وجود

... loading ...

وجود

ذہنی دبائو کنٹرول کرنے کی ضرورت کیوں؟

منگل 09 جنوری 2018 ذہنی دبائو کنٹرول کرنے کی ضرورت کیوں؟

زندگی کی رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ اس میں ذہنی دباو سے فرار بہت مشکل ہے۔ چاہے وجہ اوور ٹائم ہے، امتحانات ہیں، کسی قریبی مریض کی دیکھ بھال ہے۔۔۔ شدید ذہنی دباو ایک معمول بن چکا ہے۔ جب ہم دباومیں ہوتے ہیں تو مقابلہ کرنے کا نظام متحرک ہو جاتا ہے اور جسم بھر میں ’’ایڈرینالین‘‘ بھیج دیتا ہے۔ اس سے ردعمل کی رفتار غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتی ہے اور ہم مقابلہ کرنے کے بہتر طور پر قابل ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہمارا جسم اس طرح تخلیق نہیں ہوا کہ وہ روز روز دباوکا مقابلہ کرتا پھرے۔ دباو کے نفسیاتی اثرات جیسا کہ چڑچڑا پن، بھوک کی کمی اور سونے میں مشکل سے ہر وہ فرد واقف ہے جس کا واسطہ ذہنی دباو سے پڑا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ دباو کا اثر جسم کے کم و بیش ہر حصے پر پڑتا ہے، جس میں دل،آنت، اور مدافعتی نظام شامل ہے۔ لہٰذا سال نو میں اپنے دباو کی سطح کو کنٹرول میں رکھیے اور اس کی مندرجہ ذیل تین وجوہ ہیں۔آپ کو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے:جب ہمارا مقابلے کرنے کا نظام متحرک ہوتا ہے تو فشار خون میں اضافہ ہوتا ہے اور خون کی روانی جسم کے غیر بنیادی حصوں سے پٹھوں کی جانب ہو جاتی ہے۔ مسلسل یا بار بار فشار خون دل کی شریانوں پر دباو? ڈالتا ہے جس سے دل کے دورے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ بلند فشار خون کے ساتھ ہونے والی ہر دھڑکن شریانوں کی لچک کو کم کرتی جاتی ہے اور یہ رکاوٹ پیدا کرنے لگتی ہیں جس سے دل کو خون کی فراہمی میں فرق پڑتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق گھر یا دفتر میں کام کرنے والے وہ افراد جنہیں شدید دباو کا سامنا ہوتا ہے ان میں دل کا دورہ پڑنے کا امکان ان افراد کی نسبت دو گنا زیادہ ہوتا ہے جنہیں اس کا سامنا نہیں ہوتا۔ دل کے نظام پر دباوکا ایک اور اثر بہت زیادہ ردعمل سے ہوتا ہے۔ اگر ایک انسان کو کم درجے کے ذہنی دباو کا سامنا ہے لیکن یہ مسلسل زیادہ عرصہ سے ہے تو دباو کے خلاف جسم کا ردعمل زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ اس سے اس کے دل کی دھڑکنیں تیز رہ سکتی ہیں اور فشار خون بڑھ سکتا ہے۔ یہ اضافے شریانوں کو نقصان دیتے ہیں اور ان میں رکاوٹ اور پھر دل کے دورے کے امکان کو بڑھا دیتے ہیں۔ ۲۔ باتھ آنے جانے کا کچھ پتا نہیں:وہی نظام جو فشار خون میں اضافہ کرتا ہے اور دل کی دھڑکنوں کو بڑھاتا ہے، وہی دباوے دوران خوراک کے انہظام کو بھی آہستہ کرتا ہے۔ جب آپ دباو میں ہوتے ہیں تو معدے اور انتڑیوں میں پیدا ہونے والے کیمیکل بدل جاتے ہیں۔ خوراک مختلف طرح سے تحلیل ہو سکتی ہے جس سے جذب ہونے اور توانائی حاصل کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں قبض یا اسہال یا پیٹ میں بے چینی کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ شدید دباو سے امراض بھی زیادہ شدید ہونے کا امکان ظاہر کیا جاتا ہے جن میں آنتوں کا سینڈروم اور آنتوں کی جلن شامل ہیں۔ اگرچہ ان کے اسباب تاحال پوری طرح واضح نہیں لیکن خیال کیا جاتاہے کہ شدید دباو کی وجہ ’’ماسٹ خلیے‘‘ ہیں جو پیٹ میں مدافعتی خلیے ہوتے ہیں۔ ۳۔ بیمار ہونے کا زیادہ امکان:ہمیں اس امر کا ادراک خاصے عرصے سے ہو چکا ہے کہ دباو کے شکار افراد میں چھوٹی چھوٹی بیماریوں میں جلد مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہمیں گزشتہ چند دہائیوں کی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ دباو ہمارے مدافعتی نظام یا امیون سسٹم کو کیسے متاثر کرتا ہے۔ اس کی بہترین مثال الزائمر کے مریضوں کا خیال رکھنے والے افراد ہیں جو شدید دباو کا شکار رہتے ہیں۔ جب انہیں فلو کی ویکسین دی گئی تو عام افراد کی نسبت دباوکے شکار ان افراد کے مدافعتی نظام کا ردعمل سست رہا۔ اسی طرح جب امتحانات کے دوران میڈیکل کے طلبہ کو ہیپاٹائیٹس کی ویکسینیشن کی گئی، تو جن طلبہ کو بہتر معاشرتی معاونت حاصل تھی اور انہیں کم دباو اور تشویش کا سامنا تھا ان کے مدافعتی نظام کا ردعمل بہتر رہا، یعنی ان پر ویکسین کا اثر زیادہ ہوا۔ دوسرے الفاظ میں اگر شرکا دباوا شکار ہوں، ان کا مدافعتی نظام بہتر طور پر کام نہیں کرتا اور وہ وائرس کے حملہ کا مقابلہ اچھے انداز سے نہیں کر پاتے۔ نزلہ زکام اور وائرس اور بیکٹیریا سے ہونے والی انفیکشنز، یہاں تک کہ کینسر کے معاملے میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ دباو کو کیسے کم کیا جائے:دباو کو کم کرنے کے لیے مختلف طرح کی حکمت عملیاں اپنائی جا سکتی ہیں، تاہم تازہ تحقیقات سے ہی ہمیں اندازہ ہوا ہے کہ ایسا کرنا کتنا مفید ہے۔ اس معاملے کی سمجھ گزشتہ چند دہائیوں میں بہتر طور پر آئی ہے۔ 2002ء میں کیا گیا ایک تجربہ دلچسپ مثال ہے۔ تجربے میں شریک افراد کو مصنوعی ایڈرالین کے انجکشن لگائے گئے تاکہ ان کا فشار خون اور دل کی دھڑکن بڑھ جائے۔ لیکن جب ان میں ایک بور ہو گیا اور اس نے مرقبہ شروع کر دیا تو اس کے دل کی دھڑکن فوراً پہلے والی حالت پر آ گئی۔ اس تجربے کے نتائج کو 2008ء￿ میں آزمایا گیا۔ اس میں محققین نے سینے کے کینسر میں تازہ مبتلا ہونے والے مریضوں کو ذہنی کاوش سے دباو کم کرنے کے پروگرام میں شامل کیا جس میں سانس لینے کے بارے آگاہی، مراقبہ اور یوگا سے مدد لی گئی تھی۔آٹھ ہفتوں کے پروگرام کے بعد، ان عورتوں کے مدافعتی نظام میں حیران کن بہتری آئی وہ صحت مند افراد کی طرح کام کرنے لگا۔ وہ عورتیں پہلے سے اچھا اور پرامید محسوس کرنے لگیں اور اپنے دوستوں اور خاندان سے زیادہ گہرے تعلق کا احساس ان میں جاگ گیا۔شدید دباو کو وقفے وقفے سے ختم کرنا ہمارے مدافعتی نظام کے لیے مفید ہے۔ اس کے لیے ورزش کرنا خصوصاً اہم ہے۔ آخر میں آپ کو اپنے دباو کی سطح سے آگاہ ہونا چاہیے، آپ کو یہ جاننا چاہیے کہ کیا کرنا آپ کے لیے اس حوالے سے بہتر ہے۔ اگر آپ اپنے دباو کو کنٹرول میں رکھیں گے تو آپ اس کے جسمانی فوائد کو پا کر حیران رہ جائیں گے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر