وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سعودی عرب میں کرپشن کےخلاف تاریخی کریک ڈاؤن

جمعه 10 نومبر 2017 سعودی عرب میں کرپشن کےخلاف تاریخی کریک ڈاؤن

سعودی علماء نے فتویٰ جاری کیاہے کہ کرپشن کیخلاف لڑنااتناہی اہم ہے جتنادہشت گرد ی کیخلاف لڑنا اوریہ جنگ مذہبی فریضہ ہے
سعودی عرب میں کرپشن کیخلاف تاریخی کریک ڈائون کرتے ہوئے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گیارہ شہزادوں‘ چار موجودہ اور 34 سابق وزراء سمیت درجنوں سعودی بااثر شخصیات کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان میں سعودی نیشنل گارڈز کے سربراہ شہزادہ مصعب بن عبداللہ‘ وزیر معیشت عادل فقیہ اور کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل ہیں۔ دیگر مشتبہ شخصیات کو ملک چھوڑنے سے روکنے کے لیے نجی پروازیں گرائونڈ کردی گئی ہیں۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں انٹی کرپشن کمیٹی تشکیل دے کر کرپشن کیخلاف مہم کا آغاز کیا ہے اور انٹی کرپشن کمیٹی نے اس سلسلہ میں وسیع پیمانے پر کریک ڈائون کیا ہے۔ گرفتار کی گئی اہم شخصیات پر الزامات کی نوعیت کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا جبکہ کابینہ میں اہم تبدیلیاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ شہزادہ مصعب کی جگہ شہزادہ خالد ایاف کو نیشنل گارڈز کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے اور وزیر معیشت عادل فقیہ کا قلمدان معمر التویجری کو سونپ دیا گیا ہے۔ اسی طرح سعودی بحریہ کے کمانڈر عبداللہ السطان کو ہٹا کر انکی جگہ وائس ایڈمرل فہدالفاضیلی کو ایڈمرل کی حیثیت میں تعینات کیا گیا ہے۔ سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق شاہی خاندان کے گرفتار تین افراد میں سے ایک شہزادے کو اسلحے کی غیرقانونی تجارت کرنے‘ دوسرے کو منی لانڈرنگ اور تیسرے شہزادے کو جعلی ٹینڈر اور مالی خوردبرد کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال کی گرفتاری دنیا بھر کی بڑی کاروباری شخصیات کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں کیونکہ انہوں نے دنیا کے نامور ترین مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کررکھی تھی۔ شہزادہ ولید ذاتی سفر کے لیے ’’سپرجمبو‘‘ استعمال کرتے ہیں اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملک کے تین اہم اداروں دفاع‘ سکیورٹی اور معیشت پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے جو اس سے قبل سعودی شاہی خاندان کی الگ الگ شاخوں کے کنٹرول میں تھے۔ کریک ڈائون کے بعد سعودی ا سٹاک مارکیٹ میں مندی چھا گئی ہے اور شہزادہ ولید بن طلال کی کمپنی کے شیئر دس فیصد تک گر گئے ہیں۔ سعودی علماء نے بیان جاری کیا ہے کہ کرپشن سے لڑنا اتنا ہی اہم ہے جتنا دہشت گردی سے لڑنا۔ کرپشن کیخلاف جنگ مذہبی فریضہ ہے۔ سعودی وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار کیے جانیوالے شہزادوں کے بنک اکائونٹ بھی منجمد کیے جاچکے ہیں ۔لیکن ان کی کمپنیوں کے اکائنٹ سیز نہیں کیے گئے۔ شاہی فرمان کے مطابق کرپشن کو جڑ سے نہ اکھاڑا گیا اور کرپشن عناصر کا احتساب نہ ہوا تو مادر وطن نہیں رہے گا۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حقیقی فلاحی انسانی معاشرے کی بنیاد حضرت نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھی تھی جنہوں نے اپنے خطبہ حجۃالوداع میں دوٹوک الفاظ میں فرمادیا تھا کہ کسی عربی کو عجمی اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ انہوں نے بلاامتیاز رنگ و نسل انسانیت کی تکریم کا درس دیا اور رشوت کو معاشرے کا ناسور قرار دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ پر اجماع امت ہے کہ ’’الراشی والمرتشی کِلا ھما فی النار‘‘ (رشوت دینے اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں)۔ اس ناطے سے معاشرے کو کرپشن سے پاک رکھنے کا دین اسلام سے زیادہ عملیت پسندی کا مظاہرہ کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتا۔ اگر معاشرے کو شعائر اسلامی پر استوار کیا جائے اور شریعت کو حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے تو اس میں کسی قسم کے جرائم کے پنپنے کا تصور بھی پیدا نہیں ہو سکتا۔ شعائر اسلامی میں ڈھلا معاشرہ ہی شرف انسانیت کا عملی نمونہ ہوتا ہے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے ناطے ہمارے لیے یہ فخرو اطمینان کی بات ہے کہ مسلم امہ کے لیے مرجع خلائق پاک سعودی دھرتی حجاز مقدس نفاذ شریعت کے عملی نمونہ کے طور پر امتِ واحدہ کے لیے رہنمائی و قیادت کا فریضہ ادا کرہی ہے۔ دین اسلام میں ’’حد‘‘ اور تعزیر کی سزائوں کے تصور نے بھی معاشرے میں جرائم کی بیخ کنی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور ان سزائوں پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد بھی سعودی فرمانروائی میں حجاز مقدس میں ہی ہوتا ہے۔ اگر دوسرے مسلم ممالک بھی شعائر اسلامی کی عملداری کے پابند ہو جائیں تو مسلم امہ آج بھی اقوام عالم کی قیادت کے اہل ہو سکتی ہے۔
سعودی فرمانروائی میں شاہ فیصل کو ایک مصلح کی حیثیت سے اسلامی دنیا میں ہی نہیں‘ اقوام عالم میں بھی شرف پذیرائی حاصل ہوا تھا جو اتحاد مسلم امہ کی علامت بنے تھے‘ انہیں ایک منظم صیہونی سازش کے تحت شہید کراکے راستے سے ہٹایا گیا۔ اب سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سعودی معاشرے کو شرف انسانیت اور شعائر اسلامی کے ناطے ایک فلاحی اسلامی معاشرے کے قالب میں ڈھالنے کا بیڑہ اٹھایا ہے جن کی طے کی جانیوالی پالیسیاں اسلامی دنیا اور اقوام عالم میں تیزی سے مقبولیت حاصل کررہی ہیں۔ انہوں نے اسلام کی روح کے مطابق معاشرے میں خاتون کی تکریم کے لیے متعدد پالیسیاں طے کیں۔ سعودی خواتین کے لیے ملازمتوں کے دروازے کھولے اور انہیں ڈرائیونگ کی اجازت دی جس سے یقیناً دین اسلام کے رجعت پسند اور انتہاء پسند ہونے کے تاثر کو زائل کرنے میں مدد ملے گی۔ اب جس وسیع پیمانے پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی جانب سے معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے بلاامتیاز کریک ڈائون کا آغاز کیا گیا ہے جس میں سعودی شہزادوں سمیت انتہائی بااثر اور اہم شخصیات زد میں آئی ہیں تو اس کے صرف سعودی معاشرے پر ہی نہیں‘ پوری مسلم دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہونگے جبکہ اصلاحات کے اس عمل سے سعودی معاشرہ کرپشن سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے ایک مثالی معاشرہ بن جائے گا۔
اس حوالے سے بطور خاص شہزادہ ولید بن طلال کی گرفتاری کرپشن کیخلاف بے لاگ اور بلاامتیاز کارروائی کی زریں مثال بن رہی ہے۔ شہزادہ ولید کے بارے میں یہ تاثر قائم رہا ہے کہ وہ سعودی رائل فیملی کی موثر ترین شخصیت ہیں جن کے امریکی صدر ٹرمپ کے خاندان سے قریبی تعلقات ہونے کے ناطے یہ تصور پختہ ہوا تھا کہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکا سعودی تعلقات بہت بہتر رہیں گے۔ اسی طرح سعودی خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی ختم کرانے میں بھی شہزادہ ولید نے ہی نمایاں کردار ادا کیا جس سے ملکی معیشت میں خواتین کی حیثیت تسلیم کرانے میں پیشرفت ہوئی اس لیے بطور خاص ان کی گرفتاری کو بلاامتیاز اور بے لاگ احتساب کا عملی نمونہ قرار دیا جارہا ہے۔
سعودی فرمانروائی نے عرب دنیا میں 18 دسمبر 2010ء کو ’’عرب سپرنگ‘‘ کے نام سے شروع ہونیوالی انقلابی لہر سے بھی خود کو سعودی معاشرے کے لیے اٹھائے گئے اپنے فلاحی اقدامات کی بدولت ہی محفوظ کیا تھا جبکہ اسلامی ملک تیونس سے اٹھنے والی اس لہر نے مصر‘ لیبیا‘ یمن کی موروثی بادشاہتوں اور فوجی آمریتوں کا تہس نہس کردیا۔ اگرچہ اس خونیں انقلاب کے پیچھے بھی سامراجی طاقتوں کا ہاتھ تھا جنہوں نے عرب ممالک کے عوام کو اپنے بادشاہوں اور فوجی آمروں کیخلاف آمادہ بغاوت کیا تاہم سعودی عرب نے اپنی عوام دوست بہترین پالیسیوں اور حکمت عملی سے خود کو اس منظم عالمی سازش سے بھی محفوظ رکھا۔سعودی معاشرہ آج ریاستی قوانین کی عملداری اور ڈسپلن کا مثالی معاشرہ ہے جہاں شہری کسی جبر کے ماحول میں نہیں بلکہ رضاکارانہ طور پر ملکی قوانین اور ہر شاہی فرمان کی اطاعت کرتے ہیں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے متعدد دوسرے اصلاحاتی اقدامات کی طرح ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے ٹیکسوں کے نظام میں بھی اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے جس کے تحت بعض مروجہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے تو بعض نئے ٹیکس بھی لگے ہیں تاہم سعودی باشندوں اور وہاں مقیم غیرسعودیوں نے بھی قومی معیشت کے استحکام کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنے کے جذبے کے تحت ٹیکس اصلاحات کو خوشدلی سے قبول کیا ہے۔
جب کسی معاشرے میں ریاستی قوانین کی حکمرانی اور عدل و انصاف کا چھوٹے بڑے کی تمیز کیے بغیر بے لاگ نظام رائج ہو جس میں کسی کی حق تلفی کا تصور بھی نہ کیا جاسکے تو اس معاشرے کے عوام پوری نیک نیتی کے ساتھ اپنے حکمرانوں کے لیے رطب اللسان ہوتے ہیں اور انکی اطاعت میں کسی عذر کو آڑے نہیں آنے دیتے۔ اسلام کے نام پر تشکیل پانے والی ہماری مملکت خداداد میں بدقسمتی سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی کوئی قدر پختہ ہو سکی نہ یہاں میرٹ‘ آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری والا معاشرہ پنپ سکا چنانچہ یہاں طبقاتی بنیادوں پر اشرافیہ نے خود کو اتنا مستحکم اور بااثر بنالیا کہ ریاستی قوانین و ادارے بھی انکی مرضی کے تابع ہو کر رہ گئے۔ ان بالادست طبقات نے ہی یہاں شرف انسانیت کو بٹہ لگایا ہے اور خود کو آئین و قانون سے ماورا قرار دے کر مہذب معاشرے کا تصور ہی گہنا دیا ہے۔ ہماری جو اشرافیہ آج احتساب کی زد میں آکر اپنے خلاف انتقامی کارروائیوں کے الزامات کی بوچھاڑ کررہی ہے‘ اسے برادر سعودی عرب میں کرپشن کے تدارک کے لیے شروع کیے گئے کریک ڈائون سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اگر ہمارے معاشرے میں بھی قانون کی نگاہ میں سب کے مساوی ہونے کا تصور پختہ ہو جائے اور حضرت نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’رشوت دینے اور رشوت لینے والے دونوں جہنمی ہیں‘‘ کو حرزجاں بنالیا جائے تو ہم بھی کسی جلسے جلوس‘ دھرنے اور لانگ مارچ کے بغیر کرپشن سے پاک معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


کراچی پر کینیڈا سے حکمرانی کی جارہی ہے ،چیف جسٹس وجود - منگل 15 جون 2021

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے نسلہ ٹاور کیس میں نسلہ ٹاور کے وکلا سے کمشنر کراچی کی رپورٹ پر جواب طلب کرلیا۔ پیر کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی امین پر مشتمل لارجر بنچ نے نسلہ ٹاور کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا کہ کراچی کا سسٹم کینیڈا سے چلایا جارہا ہے ، کراچی پر کینیڈا سے حکمرانی کی جارہی ہے ، یونس میمن سندھ کا اصل حکمران ہے ، وہی چلارہا ہے سارا سسٹم ، ایڈوکی...

کراچی پر کینیڈا سے حکمرانی کی جارہی ہے ،چیف جسٹس

مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دینے والا بی جے پی کا ترجمان مقرر وجود - منگل 15 جون 2021

مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کے ذمہ دار اور ہجومی تشدد کے ذریعے مسلمانوں کے قتل کی حمایت کرنے والے شخص کو بھارتی ریاست ہریانہ میں بی جے پی کا ترجمان مقرر کردیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت بھر میں کورونا وبا کے بے قابو ہونے کے بعد مسلمانوں کی جانب سے ہندو مسلم رواداری کے عظیم الشان اور مثالی رویے کا بھارت بھر میں اظہار کیا جارہا تھا۔ مگر اس دوران میں ہندو انتہا پسند کورونا وبا سے زیادہ خطرناک وبا یعنی مسلم دشمنی کے شکار ہندؤں نے اپنے روایتی تعص...

مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دینے والا بی جے پی کا ترجمان مقرر

پاکستان نے افرادی قوت باہر بھیجنے میں بھارت، بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 15 جون 2021

وزارت سمندر پار پاکستانیز نے کہا ہے کہ پاکستان نے 2020 میں افرادی قوت بیرون ملک بھیجنے میں بھارت اور بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور کورونا کے باوجود 2 لاکھ 24 ہزار 705 افراد کو مختلف ممالک بھیج کر خطے کا لیڈر بن گیا ہے ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزارت سمندر پار پاکستانیز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 2020 میں بنگلہ دیش نے 2 لاکھ 17 ہزار 699 شہریوں کو روزگار کے لیے بیرون ملک بھیجا اور بھارت سے اسی دوران 94 ہزار 145 افراد روزگار کی غرض دیگر ممالک گئے ۔ٹوئٹ میں مزید ک...

پاکستان نے افرادی قوت باہر بھیجنے میں بھارت، بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا

نوازشریف کی جائیداد نیلامی کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج وجود - منگل 15 جون 2021

سابق وزیراعظم نوازشریف کی جائیداد نیلامی کا احتساب عدالت کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔احتساب عدالت اسلام آباد نے توشہ خانہ ریفرنس میں اشتہاری ملزم نواز شریف کی جائیداد ضبطگی اور نیلامی کے احکامات جاری کیے تھے جس پر نواز شریف کی جائیدادوں کے تین دعویدار سامنے آئے اور انہوں نے احتساب عدالت سے رجوع کیا تاہم ٹرائل کورٹ نے ان کی درخواستیں مسترد کریں۔ درخواست گزاروں میاں اقبال برکت، اسلم عزیز اور اشرف ملک نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے ر...

نوازشریف کی جائیداد نیلامی کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

پاکستان کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کیلیے درست راہ پرگامزن ہے ، عالمی بینک وجود - منگل 15 جون 2021

عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ناجی بنہاسین نے کہا ہے کہ پاکستان کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کے لیے درست سمت پر گامزن ہے ، تاہم کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ڈیجیٹالائزشن بہت ضروری ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرمایہ کاری بورڈ کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا۔ تقریب سے خطاب میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹین ٹرنرنے کہاکہ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات بہت اچھے ہیں اورمیری ترجیح معیشت اور سرمایہ کاری ہے پاکستان کو جی ڈی پی کے دوگنا سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ...

پاکستان کاروباری سرگرمیوں میں بہتری کیلیے درست راہ پرگامزن ہے ، عالمی بینک

راجستھان میں گائے کی اسمگلنگ کے شبے میں ہجوم کا حملہ وجود - منگل 15 جون 2021

بھارتی ریاست راجستھان میں ہجوم نے گائے کی اسمگلنگ کے شبے میں ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر قتل اور دوسرے کو زخمی کردیا۔بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دو افراد بابو لال بھیل اور پنٹو اپنی گاڑی میں گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے تھے ، چھتیس گڑھ کے عاقے بیگو میں ہجوم نے زبردستی ان کا راستہ روک لیا اور موبائل فون اور دستاویزات چھیننے کے بعد ان کو مارنا شروع کردیا۔ادے پور پولیس کے انسپکٹر جنرل ستیاویر سنگھ نے بتایا کہ آدھی رات کے لگ بھگ پولیس اسٹیشن انچارج...

راجستھان میں گائے کی اسمگلنگ کے شبے میں ہجوم کا حملہ

عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ وجود - منگل 15 جون 2021

دی اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری)نے جوہری ہتھیاروں سے متعلق رپورٹ جاری کردی۔ جرمن ٹی وی رپورٹ کے مطابق سپری نے بتایا ہے کہ امریکا، روس اور چین جیسی عالمی طاقتیں اپنے جوہری ہتھیاروں کو مزید مہلک اور جدید تر کر رہی ہیں۔ اسٹاک ہوم میں واقع عالمی امن پر تحقیق کرنے والے ادارے سپری 'دی اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ(ایس آئی پی آر آئی) کا کہنا ہے کہ گرچہ گزشتہ برس کے بعد سے مجموعی طور پر دنیا کے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی آئی ہے تاہم عملی طور پر ایسے جو...

عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ

بھارت ،مسلمانوں کی فیملی پلاننگ پر بی جے پی کا نیا شوشہ وجود - منگل 15 جون 2021

بھارتی انتہاہ پسندہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے رہنما اور آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما نے کہا تھا کہ اقلیتی فرقے (مسلمانوں)کو اپنی غربت اور دھرتی پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے خاطر فیملی پلاننگ کے مناسب طریقے اختیار کرنے چاہییں۔ مسلم سماجی اور سیاسی تنظیموں نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ملک کی دوسری سب سے بڑی آبادی کے خلاف شرمناک رویہ قرار دیا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی بالخصوص آسام میں مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مسلمان تارکین وطن ک...

بھارت ،مسلمانوں کی فیملی پلاننگ پر بی جے پی کا نیا شوشہ

20 کلو آٹے کا تھیلا 30 روپے مہنگا ہونے کا خدشہ وجود - پیر 14 جون 2021

یکم جولائی سے فلورملز پر ٹرن اوور ٹیکس 1.25 فیصد ہونے سے 20 کلو آٹے کا تھیلا 30 روپے مہنگا ہونے کا خدشہ ہے ۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں فلور ملز کیلئے ٹرن اوور ٹیکس میں دی گئی رعایت ختم کردی گئی ہے ، جس کے بعد ٹیکس بڑھنے سے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 30 روپے اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔آئندہ مالی سال کے فنانس بل کے مطابق آٹے کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشینری کی امپورٹ پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد اور ...

20 کلو آٹے کا تھیلا 30 روپے مہنگا ہونے کا خدشہ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھی جائیں گی، شوکت ترین وجود - پیر 14 جون 2021

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ عوام پر بوجھ نہیں ڈالیں گے ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھی جائیں گی۔ ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ بڑی تحقیقات اور محنت کے بعد بہترین بجٹ بنایا ہے ، امید رکھتے ہیں بجٹ میں طے کیے گئے خدوخال مکمل کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پرپٹرول قیمتیں گریں گی توپٹرول لیوی رکھنا شروع کریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ سعودی عرب سے رعایتی قیمت پر تیل جلد ملنا شروع ہو جائے گا، امید ہے پٹرولیم لیوی میں اضافے کی ضرورت نہ...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھی جائیں گی، شوکت ترین

پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے 5.1 ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کا اعلان وجود - پیر 14 جون 2021

پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے 5.1 ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کا اعلان کر دیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دنیا بھر سے 2026 تک پولیو کے مکمل خاتمے کا اعادہ کیا گیا ہے اور مختص کردہ عالمی فنڈ کا بڑا حصہ پاکستان اور افغانستان میں انسدادِ پولیو مہم پر صرف ہوگا۔واضح رہے کہ اس وقت صرف پاکستان اور افغانستان میں ہی پولیو موجود ہے ورنہ دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ کیا جا چکا ہے ۔پولیو کے خاتمے سے متعلق حکومتوں، غیر سرکاری اداروں اور صحت کی تنظیموں کے مشترکہ عالمی پروگرام ''گلوبل پولیو اریڈیکیشن ا...

پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے 5.1 ارب ڈالر کے عالمی فنڈ کا اعلان

دنیا کی قسمت کا فیصلہ جی سیون جیسے چھوٹے گروپ نہیں کرسکتے، چین وجود - پیر 14 جون 2021

چین نے جیـ7 ممالک کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دن چلے گئے جب دنیا کی قسمت کا فیصلہ چھوٹے گروپ کے ہاتھ میں تھا۔عالمی میڈیاکے مطابق چین نے دنیا کی سات بڑی معیشتوں کے گروپ جیـ7 کے ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔چین نے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کا متبادل لانے کی جیـسیون کے منصوبے کو ناممکن، جبری مشقت کے الزام کو جھوٹا اور سنگیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بہتان قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا پر چھوٹے گروپ کی حکمرانی نہیں چلتی۔چین نے...

دنیا کی قسمت کا فیصلہ جی سیون جیسے چھوٹے گروپ نہیں کرسکتے، چین