وجود

... loading ...

وجود

پہاڑی علاقوں میں پانی پہنچانے کی سستی ٹیکنالوجی

پیر 18 دسمبر 2017 پہاڑی علاقوں میں پانی پہنچانے کی سستی ٹیکنالوجی

دنیا بھر میں پہاڑی علاقوں میں آباد مکینوں کے لیے ان کے قریب واقع چشموں یا ندیوں سے گھروں تک پانی پہنچانے کے لیے ریم پمپس استعمال ہوتے ہیں جو عمومی طور پر بجلی یا توانائی کے دوسرے ذرائع سے چلتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے غریب مکین ایسے پمپس کو لگوانے اور ان کے خرچ برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور اپنی روز مرہ کی ضروریات کے پانی کے لیے روزانہ پیدل یا اپنے بار برداری کے جانوروں کے ذریعے اپنے گھروں سے نیچے میلوں دور واقع چشموں اور ندیوں کا رخ کرتے ہیں۔حال ہی میں ایک پاکستانی انجنیئر رحمت اللہ کندی نے اس پانی کے مسئلے کے حل کے لیے ایک انتہائی سستا اور انتہائی سادہ ریم پمپ ڈیزائن کیا ہے جسے صوبہ خیبر پختون خوا کے کچھ دیہاتوں میں کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے، جب کہ پہاڑی علاقوں کی ترقیات کا ایک بین الاقوامی ادارہ انٹر نیشنل سنٹر فار دی انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپ مینٹ اس پمپ کو ہنزہ میں تجرباتی طور پر نصب کر رہا ہے۔پروگرام ہر دم رواں ہے زندگی میں گفتگو کرتے ہوئے رحمت اللہ کندی نے کہا کہ ان کے ریم پمپ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بہت سادہ ہے، اور اس میں صرف دو والو ہیں اور اسے چلانے کے لیے نہ تو بجلی درکار ہوتی ہے اور نہ ہی توانائی کی کوئی اور قسم ، بلکہ یہ اسی پانی کی طاقت سے چلتا ہے جسے کھینچ کر اوپر لے کر جاتا ہے۔ پانی اوپر سے آتا ہے اسے اچانک روکتے ہیں اور اس کی توانائی کو پریشر کی فارم میں اکٹھا کرتے ہیں اور اسی توانائی کو استعمال کر کے پانی کو اوپر کھینچتے ہیں۔اور اس کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اسے نصب کرنے یا اس کی حفاظت کے لیے کوئی زیادہ مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اسے ایک عام سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی آسانی سے نصب بھی کر سکتا ہے اور چلا بھی سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ریم کی انہی خصوصیات کی وجہ سے اب ایک بین الاقوامی ادارہ اسیہنزہ میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر شروع کر رہا ہے۔ اس پائلٹ پراجیکٹ کے انچارج اور پاکستان میں ادارے کے انڈس بیسن پراجیکٹ کے ایسو سی ایٹ کو آرڈی نیٹر مدثر مقصو نے ہر دم رواں ہے زندگی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ جس کا ہیڈ کوارٹرز نیپال میں ہیجو کوہ ہندو کش کے پہاڑی علاقے کی ترقیات سے متعلق امور پر ریسرچ کرتا ہے۔ اس میں میانمر سے لے کر پاکستان اور افغانستان تک آٹھ ملک شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریم پمپ ٹکنالوجی کوئی نئی ٹکنالوجی نہیں ہے، لیکن پاکستان میں اس ٹکنالوجی کو باقاعدہ طور پر متعارف کرانے میں رحمت اللہ کندی کا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے ایک ایسا واٹر ریم پمپ ڈیزائن کیا ہے جو اگر امریکہ یا کسی دوسرے ملک سے منگوایاجائے تو ایک ہزار ڈالر میں دستیاب ہو گا، لیکن پاکستان میں یہ پمپ صرف تین سو ڈالر میں دستیاب ہو رہا ہے۔ اور اگر اس کا استعمال بڑھا تو یہ مزید سستا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ پاکستان میں پہلی بار کسی دریا کے اوپر ریم پمپ لگا کر پانی کو اونچائی تک لے جا کر وہاں قطرہ قطرہ ا?بپاشی کا نظام قائم کر کے وہاں باغات لگانے کی کوشش کر ر ہا ہے۔ اس سے قبل وہ سولر انرجی کا ایک ایسا پائلٹ پراجیکٹ ہنزہ میں لگا چکا ہے اوراب وہ رحمت اللہ کندی کا یہ ریم پمپ پائلٹ کر رہا ہے۔ اس کی وجہ پر روشنی ڈالتے ہوئے مدثر نے کہا کہ شمالی علاقہ جات کے پہاڑوں سے آنے والا پانی گلیشیئرز یا برف کے پگھلنے سے بنتا ہے، جس میں نمک اور مٹی دونوں شامل ہوتے ہیں۔ عام پمپ اس نمک اور مٹی سے جام اور ناکارہ ہو جاتے ہیں جب کہ یہ نیا ریم پمپ پانی میں شامل نمک اور مٹی دونوں کو ساتھ لے بلند پہاڑی مقامات پرپہنچا دیتا ہے ہاں مٹی اور نمکیات دستیاب نہیں ہوتے اور یوں وہ ان مقامات پر فصلوں کی آبپاشی اور ان کی کاشت ممکن بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ادارے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی کوئی اختراعی کوشش کر دے جسے حکومت اور دوسرے ادارے بڑھائیں اور پالیسی لیول پر کوئی کام ہو سکے اور پہاڑوں کے مکینوں کی زندگی میں بہتری لا ئی جا سکے۔
ایبٹ آباد کے ایک پہاڑ ی گاؤں شاہ پور کے ایک رہائشی اور کمیونٹی لیڈر ضیاء الرحمان نے اس پمپ کو اپنی بستی میں لگوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہر دم رواں ہے زندگی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی بستی کے تین سو مکینوں کو اس پمپ کی مدد سے صاف پانی چوبیس گھنٹے ان کے گھر کے دروازوں تک پہنچ رہا ہے اور اس پمپ کی مدد سے ان کے گاؤں کے لوگ میلوں دور چشموں اور ندیوں تک پیدل سفر کر کے پانی لانے کی مشکل سے حاصل کر چکے ہیں۔ چترال میں دریا کنارے ایک پہاڑ پر واقع ایک ہوٹل کے مالک پرنس سراج الملک نے بھی حال ہی میں رحمت اللہ کندی کے اس ریم پمپ کو اپنے پہاڑی علاقے میں لگوایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنا ہوٹل ایک بلند پہاڑی پر بنایا ہے جہاں پینے کا پانی تو دستیاب تھا لیکن اس مقام پر باغ لگانا بہت مشکل کام تھا لیکن اس نئیریم کی مددسے وہ چلغ?وزوں کے ساڑھے چار ہزارپودوں کے اپنے باغات کو نیچے واقع دریا کے پانی سے سیراب کر رہے ہیں۔ رحمت اللہ کندی نے کہا کہ ان کے پمپ کو اب بڑیپیمانے پر تیار کیا جاسکتا ہے،وہ اس کی ٹسٹنگ بھی کر چکے ہیں اوراب انہیں ایسے اداروں کی ضرورت ہے جواس ریم پمپ کو ایسے علاقوں میں فروغ دیں جہاں اس کی از حد ضرورت ہے۔ اگرچہ اس کی قیمت بہت زیادہ نہیں ہے لیکن ان علاقوں کے بہت سے غریب لوگ اسے لگوانے کی ابھی بھی استطاعت نہیں رکھتے۔پہاڑوں کی ترقیا ت کے ادارے، انٹر نیشنل سنٹر فار دی انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپ مینٹ کے عہدے دار مدثر مقصود نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب رحمت اللہ کندی کا یہ ریم پمپ پاکستان کے تمام پہاڑی علاقوں کے مکینوں کے لیے ایک رحمت بن جائے گا جو اس کی مدد سے نہ صرف اپنے روز مرہ کے استعمال کی پانی کی ضروریات پوری کر سکیں گے بلکہ اپنے پہاڑی علاقے میں آبپاشی کر کے فصلیں بھی اگا سکیں گے، اپنے مویشیوں کو بہتر طو ر پر پال سکیں گے اور اپنی اقتصادی حالت کو بہتر بنا سکیں گے۔ جب کہ اس ٹکنالوجی کی مدد سے پاکستان میں دریاؤں کے کنارے جتنی بھی زمینیں ہیں انہیں آباد کیا جا سکے گا۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر