وجود

... loading ...

وجود

موت کو کثرت سے یاد کرنے سے فکرِ آخرت نصیب ہوتی ہے

جمعه 29 دسمبر 2017 موت کو کثرت سے یاد کرنے سے فکرِ آخرت نصیب ہوتی ہے

مولانا محمد الیاس گھمن
اللہ تعالیٰ نے جیسے ہمیں زندگی عطاء فرمائی ہے بالکل اسی طرح ہمیں موت بھی ضرور دیں گے۔ اس زندگی کے مختصر ایام اگر اللہ تعالیٰ کے احکام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقوں کے مطابق گزار لیے تو آخرت میں اللہ تعالیٰ مرتبہ و مقام ، عزت و انعام اور اجر وثواب سے نوازیں گے ورنہ اس ذات کی ناراضگی اور عذاب بہت سخت ہے۔بسا اوقات انسان دنیا اور اس کی رنگینیوں میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ آخرت کو بالکل بھول جاتا ہے۔ یہ دنیا جہاں انسان نے چند دن گزارنے ہیں یہاں کے لیے ہروقت اور ہر طرح کی تیاری کرتا ہے ، اسباب عیش و عشرت ، جاہ و حشمت ، حصول عزت ، اچھی شہرت ، مال و دولت اور رزق روزی کی تیاری میں ہر آن خود کو مصروف رکھتا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس!آخرت جہاں اس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنا ہے وہاں کی تیاری کی اس کو کچھ فکر نہیں۔

انسان بھی عجیب مخلوق ہے کہ وہ دنیا میں ذلت سے بچنے کے اسباب اختیار کرتا ہے ، چند انسانوں کے سامنے اپنی ذلت کو برداشت نہیں کر سکتا لیکن آخرت میں ساری انسانیت کے سامنے ذلت کا اسے احساس نہیں ہے۔ دنیا میں کسی حاکم کے سامنے پیش ہونے سے ڈرتا ہے لیکن احکم الحاکمین کی عدالت میں پیش ہونے کا خوف اس کے دل میں نہیں ہے۔ یہ دارِغرور(دھوکے کا گھر ، دنیا)میں مغرور ہو کر زندگی گزارنے میں مگن ہے لیکن دارِ سرور(خوشیوں کے گھر، جنت)میں مسرور ہونے کی لگن نہیں ہے۔ اس دارِ محنت(دنیا)سے دارِ نعمت(جنت)کی طرف سفر کی تیاری نہیں کرتا۔بلکہ اس کی حماقت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جس خالق سے اس نے جنت مانگنی ہے ، عذاب سے نجات لینی ہے ، عزت و انعام اور سرخروئی حاصل کرنی ہے یہ اسی کی کھلم کھلا نافرمانیوں میں مسلسل آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ ہے کہ اس کے دل میں دنیا کی قدر و قیمت ہے آخرت کی نہیں۔ دنیا کی ظاہری ، جھوٹی ، وقتی ، عارضی اور فانی چیزوں پر آخرت کی حقیقی ، سچی ، ابدی اور ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتوں کو قربان کر رہا ہے۔ عقل مندی کا تقاضا یہ تھا کہ معاملہ اس کے برعکس ہوتا یہ دنیا کو آخرت پر قربان کرتا۔

محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے نوع انسانیت کو اس حماقت اور غفلت کی دلدل سے نکالنے کے لیے مختلف مواقع پر ایسی پیاری تعلیمات دی ہیں کہ اگر انسان ان پر عمل کرلے تو اس کی دنیا بھی بَن جائے اور آخرت بھی بَن جائے اور اگروہ اس سے روگردانی اختیار کرے تو بروز محشر اس کی جان پر بَن آئے گی۔ اعاذنا اللہ

دنیا کی لذتوں میں غافل ہونے والے شخص کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے کیا تعلیم دی ہے ، صرف ایک حدیث مبارک ملاحظہ فرمائیں:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :موت کو کثرت سے یاد کرو جو لذتوں کو مٹانے والی ہے۔(جامع الترمذی ، باب ماجاء فی ذکر الموت ، حدیث نمبر 2229)
اس حدیث مبارک کی روشنی میں ہماری غفلت کا علاج موجود ہے ، موت اور مرنے کے بعد کے حالات کا تصور کیجیے ، روزانہ کچھ وقت نکال کر اپنا محاسبہ کریں ، خصوصاً جب بستر پر سونے کے لیے لیٹیں تو آنکھیں بند کر کے یوں خیال فرمائیں۔ میری ابھی روح نکلنے والی ہے ، فرشتہ روح نکالنے کے لیے آئیں گے تو جسم کے ایک ایک عضو سے روح کو کھینچیں گے ، اس وقت کی تکلیف کا تصور کریں ، پھر سوچیں کہ اب مجھے قبر میں اتارا جا رہا ہے ، خاندان والے، دوست احباب، عزیز رشتہ دار سب اپنے ہاتھوں قبر میں اتار کر اوپر سے بند کر دیں گے، قبر میں اندھیرا ہی اندھیرا ، کوئی روشنی نہیں ، تاریکی ظلمت کچھ دکھائی نہیں دے رہا، سوال و جواب ہوں گے، اپنے بدعملیوں کی سزا ملے گی ، قبر اتنے زور سے دبائی گی کہ اِدھر کی پسلیاں اْدھر کی پسلیوں میں گھس جائیں گی، خوفناک شکل و صورت والے زہریلے سانپ اور بچھو ڈسیں گے ،میری چیخ وپکار کو سن کر مدد کو آنے والا کوئی نہیں ہوگا ، میری ہائے فریاد کا جواب دینے والا کوئی نہیں ہوگا ، یہ سانپ بچھو بار بار ڈسیں گے بھاگ بھی نہیں سکوں گا، والدین ، اولاد ، بیوی بچے ،عزیز واقارب اور دوست احباب کوئی مجھے ان سے بچانے کے لیے نہیں آئے گا ،دنیا میں بسنے والے انسان اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوں گے انہیں تو میرا نام لینے کی بھی فرصت نہیں ہوگی۔ یہ صرف ایک دن یا ایک رات کا معاملہ نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے میرے ساتھ یونہی ہوتا رہے گا۔ پھر قبر بول کر کہے گی : میں تنہائی کا گھر ہوں ، میں تاریکی کا گھر ہوں ، میں کیڑوں کا گھر ہوں ، میں وحشت اور ڈر کا گھر ہوں۔دنیا والی عزت ، شہرت ، دولت میرے کام نہیں آئیں گے ، اگر کام آئیں گے تو وہ نیک عمل اور وہ اولاد جن کی تربیت اسلامی طرز پر کی ہو گی۔

ایک تو اپنا محاسبہ روزانہ کریں دوسرا گاہے بگاہے قبرستان جایا کریں ، وہاں جاکر اپنے انجام کو سوچیں ، قبروں کو دیکھ کر غور کریں کہ ان میں حسن و جمال ، مال و دولت ،علم و عمل اورشہرت و عزت والے پڑے ہوئے ہیں۔ خدا کی ماننے والے بھی سو رہے ہیں اور خدا کہ نہ ماننے والے بھی پڑے ہوئے ہیں اتنی بے بسی ہے کہ باہربھی نہیں نکل سکتے۔ ان کا حسن و جمال آج خاک آلود ہو رہا ہے جو کبھی اپنی اوپر مٹی کے ذرات کو برادشت نہیں کرتے تھے آج منوں مٹی تلے دبے پڑے ہیں۔ مال و دولت والے خالی ہاتھ پڑے ہیں۔ایک دن مجھے بھی ایسے ہی آ کر لوگ دفنا جائیں گے ، پھر برسوں خبر بھی نہ لیں گے ، کچھ دن میرا تذکرہ ہوگا پھر تو لوگ نام لینا بھی چھوڑ دیں گے۔

یہ دو کام کرتے ہیں ،پہلا روزانہ موت ، قبر اور آخرت کو یاد کرتے ہیں دوسرا کبھی کبھار قبرستان جاتے رہیں اور عبرت حاصل کرتے ہیں۔ دل سے غفلت دور ہونا شروع ہو جائے گی ، پھر ایک وقت آئے گا کہ آپ کو ہر وقت اللہ رب العزت کی ذات کا استحضار رہنے لگے گا۔ گناہوں والی عادت سیاللہ کے فضل سے جان چھوٹ جائے گی ، نیکیوں کی توفیق ملنا شروع ہو گی ، دل کا اطمینان حاصل ہوگا۔ اللہ کریم ہمیں غفلت والی زندگی سے بچائے اور موت سے پہلے وہ کام کرنے کی توفیق دے جو موت کے بعد کام آئیں گے۔ آمین بجاہ سید النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ۔


متعلقہ خبریں


وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر