وجود

... loading ...

وجود

سندھ حکومت پھرچاروں شانے چت

جمعه 19 جنوری 2018 سندھ حکومت پھرچاروں شانے چت

ابوخضر
مارچ 2016 میں کرپشن ‘پولیس فنڈمیں گھپلوں سمیت کئی الزامات میں ملوث غلام حیدرجمالی کی برطرفی کے بعد حکومت سندھ نے اے ڈی خواجہ کو آئی جی سندھ کے عہدے پر تعینات کیا تھا۔تاہم صوبائی حکومت اورپیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کے احکامات ماننے سے انکارکے بعداے ڈی خواجہ سندھ حکومت کی گڈبک سے نکلتے چلے گئے ۔انھوں نے محکمہ پولیس میں نئی بھرتیوں کااعلان کیااورمیرٹ یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی جس میں پاک فوج کی کور فائیو اور سٹیزنز پولیس لائزن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے نمائندے بھی شامل کیے گئے۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کی قیادت اوراراکین اسمبلی سندھ پولیس میں اپنے ووٹرزکوبھرتی کراکے آئندہ انتخابات میں اپنی جیت کی راہ ہموارکرنے کے ساتھ ساتھ دیگراخراجات بھی پور ے کرناچاہتی تھی لیکن آئی جی سندھ کے اقدامات نے پیپلزپارٹی کے بڑوں کوآگ بگولہ کردیااورآخرکار دسمبر 2016 میں صوبائی حکومت نے اے ڈی خواجہ کو جبری رخصت پر بھیج دیا ۔اس حوالے سے وزیراعلی سندھ سیدمرادعلی شاہ کہناتھاکہ اے ڈی خواجہ اپنی مرضی سے پندرہ روزکی رخصت پرگئے ہیں۔

حکومت سندھ کی جانب سے کیے گئے اقدام کوہائی کورٹ میں چیلنج کیاگیا۔بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو اے ڈی خواجہ کو رخصت پر بھیجنے سے روک دیا تھا، جس کے بعد جنوری 2017 میں اے ڈی خواجہ نے اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال لی تھیں۔اپریل 2017 میں حکومت سندھ نے پھر اے ڈی خواجہ کی خدمات واپس وفاق کے حوالے کرنے کے بعد 21 گریڈ کے آفیسر سردار عبدالمجید کو قائم مقام انسپکٹر جنرل سندھ مقرر کردیا۔ 30 مئی 2017 کو اے ڈی خواجہ کو آئی جی سندھ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر فیصلہ کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت سندھ نے ہارنہیں مانی اس فیصلے کو چیلنج بھی کیااور وفاق سے بھی اائی جی کی تبدیلی سے متعلق درخواست کی جس پر وفاقی کابینہ نے رواں سال 10 جنوری کو ایک 22 گریڈ کے افسر عبدالمجید دستی کو سندھ کا نیا آئی جی مقرر کرنے کی منظوری دی تھی۔یوں ایک سال سے زائد عرصے سے اے ڈی خواجہ کی تبدیلی کے لیے سرگرم سندھ حکومت نے سکھ کاسانس لیا۔ لیکن وفاقی کی جانب سے منظوری کے باوجودنوٹیفکیشن جاری نہیں کیاگیاتھا۔جس کا انتظار کیا جا رہا تھا۔دوسری جانب سندھ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل بھی دائرکررکھی تھی ۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے انسپکٹر جنرل ( آئی جی) سندھ پولیس کی تقرری کے معاملے پر صوبائی حکومت کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے موجودہ آئی جی اے ڈی خواجہ کو اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کی اپیل سماعت کے لیے منظور کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وفاق کو نئے آئی جی سندھ پولیس کہ تقرری کے معاملے پر اقدامات اٹھانے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی کی تقرری کے معاملے پر وفاقی حکومت کے کسی اقدام کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سندھ میں آئی جی پولیس کی تقرری کا معاملہ عدالتی فیصلے سے مشروط ہوگا اور اس سے متعلق وفاقی و صوبائی حکومتوں کے احکامات معطل تصور ہوں گے۔سماعت کے دوران سندھ حکومت کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے پولیس ایکٹ 2011 کو آئینی قرار دیا اور اے ڈی خواجہ کو پولیس میں تبادلوں کا بھی اختیار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے پاس از خود نوٹس کا اختیار نہیں ہے جبکہ ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو وہ حق بھی دے دیا جو اس نے مانگا بھی نہیں تھا۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سندھ ہائی کورٹ نے بہت خوبصورت فیصلہ دیا اور یہ فیصلہ دو تین مرتبہ پڑھنے کے لائق ہے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے مزید کہا کہ ہمارے پاس تو از خود نوٹس کا اختیار ہے اور اے ڈی خواجہ کو سندھ پولیس میں تبادلے کرنے کا بھی مکمل اختیار ہوگا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو روسٹرم پر دلائل دینے سے روک دیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس 7 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ میں آئی جی سندھ پولیس کو عہدے سے ہٹائے جانے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے اے ڈی خواجہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ صوبائی حکومت بغیر کسی جواز کے آئی جی سندھ کو عہدے سے نہیں ہٹا سکتی، ساتھ ہی آئی جی کو افسران کی تعیناتی کا مکمل اختیار بھی ہوگا۔بعد ازاں اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے 30 اکتوبر کو سندھ حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اپیل کی تھی کہ صوبائی حکومت سندھ کے آئی جی کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔حکومت سندھ کی جانب سے فاروق ایچ نائیک نے درخواست جمع کرائی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔
یادرہے کہ جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے رواں برس 30 مئی کو اے ڈی خواجہ کو آئی جی سندھ کے عہدے سے ہٹانے کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اپنے حکم نامے میں آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے حکم دیاتھا کہ صوبائی حکومت بغیر کسی جواز کے آئی جی سندھ کو عہدے سے نہیں ہٹا سکتی۔سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو پابند کیاتھا کہ آئی جی کو ہٹانے کے لیے انیتا تراب کیس میں دیے گئے نکات پر عمل کیا جائے، جس کے تحت 3 سال سے پہلے آئی جی سندھ کو ان کے عہدے سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔اپنے فیصلے میں عدالت عالیہ کا مزید کہنا تھا کہ پولیس افسران کی تعیناتی کا مکمل اختیار بھی آئی جی سندھ کے پاس رہے گا۔دوسری جانب سندھ حکومت بھی اپنے فیصلے پر ڈٹی رہیا ور ایڈووکیٹ جنرل ضمیر گھمر کے عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ جانے کا عندیہ دیا۔ بعدازاں پاکستان ادارہ برائے مزدور، تعلیم و تحقیق (پی آئی ایل ای آر) کے سربراہ کرامت علی نے حکومت سندھ کی جانب سے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق سندھ حکومت کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے فیصلہ آنے تک اے ڈی خواجہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

اب سپریم کورٹ کی جانب سے بھی موجودہ آئی جی سندھ کوکام جاری رکھنے اوروفاق کونئے آئی جی کی تقرری روکنے کاحکم سامنے آنے کے بعدحکومت سندھ کے لیے نئی مشکلات پیداہوسکتی ہیں۔کیونکہ ہائی کورٹ کے حکم کے بعدمحکمہ پولیس میں انقلابی اقدامات اوراس میں موجودکالی بھیڑو ں کے صفائی میں مصروف اے ڈی خواجہ پہلے سے زیادہ تندہی سے کام کریں گے اورسندھ حکومت کے ہرغیرقانونی کام کرمستردکردیں گے ۔ دوسری جانب معاملہ سپریم کورٹ میں آنے کے بعدملک کی اعلی ترین عدالت کی نگاہ بھی سارے معاملات پررہے گی۔


متعلقہ خبریں


بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

مضامین
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ وجود بدھ 01 جولائی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر