وجود

... loading ...

وجود
پیر 08 جون 2026

استقبال کتب

اتوار 17 دسمبر 2017 استقبال کتب

کتاب:اُردو ناول …تاریخ و ارتقا(تنقید)
(آغاز سے اکیسویں صدی تک)
مصنف:ڈاکٹر محمد اشرف کمال
قیمت:۸۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی
ڈاکٹر محمد اشرف کمال کی دودرجن سے زائد تصانیف زیور طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں،وہ ایک ماہر تعلیم ہیں اس لیے ان کی زیادہ تر کتابیں نصابی نوعیت کی ہوتی ہیں جو ریسرچ ورک میں کام آتی ہیں،’’اُردو ناول…تاریخ وارتقا‘‘ بھی ایسی ہی کتاب ہے جس میں ناول کیا ہے،ناول کی اقسام،ناول کے فنی لوازمات، پلاٹ، کہانی، کردار، مکالمہ، منظر نگاری،زبان و بیان،اُردو ناول کی تاریخ اور سینکڑوں ناول نگاروں کا تذکرہ لکھا گیا ہے۔ان ناول نگاروں میں ڈپٹی نذیر احمد سے شاعرعلی شاعر تک کا تذکرہ کیا گیاہے،ان کی ناول نگاری کا جائزہ لیاگیاہے،۵۱۲ صفحات پر مشتمل یہ کتاب ناول اور ناول نگاروں کے حوالے سے بڑا تحقیقی کام ہے،جو ریسرچ اسکالرز کی ضروریات کو بھی پوری کرتاہے۔ خواتین ناول نگاروں کی ناول نگاری پر بھی بھر پور روشنی ڈالی گئی ہے۔ان میں عذرا عباس، نجمہ سہیل،بشرارحمن،طاہرہ اقبال، عذرا اصغر، نسیم انجم اور معتدد خواتین افسانہ نگاروں کا تذکرہ کیا گیاہے۔
……………
کتاب :ناول کا نیا جنم(تحقیقی جائزہ)
(مشرق و مغرب کے حوالے سے)
محقق :خرم سہیل
قیمت:۱۲۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی
’’ناول کا نیا جنم‘‘ایک ایسی کتاب ہے جس میں مشرق و مغرب کے حوالے سے ناول پر تنقیدی، تحقیقی، تجزیاتی اور مطالعاتی مضامین شامل اشاعت کیے گئے ہیں،اس کتاب نہ صرف ناول پر تنقیدی مضامین ہیں بلکہ ناول کی تاریخ،ارتقا،ناول نگاروں کے انٹرویو، ناول کے اجزائے ترکیبی،مغرب میں ناول کا تخلیقی پس منظر،انگریزی زبان میں ناول نگاری کی ابتدا،انگریزی کے بڑے ناول نگار،مغربی ناول نگاروں کی شخصیت اور ان کی اہم تخلیقات کا جائزہ لیاگیاہے،اکیسویں صدی اور عالمی ادب کے معروف ناول نگاروں ،انیسویں صدی میں اُردو ناول نگاری کی ابتدا،آزادی کے بعد اُردو ناول کے خدوخال، آزادی کے بعد اُردو ناول کی نئی صورت حال،ترقی پسند تحریک کا اُردو ناول پر اثر،اُردو ناول میں فسادات، ہجرت، اُردو ناول کے ہمہ گیر سروکار،اُردو ناول پر مختلف فلسفہ و فکر کے اثرات اورناول نگاروں کے بارے میں بے شمار معلومات اس کتاب کا حصہ ہیں۔یہ کتاب فکشن میں یار رہ جانے والی ہے۔
……………
کتاب:مزے مزے کے مشاعرے(مزاحیہ مضامین)
مؤلف:شجاع الدین غوری
قیمت:۵۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی
شجاع الدین غوری کا میدان مزاح نگاری ہے ان کی اب تک طنزو مزاح کی چار کتابیں ۱۔یہ اقبالیے(علامہ اقبال پر مزاحیہ مضامین)،۲۔بذلہ سنجانِ دوعالم (کراچی کے مزاح نگاروں کا انتخاب)، ۳۔نیرنگ مزاح(مزاحیہ نثر پارے)، ۴۔ مزے مزے کے مشاعرے (مزاحیہ مشاعروں کی روداد)شامل ہیں،زیرنظر کتاب اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے جس میں برصغیر پاک و ہند کے حوالے سے مزاحیہ مشاعروں کی روداد مختلف مزاح نگاروں کے قلم سے یکجا کی گئی ہیں جن میں مولانا عبدالماجد دریا آبادی،نیاز فتح پوری،حاجی لق لق،مرزا فرحت اللہ بیگ،عشرت رحمانی،شوکت تھانوی،کنہیا لال کپور،مجید لاہوری،مشتاق احمد یوسفی،ابن انشا،ارشد محمود،سید ضمیر جعفری،شجاع الدین غوری،برق آشیانوی،مجتبیٰ حسین،یوسف ناظم،رام لال نابھوی،عظیم اختر،شاہدہ صدیقی،منظور عثمانی،اسد رضا،محمود فیضانی شامل ہیں،مزاح پڑھنے والوں کے لیے یہ ایک نایاب تحفہ ہے جسے مطالعہ کرتے وقت ہنسی ضبط کرنا محال ہو جاتاہے۔
……………
کتاب:خوابوں کا جزیرہ(افسانے)
افسانہ نگار:رضیہ فصیح احمد
قیمت:۶۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی
رضیہ فصیح احمد فکشن کا ایک بڑا نام ہے،جن کے متعدد افسانوی مجموعے اور کئی ناول شائع ہو چکے ہیں،آج کل ان کے فن و شخصیت پر تحقیقی کام ہو رہا ہے،ان کے قلم کی روانی انھیں بے چین رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی کوئی نہ کوئی نئی کتاب منظر عام پر آتی رہتی ہے،زیرنظر کتاب رضیہ فصیح احمد کے غیر مطبوعہ افسانوں کا مجموعہ ہے،اس سے قبل ان کے فن و شخصیت پر تحریر کی گئی کتاب’’رضیہ فصیح احمد کے افسانوں کا تحقیقی مطالعہ‘‘ شائع ہوئی تھی جسے معروف شاعرو ادیب جناب اکرم کنجاہی نے ترتیب دیا تھا،’’خوابوں کا جزیرہ‘‘کا پیش لفظ معروف افسانہ نگار جناب نجم الحسن رضوی نے لکھا ہے جب کہ کتاب میں ۲۷؍افسانے اور ۱۴؍افسانچے شامل اشاعت کیے گئے ہیں،ان کے افسانے معاشرے میں پھیلے عنوانات کا حصار کرتے ہیں اور وہ فی زمانہ واقعات کو موضوعات بناتی ہیں،ان کی تحریر موثراور سلیس ہوتی ہے جس میں ابلاغ کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔
……………
کتاب:پھول،کلیاں،تارے(بچوں کا ادب)
کلام:اعجاز رحمانی
قیمت:۵۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی
ویسے تو جناب اعجاز رحمانی کی حمدو نعت ،منظوم سیرت النبی،منظوم تاریخ اسلام،منظوم سیرت خلفائے راشدین اورغزل کی پانچ ضخیم کلیات شائع ہوچکی ہیں مگر’’ پھول، کلیاں، تارے‘‘ پہلی بارمنظرعام پر آئی ہے جس میں بچوں کی نظمیں،لطیفے اور منظوم مشاعروں کے احوال بیان کیے گئے ہیں،یہ کتاب بچوں کے ادب پر مشتمل ہے،جناب اعجاز رحمانی جہاں بڑوں کی نفسیات سے آگاہ ہیں وہاں وہ بچوں کی ذہین عمر اور نشوونما سے بھی واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ بچوں کی تعلیمی تربیت کس طرح کی جائے،زیرنظر کتاب میں بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم دی گئی ہے تاکہ بچہ لطیفے پڑھنے کا لطف بھی اٹھائے اور اُردو قرأت میں بھی مہارت پیدا کرتے جائے،اسی لیے جناب اعجاز رحمان نے آسان فہیم،روانی اور سلاست کے ساتھ بچوں کے لیے منظوم ادب تخلیق کیا ہے ۔یہ بچوں کے لیے اچھی کتاب ثابت ہوگی۔
……………
کتاب :اُردو بستی لندن سے(تنقید)
مصنف:یشب تمنا
قیمت:۳۵۰ روپے
ناشر:اُردوورثہ،لندن
اُردو ورثہ، لندن کے زیراہتمام شائع ہونے والی معروف شاعر و ادیب جناب یشب تمنا کے تنقیدی مضامین کی کتاب’’اُردو بستی لندن سے‘‘حال ہی میں شائع ہوئی ہے جس میں ان کے۲۳ تنقیدی مضامین شامل ہیں ۔یہ مضامین معروف اور قد آور ادبی شخصیات پر لکھے گئے ہیں جن میںناصر کاظمی،ساقی فاروقی،ظفر اقبال،رفیع الدین راز،اختر ضیائی، حبیب حیدر آبادی، باصر کاظمی، صدیقہ حبیب شبنم،رضا علی عابدی،ڈاکٹر جاوید شیخ،سلیم فگار،سعید اختر درانی،یاسمین حبیب،ڈاکٹر اعظم کمال،فرخندہ رضوی،سہیل انور،فاروق ساغر اور سیمیں برلاس شامل ہیں۔ شخصی مضامین کے علاوہ کچھ مضامین تنقیدی بھی ہیں ۔ عرض ناشرکے عنوان سے محترمہ سیدہ تحسین فاطمہ نے اظہار رائے کیا ہے۔ جناب یشب تمنا کی شاعری اور مضمون نگاری دونوں قابل ذکر ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ انھوں نے حاصل زندگی ادبی سرمائے کو کتابی اشکال میں پیش کیا ہے جو اُردو ادب کے دامن کو مالا مال کرتاہے۔
٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان وجود - جمعه 05 جون 2026

پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، 11 ماہ میں تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر ریکارڈ 11 ماہ میں برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رہیں، برآمدات میں 5۔61 فیصد کی کمی ہوئی،ادارہ شماریات پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا...

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی وجود - جمعرات 04 جون 2026

خلیج میں رات گئے ہونے والی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری، ایرانی مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں دیا جائے گا، امریکا کو سخت پیغام ایرانی بحریہ نے پانایا نامی ایک ایسے بحری جہاز پر میزائل داغے جو امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ تھا،ہم پہلے ہی خب...

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع وجود - جمعرات 04 جون 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی،خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی کے وژن کو ووٹ دیا وفاق اب کے پی کے لوگوں کو اسی بات کی سزا دے رہا ہے، بانی کی آنکھ کا 25 فیصد نقصان ہو چکا، علاج اور ملاقاتوں میں رکاوٹ تشویشناک ہ...

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع وجود - جمعرات 04 جون 2026

ذرائع نے سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے اعلان سے متعلق کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو احتجاج کے اعلان اور فیصلے سے لاعلم رکھا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماں اورپی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے احتجاج کے حوالے سے مشاورت نہیں کی گئی۔پی ٹی آئی ذرائ...

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع

مضامین
سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

عشقِ رسول ۖ کی تجدید وجود پیر 08 جون 2026
عشقِ رسول ۖ کی تجدید

ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت وجود پیر 08 جون 2026
ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت

گائے کی سیاست اور مسلمان وجود اتوار 07 جون 2026
گائے کی سیاست اور مسلمان

ایک عدالت ایسی بھی ہونی چاہیے! وجود اتوار 07 جون 2026
ایک عدالت ایسی بھی ہونی چاہیے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر