وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ… سبیلہ ؔ انعام صدیقی

اتوار 21 جنوری 2018 نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ… سبیلہ  ؔ انعام صدیقی

جب ہم نئی نسل کی شاعری کی بات کرتے ہیں تو اس سے مرادیہ نہیں ہوتا کہ نئی نسل کی شاعری کرنے والے شاعر بھی نئی نسل سے ہوں،بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ نئی نسل کا شاعر نئی نسل کے جذبات کی نمائندگی کرتاہو،نئی نسل کے مسائل کا ترجمان ہو،اب یہ نمائندگی اور ترجمانی کوئی بزرگ شاعر بھی کرسکتاہے اور ادھیڑ عمربھی اور نوجوان بھی۔اگر کوئی شاعر نئی نسل سے تعلق رکھتاہے اور وہ اپنے ہم عمروں اور ہم عصروں کے مسائل کی ترجمانی بھی کر رہاہے اور اُن کی نمائندگی بھی تو اس سے بہتر اور کیا بات ہوسکتی ہے۔

یہاں مثال پیش کی جا سکتی ہے ، تازہ کار اور نوآموز شاعرہ سبیلہ انعام صدیقی کا تعلق نہ صرف نئی نسل سے ہے بلکہ وہ نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ بھی ہیں۔اُن کی شاعری میں نئی نسل کے جذبات کی نمائندگی بھی موجودہے اور اُن کے مسائل کی ترجمانی بھی پائی جاتی ہے۔سبیلہ انعام صدیقی کے غزلیہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
رکھّے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہی
ملتی ہے اُس کو راہ سے منزل کی آگہی
خنجر کا اعتبار نہیں، وہ تو صاف ہے
لیکن ملے گی خون سے قاتل کی آگہی

سبیلہ انعام صدیقی نے بیچلرز ان ’’کامرس ‘‘کے بعدماسٹرز(اکنا مکس) کراچی یونیورسٹی سے کیا ہے اورابھی وہ مزید تعلیم حاصل کر نے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ اُن کی شخصیت اور نکھر کر سامنے آئے۔کہتے ہیں علم انسان کو انسان بنا دیتا ہے ،سبیلہ انعام صدیقی کا بھی خیال یہی ہے، اس لیے وہ علم حاصل کرتی جا رہی ہیں اور اپنی تعلیم میں اضافے کی خواہش مند ہیں۔وہ 22؍فروری کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد کا تعلق ‘‘ مظفر نگر‘یو۔پی ‘‘ بھارت سے ہے۔ سبیلہ انعام صدیقی کے مشاغل میں عمومی طورپر مطالعہ، ڈریس ڈیز ائننگ اور موسیقی شامل ہے جب کہ شاعری کو اُنھوں نے اپنی رگ و پے میں اُتارلیا ہے۔ سبیلہ انعام صدیقی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معمارانِ قوم کے اذہان و قلوب کو علم کی روشنی سے دن رات منور کر رہی ہیں۔اُن کو قدرت نے شاعری کے ایسے انعام سے نوازاہے کہ وہ کم عمری ہی سے شعر و ادب میں غیرمعمولی دل چسپی لینے لگی تھیںاورجوان ہوکر شاعری کے ہنر میں خو د کو نما یاں کرلیا ہے۔
انھوں نے شاعری میں نئی نسل کے اُس لہجے کو پیش کیا ہے جو اُن کی پہچان بنے گا۔ وہ اپنے ذوقِ سخن کو جا نچنے میں مگن ہیں۔یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
بھیگا ہُوا ہے آنچل ، آنکھوں میں بھی نمی ہے
پھیلا ہُوا ہے کاجل آنکھوں میں بھی نمی ہے
اک دن سخن کی ملکہ بن جائوں گی سبیلہؔ
پھر آج کیوں ہوں بے کَل،آنکھوں میں بھی نمی ہے

سبیلہ انعام صدیقی مشاعروں میں بھی شرکت کرتی ہیں اور ریڈیو اور ٹی وی پروگراموں میں بھی اُن کو سنا اور دیکھا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ عالمی مشاعرے میں بھی شریک ہو چکی ہیں۔یہ اُن کی عمدہ شاعری کی بنا پر ممکن ہوسکا ہے، ورنہ بے شمار شاعراور شاعرات یہ حسرت دل ہی میں لیے رہتے ہیں کہ اُن کو عالمی مشاعرے میں شریک کیا جائے ،بہت کم شعرا کو یہ موقع نصیب ہوتاہے۔شاعرہ موصوفہ کی شعری عمر کم ہے مگر وہ دنیائے شعروادب میں بہت سے کارنامے سرانجام دے چکی ہیں۔وہ غزل کے ساتھ ساتھ نظم بھی اچھی کہہ رہی ہیں۔آئیے اُن کی نظم ’’ یہ آنکھ منتظر ہے کسی انقلاب کی‘‘ ملاحظہ کرتے ہیں:

شعلے بھڑک رہے ہیں/عِناد و فساد کے/ اس دور ِ آگہی میں تو/جینا عذاب ہے/مکر و فریب کا یہاں ہے/جال سا بچھا/سچ کا یہاں تو رہنا ہی/مطلق حرام ہے/تازہ ہوا بھی کیسے ملے؟/نسلِ نو کو جب/آ ب و ہوا میں پھیلی بُو/آلودگی سی ہو/منظر یہ سارے دیکھ کے/آنکھیں برس پڑیں/ ہے جان کی اماں نہ ہی/محفوظ مال و زر/یارب دعا ہے رات کی/ کالی گھٹا ہٹے/ ہوجائیں بارشیں یہاں/انوار ِ سحر کی/صورت نظر میں آئے/کسی چارہ گر کی اب/یہ آنکھ منتظر ہے کسی انقلاب کی/…

بطور نئی نسل کی شاعرہ، عمدہ کا رکر دگی پرسبیلہ انعام صدیقی ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف شعرائے کرام کے منتخب کلا م پر مبنی کتا ب ’’دی ٹیلنٹ انٹر نیشنل ۲۰۱۵ء ‘‘ میں بھی اُن کے کلام کو شامل کیا گیا۔ شہدائے پشاور کی یاد میں ایک کتا ب ’’رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘ میں بھی اُن کے کلا م کو منتخب کیا گیاہے اور اس وقت ادب کے مستند اور قابل لحاظ ویب سائیٹ ‘‘ریختہ‘‘میں بھی ان کی بہت سی غزلوں اور نظموں کو شامل کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ’’لوح ، ارژنگ،سنگت ،تخلیق ، چہارسو، ادب وفن، دنیائے ادب اور دیگر مؤقرادبی جرائدورسائل اور اخبارات میںاکــثر اُن کی تخلیقاتِ شعری شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اُنھوں نے غزل اورنظم کے ساتھ ساتھ جاپانی صنفِ سخن ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی ہے جو کہ خوش آئند ہے ۔چند اُردو ہائیکو پیشِ خدمت ہیں:
۱۔ساجن سے کہنا/اُس کے ہاتھوں پہنوں گی/پھولوں کا گہنا/…
۲۔ایسا ہو انداز/جس کو دیکھ کے بول پڑے/دل کا ہر اک ساز/…
۳۔بارش کا موسم/اکثر کہتا رہتا ہے/ہلکا کر لو غم/…
۴۔رب کی ایسی شان/ اک خلیے کو بخشی ہے/اُس نے کتنی جان/…
۵۔اُن کا ہو احسان/محشر میں گر وہ رکھ لیں/مجھ عاصی کا مان/…

سبیلہ انعام صدیقی نے اپنے تخلیقی سفر میں زندگی کے تقاضوں کو سمجھنے کی بھر پور کوشش کی ہے اور اپنے عہد کی حسیت کو بھی نما یاں کیا ہے ۔ پیا ر و محبت سے لے کر ظلم و تشد د اور دہشت گردی سے لے کرذات کے خول میں بند ہو کر زند گی گزارنے والے بے حس لو گوں کی کیفیات کو اپنے جنبشِ قلم سے مجتمع کر دیا ہے۔سبیلہ انعام صدیقی نے جہاں مجازی محبت کی لطا فتوں کو اُجا گر کیا ہے وہیں عشقِ حقیقی کی خوشبو سے اپنے کلام کومعطّر بھی کیا ہے۔اُن کے کلام میں عشقِ حقیقی کے نمونے ملاحظہ ہوں:
حمدیہ
یارب ہر ایک نعمت و راحت کا شکریہ
کرتی ہوں پیش لطف و عنایت کا شکریہ
نعتیہ
نبی کی ذات اور آل نبیـ کو
زمانے بھر کا رہبر سوچتی ہوں

غیر منقوط شاعری سے مراد ایسی نظم جس کو بغیر نقطوں کے منظوم کیا گیا ہو،غیرمنقوط شاعری میں الفاظ کی فیکٹری موجود ہو، اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق بدل بدل کر لفظ استعمال کرنا جانتاہو،غیر منقوط شاعری کے نمونے جن شعرا کے سامنے آئے ہیں اُن کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔غیر منقو ط غزل بھی سبیلہ انعام صدیقی کے شعری سرما ئے میں نظر آتی ہے جس سے اس بات کا اندازہ بہ خوبی لگایاجاسکتا ہے کہ اُن کا مزاج مختلف فنی تجر بے کرنے کا جوہر بھی رکھتا ہے اور وہ الفاظ کا ذخیرہ بھی اپنے ذہن میں محفوظ رکھتی ہیں۔آئیے اُن کی ایک غیر منقوط غزل کے دو اشعارملاحظہ کرتے ہیں اور اُن کے فن کی داد دیتے ہیں:
ہے راس دل کو اُداس موسم
کہ دکھ کو دل ہی سہا کرے گا
کسک اُٹھے گی ہمارے دل سے
کسی سے گر وہ ملا کرے گا

پروینؔ شاکر کی طرح ہر شاعرہ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ نسوانی لہجے میں بات کرے اور کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کرے مگر اکثر شاعرات اس رویے سے پہلو بچاکر گزرجاتی ہیں اور کچھ شاعرات اس کا برملا اظہار کر دیتی ہیں مگر کچھ شاعرات کا اظہار بے معنی ہو تاہے جو اپنی وقعت کھو دیتاہے مگر چند شاعرات کا اظہار اتنا توانا ہوتاہے کہ قاری کی ساری توجہ اپنی جانب مبذول کرالیتاہے اور قاری اُس کے کلام کی اتھاہ گہرائیوں میں اُترتا چلا جاتاہے، یہ اُس کلام کی خوبی ہوتی ہے کہ یا تو سنتے ہی دل میں اُتر جائے یا قاری کو اپنے معانی و مفاہیم کی گہرائی میں اُتارے،سبیلہ انعام صدیقی کے یہ اشعار اِسی صفت سے متصف ہے… ملاحظہ ہو:
جہاں میں جس کی شہرت کُو بہ کُو ہے
وہ مجھ سے آج محو ِ گفتگو ہے
رہا آباد خوابوں میں جو اب تک
خو شا قسمت ! کہ اب وہ روبرو ہے

سبیلہ انعام صدیقی ابھی جوان ہیں اور ان کے حوصلے بلندہیں،ان کے کلام میں بھر پور توانائی موجودہے اسی لیے مجھے ان سے بہت سی اُمیدیں وابستہ ہوگئی ہیں،مجھے اُمید ہے کہ اگر یہ اسی طرح مطالعے کی شوقین رہیں اور مشقِ سخن جاری رکھی تو وہ ایک کہنہ مشق شاعرہ کے روپ میں ہمارے سامنے ہوں گی۔
٭ ٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


طالبان نے افغان حکومت کا تجویز کردہ مذاکراتی وفد مسترد کر دیا وجود - اتوار 29 مارچ 2020

طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے 21 رکنی وفد کو امن معاہدے سے متضاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔افغان حکومت نے طالبان سے بات چیت کے لیے اکیس رکنی وفد کا اعلان کیا تھا جس پر طالبان کے ترجمان نے بیان جاری کیا کہ افغان حکومتی وفد میں تمام فریقوں کی نمائندگی نہیں ہے اس لیے مخصوص گروہ کی نمائندگی کرنے والے سے مذاکرات طالبان امریکہ امن ڈیل کی خلاف ورزی ہے ۔واضح رہے کہ امریکہ اور طالبان کے مابین گذشتہ ماہ امن معاہدہ ہوا تھا جو طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے ایک دوسرے پر حملوں ...

طالبان نے افغان حکومت کا تجویز کردہ مذاکراتی وفد مسترد کر دیا

ایرانی انٹیلی جنس اہلکار ترکی میں ہم وطن اپوزیشن رہ نما کے قتل میں ملوث وجود - اتوار 29 مارچ 2020

ترکی کے دوسینئرعہدیداروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ برس نومبر میں استنبول میں قائم ایرانی قونصل خانے میں موجود انٹیلی جنس اہلکاروں نے ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت پر نکتہ چینی کرنے والے ایک نوجوان رہ نما کے قتل کی ترغیب دی تھی۔خیال رہے کہ ایرانی اپوزیشن رہ نما مسعود مولوی وردنجانی کو 14 نومبر 2019 کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ مسعود اپنے قتل سے ایک سال قبل ایران چھوڑ کر ترکی آگئے تھے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترک عہدیداروں نے کہاکہ پولیس کی طرف سے ورد نجانی کے قتل ...

ایرانی انٹیلی جنس اہلکار ترکی میں ہم وطن اپوزیشن رہ نما کے قتل میں ملوث

مصری حکومت نے ساحلی مقامات بند کردیے وجود - اتوار 29 مارچ 2020

مصری حکام نے کورونا وائرس کے پھیلائوسے بچائوکے لیے ساحلوں کو سیل کرکے وہاں تفریح کیلئے آنے والوں کو روکنے کے احکامات جاری کر دیئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے مقرر کی جانے والی کورونا سے بچائو کی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ عوامی مقامات پر آنے والوں پر پابندی عائد کی جائے تاکہ کورونا سے زیادہ سے زیادہ حد تک بچاجاسکے ۔کمیٹی کی سفارش پر مصری حکام نے ساحلوں کو بند کرکے وہاں تفریح کے لیے آنے والوں پر پابندی عائد کردی ۔

مصری حکومت نے ساحلی مقامات بند کردیے

کورونا وائرس، اسپین کو پیرسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 29 مارچ 2020

کورونا وائرس کے پھیلا کو روکنے کے لیے اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچز نے (آج)پیر سے پورا ملک بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔غیر ملکی خبر رساں ا دارے کے مطابق بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے کیسز کے بعد اسپین کے وزیر اعطم پیدرو سانچز نے پیر سے پورا ملک مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اشیائے ضروریہ کے علاوہ ہر قسم کی خرید و فروخت بند رہے گی اور کسی بھی شخص کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی۔اسپین کے وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس...

کورونا وائرس، اسپین کو پیرسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

امریکا کی مختلف ریاستوں میں شدید طوفان کی وارننگ جاری وجود - اتوار 29 مارچ 2020

امریکی محکمہ موسمیات نے متعدد ریاستوں میں شدید طوفان کی وارننگ جاری کردی ۔محکمہ موسمیات کے مطابق کچھ علاقے اب بھی شدید موسمی مشکلات جھیل رہے ہیں۔ دوسری جانب جونز بورو میں ہوا کے بگولے سے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا، جب کہ اس دوران مختلف حادثات میں 6 افراد زخمی بھی ہوئے ۔عینی شاہدین کے مطابق ہوا کے بگولے اتنی شدید نوعیت کے تھے کہ اس سے شاپنگ مال بھی تباہ ہوگیا۔ لوگوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر بگولے کے بعد تباہی کے مناظر کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں۔امریکی میٹ آفس ک...

امریکا کی مختلف ریاستوں میں شدید طوفان کی وارننگ جاری

امریکا، بیروزگاری الائونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ وجود - هفته 28 مارچ 2020

کورونا وائرس کے امریکی معیشت پر اثرات واضح ہونے شروع ہوگئے ، بیروزگاری الا ئونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 32 لاکھ سے زیادہ ورکرز نے بے روزگاری مراعات کے لیے درخواستیں دیں جس کی وجہ سے امریکا میں ایک دہائی سے جاری روزگار کی منڈی میں ریکارڈ نمو یکدم رک گئی ۔ بڑے امریکی شہروں میں بے روزگاری بہبود کا نظام شدید دبائو کا شکار ہو گیا ہے ، امریکا میں بیروزگاری الائونس کی حالیہ درخواستوں کی تعداد ماضی کے ریکارڈ سے 5 گنا زیاد...

امریکا، بیروزگاری الائونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ

کورونا سے بچا وکیلیے جراثیم کش اسپرے کرنے والے روبوٹس تیار وجود - هفته 28 مارچ 2020

چین نے کورونا وائرس بچا کے لیے اسپتالوں میں جراثیم کش اسپرے کرنے کے لیے روبوٹس تیار کرلیے ۔جراثیم کش روبوٹس کو شنگھائی میں چین سے منسلک کینون روبوٹک کمپنی نے تیار کیا ہے جو خودکار طریقے سے اسپتالوں میں وائرس کے بچا کے لیے جراثیم کش اسپرے کرے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کا کہنا تھا کہ جیسے ہی اس وبا نے پھیلنا شروع کیا تو متعدد افراد کی جانب سے ادویات، کھانے اور دستاویز کی ترسیل کے لیے ڈیلورنگ روبورٹس تیار کرنے کی درخواست موصول ہورہی تھی، ایسے میں سب سے زیادہ ضرورت جراثیم کش...

کورونا سے بچا وکیلیے جراثیم کش اسپرے کرنے والے روبوٹس تیار

عامرخان نے شادی ہال کورونا سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کر دیا وجود - هفته 28 مارچ 2020

پاکستان نڑاد برطانوی باکسر عامر خان نے بولٹن میں موجود اپنا شادی ہال کورونا وائرس سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کردیا۔33 سالہ سابق ورلڈ لائٹ ویلٹر ویٹ چیمپئن نے ٹویٹر اکاونٹ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ میں اس بات سے اچھی طرح واقف ہوں کہ عام لوگوں کیلیے اس وقت اسپتال میں بیڈ حاصل کرنا کتنا مشکل ہے ، اسی لیے میں اپنی 60 ہزار اسکوائر فٹ پر قائم 4 منزلہ بلڈنگ نیشنل ہیلتھ سروس کو دینے کو تیار ہوں تاکہ وہ کورونا وائرس کے متاثرین کی مدد کرسکیں۔عامر خان نے واضح کیا کہ ان کی یہ عمارت ...

عامرخان نے شادی ہال کورونا سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کر دیا

انڈیا میں ایک شخص کی وجہ سے 40 ہزار لوگ قرنطینہ میں چلے گئے وجود - هفته 28 مارچ 2020

انڈیا کی شمالی ریاست پنجاب نے 20 دیہات کے 40 ہزار شہریوں کو اس وقت قرنطینہ میں ڈال دیا جب وہاں پھیلنے والی کووِڈ-19 کی وبا کا تعلق صرف ایک شخص سے ثابت ہوا۔ان 70 سالہ شخص کی ہلاکت کورونا وائرس سے ہوئی مگر اس کا پتہ صرف ان کی ہلاکت کے بعد چلا۔حکام نے برطانوی نشریا تی ادارے کو بتایا کہ ہلاک شدہ شخص ایک مبلغ تھے اور انھوں نے اٹلی اور جرمنی سے واپس آنے کے بعد خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے کے مشوروں کو نظرانداز کر دیا تھا۔انڈیا میں وائرس کے 640 تصدیق شدہ متاثرین ہیں جن میں سے 30 ریا...

انڈیا میں ایک شخص کی وجہ سے 40 ہزار لوگ قرنطینہ میں چلے گئے

کورونا وائرس کے باعث عالمی کساد بازاری شروع وجود - هفته 28 مارچ 2020

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)نے کورونا وائرس کے عالمی کساد بازاری شروع ہونے کا اعلان کر دیا ہے ۔آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیویا کے مطابق کورونا وائرس نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ دنیا بھر میں لاک ڈاون، فیکٹریاں، ائیرلائز، سیاحت، درآمدات اور برآمدات بند ہونے سے عالمی معیشت تباہ ہوگئی ہے ۔آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ کساد بازاری کا عمل دوہزار نو جیسا یا اس سے بدتر ہوگا اورعالمی معیشت پراس کے اثرات دیرپا ہوں گے ۔آئی ایم ایف سربراہ نے پیش گوئی کی کہ وا...

کورونا وائرس کے باعث عالمی کساد بازاری شروع

جی 20ممالک عالمی معیشت کیلئے 50 کھرب ڈالر فراہم کرینگے وجود - هفته 28 مارچ 2020

گروپ آف ٹوئنٹی ممالک کے رہنمائوں نے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے اثرات سے نمٹنے کے لئے عالمی معیشت میں 50 کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔جی 20 رہنمائوں نے غیر معمولی سربراہ اجلاس منعقد کیا تھا اور اس کے بعد یہ بیان جاری کیا گیا ۔رہنمائوں نے کہا کہ جرات مندانہ انداز میں بڑے پیمانے پر مالی مدد جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے تشخیصی آلات، اینٹی وائرل ادویات اور ویکسین کی تیزتر ترقی، تیاری اور تقسیم کے لیے باہمی تعاون کو تقویت دینے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔جاپان کے...

جی 20ممالک عالمی معیشت کیلئے 50 کھرب ڈالر فراہم کرینگے

کورونا وائرس کی وجہ سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ وجود - جمعه 27 مارچ 2020

ہالی وڈ کی 9 سال قبل ریلیز ہونے والی فلم ''کونٹیجن'' نے ریلیز کے وقت باکس آفس پر 60 ملین ڈالرز کمائی کی تھی لیکن اب 2020 میں جان لیوا کورونا وائرس کے پیشِ نظر فلم کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ہے ۔اسٹیوین سوڈربرگ کی ہدایت کاری میں بننے والی ہالی وڈ فلم 'کونٹیجن' کی 2020 میں مقبولیت کی وجہ کووڈ 19 یعنی کورونا وائرس ہے کیونکہ اس فلم کی کہانی افسانوی بیماری 'ایم ای ویـ1' پر مبنی ہے جو کہ ایشیا سے پھیلنے کے بعد دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی ہلاکتوں کی وجہ بنی۔' وارنر بروس' کی 2011 می...

کورونا وائرس کی وجہ سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ