وجود

... loading ...

وجود

امریکی صدرکی نئی قومی سلامتی پالیسی ‘پاکستان سے پھر ڈومورکامطالبہ

جمعرات 21 دسمبر 2017 امریکی صدرکی نئی قومی سلامتی پالیسی ‘پاکستان سے پھر ڈومورکامطالبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نئی قومی سلامتی کی پالیسی جاری کرتے ہوئے یاد دہانی کرائی ہے کہ پاکستان، امریکا کی مدد کرنے کا پابند ہے کیونکہ وہ ہر سال واشنگٹن سے ایک بڑی رقم وصول کرتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں رونالڈ ریگن عمارت سے خطاب کے دوران کہا کہ ہم نے پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ جب ہم مسلسل شراکت داری قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ہم ان کے ملک میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی دیکھنا چاہیں گے کیونکہ ہم ہر سال پاکستان کو بڑے پیمانے پر ادائیگی کرتے ہیں لہٰذا انہیں مدد کرنا ہوگی۔امریکی صدر کی تقریر میں پاکستان کا واحد حوالہ دیا گیا تھا، اگرچہ 56 صفحات پر مشتمل دستاویزات میں مزید تفصیلات شامل تھی، جس میں پاکستان پر زور دیا گیا تھا کہ وہ یقین دہانی کرائے کہ اپنے جوہری اثاثوں کا ذمہ دار اور نگہبان ہے۔نئی پالیس کی دستاویزات میں مزید کہا گیا کہ امریکا پاکستان سے چلنے والے دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے گروہوں سے خطرات کا سامنا کررہا ہے۔تاہم نئی پالیسی میں مقامی سطح پر مزید توجہ مرکوز رکھی گئی ہے اور دہشت گردوں اور جرائم کی بین الاقوامی تنظیموں کو ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا بین الاقومی خطرہ بتایا گیا ہے۔پالیسی میں بتایا گیا کہ ان خطرات سے نمٹنے اور عسکریت پسندوں کو امریکا میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے لاٹری ویزا اور چین منتقلی ختم کرکے امریکی امیگریشن کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔
ہمارا یہ المیہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے قومی خارجہ پالیسی کا تعین کرتے ہوئے اس کا جھکائو امریکا کی جانب کردیا تھا جبکہ اس وقت سوویت یونین کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کو دورے کی دعوت بھی دی جاچکی تھی تاہم انہوں نے یہ دعوت مسترد کی اور اپنے پہلے دورے پر امریکا چلے گئے۔ اس وقت سے ہی ہماری بدبختی کا آغاز ہوا اور ہم امریکی شکنجے میں جکڑتے چلے گئے۔ اقوام متحدہ میں بھی امریکا کا دم بھرتے رہے مگر اس کا صلہ ہمیں 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں امریکا نے طوطاچشمی کی صورت میں دیا۔ ان جنگوں کے دوران امریکا کی جانب سے ہمیں فوجی کمک بھجوانے کے اعلانات ہی ہوتے رہے جن پر کبھی عملدرآمد نہ ہوا۔ 71ء کی جنگ کے دوران تو ہماری کمک کے لیے روانہ کیا گیا ساتواں امریکی بحری بیڑہ ہماری کسی بندرگاہ پر لنگرانداز ہی نہ ہوسکا اور اس کا انتظار کرتے کرتے ہم سانحہ سقوط ڈھاکہ سے دوچار ہوگئے۔ اسکے برعکس 70ء کی دہائی میں سوویت یونین کے ساتھ افغانستان میں شروع کی گئی سرد جنگ میں امریکا نے ہمیں خوب استعمال کیا اور ہمارے اس وقت کے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ضیاء الحق نے امریکی احکام کی تعمیل کرتے ہوئے اس جنگ کو کفروالحاد کے ساتھ جنگ کا نام دیا اور سوویت فوجوں کیخلاف گوریلا جنگ کے لیے افغان مجاہدین کی کمک پہنچاتے رہے۔ پاکستان کے اس کردار کی وجہ سے ہی امریکا کو اس جنگ میں غلبہ حاصل ہوا اور سوویت یونین ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا مگر امریکا نے اس کا صلہ ہمیں افغان مجاہدین کی سرپرستی ترک کرکے دیا۔ نتیجتاً یہی افغان مجاہدین ہتھیار بند ہو کر ہمارے لیے وبال جان بنے جبکہ سرد جنگ کی بدولت لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ بھی ہمارے سر پر آن پڑا جو آج تک ہماری معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ بندوق اٹھانے والے افغان مجاہدین بعدازاں طالبان کی شکل میں سامنے آئے اور القاعدہ کی سرپرستی میں چلے گئے۔ جب یہ سانحہ نائن الیون کے حوالے سے امریکا کے لیے مصیبت بنے تو امریکا نے افغانستان میں نیٹو فورسز کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر جنگ شروع کرکے ہمارے اس وقت کے جرنیلی آمر مشرف کو اپنا فرنٹ لائن اتحادی بنالیا جنہوں نے امریکا کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے معاہدے کی بنیاد پر پاکستان کے چار ایئربیسز بھی اسکے حوالے کردیئے جہاں سے اڑ کر نیٹو فورسز کے جنگی جہاز افغانستان کو تورابورا بناتے رہے جبکہ ہماری اپنی سرزمین پر بھی امریکی فضائی کارروائیاں انہی ایئربیسز سے کی جانے لگیں۔ پھر 2004ء میں امریکا نے ہماری سرزمین پر ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی شروع کردیا جس کے ردعمل میں طالبان اور دوسری تنظیموں کے پلیٹ فارم پر موجود انتہاء پسندوں نے پاکستان میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کا سلسلہ شروع کیا جس کے باعث ہمارے دس ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں اور متعدد قومی سیاسی قائدین سمیت 70 ہزار سے زائد شہری دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ کر اس جہان فانی سے گزرچکے ہیں جبکہ ہماری معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ اسکے علاوہ دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے بیرونی دنیا میں بھی پاکستان کا تشخص خراب ہوا جبکہ ہمارے مکار دشمن بھارت نے بھی پاکستان میں پیدا ہونیوالی عدم استحکام کی صورتحال کا خوب فائدہ اٹھایا اور ہماری سلامتی کمزور کرنے کی گھنائونی سازشوں میں مصروف ہوگیا۔
سراسر پاکستان مخالف اس امریکی پالیسی کے بعد پاکستان کے لیے اسکے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار برقرار رکھنے کی بادی النظر میں کوئی گنجائش نہیں رہی۔ اسکے باوجود پاکستان نے امریکا کے ساتھ اعتماد سازی کی بحالی کی کوششیں برقرار رکھیں مگر امریکی طوطا چشمی کی اب کوئی حد ہی نظر نہیں آرہی۔ گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی پالیسی جاری کرتے وقت جس طرح پاکستان کو فوکس کرکے اس سے ڈومور کے تقاضے کیے وہ پاکستان سے دشمنی والے کردار سے کسی صورت کم نہیں جبکہ ایک آزاد و خودمختار ایٹمی ملک کے ساتھ اس لہجے میں بات کرنا اسکی خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
اس حوالے سے پاک فوج نے امریکا کی جانب سے امداد کا ڈھونڈورا پیٹنے پر اسے واضح جواب دیدیاہے ،ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور نے کہاہے کہ بحیثیت سپر پاور امریکا کا دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون ہیں ،امریکہ نے جو سیکیورٹی کی مد میں امداد کی ہے وہ اپنے قومی مفاد میں کیاہے۔
تفصیلات کے مطابق آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کر دہ بیان میں کہا گیاہے کہ بحیثیت سپرپاورامریکا کا دنیا کے مختلف ممالک کیساتھ دفاعی تعاون ہے،امریکا نے جوسیکیورٹی کی مد میں 50 ارب ڈالر کی امداد کی ہے وہ اپنے قومی مفاد میں کی ہے،ہم نے اپنے ملک کے مفاد میں اس جنگ کو اپنی جنگ بناکرلڑا،پاکستان کو پیسے نہیں چاہئیں صرف قربانیوں کا اعتراف ہونا چاہیے ،سب کوپتا ہے دہشتگردی کیخلاف جنگ کیسے شروع ہوئی اورکیسے لڑی گئی۔ ادھرترجمان دفترخارجہ نے بھی امریکی صدرکے الزامات کوایک بار پھرمستردکردیاہے ۔ اورڈونلڈٹرمپ پرواضح کردیاہے کہ وہ علاقے میں کسی صورت بھارت کی تھانیداری قبول کرنے کوتیارنہیں۔ہمارے خیال میں یہی وقت ہے کہ قومی خارجہ پالیسی میں امریکا کے ساتھ تعلقات اور اسکے فرنٹ لائن اتحادی کے کردار پر نظرثانی کی جائے اور اپنی خارجہ پالیسیاں سراسر قومی مفادات اور ملکی سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ منسلک کی جائیں۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط وجود - منگل 27 جنوری 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار وجود - پیر 26 جنوری 2026

گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

مضامین
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے! وجود منگل 27 جنوری 2026
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے!

بھارتی مسلمانوں کا قتل عام وجود منگل 27 جنوری 2026
بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود پیر 26 جنوری 2026
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود پیر 26 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود پیر 26 جنوری 2026
صبر یا جبر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر