وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سعودی عرب میں کرپشن کےخلاف تاریخی کریک ڈاؤن

جمعه 10 نومبر 2017 سعودی عرب میں کرپشن کےخلاف تاریخی کریک ڈاؤن

سعودی علماء نے فتویٰ جاری کیاہے کہ کرپشن کیخلاف لڑنااتناہی اہم ہے جتنادہشت گرد ی کیخلاف لڑنا اوریہ جنگ مذہبی فریضہ ہے
سعودی عرب میں کرپشن کیخلاف تاریخی کریک ڈائون کرتے ہوئے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گیارہ شہزادوں‘ چار موجودہ اور 34 سابق وزراء سمیت درجنوں سعودی بااثر شخصیات کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان میں سعودی نیشنل گارڈز کے سربراہ شہزادہ مصعب بن عبداللہ‘ وزیر معیشت عادل فقیہ اور کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل ہیں۔ دیگر مشتبہ شخصیات کو ملک چھوڑنے سے روکنے کے لیے نجی پروازیں گرائونڈ کردی گئی ہیں۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں انٹی کرپشن کمیٹی تشکیل دے کر کرپشن کیخلاف مہم کا آغاز کیا ہے اور انٹی کرپشن کمیٹی نے اس سلسلہ میں وسیع پیمانے پر کریک ڈائون کیا ہے۔ گرفتار کی گئی اہم شخصیات پر الزامات کی نوعیت کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا جبکہ کابینہ میں اہم تبدیلیاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ شہزادہ مصعب کی جگہ شہزادہ خالد ایاف کو نیشنل گارڈز کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے اور وزیر معیشت عادل فقیہ کا قلمدان معمر التویجری کو سونپ دیا گیا ہے۔ اسی طرح سعودی بحریہ کے کمانڈر عبداللہ السطان کو ہٹا کر انکی جگہ وائس ایڈمرل فہدالفاضیلی کو ایڈمرل کی حیثیت میں تعینات کیا گیا ہے۔ سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق شاہی خاندان کے گرفتار تین افراد میں سے ایک شہزادے کو اسلحے کی غیرقانونی تجارت کرنے‘ دوسرے کو منی لانڈرنگ اور تیسرے شہزادے کو جعلی ٹینڈر اور مالی خوردبرد کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال کی گرفتاری دنیا بھر کی بڑی کاروباری شخصیات کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں کیونکہ انہوں نے دنیا کے نامور ترین مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کررکھی تھی۔ شہزادہ ولید ذاتی سفر کے لیے ’’سپرجمبو‘‘ استعمال کرتے ہیں اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملک کے تین اہم اداروں دفاع‘ سکیورٹی اور معیشت پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے جو اس سے قبل سعودی شاہی خاندان کی الگ الگ شاخوں کے کنٹرول میں تھے۔ کریک ڈائون کے بعد سعودی ا سٹاک مارکیٹ میں مندی چھا گئی ہے اور شہزادہ ولید بن طلال کی کمپنی کے شیئر دس فیصد تک گر گئے ہیں۔ سعودی علماء نے بیان جاری کیا ہے کہ کرپشن سے لڑنا اتنا ہی اہم ہے جتنا دہشت گردی سے لڑنا۔ کرپشن کیخلاف جنگ مذہبی فریضہ ہے۔ سعودی وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار کیے جانیوالے شہزادوں کے بنک اکائونٹ بھی منجمد کیے جاچکے ہیں ۔لیکن ان کی کمپنیوں کے اکائنٹ سیز نہیں کیے گئے۔ شاہی فرمان کے مطابق کرپشن کو جڑ سے نہ اکھاڑا گیا اور کرپشن عناصر کا احتساب نہ ہوا تو مادر وطن نہیں رہے گا۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حقیقی فلاحی انسانی معاشرے کی بنیاد حضرت نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھی تھی جنہوں نے اپنے خطبہ حجۃالوداع میں دوٹوک الفاظ میں فرمادیا تھا کہ کسی عربی کو عجمی اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ انہوں نے بلاامتیاز رنگ و نسل انسانیت کی تکریم کا درس دیا اور رشوت کو معاشرے کا ناسور قرار دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ پر اجماع امت ہے کہ ’’الراشی والمرتشی کِلا ھما فی النار‘‘ (رشوت دینے اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں)۔ اس ناطے سے معاشرے کو کرپشن سے پاک رکھنے کا دین اسلام سے زیادہ عملیت پسندی کا مظاہرہ کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتا۔ اگر معاشرے کو شعائر اسلامی پر استوار کیا جائے اور شریعت کو حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے تو اس میں کسی قسم کے جرائم کے پنپنے کا تصور بھی پیدا نہیں ہو سکتا۔ شعائر اسلامی میں ڈھلا معاشرہ ہی شرف انسانیت کا عملی نمونہ ہوتا ہے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے ناطے ہمارے لیے یہ فخرو اطمینان کی بات ہے کہ مسلم امہ کے لیے مرجع خلائق پاک سعودی دھرتی حجاز مقدس نفاذ شریعت کے عملی نمونہ کے طور پر امتِ واحدہ کے لیے رہنمائی و قیادت کا فریضہ ادا کرہی ہے۔ دین اسلام میں ’’حد‘‘ اور تعزیر کی سزائوں کے تصور نے بھی معاشرے میں جرائم کی بیخ کنی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور ان سزائوں پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد بھی سعودی فرمانروائی میں حجاز مقدس میں ہی ہوتا ہے۔ اگر دوسرے مسلم ممالک بھی شعائر اسلامی کی عملداری کے پابند ہو جائیں تو مسلم امہ آج بھی اقوام عالم کی قیادت کے اہل ہو سکتی ہے۔
سعودی فرمانروائی میں شاہ فیصل کو ایک مصلح کی حیثیت سے اسلامی دنیا میں ہی نہیں‘ اقوام عالم میں بھی شرف پذیرائی حاصل ہوا تھا جو اتحاد مسلم امہ کی علامت بنے تھے‘ انہیں ایک منظم صیہونی سازش کے تحت شہید کراکے راستے سے ہٹایا گیا۔ اب سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سعودی معاشرے کو شرف انسانیت اور شعائر اسلامی کے ناطے ایک فلاحی اسلامی معاشرے کے قالب میں ڈھالنے کا بیڑہ اٹھایا ہے جن کی طے کی جانیوالی پالیسیاں اسلامی دنیا اور اقوام عالم میں تیزی سے مقبولیت حاصل کررہی ہیں۔ انہوں نے اسلام کی روح کے مطابق معاشرے میں خاتون کی تکریم کے لیے متعدد پالیسیاں طے کیں۔ سعودی خواتین کے لیے ملازمتوں کے دروازے کھولے اور انہیں ڈرائیونگ کی اجازت دی جس سے یقیناً دین اسلام کے رجعت پسند اور انتہاء پسند ہونے کے تاثر کو زائل کرنے میں مدد ملے گی۔ اب جس وسیع پیمانے پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی جانب سے معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے بلاامتیاز کریک ڈائون کا آغاز کیا گیا ہے جس میں سعودی شہزادوں سمیت انتہائی بااثر اور اہم شخصیات زد میں آئی ہیں تو اس کے صرف سعودی معاشرے پر ہی نہیں‘ پوری مسلم دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہونگے جبکہ اصلاحات کے اس عمل سے سعودی معاشرہ کرپشن سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے ایک مثالی معاشرہ بن جائے گا۔
اس حوالے سے بطور خاص شہزادہ ولید بن طلال کی گرفتاری کرپشن کیخلاف بے لاگ اور بلاامتیاز کارروائی کی زریں مثال بن رہی ہے۔ شہزادہ ولید کے بارے میں یہ تاثر قائم رہا ہے کہ وہ سعودی رائل فیملی کی موثر ترین شخصیت ہیں جن کے امریکی صدر ٹرمپ کے خاندان سے قریبی تعلقات ہونے کے ناطے یہ تصور پختہ ہوا تھا کہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکا سعودی تعلقات بہت بہتر رہیں گے۔ اسی طرح سعودی خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی ختم کرانے میں بھی شہزادہ ولید نے ہی نمایاں کردار ادا کیا جس سے ملکی معیشت میں خواتین کی حیثیت تسلیم کرانے میں پیشرفت ہوئی اس لیے بطور خاص ان کی گرفتاری کو بلاامتیاز اور بے لاگ احتساب کا عملی نمونہ قرار دیا جارہا ہے۔
سعودی فرمانروائی نے عرب دنیا میں 18 دسمبر 2010ء کو ’’عرب سپرنگ‘‘ کے نام سے شروع ہونیوالی انقلابی لہر سے بھی خود کو سعودی معاشرے کے لیے اٹھائے گئے اپنے فلاحی اقدامات کی بدولت ہی محفوظ کیا تھا جبکہ اسلامی ملک تیونس سے اٹھنے والی اس لہر نے مصر‘ لیبیا‘ یمن کی موروثی بادشاہتوں اور فوجی آمریتوں کا تہس نہس کردیا۔ اگرچہ اس خونیں انقلاب کے پیچھے بھی سامراجی طاقتوں کا ہاتھ تھا جنہوں نے عرب ممالک کے عوام کو اپنے بادشاہوں اور فوجی آمروں کیخلاف آمادہ بغاوت کیا تاہم سعودی عرب نے اپنی عوام دوست بہترین پالیسیوں اور حکمت عملی سے خود کو اس منظم عالمی سازش سے بھی محفوظ رکھا۔سعودی معاشرہ آج ریاستی قوانین کی عملداری اور ڈسپلن کا مثالی معاشرہ ہے جہاں شہری کسی جبر کے ماحول میں نہیں بلکہ رضاکارانہ طور پر ملکی قوانین اور ہر شاہی فرمان کی اطاعت کرتے ہیں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے متعدد دوسرے اصلاحاتی اقدامات کی طرح ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے ٹیکسوں کے نظام میں بھی اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے جس کے تحت بعض مروجہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے تو بعض نئے ٹیکس بھی لگے ہیں تاہم سعودی باشندوں اور وہاں مقیم غیرسعودیوں نے بھی قومی معیشت کے استحکام کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنے کے جذبے کے تحت ٹیکس اصلاحات کو خوشدلی سے قبول کیا ہے۔
جب کسی معاشرے میں ریاستی قوانین کی حکمرانی اور عدل و انصاف کا چھوٹے بڑے کی تمیز کیے بغیر بے لاگ نظام رائج ہو جس میں کسی کی حق تلفی کا تصور بھی نہ کیا جاسکے تو اس معاشرے کے عوام پوری نیک نیتی کے ساتھ اپنے حکمرانوں کے لیے رطب اللسان ہوتے ہیں اور انکی اطاعت میں کسی عذر کو آڑے نہیں آنے دیتے۔ اسلام کے نام پر تشکیل پانے والی ہماری مملکت خداداد میں بدقسمتی سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی کوئی قدر پختہ ہو سکی نہ یہاں میرٹ‘ آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری والا معاشرہ پنپ سکا چنانچہ یہاں طبقاتی بنیادوں پر اشرافیہ نے خود کو اتنا مستحکم اور بااثر بنالیا کہ ریاستی قوانین و ادارے بھی انکی مرضی کے تابع ہو کر رہ گئے۔ ان بالادست طبقات نے ہی یہاں شرف انسانیت کو بٹہ لگایا ہے اور خود کو آئین و قانون سے ماورا قرار دے کر مہذب معاشرے کا تصور ہی گہنا دیا ہے۔ ہماری جو اشرافیہ آج احتساب کی زد میں آکر اپنے خلاف انتقامی کارروائیوں کے الزامات کی بوچھاڑ کررہی ہے‘ اسے برادر سعودی عرب میں کرپشن کے تدارک کے لیے شروع کیے گئے کریک ڈائون سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اگر ہمارے معاشرے میں بھی قانون کی نگاہ میں سب کے مساوی ہونے کا تصور پختہ ہو جائے اور حضرت نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’رشوت دینے اور رشوت لینے والے دونوں جہنمی ہیں‘‘ کو حرزجاں بنالیا جائے تو ہم بھی کسی جلسے جلوس‘ دھرنے اور لانگ مارچ کے بغیر کرپشن سے پاک معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


بھارت میں 376 تبلیغی ارکان کے خلاف چارج شیٹ داخل وجود - جمعه 29 مئی 2020

تبلیغی ارکان کے خلاف کورونا پھیلانے، ویزا شرائط کی خلاف ورزی کے الزامات نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں دہلی پولیس نے نظام الدین مرکز میں مذہبی اجتماعات میں شرکت کے لیے آئے 34 ممالک کے 376 غیرملکی تبلیغی ارکان کے خلاف کورونا پھیلانے، ویزا شرائط کی خلاف ورزی اور مشنری سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مجموعی طور پر 35 چارج شیٹ داخل کردیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی پولیس نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران 26 تاریخ کو 20 ممالک کے 82 غیر ملکیوں تبلیغی شرکا کے خلاف 20 چارج ...

بھارت میں 376 تبلیغی ارکان کے خلاف چارج شیٹ داخل

پاکستان کی بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کے آغاز کی مذمت وجود - جمعه 29 مئی 2020

پاکستان نے بھارت میں بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کے آغاز کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کورونا وبا کا مقابلہ کررہی ہے اور بھارت ہندتوا ایجنڈے پرعمل پیرا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ 26 مئی کو بابری مسجد کی جگہ پر مندر کی تعمیر کے آغاز کی پاکستانی حکومت اور عوام سخت مذمت کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ مندر کی تعمیر 9 نومبر 2019 کے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے سلسلے کی کڑی ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا، بھارتی...

پاکستان کی بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کے آغاز کی مذمت

کورونا کیخلاف مودی سرکار کی پالیسیاں ناکام قرار ، نیویارک ٹائمز وجود - جمعرات 28 مئی 2020

نیو یارک ٹائمز نے کورونا کے خلاف مودی سرکار کی پالیسیوں کا پول کھولتے ہوئے کہا ہے کہ سخت لاک ڈاؤن کے باوجود بھارت میں کورونا کیسز اور اموات زیادہ ہیں۔نیویارک ٹائمز کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی عوام حکومت پر اعتماد کھونے لگے ہیں، سخت لاک ڈاؤن کے باوجود بھارت میں کورونا کیسز اور اموات زیادہ ہیں جب کہ پاکستان میں بھارت کے مقابلے میں کیسز کم ہیں، جنوبی ایشیاء میں لاک ڈاؤن ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی اہم تھے، جنہیں مودی حکومت نے نظر انداز کیا۔رپورٹ میں کہا گیا...

کورونا کیخلاف مودی سرکار کی پالیسیاں ناکام قرار ، نیویارک ٹائمز

تجارتی جنگ عروج پر، چینی ڈیجیٹل کرنسی امریکی ڈالر کیلئے خطرناک قرار وجود - جمعرات 28 مئی 2020

چین 2022 میں ایک ڈیجیٹل یوآن کرنسی لانا چاہتا ہے جس کا نام ای آر ایم بی رکھا گیا ہے۔ 2022 میں چین جانے والے لوگوں کو اس نئی ڈیجیٹل کرنسی میں خرید و فروخت یا لین دین کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ ایسی کرنسی ہوگی جو نظر نہیں آئے گی اور نہ ہی آپ اسے نوٹوں کی طرح ہاتھ میں پکڑ سکیں گے اور یہ کوئی خیالی بات نہیں ہے۔ایسے وقت میں جب دنیا کا ہر ملک کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے چین ڈیجیٹل یوآن پر پائلٹ پروجیکٹ لانچ کرنے میں مصروف ہے۔گذشتہ ماہ چین کے مرکزی بینک پیپلز ب...

تجارتی جنگ عروج پر، چینی ڈیجیٹل کرنسی امریکی ڈالر کیلئے خطرناک قرار

کورونا کے باعث ہالی وڈ کو کروڑوں ڈالرز کا نقصان وجود - جمعرات 28 مئی 2020

عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث جہاں عالمی معیشت کو دھچکا لگا وہیں ہالی وڈ انڈسٹری کو بھی شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ سمیت دنیا بھر کے سینما گھر بند ہونے سے فلم انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔جیمزبانڈ،ونڈر وومن اور ایونجرز سمیت بڑے بڑیسپر ہیروز کی فلموں کی ریلیز تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔ جیمز بانڈ زیرو زیرو سیون کو جن کی فلم نوٹائم ٹو ڈائی کو اپریل میں ریلیز کیا جانا تھا لیکن کورونا وائرس کے سبب شائقین اب نومبر میں جیمز بانڈ کو ایکشن میں دیکھیں گے۔کورونا وائرس زیاد...

کورونا کے باعث ہالی وڈ کو کروڑوں ڈالرز کا نقصان

نیپال میں ایک بھی بھارتی دِکھا تو کاٹ ڈالوں گا سپاہی کی ویڈیووائرل وجود - جمعرات 28 مئی 2020

نیپال میں ایک بھی بھارتی دِکھا تو کاٹ ڈالوں گا، سوشل میڈیا پر نیپال کے سپاہی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق بھارت اور نیپال کے درمیان کشیدگی کا تعلق ہے تو بھارت کی طرف سے کھولی گئی ایک نئی سڑک جومتنازعہ علاقہ سے گزرتی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان علاقائی تنازعہ پیداکردیاہے۔یہ رابطہ سڑک بھارتی ریاست اترکھنڈ کے علاقہ دھرچلا کو چین کے ساتھ بھارت کی سرحدلائن آف ایکچوئل کنٹرول کے قریب لیپولیکھ پاس سے ملاتی ہے،بھارت کا کہنا ہے کہ یہ سڑک کیلاشمن سرورارجانے والے ...

نیپال میں ایک بھی بھارتی دِکھا تو کاٹ ڈالوں گا سپاہی کی ویڈیووائرل

جنگ کیلئے مضبوط تیاری شروع کردیں، چینی صدر کا فوج کوتیار رہنے کا حکم وجود - جمعرات 28 مئی 2020

چینی صدر شی جن پنگ نے پیپلز لبریشن آرمی سے کہا ہے کہ ملک کا دفاع مزید مضبوط کیا جائے، فوج بد ترین حالات کے لیے اپنی مشقیں مکمل کر لے۔پیپلز لبریشن آرمی کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ پوری طاقت کے ساتھ قومی خود مختاری، سیکورٹی اور ترقی سے منسلک مفادات کی حفاظت کی جائے گی۔چینی صدر نے کہا کہ تمام حالات سے فوری اور موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے فوج اپنی ٹریننگ کو بڑھائے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شی جن پنگ کی طرف سے فوج کو تیار رہنے کے حکم کو بھارت کی...

جنگ کیلئے مضبوط تیاری شروع کردیں، چینی صدر کا فوج کوتیار رہنے کا حکم

دبئی کا آج سے معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا اعلان وجود - بدھ 27 مئی 2020

دبئی نے (آج) بدھ 27 مئی سے جِم ، سینما گھر اور دوسری کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے ۔ دبئی میڈیا آفس کے مطابق کاروباروں کو صبح چھے بجے سے رات گیارہ بجے تک کھولنے کی اجازت ہوگی لیکن انھیں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومت کی عاید کردہ پابندیوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا یہ اعلان دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد کے زیر صدارت سپریم کمیٹی برائے بحران اور ڈیزاسسٹر مینجمنٹ کے ورچوئل اجلاس کے بعد کیا گیا ہے...

دبئی کا آج سے معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا اعلان

خبردار!!! جہاں کورونا کیسز کم ہوئے وہاں دوسری لہر آسکتی ہے 'ڈبلیو ایچ او وجود - بدھ 27 مئی 2020

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ وہ ممالک جہاں کورونا وائرس کی وبا میں کمی واقع ہورہی ہے اگر وہ اس وبا کو روکنے کے اقدامات سے بہت جلد دستبردار ہوجائیں گے تو پھر انہیں وبا کی دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ڈبلیو ایچ او کی ہنگامی صورتحال کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان نے ایک آن لائن بریفنگ میں بتایا کہ بہت سارے ممالک میں کیسز کم ہورہے ہیں تو وسطی اور جنوبی امریکا، جنوبی ایشیا اور افریقہ میں بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وبائی بیماری اکثر لہروں کی صورت میں آتی ہے ، اس ...

خبردار!!! جہاں کورونا کیسز کم ہوئے وہاں دوسری لہر آسکتی ہے 'ڈبلیو ایچ او

جاپان میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے لگائی گئی ایمرجنسی ختم وجود - بدھ 27 مئی 2020

جاپان نے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی ہٹا دی ہے ۔جاپان کے وزیر اعظم شینزو ایبے کا ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ جاپان کی حکومت نے ایمرجنسی اٹھانے کے حوالے سے انتہائی سخت پیمانہ رکھا تھا، جس پر اب پورے اترے ہیں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ جاپان کورونا وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔جاپان نے اپریل کے شروع میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے کے خدشے پر ٹوکیو سمیت 6 ریجن میں ایمرجنسی لگائی تھی۔واضح رہے کہ جاپان میں کورونا کیسز کی تعداد 16 ...

جاپان میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے لگائی گئی ایمرجنسی ختم

امریکا کا 28 سال بعد ایک بار پھر تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے پر غور وجود - بدھ 27 مئی 2020

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ میں ایک حالیہ اجلاس میں ایک بار پھر سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے پر غور کیا گیا ہے تاکہ روس اور چین کو مؤثر تنبیہ کی جاسکے ۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، 15 مئی کے روز ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ''جلد ہی'' تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے پر بھی غور کیا گیا۔واضح رہے کہ امریکا نے 1992 میں اپنا آخری تجرباتی ایٹمی دھماکہ کیا تھا لیکن تب تک وہ 1,032 ایٹمی دھماکے کرچکا تھا جن میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران 1945 میں جاپانی شہروں ہیر...

امریکا کا 28 سال بعد ایک بار پھر تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے پر غور

چین، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن گیا وجود - بدھ 27 مئی 2020

یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ جوزف بوریل نے چین اور امریکا کے مابین راستہ بنائے جانے کے معاملے اور یورپ میں بڑھتی ہوئی بحث و مباحثے کے دوران کہا ہے کہ ایشیائی صدی، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن چکی ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے 'دی گارجین' کی رپورٹ کے مطابق جرمن سفارتکاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تجزیہ کار طویل عرصے سے امریکی کے زیر قیادت نظام کے خاتمے اور ایشیائی صدی کی آمد کے بارے میں بات کررہے ہیں، یہ بات اب ہماری نظروں کے سامنے ہورہی ہے ۔ج...

چین، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن گیا