... loading ...
جرات رپورٹ
کراچی سے لاہورکے بذریعہ ٹرین اوربس کے سفرکے دوران ملتان اسٹیشن پرجب گاڑی رکتی ہے توایک آوازضرورکانوں میں گونجتی ہے ’’ملتان کاسوہن حلوہ ‘‘کئی مسافرتوانتظارمیں رہتے ہیں کہ کب گاڑی ملتان میں رکے اوروہ اپنے پیاروں کے لیے یہ خصوصی سوغات خریدیں ۔ ملتان پاکستان کا پانچواں بڑاشہرضرورہے لیکن آج نسل اس بات بہت کم واقف ہے کہ ایک زمانے میں اس کاشمار برصغیرپاک وہندکے بڑے شہروں میں ہوتاتھایہ شہر جنو بی پنجا ب میں دریائے چناب کے کنارے آبا د ہے ۔آبادی کے لخاظ سے یہ پا کستا ن کا پانچوں بڑا شہر ہے۔یہ ضلع ملتان اور تحصیل ملتان کا صدر مقام ہے۔بقیہ تحصیلوں میں تحصیل صدر ،تحصیل شجاع آباد اور تحصیل جلا ل پو ر پیر والہ شامل ہیں۔
ملتان کا نام :ایک قوم جس کا نا م مالی تھا یہا ں آکر آبا د ہو ئی اور سنسکرت میںآباد ہو نے کو استھان کہتے ہیں یو ں اس کا نام مالی ارستھا ن پڑھ گیا جو بعدمیں بدل کر ما لی تان بن گیا پھر وقت کے ساتھ ساتھ ما لیتان مو لتان اور اب ملتان بن گیا ہے ۔
تاریخ :ملتان کی تاریخ میں قلرہ ملتان کی تا ریخ بہت پرانی ہے۔اس کا شما ر دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔بہت سے شہر آباد ہو ئے مگر گردش ایا م کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ گئے،لیکن شہر ملتان ہزا روں سا ل پہلے بھی زندہ تھا اورآج بھی زندہ ہے۔ملتان کو صفحہ ہستی سے ختم کرنے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں حملہ آور خود نیست ونابود ہو گئے آج ان کا نا م لیوا کو ئی نہیں مگر ملتان آج بھی اپنے پورے تقدس کے ساتھ زندہ ہے۔
دریا ئے راوی ملتان کے قدیم قلعے کے ساتھ بہتا تھا اور اسے بندرگاہ کی حیثیت حاصل تھی کشتیوںکے ذریعے صرف سکھر بھکر ہی نہیں منصورہ،عراق، ایران،مصرکا بل اور دکن تک کی تجارت ہو تی اس طرح ملتان کو دنیا بہت کے بڑے علمی تجارتی اور مذہبی مرکز حیثیت حاصل ہو ئی اور صرف ہندوستا ن نہیں بلکہ پو ری دنیا میں حضرت بہا والدین زکر یا ملتانیؒ کے نا م اور پیغام سے لا کھوں انسان حلقہ بگو ش اسلا م ہو ئے اور آپ نے لو گو ں کے دلو ںمیں اس طرح گھر بنا لیا کہ آٹھ صدیا ں گزرنے کے با وجو د آج بھی لاکھو ں انسان ننگے پائوں اورسر کے بل چل کر آپ کے آستا نے پر حاضری دیتے ہیں اور عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔
میرے سامنے ملتان کے نعروف آرٹسٹ ضمیر ہاشمی کے چندفن بارے موجود ہیں ،ان فن پا روں میں قلعہ ملتان کی قدامت کو پنسل ورک ،،کے ذریعے عیاں کرنے کی کو شش کی گئی ہے قلعہ کی فصیل دکھا ئی گئی ہے،پر ہلاد مندر کا نقشہ انہدام سے پہلے کی شکل میں موجود ہے اورشا رکن عالم کا دربا رپرانوار بھی جلوہ افروز ہے۔قلعہ ملتان کتنا قدیم ہے؟اس بارے کہا جا تاہے کہ یہ پانچ ہزار سال پرانا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ اس سے بھی قدیم ہو ، اس با ت پر تمام مو رخین کا اتفاق ہے کہ ملتان اورقلعہ ملتان کا وجود قبل ازتا ریخ دیومالائی دور سے بھی پہلے کا ہے
ملتان پر حملہ آورہو نے والوںنے ہمیشہ ملتان قلعے کو نشانہ بنا یا اور اسے فتح کرنے کے بعد خوب لوٹ مارکی اورقلعہ بربادکیا۔ اس قلعے پرقابض ہونے کے بعد فاتحین نے اسے اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی ۔ 1200قبل مسیح دارانے اسے تباہ کیا،325قبل مسیح سکندر اعظم نے اس پر چڑھا ئی کی پھر عرب افغا ن سکھ اور انگریز حملہ آوروں قدیم قلعہ ملتان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اب فرزند ملتان اور سرائیکی وسیب کے تما م باسیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی سابقہ کو تاہیوں پر غور کریں اور اپنے وسیب کے ساتھ ہو نیوالی پانچ ہزار سالہ زیادتیوں کی تلافی کریں اور اپنی عظمت رفتہ کو پہچانیں ۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ملتان ایک شہر ہی نہیںایک تہذیب اورایک سلطنت کا نا م بھی ہے ۔ 372ہجری کتا ب حدود العالم بن المشرق الی المغرب ،میں ملتان کی حدودبارے لکھا ہیں کہ قنوج کے راجہ اور امیرملتان کی سرحدیں جالندھر پر ختم ہو تی تھیں،،سیر المتاخیرین ،،میں ملتان کی حدود اس طرح بیان کی گئی ہیں کہ ملتان اول ‘دوم وسوم اقالیم سے زیادہ فراخ ہے کیونکہ ٹھٹھہ، اس صوبہ پر زیا دہ ہو اہے فیزوزپور سے سیوستان تک چار سوتیس کو س لمبا اور چتوڑسے جیسلمیر تک ایک سو آٹھ کو س چوڑا ہے، دوسری طرف طو ل کیچ اور مکر ان تک چھ سو ساٹھ کو س ہے ،اس کے خاور (مشرق)رویہ سرکار سرہند سے ملا ہواہے شمالی دریائے شور میں اور جنوبی صوبہ اجمیر میں ہے ،اور با ختر (مغرب)میں کیچ اور مکران ہے۔
ابوالفضل نے اپنی مشہور عالم کتاب آئین اکبری میں ملتان کی حدود بیا ن کی ہیں ،صوبہ ملتان کے ساتھ ٹھٹھہ کے الحاق سے پہلے یہ صوبہ فیروز پور سے سیوستان تک ۶۲۴کروہ تھاشوڑائی میں کھت پورسے جیسلمیر تک ۶۲۱کووہ تھا ٹھٹھہ کے الحاق کے بعد یہ صوبہ کیچ اور مکران تک وسیع ہو گیا ،اس کا یہ فاصلہ ۰۶۶کروہ تھا ،مشرق میں اسکی سرحدیں سر ہند سرکا ر سے شمالی میں پشاور سے جنوب میں اجمیر کے صوبے اور مغرب میںکیچ مکر ان سے ملتی تھیں اور کل اٹھا سی پر اگنے (ضلعے)تھے۔ملتان کی وسعت اور عظمت پر تاریخ آج بھی رشک کرتی ہے، ملتان کے قدامت کے ہم پلہ دنیا میں شاید ہی کوئی شہر ہو ،پاکستان میں جن شہروں کو مصنوعی طریقے سے ملتان سے کئی گنا بڑے شہر بنا یا گیا ہے ،آج سے چند سو سال پہلے یہ ملتان کی مضافاتی بستیا ں تھیں اس بات کی شہادت حضرت داتاگنج بخش ؒ نے اپنی کتاب ،،جشف المجوب ،،میں لاہو ر یکے از مضافاتِ ملتان ،،فرما کردی ہے ۔ملتان کے حوالے سے فارسی کے شعر ،،چہارچیزاست تحفہ ملتان،گردو گرما گداوگورستان ،،گردکامطلب ہے کہ گرمی بہت ہوتی ہے ،گدا کا مطلب کہ یہا ں اللہ والے بہت لوگ ہیں اور گورستان کا مطلب ہے کہ یہاںقبر ستان بہت ہیں ۔ گرمی کے حوالے سے ،،گرمے ،،کی بات کو چھوڑ کر محققین کو اس با ت پر غور کرنا چاہیے کہ دنیا کی امیر کبیر شہر ،دنیا کی بہت بڑی تہذیب ،دوسرا سب سے پرانا قدیم شہر اور دنیا کی بڑی سلطنت کو گورستا ن میں کس نے تبدیل کیا ؟ایک وقت تھا جب یہ سلطنت سمندر تک پھیلی ہوئی تھی اور لاہور اس کا ایک مضافاتی علاقہ ہو تا تھا ۔ساہیوال ،پاکپتن ،اوکاڑہ،میاں ،چنوں ۔خانیوال ،لودھراں،مظفر گڑھ اور بھکر تمام اس کے علاقے تھے ۔مگر یہ تاریخی شہر رفتہ رفتہ تقسیم ہوتا گیا۔تاریخی سلطنت (صوبہ ملتان) اور آج تین تحصیلوں تک محدود ہو گیا ہے۔
مشہور اولیاء کرام کے مزارات:اس شہر کو اولیاء کا شہر کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کافی تعداد میں اولیاء اور صوفیاء کے مزارات میں خضرت شاہ شمس تبریزؒ،حضرت بہا والحقؒ،بی بی نیک دامنؒ ، حضرت بہاو الدین زکریا ملتانیؒ، حضرت منشی غلام حسن شہید ملتانیؒ، حضرت نو موسی پاک شہیدؒ،حضرت سید احمدسعید کاظمیؒ، حضرت حافظ محمدجما لؒ،حضرت با با پیراں غائبؒاور بہت سے اولیاء کرام کے مزارات یہاں پر ہیں ۔مضافات میں حضرت مخدوم رشیدؒ،شاہ صاحب پیر سید سخی سلطان علی اکبرؒسورج میانی ،کا مزار بھی موجود ہے جو کہ وہاڑی روڈ پر واقع ہے۔
آمو ں کا گھر :ملتان کوآموں کاگھربھی کہاجاتاہے ،مالدہ، فجر ی، دیسی کالا چونسہ، دوسہری،چونسہ ، انور ریٹول ، سندھڑی،لنگڑہ،یہاں کی مشہور سوغات ہیں ۔ جنھیں صرف پاکستان میں ہی دنیابھرمیں پسندکیاجاتاہے
مشہور سوغات :حافظ کا ملتانی سوہن حلوہ،حافظ عبدالودود کا سوہن حلوہ، ریواڑی کی مٹھائی،دلمیر کے پیڑے ، حرم گیٹ کی کھیر ،لال کرتی کینٹ کا دودھ،لا ل کرتی کینٹ کی چانپ ،نو اب ہوٹل کا نمکین۔
دنیابھرکی سیاحت کے شوقین حضرات ایک بارملتان دیکھنے کی خواہش ضروررکھتے ہیں ۔ یہا ں آنے کے لیے مناسب موسم گرما کسی طورنہیں کہاجاسکتا لیکن اس حقیقت سے بھی انکارممکن نہیں کہ شدیدگرمی کی طرح یہاں سردی بھی بہت پڑتی ہے ۔لیکن آم کھانے کے شوقین ضرورموسم گرمامیں یہاں کارخ کریں تومناسب ہے ۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...