وجود

... loading ...

وجود

موت کو کثرت سے یاد کرنے سے فکرِ آخرت نصیب ہوتی ہے

جمعه 29 دسمبر 2017 موت کو کثرت سے یاد کرنے سے فکرِ آخرت نصیب ہوتی ہے

مولانا محمد الیاس گھمن
اللہ تعالیٰ نے جیسے ہمیں زندگی عطاء فرمائی ہے بالکل اسی طرح ہمیں موت بھی ضرور دیں گے۔ اس زندگی کے مختصر ایام اگر اللہ تعالیٰ کے احکام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقوں کے مطابق گزار لیے تو آخرت میں اللہ تعالیٰ مرتبہ و مقام ، عزت و انعام اور اجر وثواب سے نوازیں گے ورنہ اس ذات کی ناراضگی اور عذاب بہت سخت ہے۔بسا اوقات انسان دنیا اور اس کی رنگینیوں میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ آخرت کو بالکل بھول جاتا ہے۔ یہ دنیا جہاں انسان نے چند دن گزارنے ہیں یہاں کے لیے ہروقت اور ہر طرح کی تیاری کرتا ہے ، اسباب عیش و عشرت ، جاہ و حشمت ، حصول عزت ، اچھی شہرت ، مال و دولت اور رزق روزی کی تیاری میں ہر آن خود کو مصروف رکھتا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس!آخرت جہاں اس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنا ہے وہاں کی تیاری کی اس کو کچھ فکر نہیں۔

انسان بھی عجیب مخلوق ہے کہ وہ دنیا میں ذلت سے بچنے کے اسباب اختیار کرتا ہے ، چند انسانوں کے سامنے اپنی ذلت کو برداشت نہیں کر سکتا لیکن آخرت میں ساری انسانیت کے سامنے ذلت کا اسے احساس نہیں ہے۔ دنیا میں کسی حاکم کے سامنے پیش ہونے سے ڈرتا ہے لیکن احکم الحاکمین کی عدالت میں پیش ہونے کا خوف اس کے دل میں نہیں ہے۔ یہ دارِغرور(دھوکے کا گھر ، دنیا)میں مغرور ہو کر زندگی گزارنے میں مگن ہے لیکن دارِ سرور(خوشیوں کے گھر، جنت)میں مسرور ہونے کی لگن نہیں ہے۔ اس دارِ محنت(دنیا)سے دارِ نعمت(جنت)کی طرف سفر کی تیاری نہیں کرتا۔بلکہ اس کی حماقت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جس خالق سے اس نے جنت مانگنی ہے ، عذاب سے نجات لینی ہے ، عزت و انعام اور سرخروئی حاصل کرنی ہے یہ اسی کی کھلم کھلا نافرمانیوں میں مسلسل آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ ہے کہ اس کے دل میں دنیا کی قدر و قیمت ہے آخرت کی نہیں۔ دنیا کی ظاہری ، جھوٹی ، وقتی ، عارضی اور فانی چیزوں پر آخرت کی حقیقی ، سچی ، ابدی اور ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتوں کو قربان کر رہا ہے۔ عقل مندی کا تقاضا یہ تھا کہ معاملہ اس کے برعکس ہوتا یہ دنیا کو آخرت پر قربان کرتا۔

محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے نوع انسانیت کو اس حماقت اور غفلت کی دلدل سے نکالنے کے لیے مختلف مواقع پر ایسی پیاری تعلیمات دی ہیں کہ اگر انسان ان پر عمل کرلے تو اس کی دنیا بھی بَن جائے اور آخرت بھی بَن جائے اور اگروہ اس سے روگردانی اختیار کرے تو بروز محشر اس کی جان پر بَن آئے گی۔ اعاذنا اللہ

دنیا کی لذتوں میں غافل ہونے والے شخص کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے کیا تعلیم دی ہے ، صرف ایک حدیث مبارک ملاحظہ فرمائیں:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :موت کو کثرت سے یاد کرو جو لذتوں کو مٹانے والی ہے۔(جامع الترمذی ، باب ماجاء فی ذکر الموت ، حدیث نمبر 2229)
اس حدیث مبارک کی روشنی میں ہماری غفلت کا علاج موجود ہے ، موت اور مرنے کے بعد کے حالات کا تصور کیجیے ، روزانہ کچھ وقت نکال کر اپنا محاسبہ کریں ، خصوصاً جب بستر پر سونے کے لیے لیٹیں تو آنکھیں بند کر کے یوں خیال فرمائیں۔ میری ابھی روح نکلنے والی ہے ، فرشتہ روح نکالنے کے لیے آئیں گے تو جسم کے ایک ایک عضو سے روح کو کھینچیں گے ، اس وقت کی تکلیف کا تصور کریں ، پھر سوچیں کہ اب مجھے قبر میں اتارا جا رہا ہے ، خاندان والے، دوست احباب، عزیز رشتہ دار سب اپنے ہاتھوں قبر میں اتار کر اوپر سے بند کر دیں گے، قبر میں اندھیرا ہی اندھیرا ، کوئی روشنی نہیں ، تاریکی ظلمت کچھ دکھائی نہیں دے رہا، سوال و جواب ہوں گے، اپنے بدعملیوں کی سزا ملے گی ، قبر اتنے زور سے دبائی گی کہ اِدھر کی پسلیاں اْدھر کی پسلیوں میں گھس جائیں گی، خوفناک شکل و صورت والے زہریلے سانپ اور بچھو ڈسیں گے ،میری چیخ وپکار کو سن کر مدد کو آنے والا کوئی نہیں ہوگا ، میری ہائے فریاد کا جواب دینے والا کوئی نہیں ہوگا ، یہ سانپ بچھو بار بار ڈسیں گے بھاگ بھی نہیں سکوں گا، والدین ، اولاد ، بیوی بچے ،عزیز واقارب اور دوست احباب کوئی مجھے ان سے بچانے کے لیے نہیں آئے گا ،دنیا میں بسنے والے انسان اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوں گے انہیں تو میرا نام لینے کی بھی فرصت نہیں ہوگی۔ یہ صرف ایک دن یا ایک رات کا معاملہ نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے میرے ساتھ یونہی ہوتا رہے گا۔ پھر قبر بول کر کہے گی : میں تنہائی کا گھر ہوں ، میں تاریکی کا گھر ہوں ، میں کیڑوں کا گھر ہوں ، میں وحشت اور ڈر کا گھر ہوں۔دنیا والی عزت ، شہرت ، دولت میرے کام نہیں آئیں گے ، اگر کام آئیں گے تو وہ نیک عمل اور وہ اولاد جن کی تربیت اسلامی طرز پر کی ہو گی۔

ایک تو اپنا محاسبہ روزانہ کریں دوسرا گاہے بگاہے قبرستان جایا کریں ، وہاں جاکر اپنے انجام کو سوچیں ، قبروں کو دیکھ کر غور کریں کہ ان میں حسن و جمال ، مال و دولت ،علم و عمل اورشہرت و عزت والے پڑے ہوئے ہیں۔ خدا کی ماننے والے بھی سو رہے ہیں اور خدا کہ نہ ماننے والے بھی پڑے ہوئے ہیں اتنی بے بسی ہے کہ باہربھی نہیں نکل سکتے۔ ان کا حسن و جمال آج خاک آلود ہو رہا ہے جو کبھی اپنی اوپر مٹی کے ذرات کو برادشت نہیں کرتے تھے آج منوں مٹی تلے دبے پڑے ہیں۔ مال و دولت والے خالی ہاتھ پڑے ہیں۔ایک دن مجھے بھی ایسے ہی آ کر لوگ دفنا جائیں گے ، پھر برسوں خبر بھی نہ لیں گے ، کچھ دن میرا تذکرہ ہوگا پھر تو لوگ نام لینا بھی چھوڑ دیں گے۔

یہ دو کام کرتے ہیں ،پہلا روزانہ موت ، قبر اور آخرت کو یاد کرتے ہیں دوسرا کبھی کبھار قبرستان جاتے رہیں اور عبرت حاصل کرتے ہیں۔ دل سے غفلت دور ہونا شروع ہو جائے گی ، پھر ایک وقت آئے گا کہ آپ کو ہر وقت اللہ رب العزت کی ذات کا استحضار رہنے لگے گا۔ گناہوں والی عادت سیاللہ کے فضل سے جان چھوٹ جائے گی ، نیکیوں کی توفیق ملنا شروع ہو گی ، دل کا اطمینان حاصل ہوگا۔ اللہ کریم ہمیں غفلت والی زندگی سے بچائے اور موت سے پہلے وہ کام کرنے کی توفیق دے جو موت کے بعد کام آئیں گے۔ آمین بجاہ سید النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ۔


متعلقہ خبریں


نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مضامین
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود اتوار 25 جنوری 2026
ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود اتوار 25 جنوری 2026
بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر