وجود

... loading ...

وجود

قبضہ مافیا اعلیٰ عدلیہ کے شکنجے میں!

جمعه 22 دسمبر 2017 قبضہ مافیا اعلیٰ عدلیہ کے شکنجے میں!

راؤ محمد شاہد اقبال
سندھ میں زمینوں کے قبضوں کے ایسے ایسے طریقے متعارف ہوچکے ہیں جن کی تفصیلات کے بارے میں سن کر ایک عام شخص کی روح بھی کانپ جاتی ہے۔ چائنہ کٹنگ، رشین کٹنگ، اور امریکن کٹنگ وہ خوبصورت نام ہیں جو صوبہ بھر میں مختلف قسم کے قبضوں کے لیے رائج ہیں ، زمینوں پر قبضوں کی اس جنگ میں کتنے معصوم اور بے گناہ لوگ قبضہ مافیا کے ہاتھو ں اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں اس کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں، معاملہ کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب میڈیا کے دن رات چائنہ کٹنگ کا راگ الاپنے کے بعد بھی کسی کانوں پر جوں تک نہ رینگی تو آخر کا عدلیہ کو ہی سندھ کے باسیوں کو قبضہ مافیا کے عفریت کے چنگل سے بچانے کے لیے حرکت میں آنا پڑا ، جب سریم کورٹ نے چائنہ کٹنگ اور زمین پر ناجائز قبضوں سے متعلق کیس کی سماعت کی تو پورے سندھ کو ایک طرف رکھیں شہر قائدکراچی میں 35 ہزار رفاہی پلاٹوں کی چائنہ کٹنگ کا انکشاف ہوا۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس گلزار احمد نے کے ڈی اے افسران کو کراچی کی حالت زار پر سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو چائنہ کٹنگ اورقبضوں نے برباد کرکے رکھ دیا ہے اور کوئی جگہ عوام کی تفریح کے لیے نہیں چھوڑی گئی ، آخری بار ایوب خان کے زمانے میں تجاوزات کے خلاف کاروائی ہوئی تھی تو کراچی صاف ہوگیا تھا اور یورپ کا شہر لگتا تھا، لوگ لندنے جانے کے بجائے کراچی گھومنے پھرنے کو ترجیح دیتے تھے، تاہم اب اگر اس بدنصیب شہر میں کسی بھی طرف نظر دوڑائی جائے تو شہر غلاظت اور گندگی کا بدبو دار منظر پیش کرتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی اپنے دفتروں میں بیٹھ کر کچھ سوچا ہے کہ کراچی کا کیا بنے گا۔ معزز جج نے اپنے ریمارکس میں سیکرٹری لینڈ پر بطور خاص سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تم جیسے لوگ کراچی کے دشمن ہیں تمہیں شرم نہیں آتی، جو حالات چل رہے ہیں ، اس میں عام آدمی کے لیے سانس لینا مشکل ہوگیا ہے۔ کراچی کی زمین کو کیا آپ سب نے اپنی ذاتی میراث سمجھا ہوا ہے جب چاہا جسے چاہتے ہو پلاٹ الاٹ کردیتے ہو اور افسوس یہ کہ کراچی کا سبزہ بھی ختم کر کے رکھ دیا ہے ، اب گلی محلوں میں بچے بھی کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر نہیں آتے کچھ تو خیال کریں۔
اپنے دفاتر سے باہر بھی نکلا کریں۔ گلشن اقبال میں آپ لوگوں نے کیبنز لگوادیئے ہیں۔ ڈسکو بیکری کے باہر دیکھیں کیا حال ہے، وہاں دلپسند مٹھائی والا بیٹھا ہے کیا یہ کوئی غریب آدمی ہے؟ کیا اب ہم یہ بھی بتائیں کہ آپ کی کیا ذمہ داری ہے۔ جسٹس گلزار نے کراچی کے اوریجنل ماسٹر پلان کی روشنی میں رفاہی پلاٹوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے بلدیاتی اداروں کو کراچی میں چائنہ کٹنگ کے 35 ہزار پلاٹوں کو واگزار کرنے اور تمام رفاہی پلاٹوں کی الاٹمنٹ فوری منسوخ کرنے اور چائنہ کٹنگ کے پلاٹس ہر صورت خالی کرنے کے احکامات جاری کردیئے ، بظاہر عدالت عظمیٰ کے احکامات پر ادارہ ترقیات کراچی کی جانب سے شہر میں50 ارب روپے کی زمین واگزار کرانے کے لیے بڑے پیمانے پر کاروائی شروع کردی گئی ہے اور اب تک 90سے زائد شادی ہالوں کو مسمار بھی کیا گیا ہے لیکن رفاہی پلاٹوں پر قائم بااثر افراد کے شادی ہالوں کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیپا چورنگی پر قائم شادی ہال جہاں اب نجی تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں ، یہ بھی ایک رفاہی پلاٹ پر قائم ہے لیکن کے ڈی اے حکام کی ملی بھگت سے اس کی تجارتی سرگرمیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے، گلشن چورنگی پر قائم شادی اور ایک نجی اسکول بھی کئی سال سے مال کمانے میں لگا ہوا ہے اور یہ بھی رفاہی پلاٹ پر تعمیر ہے لیکن اب تک اس کے خلاف بھی کاروائی نہیں کی گئی۔
ان واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کے ڈی اے حکام رفاہی پلاٹوں کی سرکاری زمین واگزار کرانے میں پسند اور ناپسند اور سیاسی اثرورسوخ کا بطور خاص خیال رکھ رہے ہیں ، قبضہ کی گئیں وہ تمام جگہیں جو با اثر افراد کے زیر استعمال ہیں، اْن تمام غیر قانونی تعمیرات کو کے ڈی اے حکام کی جانب سے ٹیکنیکل طریقے سے بچانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ جس سے عوام الناس میں یہ تاثر تقویت پارہا ہے کہ یہ تمام کاروائیاں صرف نمائشی تو نہیں ہیں؟ جنہیں وقتی طور پر عدلیہ کے دباؤ میں آکر انجام دیا جارہا ہے اور جیسے ہی عدلیہ کی توجہ دوسرے اْمور کی طرف مرکوز ہوگی قبضہ مافیا کو دوبارہ سے فری ہینڈ دیا جائے گا۔
اس لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اعلیٰ عدلیہ چائنا کٹنگ کے خلاف ہونے والی ایک ایک کاروائی کابذات خود باریک بینی سے معائنہ کرے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کے ڈی اے کے حکام قبضہ مافیا اور با اثر سیاسی افراد اپنی آپس کی ملی بھگت سے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ سندھ کے عام عوام کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں سے بھی اْمید لگائی جارہی ہے کہ قبضہ مافیا کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کا دائرہ کا ر اب صرف کراچی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے جلد از جلد پورے سندھ میں پھیلا یا جائے گا کیونکہ قبضہ مافیا نے کراچی شہر سے کہیں زیادہ براحال تو باقی سندھ کا کیا ہوا ہے۔
اندورن سندھ میں تو یہ حال ہے کہ پوری کی پوری ہاؤسنگ اسکیمیں ہی قبضہ کی زمینوں پر بنائی جارہی ہیں۔ قبضہ مافیا کو سندھ کے شہروں میں کہیں بھی پر کشش تجارتی جگہیں نظر آتی ہیں۔ وہ اس پر قبضہ کرکے اپنی مرضی کی تعمیرات کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اندرون سندھ میں قبضہ مافیا کی دہشت اور غنڈہ گردی کا اندازہ تو صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے دنیا کے سب سے بڑے فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے ایدھی سینٹرز کو بھی نہیں بخشا ہے۔
سندھ کے شہروں میں قائم بیشتر ایدھی سینٹرز سے ایدھی کے رضاکاروں کو بزور ِ طاقت بے دخل کرکے اْن پر قبضہ کیا جاچکا ہے، یہ تمام صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ قبضہ مافیا کے خلاف شروع ہونے والی اس کاروائی کا دائرہ کار جلد از جلد پورے سندھ تک پھیلایا جائے تاکہ کئی دہائیوں سے ظلم کی چکی میں پسنے والے سندھ عوام بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط وجود - منگل 27 جنوری 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار وجود - پیر 26 جنوری 2026

گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

مضامین
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے! وجود منگل 27 جنوری 2026
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے!

بھارتی مسلمانوں کا قتل عام وجود منگل 27 جنوری 2026
بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود پیر 26 جنوری 2026
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود پیر 26 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود پیر 26 جنوری 2026
صبر یا جبر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر