وجود

... loading ...

وجود

دلچسپ مقامات، دلچسپ معلومات

اتوار 18 فروری 2018 دلچسپ مقامات، دلچسپ معلومات

ایفل ٹاور1889ء کو پیرس کی ایک نمائش کے لیے تیار کیا گیا تھا اس وقت ایفل ٹاور کو مستقل طور پر تیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔1909ء میں ایفل ٹاور کو مسمار کر دیا جانا تھا لیکن پھر اس کو ایک بہت بڑے ریڈیو اینٹینا کے طور پر استعمال کرنے پر غور کیا گیا اور اس کو مسمار کرنے کا حکم خارج کر دیا گیا۔2011ء میں ایفل ٹاور پیسے دے کر دیکھے جانے والی دنیا کی مقبول ترین جگہ تھی اس سال تقریباً 6.98ملین لوگوں نے ایفل ٹاور کی سیر کی۔دوسری عالمی جنگ کے دوران جب ہٹلر پیرس پہنچا تو فرانسیسی لوگوں نے ایفل ٹاور کی لفٹ کی تاریں کاٹ دیں تاکہ اگر ہٹلر اوپر جانا چاہے تو اسے سیڑھیاں چڑھ کر جانا پڑے۔وکٹر لسٹنگ نامی ایک جعلساز نے ایفل ٹاور کو ایک ا سکریپ ڈیلر کو بیچ دیا تھا۔ابتدائی طور پر ایفل ٹاور کو بارسیلونا ، اسپین کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن وہاں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس لیے اس کی تعمیر کا آ غاز پیرس میں کر دیا گیا۔درجہ حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے ایفل ٹاور کی لمبائی 15سینٹی میٹر تک کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔فرانز نامی ایک شخص نے اپنا خود کا ڈیزائن کیا ہو ا پیراشوٹ ٹیسٹ کرنے کے لیے ایفل ٹاور سے چھلانگ لگا دی ،ٹیسٹ کامیاب نہیں ہوا اور اتنی اونچائی سے گرنے کے باعث وہ جان کی بازی ہار گیا۔
اگر آپ ایفل ٹاور کے ٹاپ فلور تک جانا چاہتے ہیں تو آپ کو 1,665 سیڑھیا ں چڑھنا ہوں گی۔ایفل ٹاور کو روشن کرنے کے لیے 20ہزار کے قریب بلب لگائے گئے ہیں۔دنیا میں ایفل ٹاور کی تقریباً 30نقول موجود ہیں۔ایفل ٹاور پر کیے جانے والے پینٹ کا وزن کیا جا ئے تو یہ تقریباً 10ہاتھیوں کے وزن کے برابر بنتا ہے۔1891ء کو لندن میں ایفل ٹاور سے زیادہ بلند قامت کا ٹاور بنانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکا اور 1907ء میں اس کو مسما ر کر دیا گیا۔ ایفل ٹاور کے ڈیزائنر گسٹیو ایفل نے امریکا میں موجود مجسمہ آزادی (Statue of Liberty)کے ڈیزائن میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔جب ایفل ٹاور تعمیر کیا گیا اس وقت یہ دنیا کی سب سے اونچی عمارت تھی۔ایفل ٹاور کی تعمیرمیں 3سو مزدوروں نے حصہ لیا جبکہ اس کو تعمیر کرنے میں 18ہزار32 لوہے کے ٹکڑے اور 2.5ملین میخیں استعمال ہوئیں۔اگر ایفل ٹاور آج تعمیر کیا جا ئے تو اس کی لاگت 32ملین ڈالر ہو گی۔بجلی کی بچت کرنے کے لیے ایفل ٹاور کی لائیٹس رات ایک بجے بند کر دی جاتی ہیں۔ایفل ٹاور کا افتتاح اسی سال کیا گیا جس سال ہٹلر کی پیدائش ہوئی۔
مجسمہ آزادی
مجسمہ آزادی (Statue of Liberty ) کو مصر کے لیے بنا یا گیا تھا۔ہر سال 3.2ملین لوگ مجسمہ آزادی کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔مجسمہ آزادی کا پورا نام (Liberty Enlightening the World )ہے۔مجسمہ آزادی کے تاج پر موجود سات نوکیلے ا سپائیکس سات براعظموں اور سات سمندروں کی ترجمانی کر تے ہیں۔1878ء کو پیرس میں ہونے والے عالمی میلے میں مجسمہ آزادی کا سر رکھا گیا تھا۔1984ء کو مجسمہ آزادی کی اصل مشعل کو کاپر کی مشعل سے تبدیل کر دیا گیا تھا جس پر 24قیرات سونے کا لیپ کیا گیا ہے۔امریکامیں ایک ایسا خاندان موجود ہے جو لیبرٹی آئی لینڈ پر رہتا ہے جہاں مجسمہ آزادی نصب ہے۔ایک اندازے کے مطابق آسمانی بجلی مجسمہ آزادی سے ہر سال تقریباً 6سو مرتبہ ٹکراتی ہے۔پاکستان ، ملائشیا ، تائی وان،برازیل اور چائینہ میں مجسمہ آزادی کی نقول موجود ہیں۔
مجسمہ آزادی کو تعمیر کرنے کے لیے 5لاکھ امریکی ڈالر خرچ ہوئے تھے جو کہ موجودہ دور میں 10ملین ڈالر کے برابر ہیں۔اگر مجسمہ آزاد ی کو موجودہ دور میں تعمیر کیا جائے تو اس کی لاگت 1.2ملین ڈالر ہو گی۔
مائونٹ ایورسٹ
آج تک 5ہزار سے زیادہ افراد مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کر چکے ہیںجن میں 13سالہ بچہ،ایک نابینا اور 73سالہ شخص شامل ہے۔مائونٹ ایورسٹ سر کرنے میں تقریباً 65ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ہر سال مائونٹ ایورسٹ کی اونچائی میں تقریباً 4ملی میٹر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔مائونٹ ایورسٹ کے راستے میں آپ کو تیز رفتار انٹر نیٹ ملے گا۔2005ء میں ایک نیپالی جوڑے نے مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی پر شادی کی تھی۔گوگل میپ پر آپ کو مائونٹ ایوریسٹ کے بیس کیمپ کا 360ڈگری کا ویو بھی ملے گا۔ایک خاتو ن جس کو چلتی ٹرین سے دھکا دے کر گر ادیا گیا تھا اور اس حادثے میں اس نے اپنی ایک ٹانگ کھو دی اسی خاتون نے 2013ء میں مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کی۔1974ء کے بعد 2015ء واحد سال تھا جب کسی نے بھی مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی سر نہیں کی۔
اٹلانٹک کامنجمدسمندر
ایک اندازے کے مطابق ایک سمندر کی گہرائی اوسطاً 2.5میل یعنی 4کلو میٹر ہوتی ہے۔ہر سال سمندر میں 6بلین کلو گرام کچرا پھینکا جاتا ہے جس میں زیادہ حصہ پلاسٹک ہوتا ہے۔اگر ہم سمندر کی لہروں سے پیدا ہونے والی کائنیٹک انرجی کا صرف 0.1فیصد حصہ بھی حاصل کر پائیں تو موجودہ دنیا کی توانائی کی ضروریات کو پانچ مر تبہ پورا کیا جاسکتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر کے سمندروں میں تقریباً 20ملین ٹن سونا موجود ہے۔موسم سرما کے دوران نیوفائونڈ لینڈ کینیڈا میں موجود اٹلانٹک کا کچھ حصہ برف سے جم جاتا ہے اور وہاں کے مقامی لوگ اس پر آئس ہاکی کھیلتے ہیں۔70فیصد آکسیجن جس سے ہم سانس لیتے ہیں سمندروں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔دنیا کا 71فیصد حصہ مختلف سمندروں پر مشتمل ہے۔سمندر کی نیچے کی 95فیصد دنیا اب تک دریافت نہیں کی جاسکی یا یوں کہہ لیجئے کہ اب تک اس دنیا کے متعلق کو ئی کچھ نہیں جانتا۔امریکہ اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ اس نے 1944ء سے 1970ء تک خفیہ طور پر سمند ر میں64ملین پائونڈ نرو اور مسٹرڈ گیس پھینکی اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ 4لاکھ کیمیکل بم اور 5سو ٹن تابکاری مادہ بھی پھینک چکا ہے۔ہر سال سمند ر میں 10ہزار کنٹینرز ڈوب جاتے ہیں جن میں سے 10فیصدمیں کیمیکلز موجود ہوتے ہیں۔
میلوں پھیلاطویل صحر’’صحارا‘‘
دنیا کا ایک تہائی صحرا پر مشتمل ہے۔ 1979ء کو صحارا میں برف باری بھی ہو چکی ہے۔چلی کے ایٹاکاما صحرا میں کبھی بارش ریکارڈ نہیں کی گئی اس لیے اس کو دنیا کا سب سے زیادہ خشک حصہ قرار دیا جاتا ہے ۔ صحارا کا ا سٹریٹ ویو لینے کے لیے ایک اونٹ کرائے پر لیا تاکہ اس کا ویو گوگل میپ میں شامل کیاجاسکے۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر