وجود

... loading ...

وجود

حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی قیادت سے ٹکرائو سے آئی جی سندھ پولیس گریزاں

جمعرات 14 دسمبر 2017 حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی قیادت سے ٹکرائو سے آئی جی سندھ پولیس گریزاں

الیاس احمد
موجودہ آئی جی سندھ پولیس حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی کے لیے ایسے بن گئے ہیں جیسے کسی پرندے کے لیے تیر کمان ہوتا ہے۔ پی پی کی قیادت اور حکومت سندھ کے لیے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کا نام اتنا ناپسندیدہ بن چکا ہے کہ ان کا نام سنتے ہی ان کے ہاتھ سے روٹی کا نوالہ گرجاتا ہے ان کا موڈ خراب ہوجاتا ہے ان کے چہرے کی ہوائیاں اڑجاتی ہیں وجہ صرف ایک ہی ہے کہ پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کا کاروباری شراکت دار کو آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ پسند نہیں کرتے ان کے اشارے پر نہیں چلتے ان کے جائز ناجائز کام نہیں کرتے ہیں اس کاروباری شخصیت کو ناراض کرنے کا مطلب پوری پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ کو ناراض کرنا ہے اور اس ایک نقطہ کو لے کر اچھی شہرت کے حامل افسر اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کے لیے حکومت سندھ نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا اور قانونی حدود بھی پھلانگ ڈالیں حیرت تو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پر ہوتی ہے جن کے والد عبداﷲ شاہ جب وزیراعلیٰ تھے تو اے ڈی خواجہ ان کے پرسنل اسٹاف افسر (پی ایس او) تھے اور یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ عبداﷲ شاہ کوئی حکم جاری کرتے تھے تو پی ایس او کی حیثیت سے اے ڈی خواجہ اگر کسی حکم پر عمل نہیں کرنے دیتے تھے اور وزیراعلیٰ عبداﷲ شاہ کو تفصیلی بات بتاتے تو عبداﷲ شاہ فوری طورپر حقیقت تسلیم کرتے مگر کیا عبداﷲ شاہ سے زیادہ مراد علی شاہ مجبور ہیں؟ مراد علی شاہ اپنے والد کی قبر پر جب حاضری دیتے ہوں گے تو اپنے دل میں کیا کہتے ہوں گے کہ ’’دیکھو ابا جان آپ تو محترمہ بینظیر بھٹو کے سامنے بھی ڈٹ جاتے تھے اور اپنی بات منوالیتے تھے آپ چہیتے پی ایس او کی باتوں کو بھی مان لیتے تھے لیکن اب میں تو پارٹی قیادت کے سامنے مجبور ہوں اور کٹھ پتلی بن کر آپ کے چہیتے پی ایس او کو پریشان کررہا ہوں‘‘۔
وقت تو ویسے بھی گزرجاتا ہے جب سید مراد علی شاہ کی تاریخ لکھی جائے گی اور ان کا مقابلہ اپنے والد سید عبداﷲ شاہ سے کیا جائے گا تو مورخ کیا لکھے گا؟ یہ خود مراد علی شاہ کو بھی پتہ ہے اس وقت مراد علی شاہ کے پاس صفائی اور وضاحت کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ اسی لیے تو اﷲ تعالیٰ نے عزت، ذلت، رزق، روزگار اور زندگی موت اپنے ہاتھ میں رکھی ہے، کیونکہ اگر یہ سب انسانوں کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ کسی کو جینے کا بھی حق نہ دیتے اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے آئی جی سندھ پولیس کی عزت رکھی، حکومت سندھ نے ہر طرح کی زور آزمائی کی لیکن آئی جی کو نہ ہٹاسکی، اب تو صرف صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال کے بیانات رہ گئے ہیں، جس میں اخلاقیات کا جنازہ نکالا جاتا ہے، دوسری جانب اب آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے ان کے اپنے قریبی دوست ناراض ہونا شروع ہوگئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب حکومت سندھ نے ان کے خلاف ہر طرح کی کارروائی کی ہے تو پھر وہ بھی حکومت سندھ کے مقرر کردہ پولیس افسران کو ہٹائیں۔ اس وقت 29 اضلاع میں سے 22 اضلاع میں ایس ایس پیز وہ تعینات ہیں جن کو بلاول ہائوس، وزیراعلیٰ ہائوس اور وزیر داخلہ سندھ نے تعینات کیا تھا۔ قریبی دوستوں اور ساتھیوں نے آئی جی سے کہا ہے کہ جب سندھ ہائی کورٹ نے انہیں تبادلوں وتقرریوں کا اختیار دیا ہے تو پھر وہ ان افسران کو کیوں نہیں تعینات کرتے جو کم از کم حکومت سندھ کے حامی نہیں ہیں جن کو حکومت سندھ نے نظر انداز کیا تھا مگر آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ جب اختیارات ملتے ہیں تو انسان کا اصل چہرہ سامنے آجاتا ہے اگر اﷲ تعالیٰ نے ان کو سندھ ہائی کورٹ کے توسط سے اختیارات دیئے ہیں تو وہ ان اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کریں گے اور کسی بھی صورت میں ایسا تاثر نہیں دینا چاہتے جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ بھی انتقامی کارروائی کرنا چاہتے ہیں اگر دوست سمجھتے ہیں کہ حکومت سندھ نے انتقام لیا تھا اور آج وہ بھی انتقام لیں تو پھر دونوں میں باقی کیا فرق رہ جائے گا وہ انتقام پر کبھی یقین نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ 22 ایس ایس پیز اور 8 میں سے 6 ڈی آئی جیز بھی حکومت سندھ، بلاول ہائوس اور صوبائی وزیر داخلہ کے مقرر کردہ ہیں ان کو انہوں نے تبدیل نہیں کیا۔
آئی جی سندھ کا یہ موقف اپنی جگہ پر درست ہے کیونکہ سب سے بڑا انتقام معاف کرنا ہے ۔لیکن ان کے دوست اور ساتھی اس وجہ سے ناراض ہیں کہ جو پولیس افسران مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہے اورآئی جی سندھ کاہرطرح ساتھ اب وہ افسرچاہتے ہیں کہ کم ازکم آئی جی سندھ ایک فیصلہ تواپنی مرضی کاکرلیں اور اپنے ساتھیوں کو اہم عہدوں پر تعینات کریں۔ ایسے افسران جنہوں نے حکومت سندھ اور صوبائی وزیر داخلہ سے وفاداری دکھائی تھی ان کو سبق ضرور سکھایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی ایسی حرکت کرنے کی جرأت نہ ہوسکے مگر آئی جی سندھ ٹس سے مس نہیں ہورہے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں اور دوستوں پر واضح کردیا ہے کہ وہ کسی کے خلاف ایسی کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ جس سے انتقامی کارروائی کا شائبہ بھی ہو۔ آئی جی سندھ سے آہستہ آہستہ قریبی دوست اور ساتھی دور ہوتے جارہے ہیں ،کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ مشکل وقت حکومتی رعب اور پیشکش کو پس پشت ڈال کر آئی جی سندھ کے ساتھ کھڑے رہے اور آج آئی جی سندھ کو سندھ ہائی کورٹ نے مکمل بااختیار بنادیا ہے تو وہ کم از کم اپنے قریبی دوستوں کو تو ایڈجست کریں اور جو مخالف تھے ان کو کھڈے لائن لگادیں۔ آئی جی سندھ نے اپنے دوستوں اور ساتھیوں کی مخالفت مول لی ہے اور ان کی ایک سوچ یہ بھی ہے کہ کل کلاں انہیں ملازمت سے ریٹائرڈ بھی ہونا ہے تو وہ بھی سندھ میں رہیں گے اور موجودہ حکمراں بھی سندھ میں رہیں گے انہیں اس وقت یہ نہ کہا جائے کہ انہوں نے حکومت کی طرح خود بھی انتقام لیا۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر