وجود

... loading ...

وجود

سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع رائیونڈ2017ء

اتوار 12 نومبر 2017 سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع رائیونڈ2017ء

آج سے تقریباً ایک صدی پہلے کی بات ہے حضرت مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ نے انتہائی کٹھن حالات میں عام مسلمانوں کو دین کے اعمال پر واپس لانے اور معاشرہ میں دینی ماحول کو از سر نو زندہ کرنے کادعوت الیٰ اللہ کا ایک کام شروع کیا تھااور اِس کام کی بنیاد دہلی کے جنوب میں آباد میؤ قوم میں رکھی تھی ، جن کے اندر اس خیال کے علاوہ کہ ’’ہم مسلمان ہیں ‘‘ کوئی چیز بھی اسلامی نہیں تھی ۔وہ ناہر سنگھ اور بھوپ سنگھ جیسے نام رکھتے تھے ، اُن کے سروں پر چوٹیاں ہوتی تھیں ، اُن کے یہاں مورتیا ں پوجی جاتیں ، وہ ہندوؤں کے تہواراور تقریبات مناتے ، دیوی دیوتاؤں کے نام پر قربانی چڑھاتے ، شب برأت میں ان کے یہاں سید سالار مسعود غازی کا جھنڈا اُٹھتا تھا ، مگر وہ بھی ایک بت تھا جو پوجا جاتا تھا ، اُنہیں کلمہ تک یاد نہ تھا ، حتیٰ کہ نماز کی صورت سے وہ اس قدر نا آشنا تھے کہ کبھی کوئی مسلمان اتفاق سے اُن کے علاقے میں پہنچ گیا اور اُس نے نماز پڑھی تو گاؤں کے مرد ،عورتیں اور بچے ٗ سب اس کے گرد دیکھنے کے لیے جمع ہوجاتے کہ یہ شخص آخر کیا کر رہا ہے کہ بار بار اُٹھتا ، بیٹھتا اور جھکتا ہے ؟ اُن کی تہذیب کا یہ عالم تھا کہ عورت ، مرد سب نیم برہنہ گھومتے تھے ۔ چوری ، ڈکیتی اور رہزنی ان کا پیشہ تھا ۔ آپس کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان کے درمیان لمبی لمبی خون ریز لڑائیاں ہوتی تھیں ۔
یہ تھی وہ قوم جسے حضرت مولانا محمد الیاس نور اللہ مرقدہ نے دینی دعوت کا اوّلین ہدف بنایا تھا جو ان کے خلوص اور محنت کے باعث پھیلتے پھیلتے اب دُنیا کے بہت سے حصوں تک وسعت اختیار کرچکا ہے اور ایشیاء ، یورپ ، افریقہ ، امریکا اور آسٹریلیا میں کوئی ایسا قابل ذکر علاقہ دکھائی نہیں دیتا جہاں مولانا محمد الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی محنت سے عدم سے وجود میں آنے والی تبلیغی جماعت کی نقل و حرکت کی محنت کسی نہ کسی انداز میں جاری نہ ہو یا اس کے اثرات موجود نہ ہوں اور آج بحمد اللہ تعالیٰ دینی خدمت کے شعبوں میں دعوت و تبلیغ کا یہ شعبہ سب سے زیادہ وسیع نیٹ ورک کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔
دعوت و تبلیغ مسلمانوں کے دینی فرائض میں سے ہے اور قرآن و سنت میں اس کے مختلف پہلوؤں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ، اسلام شخصی ، علاقائی یا نسلی دین نہیں ہے بلکہ عالمگیر دین ہے ، جس کی دعوت اور خطاب کا جائزہ پوری نسلِ انسانی کا احاطہ کیے ہوئے ہے ، ہر مسلمان کی یہ ذمے داری قرار دی گئی ہے کہ وہ نجات و فلاح کے حوالے سے صرف اپنی ذات کی فکر تک محدود نہ رہے بلکہ اپنے اِرد گرد کے ماحول اور درجہ بہ درجہ پوری نسلِ انسانی کی فکر کرے ۔‘‘
خاندان کے بعد سوسائٹی اور اِرد گرد کا ماحول ایک مسلمان کی ذمہ داریوں میں شامل ہوجاتا ہے اور قرآن و سنت میں تمام مسلمانوں کو اِس امر کا ذمے دار قرار دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو معروف کی تلقین کریں اور منکر سے باز رکھنے کی کوشش کریں ، جناب نبی اکرم انے ایک حدیث میں فرمایا کہ: ’’جب معاشرے کی یہ کیفیت ہوجائے کہ اس میں گناہوں کا ارتکاب تو ہورہا ہو مگر رُوک ٹوک کا کوئی سسٹم باقی نہ رہے تو وہ سوسائٹی مجموعی طور پر عذاب خداوندی کی مستحق ہوجاتی ہے‘‘ ۔
تبلیغی جماعت کی یہ محنت اسی ماحول کو زندہ کرنے کے لیے ہے اور حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ نے اسی جذبۂ صادقہ کے ساتھ اِس عمل خیر کا آغاز کیا تھا جس کا دائرہ پوری دُنیا میں پھیلتا جارہا ہے اور رائے ونڈ کا یہ عالمی تبلیغی اجتماع اسی جذبۂ صادقہ ومحنت شاقہ اور اس کی وسعت کی نمائندگی کرتا ہے ۔
دین کی محنت و خدمت ،رواج و ترویج اور اس کی اشاعت و فروغ کے مختلف شعبے ہیں جس کے وسیع ترین دائرے میں رہتے ہوئے مختلف قسم کے لوگ مختلف قسم کی محنتیں کر رہے ہیں ۔مساجد و مدارس کا نظام ہے ، دینی جماعتیں ہیں ، روحانی مراکز اور خانقاہیں ٗہیں ، رفاہِ عامہ کے لیے دینی جذبہ سے کام کرنے والی سماجی تنظیمیں ہیں ، اپنے اپنے شعبہ میں رہتے ہوئے میں ان تمام کی خدمات اور جد و جہد کی ضرورت و اہمیت مسلم ہے ، اِن میں کسی کی افادیت و ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ سب لوگ کام کے مختلف دائروں میں تقسیم ہونے کے باوجود ایک ہی مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں ، انہی میں سے دین اسلام کی خدمت کے حوالے سے ایک اہم ترین شعبہ دعوت و تبلیغ کا بھی ہے جو اپنے خلوص و محنت اور ایثار کے باعث دُنیا بھر میں مسلسل پھلتا پھولتا جارہا ہے ۔
بقول مولانا ابن الحسن صاحب کے کہ : ’’ اس وقت برصغیر میں سب سے بڑا اجتماع ’’تبلیغی جماعت‘‘ کا ہوتا ہے جو حج کے بعد مسلم دُنیا کا عظیم تر مجمع ہوتا ہے ، لیکن اس کے لیے آج کے دور کی پبلسٹی کے معروف ذرائع میں سے ایک بھی اختیار نہیں کیا جاتا ، اخبارات میںاشتہارات آتے ہیں نہ ٹی وی چینلوں پر سلائیڈ چلتی ہے ، حدودِ شریعت کی پوری پوری رعایت کے ساتھ ، محلے محلے ، قریہ قریہ ایک آواز گونجتی ہے اور حقیقی معنوں میں مسلمانوں کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوتا ہے ، ایک روح پرور، ایمان افروز منظر کے ساتھ دین کی بات کی جاتی ہے ، دل کی دھڑکنوں اور جگر کے سوز و تڑپ کے ساتھ بالکل سادہ اُسلوب میں اسلام کی طرف لوگوں کو بلایا جاتا ہے ، نہ اسٹیج سیکٹری ہوتا ہے اور نہ ہی بیان کرنے والے کو مختلف قسم کے القابات کے ساتھ اعلان کرکے بلایا جاتا ہے ،بلکہ جماعت ہی سے وابستہ بعض مقبول ترین مقررین کو بسا اوقات بیان کے لیے اس مصلحت کے تحت وقت نہیں دیا جاتا کہ کہیں آنے والے تحریک کے اصل مقصد اور ہدف کی بجائے ٗ خطابت کی شنوائی ہی کو مقصود نہ سمجھ لیں ، جس سے ایک وقتی اور جذباتی تأثر تو ضرور پیدا ہوتا ہے لیکن اسلام اور اس کے اعمال ، اس کے تقاضے ، اس کے آداب ، غیر مستحکم وقتی جذبوں سے کبھی زندہ نہیں ہوسکتے ،بلکہ وہ تو مکمل شعور و آگہی کے ساتھ ایک مستحکم عقیدے ، ایک مسلسل جد و جہد اور زندگی بھر کے نباہ کا کام ہے ، انہی ٹھوس بنیادوں کی وجہ سے جماعت کے خاموش انقلاب نے لاکھوں زندگیوں کو بدلنے اور اُمت کے بھٹکے ہوئے قافلوں کو راہِ راست پر لانے کا وہ عظیم کارنامہ انجام دیا جس کی نظیر گزشتہ صدیوں میں نہیں ملتی ، مقصد یہ ہے کہ اجتماعی تحریکی اور سیاسی زندگی میں نام و نمود کا فتنہ بڑی تیزی کے ساتھ حملہ آور ہوتا ہے اور انسان بہت آسانی کے ساتھ اس کا شکار ہوجاتا ہے ، اس لیے قدم قدم پر بڑی احتیاط ، نگرانی اور اپنے نفس کے محاسبہ کی ضرورت ہے۔‘‘
مفتی محمد وقاص رفیع

 


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر