

دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...

وزیراعظم سے ہماری کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ،سہیل آفریدی

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب وجود - منگل 03 فروری 2026

14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...

تاجرکواغوا کروانے کا الزام ، پیر محمد شاہ جواب دینے میں ناکامی پربے نقاب

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار وجود - منگل 03 فروری 2026

عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...

عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم وجود - منگل 03 فروری 2026

آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...

سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں،وزیر اعظم

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید وجود - پیر 02 فروری 2026

بچے اور خواتین شامل،رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں ، پولیس اسٹیشن نشانہ بن گیا خواتین پولیس اہلکار بھی شامل،اسرائیل اور حماس میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ،ذرائع اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین ک...

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

مضامین
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ وجود بدھ 04 فروری 2026
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

ناقابل شکست وجود بدھ 04 فروری 2026
ناقابل شکست

خون اور رنگ وجود منگل 03 فروری 2026
خون اور رنگ

سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل وجود منگل 03 فروری 2026
سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل

گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر