وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 24 دسمبر 2017 استقبال کتب

گزشتہ دنوںمعروف شاعر جناب فیروز ناطق خسرو کے بہ یک وقت آٹھ شعری مجموعے منظر عام پر آئے،تاخیر ہوئی تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا،جناب فیروز ناطق خسرو پاکستان کے ایک سینئر شاعر ہیں پہلے انھوں نے اپنی تعلیم ،پھر ملازمت اور پھر اپنی عمر بھر کی شعری تخلیقات کو کتابی شکل میں شائع کرانے پر توجہ دی،آج ان کی آٹھ کتابیں گلشن ادب میں گل ہائے رنگ رنگ کے مترادف ہیں،مناسب معلوم ہوتاہے کہ تما م کتابوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے:
۱۔انتخاب کلام ناطق(ناطق بدایونی)

ناطق بدایونی جناب فیروز ناطق خسرو کے والد گرامی تھے، جناب فیروز ناطق خسرو نے ان کا کلام انتخاب کلام ناطق کے نام سے ترتیب و تدوین کرکے نہایت سلیقے سے شائع کرا دیاہے،ان کتاب میں ان کی غزلیات کے ساتھ ان کے فن و ہنر پرناقدین و مشاہیر کے لکھے گئے مضامین بھی شامل اشاعت کیے گئے ہیں۔محترم ناطق بدایونی کا کلام اُردو ادب کا سرمایہ ہے،ان کے کئی اشعار ضرب المثل کی صورت اُردو ادب میں زندہ ہیں ،ایک شعر ملاحظہ ہو:
مری صورت بدل ڈالی کسی کے رنج فرقت نے
کہ اپنی شکل مجھ سے آپ پہچانی نہیں جاتی
۲۔طلسم مٹی کا(غزلیں)

جناب فیروز ناطق خسرو کی غزلیات پر مشتمل مجموعۂ کلام’’طلسم مٹی کا‘‘کے عنوان سے زیورطباعت سے آراستہ ہوا ہے،جس میں احوال واقعی (فیروز ناطق خسرو)،طلسم مٹی کا(پروفیسر جاذب قریشی)اور فخر ادب کے عنوان سے(ڈاکٹر نشتر امروہوی(انڈیا)نے اپنی آرا کا اظہار کیاہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب فیروز ناطق خسروایک کہنہ مشق اور پختہ کار شاعر ہیں،اب تو وہ استادی کے درجے پر فائز ہیں اور متعدد شعراو شاعرات کے کلام پر اصلاح دیتے ہیں،ان کا ایک نمائندہ شعر ملاحظہ ہو:
ہٹی نگاہ تو ٹوٹا طلسم مٹی کا
وگرنہ چاک پہ رقصاں تھا جسم مٹی کا
۳۔آنکھ کی پتلی میں زندہ عکس(نظمیں)

جناب فیروز ناطق خسرو نے جہاں غزل میں اپنے فن کا لوہا منوایا ہے وہاں انھوں نے نظم بھی کسی شاعر سے کم نہیں لکھی،’’آنکھ کی پتلی میں زندہ عکس‘‘ان کی نظموں کا مجموعہ ہے جس میں مختلف موضوعات اور عنوانات پر عمدہ نظمیں تخلیق کی گئی ہیں، مثال کے طور پر ’’آمد سال نو‘‘،’’یس سر نو سر‘‘، ’’ مسافرت میں‘‘ ، ’’بارش کا سیلابی پانی‘‘ ، ’’استاد‘‘، ’’جوگنگ‘‘، ’’اگریہ سچ ہے‘‘،اور’’ اپنا پاکستان‘‘عمدہ نظمیں ہیں،اس مجموعۂ نظم میں طویل نظمیں بھی شامل ہیں اور مختصربھی،مگر کسی تخلیق کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ،ایک نظم ملاحظہ ہو:
نجانے دن میں کتنی بارمیں/بے موت مرتاہوں/نئی اک زندگی کرنے کا/پھر سے عزم کرتاہوں/گزرتی ہے جو اس دل پر/میں اس کو نظم کرتاہوں۔
۴۔آئینہ چہرہ ڈھونڈتا ہے(غزلیں)
جناب فیروز ناطق خسرو کی غزلوں کو دوسراشعری مجموعہ’’آئینہ چہرہ ڈھونڈتا ہے‘‘ کے نام سے شائع ہواہے جس میںڈاکٹر ارشد اقبال

نے’’فیروز ناطق خسرو کا شعری رویہ‘‘ کے عنوان سے مضمون لکھ کر اپنی مثبت رائے کا اظہار کیاہے،یہ ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ جناب فیروز ناطق خسرو کے جتنے بھی مجموعہ ہائے کلام شائع ہوئے ہیں سب کے سب نہ صرف ضخیم ہیں بلکہ شعریات کا خزانہ لیے ہوئے ہیں اکثر شعرا انتہائی کم صفحات پر مشتمل مجموعہ ہائے کلام شائع کراتے ہیں اور اپنی کتابوں کی گنتی میں اضافہ کرتے ہیں اگر جناب فیروز ناطق خسروبھی ایسا کرتے تو ان کی آٹھ کتابوں کی بجائے چوبیس کتابیں شائع ہوتیں۔
۵۔کند قلم کی جیبھ

(تبصرے، مضامین، افسانے)
اس کتاب میں شاعری کی بجائے جناب فیروز ناطق خسرو کے وہ تبصرے شامل ہیں جو وہ وقتاً فوقتاً ناقدین، مشاہیر، شعرا و شاعرات اوراہل قلم کی نگارشات پرلکھتے رہے ہیں،جیسے ’’ثاقب انجان کی نعت گوئی‘‘۔اس کتاب کا دوسرا باب مضامین پر مشتمل ہے جس میںعلامہ اقبال،شکیل بدایونی،وادیٔ مہران کے اُردو شعرا،پروفیسر کرار حسین،نفیس احمد صدیقی، جبار واصف، اورشاعرعلی شاعر کے فن و شخصیت پر قلم کاری کی گئی ہے،اس کے سمیت چھ افسانے بھی شامل کتاب کیے گئے ہیں،خوش گوار حیرت سے یہ بات بڑے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ جناب فیروز ناطق خسرو میں نثر لکھنے کی صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔اگر وہ چاہیں تو اس سلسلے کو جاری رکھ سکتے ہیں،ان کی نثر کو بھی اعتبار حاصل ہوگا۔

۶۔ ستارے توڑ لاتے ہیں(نظمیں)
جناب فیروز ناطق خسروکا چھٹا مجموعہ’’ستارے توڑ لاتے ہیں‘‘ کے عنوان سے منصہ شہود پر جلوہ گر ہواہے جو نظموں پر مشتمل ہے یہ ان کی نظموں کو دوسرا مجموعہ ہے جس میں ’’ستارے توڑلاتے ہیں‘‘،’’لوگ بھول جاتے ہیں‘‘، ’’بدگمانی‘‘، ’’علم‘‘،’’جنم دن‘‘،’’تیرے بنا‘‘،’’من مندر میں‘‘، ’’گھن‘‘، ’’غریب‘‘، ’’دیر تک‘‘، ’’انا‘‘، ’’دشمن‘‘، ’’رحمت‘‘، ’’قیامت‘‘، اور ’’احتساب کا دن‘‘عمدہ نظمیں ہیں،ستارے توڑ لاتے ہیں میں زیادہ تر مختصر نظمیں شامل ہیں جن کو ایک منٹ کی قرأت میں ختم کیا جا سکتاہے اور گھنٹوں ا س کے معانی و مفاہیم بھی کھویا جا سکتاہے،ایک نظم ملاحظہ ہو:
جب کبھی برستی ہیں/کب وہ دیکھ پاتی ہیں/جھونپڑی غریبوں کی/یا محل امیروں کے/بارشیں تو اندھی ہیں!!

۷۔فرصت یک نفس(قطعات)
جناب فیروز ناطق خسروکا ساتواں مجموعہ ’’فرصت یک نفس‘‘ قطعات پر مشتمل ہے، ان قطعات کو مختلف عنوانات کے تحت شائع کیا گیاہے،جیسے’’بنام سبزہ گل رنگ‘‘، ’’آنکھ میں دریا‘‘،’’گفتگو خودسے‘‘،’’شہرِ طلسم وفا‘‘،’’سخنوران کامل‘‘، ’’نظیر اکبر آبادی‘‘،’’میرتقی میر‘‘،’’اسداللہ خان غالب‘‘،’’علامہ اقبال‘‘،’’ایٹمی دھماکے‘‘ ، ’’دہشت گردی‘‘،اور ’’فضائوں کے حکمران‘‘ ۔ خدائے سخن میر تقی میر پر قطعہ ملاحظہ ہو:
غنچے ہیں نوحہ خواں تو گریباں دریدہ گل
روئی ہے کس کے حال پہ شبنم تمام شب
کس کے فراق میں ہیں یہ برگ چمن نڈھال
کس خوش نصیب کا ہوا ماتم تمام شب

۸۔ہزار آئینہ(حمد ،نعت،منقبت،سلام)
جناب فیروز ناطق خسرو کا آٹھواں مجموعہ کلام ’’ہزار آئینہ ‘‘ حمد، نعت، منقبت اور سلام پر مشتمل ہے، میں نے اس کتاب کا سب سے آخر میں ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ جناب فیروز ناطق خسروکی سب سے اہم کتاب ہے جس کے بارے میں انھوں نے وصیت کی ہے کہ’’ اس کتاب کو میری قبر میں میرے سینے پر رکھ دیاجائے۔‘‘یہ ایک نئی بات ہے جس کا چرچا ہو رہاہے۔ہزار آئینہ کا دیباچہ ڈاکٹر سراج احمد قادری نے تحریر فرمایا ہے،حمد ،نعت،منقبت اور سلام کے بعد نعتیہ قطعات،منقبتی قطعات اور رثائی قطعات بھی کتاب کا حصہ بنائے گئے ہیں،ایک نعتیہ شعر ملاحظہ ہو:
کیسے در آقا سے پلٹ جائوں میں خالی
دل صورت کشکول ہے اور آنکھ سوالی

ان میں سے ایک کتاب’’ رائٹرزبک فائونڈیشن(سخن ور)‘‘ اور سات کتابیں’’ جہان حمد پبلی کیشنز،کراچی نے خوب صورت طباعت ،عمدہ سرورق اور اچھے کاغذ پر شائع کی ہیں، تمام کتابوں کی قیمت بھی مناسب ہے۔مذکورہ بالا تمام کتابیں حاصل کرنے کے لیے شاعرعلی شاعر (منیجنگ ڈائریکٹر) ’’رنگِ ادب پبلی کیشنز،آفس نمبر۵،کتاب مارکیٹ، اُردو بازار، کراچی سے رابطہ کیا جا سکتاہے۔
جناب فیروز ناطق خسرو نے اپنی عمر بھر کی ادبی کمائی قارئین شعر و سخن، ناقدین فن و ہنراور مشاہیران اُردو ادب کے سامنے پیش کر دی ہے،ان کتابوں کی روشنی میںاب ان کا اصل مقام و مرتبہ طے کیا جانا چاہیے،ہم انھوں اس کارہائے نمایاں پردلی مبادک باد پیش کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر