... loading ...
حکومت نے نئے سال کی آمد کے موقع پر عوام کوتحفہ دیا ہے ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گیارہ روپے پچھترپیسے تک ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرول کی قیمت 4 روپے 6 پیسے اضافے کے بعد 81.53 روپے فی لیٹر‘ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 روپے 69 پیسے اضافے کے بعد 89.91 روپے فی لیٹر‘ لائٹ ڈیزل کی قیمت 6 روپے 25 پیسے اضافے کے بعد 58 روپے 37 پیسے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت 6 روپے 79 پیسے اضافے کے بعد 64.32 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ مشیر قومی خزانہ مفتاح اسماعیل کا پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے حوالے سے کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں بھی اس کی قیمتیں تبدیل کی جا رہی ہیں؛ تاہم بھارت، بنگلہ دیش اور ترکی کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت ابھی بھی کم ہے۔ ملک میں گزشتہ برس یکم ستمبر سے اب تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا یہ پانچواں مسلسل اضافہ ہے۔ چار ماہ قبل جب پٹرولیم کی قیمتیں ماہانہ بنیادوں پر بڑھنے لگیں تو تاجر برادری نے بھی پرزور احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں کیونکہ سیاسی عدم استحکام اور موجودہ معاشی صورتحال کے باعث کاروباری طبقہ بشمول عام عوام‘ پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا شکار ہیں۔ ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانا معیشت پر مزید بوجھ بڑھانے کے مترادف ہو گا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں جو اشیائے پیداوار کی لاگت میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ دوسری طرف اس اضافے کا آسان شکار غریب لوگ ہوتے ہیں کیونکہ اشیا کی لاگت بڑھنے سے تاجر طبقے پر اضافی بوجھ پڑے گا تو وہ لامحالہ اسے عوام پر منتقل کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ عوام جو پہلے ہی مہنگائی‘ بیروزگاری اور کم آمدن جیسے مسائل کا شکار ہیں‘ اب قیمتیں بڑھنے سے وہ مشکلات کے نرغے میں گھر جائیں گے۔ حالیہ اضافہ غریب عوام کے منہ سے روٹی کا آخری نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔ یہ درست ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں جب کبھی عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئیں‘ اس کے اثرات اور ثمرات اس تناسب سے غریب عوام تک نہیں پہنچنے دیے گئے۔ پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ سے غریب آدمی کا بجٹ درہم برہم ہو جائے گا اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ سے لے کر سینکڑوں اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھ جانے سے اس کی کمر دہری ہو جائے گی۔ یہ نکتہ بھی ذہن میں رہے کہ زیادہ تر پرائیویٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ سی این جی پر چلتی ہے لیکن ٹرانسپورٹرز اس کا بھی خیال نہیں رکھتے اور یہ موقع ناجائز منافع خوری کی صورت میں استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔ یہی ٹرانسپورٹرز اس وقت قیمتیں کم نہیں کرتے جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حکومت کمی کرتی ہے، یوں ہر سطح اور موقع پر عوام کا بدترین استحصال کیا جاتا ہے۔
توقع کی جا رہی تھی کہ جس طرح گزشتہ برس کے آغاز سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف نے سات روپے تک پٹرولیم قیمتیں بڑھانے کی سمری مسترد کر دی تھی‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے بھی اس مرتبہ عوام کو ریلیف دیا جائے گا لیکن ایسا نہ کیا گیا اور یوں عمداً سالِ نو کی آمد پر مہنگائی کو خوش آمدید کہا گیا۔ چند روز قبل مہنگائی کا ایک طوفان تب آیا جب انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں یکدم چھ روپے تک اضافے سے‘ مجموعی طور پر روزانہ استعمال کی53 ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو اب تک جاری ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ڈالر سے بھی زیادہ وسیع پیمانے پر ہوتا ہے کیونکہ اشیا کی ترسیل اور نقل و حمل کے تمام ذرائع کے لیے پٹرول اور ڈیزل ہی استعمال ہوتا ہے چنانچہ خدشہ ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مہنگائی کا ایسا سیلاب آئے گا جسے روکنا ممکن نہیں ہو گا۔ ویسے بھی قیمتیں کنٹرول کرنے کا کوئی ٹھوس حکومتی پیمانہ اور کنٹرول موجود نہیں جس کے باعث چارسْو ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کا اصول لاگو ہے اور ہر کوئی جبر کی لاٹھی سے عوام کو ہانکے جا رہا ہے۔ گزشتہ برس کے آغاز سے قبل جب حکومت نے سات روپے تک اضافے کی سمری مسترد کی تھی تو قومی خزانے پر چار ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا تھا۔ اس مرتبہ بھی یہی عمل دہرایا جا سکتا تھا اور بجائے اس کے کہ قومی خزانہ بھرنے کے لیے سارا بوجھ غریب عوام پر منتقل کر دیا جائے‘ حکومت کو ٹیکس اور قرض نا دہندگان کو کٹہرے میں لا کر ان سے یہ پیسہ وصول کرنا چاہیے۔
حکومت سارا بوجھ عوام پر لادنے کی بجائے کچھ بوجھ خود بھی اٹھائے اور سرکاری سطح پر غیرترقیاتی اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے‘ وزرا اور ارکان اسمبلی کو دی جانے والی شاہانہ مراعات ختم کی جائیں اور غیر ملکی دوروں میں بڑے بڑے وفود لے جانے کا سلسلہ ترک کیا جائے۔ ایسے کئی اقدامات سے حکومتی اخراجات میں کمی کی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس اہم مسئلے کا نوٹس لیں اور بے لگام مہنگائی کی نئی لہر کے تدارک کی خاطر پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا جن بوتل میں واپس ڈلوانے کے احکامات جاری فرمائیں تاکہ عوام کی سالِ نو کی خوشیاں ماند ہونے سے بچ جائیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 2018 کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کیا جائے گا۔پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک جاری اعلامیے میں کہا کہ پیٹرولیم کی مصنوعات پر وفاقی حکومت کا فیصلہ ‘قوم کے خلاف کھلی دشمنی’ ہے اور مطالبہ کیا کہ حکومت ناصرف اضافے کا فیصلہ واپس لے بلکہ قیمتوں میں 50 فیصد کمی کا بھی اعلان کرے۔انہوں نے دھمکی دی کہ ‘فوری قیمتوں میں 50 فیصد کمی کی جائے بصورت دیگر مظاہرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔خیال ہے کہ گذشتہ روز وفاقی حکومت نے نئے سال کے پہلے ماہ (جنوری 2018) کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11 روپے 75 پیسے تک اضافے ک اعلان کیا تھا۔
پی پی پی کے اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ‘موجودہ حکمران گزشتہ 4 برسوں سے عوام کا خون چوس رہے ہیں اور پیپلز پارٹی ہی عوام کو معاشی بحران سے نکال سکتی ہے’۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شریف برادران مہنگائی اور معاشی بد حالی کے ذمہ دار ہیں۔یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پٹرولیم کی قیمت 103 روپے 7 پیسے فی لٹر تک پہنچ گئی تھی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کیخلاف صرف پیپلزپارٹی کی جانب سے احتجاج کااعلان سامنے نہیں آیاعوامی سطح پربھی اس حکومتی اقدام کی مذمت کی جارہی ہے ۔ جلدیابدیرتحریک انصاف سمیت دیگرسیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیاہی چاہتاہے ۔
عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...
بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...
عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...
شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...
صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...
عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...
مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...
کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...
جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...
پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...
اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...
پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...