وجود

... loading ...

وجود

حکومت سندھ نے عام انتخابات سے قبل بھرتیاں کرنے کی خفیہ منصوبہ بندی کرلی

هفته 23 دسمبر 2017 حکومت سندھ نے عام انتخابات سے قبل بھرتیاں کرنے کی خفیہ منصوبہ بندی کرلی

الیاس احمد
کوئی اس بات سے ہزار اختلاف کرے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آصف علی زرداری سیاست کا ایک کامیاب کھلاڑی ہے ۔ انہوں نے جس طرح اپنے پتیاستعمال کیے ہیں اور ہر ایک ایشو ہر جس طرح حکمت عملی بنائی ہے وہ اب تک کامیاب نظرآرہی ہے لیکن سندھ کے عظیم شاعرحضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے ایک شعر میں اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا مانگی ہے کہ اے اللہ مجھے زیادہ عقلمند نہ بنا نا ، زیادہ عقلمند زیادہ دکھ جھیلتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے جوکامیابیاں اپنی سوجھ بوجھ سے حاصل کی ہیں ہوسکتا ہے آگے چل کر ان کو ان کامیابیوں کے بر عکس نا کامیاں ملیں۔ لیکن اب تک تویہ ہی نظرآرہاہے کہ 2008 سے لے کر 2013تک انھوں نے کامیابیاں ہی سمیٹی ہیں۔ لیکن 2013کے عام انتخابات میں جس طرح پیپلز پارٹی کو پنجاب ، خیبر پختون خوا میں شکست ملی اس سے اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی اب سکٹرتی جا رہی ہے اور یہ بات آصف علی زرداری بھی محسوس کر رہے ہیں کہ کہیں پیپلز پارٹی سندھ میں بھی سکڑ نہ جائے۔

عوام اور میڈیا کے سامنے جتنا بھی چھپا یا جائے لیکن اپنے ضمیر کے سامنے تو سب کچھ عیاں ہے کہ کسی طرح عام انتخابات میں ’’چمک‘‘ دکھا کر نا کامی کو کامیابی میں بد لا گیا ۔ کس طرح سوٹ کیس بھر کر ڈی آر اور کو دئیے ؟ یہ ایک طویل کہانی ہے کیونکہ جس روز الیکشن ہونے تھے اسی رات دیر تک پی پی پی کو 25سے 30 صوبائی حلقوںکی نشتوں پر نا کامی ملنے کے غیر حتمی نتائج آگئے تھے پھر ـ’’کچھ لوکچھ دو‘‘ کی بنیاد پر نتائج دوسرے اور تیسرے روز تبدیل ہوگئے اور پی پی پی کو سادہ اکثریت مل گئی اور پھر پچھلے ساڑھے چار سالوں میں جس طرح لوٹ مار اور سرکاری خزانہ میں ڈکیتیاں کی گئی ہیں آخران کافطری نتیجہ تو نکلنا ہے اس لیے اب ان سیاہ کار ناموں کو ہم نظر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کی قیادت نے اب فیصلہ کیا ہے اس بار عام انتخابات سے پہلے سرکاری خزانہ لٹایا جائے خزانہ میں پیسے ہیں یا نہیں لیکن لوگوں کو نوکریاں دی جائیں تاکہ عام آدمی عام انتخابات سے پہلے پی پی پی کا حامی بن جائے اس کو حکومت کے پانچ سالوں کی کرپشن یاد نہ رہے۔

اس لیے پی پی پی کی ’’عقلمند‘‘ قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جس طرح پیر پگارا کی سر براہی میں کربینہ ڈیموکریٹکس الائنس سرگرم ہوا ہے اس کے جلسے میں بری تعداد میں لوگ شریک ہو رہے ہیں اس کے علاوہ جس طرح عمران خان اور نواز شریف سندھ میں آکر جلسہ عام کر رہے ہیں ان میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہورہی ہے۔ اس سے تو واضح ہو گیا ہے کہ عام انتخابات میں اس مر تبہ وہ نشستیں ہاتھ سے نکل جائیں گی جن پر 2013کے عام انتخابات میں چندووٹوں سے کامیانی ملی تھی۔ اگر ان 30نشستوں میں حزب اختلاف کی جماعتیں کامیاب ہوئیں تو پھر آئندہ سندھ حکومت بنانے کاخوا ب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاست کے کھلاڑی آصف علی زرداری نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سندھ میں عام انتخابات سے قبل 15سے 20ہزار نئی ملازمتیں دی جائیں گی۔ بلاول ہاؤس میں آصف زرداری ، بلاول بھٹو زرداری ، فریال تالپر‘ مرا، علی شاہ کے درمیان طویل بہت ومباحثہ کے بعد یہ طے پا یا کہ موجودہ ایم پی ایز کو دو دو سو نوکریاں دی جائیں کی تاکہ وہ نوکریوں کے نام پر ووٹ لے سکیں۔ اجلاس کے دوران محکمہ خزانہ سندھ کی جانب سے فنڈزنہ ہونے کا عذرپیش کیاگیاتھا اس کے متبادل یہ نکالاگیا کہ صوبے میں جار ی ترقیاتی کام فوری بند کرائے جائیں اور ٹھیکیداروں کی پرانی ادائیکیاں بھی روک دی جائیں ۔وفاقی حکومت سے این ایف سی ایوارڈکے تحت ملنے والی رقم ملے وہ بھی نئی ملازمتوں پر خرج کی جائے ۔

اس طرح 20ہزار نئی نوکریاں دینے سے حکومت سندھ کی ہرطرف واہ واہ ہوجائے گی اور لوگوں کو یہ دلاسا اور آسرا دیا جائے گا کہ جیسے ہی عام انتخابات میں پی پی پی کامیاب ہو گی تو مز یہ نوکریاں دے گی یوں لوگ اس لالچ میں زیادہ سے زیادہ ووٹ دیں گے اور یہ ہی ایک راستہ ہے جس سے اپوزیشن جماعتوں کو شکست دی جا سکتی ہے اس فیصلے یہ عمل کرانے کے لیے بلاول ھاؤس میں ایک سیل قائم کیا گیا ہے جس میں یوری ایک ٹیم بیٹھ گئی ہے‘ہرایم پی اے سے فہرستیں لے کر وزیراعلیٰ ھاؤس سے بغیر نام کے دستخط کردہ (بلینک) آرڈر منکوائے گئے ہیں تاکہ ان آرڈرز پر ایمری ایز کے سفارش کردہ نام لکھ کر آرڈرز تیار کیے جاسکیں ۔ پھر ایک بند الفافہ بنا کر ایم پی اے کا لکھ کر وزیر اعلیٰ ھاؤس کو دیا جائے کا۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس ایم پی اے کو آرڈرز کا لفافہ دے گا تاکہ وہ جاکر اپنے حلقہ انتخاب میں نو جوانوں کو نوکریوں کی خوشخبر ی سنائے اور اپنے حلقہ انتخاب کے عوام سے دوبارہ ووٹ لے کردوبارہ کامیاب ہوسکے ۔

اس سارے معاملے میں صرف چیف سکیر یٹری کو اعتماد میں لیا گیا ہے تاکہ تمام معاملات میں چیف سیکریٹری معاون رہیں۔ ویسے بھی چیف سیکرٹری کا پورا خاندان پیپلزپارٹی سے منسلک ہے ۔ اس سب کے باوجودیہ بات بھی اپنی جگہ پر درست ہے کہ چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن خوداچھی شہرت رکھنے والے افسر ہیں اور متنازعہ نہیں ہیں۔

اسی لیے انھوں نے اپنا دامن کرپشن سے پاک رکھا ہوا ہے ۔ اب ملازمتیں دینے کے معاملہ پر چیف سیکریٹری سندھ نے تمام محکموں کے افسران سے کہا ہے کہ جن محکمو ں نے پہلے اخبارات میں اشتہارات دئیے تھے ان کے آرڈرز تیار کہ لیے جائیں لیکن کسی بھی امید وار کا نام نہ لکھا جائے نام کی جگہ خالی جھوڑدی جائے اس طرح خاموشی کے ساتھ ملازمتیں دینے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ آصف زرداری کی یہ حکمت عملی اپنے طور پر تو اچھی ہے لیکن اس پر کتنا عمل ہوتا ہے اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے لیکن اس مرتبہ جس طرح عوام اور سوشل میڈیا نے شعور بیدار کیا ہے حقائق سامنے لائے ہیں اس سے تو واضح ہو گیا ہے کہ اگر عام انتخابات منصفانہ ہونے تو پھر پیپلز پارٹی کو شاید سادہ اکثریت بھی نہیں مل سکے گی اس لیے ملازمتیں دے کر لوگوں کو راغب کیا جا رہا ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

مضامین
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر