وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سعودی عرب میں کرپشن کےخلاف تاریخی کریک ڈاؤن

جمعه 10 نومبر 2017 سعودی عرب میں کرپشن کےخلاف تاریخی کریک ڈاؤن

سعودی علماء نے فتویٰ جاری کیاہے کہ کرپشن کیخلاف لڑنااتناہی اہم ہے جتنادہشت گرد ی کیخلاف لڑنا اوریہ جنگ مذہبی فریضہ ہے
سعودی عرب میں کرپشن کیخلاف تاریخی کریک ڈائون کرتے ہوئے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گیارہ شہزادوں‘ چار موجودہ اور 34 سابق وزراء سمیت درجنوں سعودی بااثر شخصیات کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان میں سعودی نیشنل گارڈز کے سربراہ شہزادہ مصعب بن عبداللہ‘ وزیر معیشت عادل فقیہ اور کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل ہیں۔ دیگر مشتبہ شخصیات کو ملک چھوڑنے سے روکنے کے لیے نجی پروازیں گرائونڈ کردی گئی ہیں۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں انٹی کرپشن کمیٹی تشکیل دے کر کرپشن کیخلاف مہم کا آغاز کیا ہے اور انٹی کرپشن کمیٹی نے اس سلسلہ میں وسیع پیمانے پر کریک ڈائون کیا ہے۔ گرفتار کی گئی اہم شخصیات پر الزامات کی نوعیت کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا جبکہ کابینہ میں اہم تبدیلیاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ شہزادہ مصعب کی جگہ شہزادہ خالد ایاف کو نیشنل گارڈز کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے اور وزیر معیشت عادل فقیہ کا قلمدان معمر التویجری کو سونپ دیا گیا ہے۔ اسی طرح سعودی بحریہ کے کمانڈر عبداللہ السطان کو ہٹا کر انکی جگہ وائس ایڈمرل فہدالفاضیلی کو ایڈمرل کی حیثیت میں تعینات کیا گیا ہے۔ سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق شاہی خاندان کے گرفتار تین افراد میں سے ایک شہزادے کو اسلحے کی غیرقانونی تجارت کرنے‘ دوسرے کو منی لانڈرنگ اور تیسرے شہزادے کو جعلی ٹینڈر اور مالی خوردبرد کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال کی گرفتاری دنیا بھر کی بڑی کاروباری شخصیات کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں کیونکہ انہوں نے دنیا کے نامور ترین مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کررکھی تھی۔ شہزادہ ولید ذاتی سفر کے لیے ’’سپرجمبو‘‘ استعمال کرتے ہیں اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملک کے تین اہم اداروں دفاع‘ سکیورٹی اور معیشت پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے جو اس سے قبل سعودی شاہی خاندان کی الگ الگ شاخوں کے کنٹرول میں تھے۔ کریک ڈائون کے بعد سعودی ا سٹاک مارکیٹ میں مندی چھا گئی ہے اور شہزادہ ولید بن طلال کی کمپنی کے شیئر دس فیصد تک گر گئے ہیں۔ سعودی علماء نے بیان جاری کیا ہے کہ کرپشن سے لڑنا اتنا ہی اہم ہے جتنا دہشت گردی سے لڑنا۔ کرپشن کیخلاف جنگ مذہبی فریضہ ہے۔ سعودی وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار کیے جانیوالے شہزادوں کے بنک اکائونٹ بھی منجمد کیے جاچکے ہیں ۔لیکن ان کی کمپنیوں کے اکائنٹ سیز نہیں کیے گئے۔ شاہی فرمان کے مطابق کرپشن کو جڑ سے نہ اکھاڑا گیا اور کرپشن عناصر کا احتساب نہ ہوا تو مادر وطن نہیں رہے گا۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حقیقی فلاحی انسانی معاشرے کی بنیاد حضرت نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھی تھی جنہوں نے اپنے خطبہ حجۃالوداع میں دوٹوک الفاظ میں فرمادیا تھا کہ کسی عربی کو عجمی اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ انہوں نے بلاامتیاز رنگ و نسل انسانیت کی تکریم کا درس دیا اور رشوت کو معاشرے کا ناسور قرار دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ پر اجماع امت ہے کہ ’’الراشی والمرتشی کِلا ھما فی النار‘‘ (رشوت دینے اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں)۔ اس ناطے سے معاشرے کو کرپشن سے پاک رکھنے کا دین اسلام سے زیادہ عملیت پسندی کا مظاہرہ کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتا۔ اگر معاشرے کو شعائر اسلامی پر استوار کیا جائے اور شریعت کو حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے تو اس میں کسی قسم کے جرائم کے پنپنے کا تصور بھی پیدا نہیں ہو سکتا۔ شعائر اسلامی میں ڈھلا معاشرہ ہی شرف انسانیت کا عملی نمونہ ہوتا ہے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے ناطے ہمارے لیے یہ فخرو اطمینان کی بات ہے کہ مسلم امہ کے لیے مرجع خلائق پاک سعودی دھرتی حجاز مقدس نفاذ شریعت کے عملی نمونہ کے طور پر امتِ واحدہ کے لیے رہنمائی و قیادت کا فریضہ ادا کرہی ہے۔ دین اسلام میں ’’حد‘‘ اور تعزیر کی سزائوں کے تصور نے بھی معاشرے میں جرائم کی بیخ کنی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور ان سزائوں پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد بھی سعودی فرمانروائی میں حجاز مقدس میں ہی ہوتا ہے۔ اگر دوسرے مسلم ممالک بھی شعائر اسلامی کی عملداری کے پابند ہو جائیں تو مسلم امہ آج بھی اقوام عالم کی قیادت کے اہل ہو سکتی ہے۔
سعودی فرمانروائی میں شاہ فیصل کو ایک مصلح کی حیثیت سے اسلامی دنیا میں ہی نہیں‘ اقوام عالم میں بھی شرف پذیرائی حاصل ہوا تھا جو اتحاد مسلم امہ کی علامت بنے تھے‘ انہیں ایک منظم صیہونی سازش کے تحت شہید کراکے راستے سے ہٹایا گیا۔ اب سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سعودی معاشرے کو شرف انسانیت اور شعائر اسلامی کے ناطے ایک فلاحی اسلامی معاشرے کے قالب میں ڈھالنے کا بیڑہ اٹھایا ہے جن کی طے کی جانیوالی پالیسیاں اسلامی دنیا اور اقوام عالم میں تیزی سے مقبولیت حاصل کررہی ہیں۔ انہوں نے اسلام کی روح کے مطابق معاشرے میں خاتون کی تکریم کے لیے متعدد پالیسیاں طے کیں۔ سعودی خواتین کے لیے ملازمتوں کے دروازے کھولے اور انہیں ڈرائیونگ کی اجازت دی جس سے یقیناً دین اسلام کے رجعت پسند اور انتہاء پسند ہونے کے تاثر کو زائل کرنے میں مدد ملے گی۔ اب جس وسیع پیمانے پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی جانب سے معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے بلاامتیاز کریک ڈائون کا آغاز کیا گیا ہے جس میں سعودی شہزادوں سمیت انتہائی بااثر اور اہم شخصیات زد میں آئی ہیں تو اس کے صرف سعودی معاشرے پر ہی نہیں‘ پوری مسلم دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہونگے جبکہ اصلاحات کے اس عمل سے سعودی معاشرہ کرپشن سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے ایک مثالی معاشرہ بن جائے گا۔
اس حوالے سے بطور خاص شہزادہ ولید بن طلال کی گرفتاری کرپشن کیخلاف بے لاگ اور بلاامتیاز کارروائی کی زریں مثال بن رہی ہے۔ شہزادہ ولید کے بارے میں یہ تاثر قائم رہا ہے کہ وہ سعودی رائل فیملی کی موثر ترین شخصیت ہیں جن کے امریکی صدر ٹرمپ کے خاندان سے قریبی تعلقات ہونے کے ناطے یہ تصور پختہ ہوا تھا کہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکا سعودی تعلقات بہت بہتر رہیں گے۔ اسی طرح سعودی خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی ختم کرانے میں بھی شہزادہ ولید نے ہی نمایاں کردار ادا کیا جس سے ملکی معیشت میں خواتین کی حیثیت تسلیم کرانے میں پیشرفت ہوئی اس لیے بطور خاص ان کی گرفتاری کو بلاامتیاز اور بے لاگ احتساب کا عملی نمونہ قرار دیا جارہا ہے۔
سعودی فرمانروائی نے عرب دنیا میں 18 دسمبر 2010ء کو ’’عرب سپرنگ‘‘ کے نام سے شروع ہونیوالی انقلابی لہر سے بھی خود کو سعودی معاشرے کے لیے اٹھائے گئے اپنے فلاحی اقدامات کی بدولت ہی محفوظ کیا تھا جبکہ اسلامی ملک تیونس سے اٹھنے والی اس لہر نے مصر‘ لیبیا‘ یمن کی موروثی بادشاہتوں اور فوجی آمریتوں کا تہس نہس کردیا۔ اگرچہ اس خونیں انقلاب کے پیچھے بھی سامراجی طاقتوں کا ہاتھ تھا جنہوں نے عرب ممالک کے عوام کو اپنے بادشاہوں اور فوجی آمروں کیخلاف آمادہ بغاوت کیا تاہم سعودی عرب نے اپنی عوام دوست بہترین پالیسیوں اور حکمت عملی سے خود کو اس منظم عالمی سازش سے بھی محفوظ رکھا۔سعودی معاشرہ آج ریاستی قوانین کی عملداری اور ڈسپلن کا مثالی معاشرہ ہے جہاں شہری کسی جبر کے ماحول میں نہیں بلکہ رضاکارانہ طور پر ملکی قوانین اور ہر شاہی فرمان کی اطاعت کرتے ہیں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے متعدد دوسرے اصلاحاتی اقدامات کی طرح ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے ٹیکسوں کے نظام میں بھی اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے جس کے تحت بعض مروجہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے تو بعض نئے ٹیکس بھی لگے ہیں تاہم سعودی باشندوں اور وہاں مقیم غیرسعودیوں نے بھی قومی معیشت کے استحکام کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنے کے جذبے کے تحت ٹیکس اصلاحات کو خوشدلی سے قبول کیا ہے۔
جب کسی معاشرے میں ریاستی قوانین کی حکمرانی اور عدل و انصاف کا چھوٹے بڑے کی تمیز کیے بغیر بے لاگ نظام رائج ہو جس میں کسی کی حق تلفی کا تصور بھی نہ کیا جاسکے تو اس معاشرے کے عوام پوری نیک نیتی کے ساتھ اپنے حکمرانوں کے لیے رطب اللسان ہوتے ہیں اور انکی اطاعت میں کسی عذر کو آڑے نہیں آنے دیتے۔ اسلام کے نام پر تشکیل پانے والی ہماری مملکت خداداد میں بدقسمتی سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی کوئی قدر پختہ ہو سکی نہ یہاں میرٹ‘ آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری والا معاشرہ پنپ سکا چنانچہ یہاں طبقاتی بنیادوں پر اشرافیہ نے خود کو اتنا مستحکم اور بااثر بنالیا کہ ریاستی قوانین و ادارے بھی انکی مرضی کے تابع ہو کر رہ گئے۔ ان بالادست طبقات نے ہی یہاں شرف انسانیت کو بٹہ لگایا ہے اور خود کو آئین و قانون سے ماورا قرار دے کر مہذب معاشرے کا تصور ہی گہنا دیا ہے۔ ہماری جو اشرافیہ آج احتساب کی زد میں آکر اپنے خلاف انتقامی کارروائیوں کے الزامات کی بوچھاڑ کررہی ہے‘ اسے برادر سعودی عرب میں کرپشن کے تدارک کے لیے شروع کیے گئے کریک ڈائون سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اگر ہمارے معاشرے میں بھی قانون کی نگاہ میں سب کے مساوی ہونے کا تصور پختہ ہو جائے اور حضرت نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’رشوت دینے اور رشوت لینے والے دونوں جہنمی ہیں‘‘ کو حرزجاں بنالیا جائے تو ہم بھی کسی جلسے جلوس‘ دھرنے اور لانگ مارچ کے بغیر کرپشن سے پاک معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ڈینیئل پرل قتل، ملزمان کی رہائی کیخلاف درخواست، سیکریٹری داخلہ3فروری کو طلب وجود - بدھ 20 جنوری 2021

سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں بری ملزمان کو رہا نہ کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور دیگر حکام کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیاہے ۔بدھ کو عدالتِ عالیہ نے سیکریٹری داخلہ اور جیل حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی ضمنی درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ستمبر میں حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک ملزمان کو رہا نہ کیا جائے ۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ اگر معاملہ سپریم کورٹ م...

ڈینیئل پرل قتل، ملزمان کی رہائی کیخلاف درخواست، سیکریٹری داخلہ3فروری کو طلب

واٹس ایپ چھوڑکر ترک ایپ بپ کی جانب رغبت میں اضاف وجود - بدھ 20 جنوری 2021

ہ عوام واٹس ایپ کو ترک کر کے ترکی کے سماجی پلیٹ فارم بپ کی طرف راغب ہو رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں بھی اس ایپ کی ڈائون لوڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق لوگ ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق اندیشوں کے باعث فوری پیغام رسانی کی اپیلی کیشن واٹس ایپ کو ترک کر کے ترکی کے سماجی رابطہ پلیٹ فارم بِپ کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ سے زیادہ بہتر ویڈیو کال، ایک ہزار افراد تک کے چیٹنگ گروپ اور مختلف چینلوں کی رکنیت کی اجازت دینے جیسی خصوصیات کی وجہ سے ہم بِپ کو تر...

واٹس ایپ چھوڑکر ترک ایپ بپ کی جانب رغبت میں اضاف

ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ،ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی خطاب وجود - بدھ 20 جنوری 2021

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں سے اپنا الوداعی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ۔ فخر ہے کہ میں دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں کیں۔اب ملک کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہماری قومی عظمت سے اعتماد کے ضیاع کا ہے ،غیرملکی خبررساں ادراے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں سے بحیثیت امریکی صدر اپنا الوداعی خطاب بذریعہ یوٹیوب کیا ۔انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ فخر ہے کہ میں دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں...

ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ،ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی خطاب

ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی نے منگنی کا اعلان کردیا وجود - بدھ 20 جنوری 2021

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی ٹرمپ نے والد کی مدتِ صدارت کے آخری روز اپنی منگنی کا باضابطہ اعلان کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ پر اپنے منگیتر مائیکل بلوس کے ہمراہ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنی منگنی کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ زندگی کا نیا باب ان کے ساتھ گزارنے کی منتظر ہیں۔اپنی پوسٹ میں ٹفنی نے لکھا کہ وائٹ ہائوس میں فیملی کے ہمراہ تاریخی مواقعوں پر سنہری یادیں سمیٹنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے ۔ٹفنی نے لکھا کہ وائٹ ہائوس میں میری سب سے بہترین یاد مائ...

ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی نے منگنی کا اعلان کردیا

ایران کی ٹرمپ، پومپیو اور دوسرے اعلی عہدے داروں پر پابندیاں عائد وجود - بدھ 20 جنوری 2021

ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکا کے سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور متعدد موجودہ اور سابق اعلی امریکی عہدے داروں کے خلاف پابندیاں عاید کردیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزارت خارجہ کے بیان میں کہاگیاکہ امریکی صدر ٹرمپ اور پومپیو کے علاوہ قائم مقام وزیر دفاع کرسٹوفرملر، وزیرخزانہ اسٹیفن نوشین ،سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہاسپیل ،امریکا کے خصوصی ایلچی برائے ایران اور وینزویلا ایلیٹ ابرامس، دفتر برائے غیرملکی اثاثہ کنٹرول کی سربراہ آندریا گاکی،صدر ٹرمپ کے قوم...

ایران کی ٹرمپ، پومپیو اور دوسرے اعلی عہدے داروں پر پابندیاں عائد

شہری کے 44 ارب روپے کچرے کے ڈھیر میں چلے گئے وجود - بدھ 20 جنوری 2021

برطانیہ میں 44ارب کچرے کے ڈھیر میں چلے گئے اور حکام کی جانب سے تلاشی کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ کے 35سالہ آئی ٹی انجینئر نے 2009میں کرپٹو کرنسی میں حصہ لیا اور2013میں آفس کی صفائی کی دوران غلطی سے بٹ کوائن والی ہارڈ ڈرائیو کوڑے میں پھینک دی۔جیمز ہویلز کا کہنا ہے کہ اس کے پاس 75 سو بٹ کوائن موجود تھے جو آج کی قیمت کے مطابق 28 کروڑ ڈالرز کے قریب بنتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 8 سال قبل پھینکے گئے کوڑے کے ڈھیر میں ہارڈ ڈرائیو تلاش کرنے کی حکام...

شہری کے 44 ارب روپے کچرے کے ڈھیر میں چلے گئے

دوماہ سے لاپتہ علی بابا کمپنی کے بانی جیک ما منظرِعام پر آگئے وجود - بدھ 20 جنوری 2021

معروف آن لائن ای کامرس کمپنی علی بابا کے بانی جیک ما 2 ماہ سے زائد عوامی منظرنامے سے پراسرار طور پر غائب رہنے کے بعد سامنے آگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جیک ما نے گزشتہ روز ویڈیو لِنک کے ذریعے دیہی اساتذہ کی زیر قیادت سماجی بہبود کے پروگرام میں شرکت کی۔انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا کورونا کے بعد جلد ملاقات کریں گے ۔ خیال رہے کہ چین کے ریگولیٹری نظام پر تنقید کے بعد جیک ما کے پراسرار طور پر لاپتا ہونے کی خبروں سے متعلق سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو...

دوماہ سے لاپتہ علی بابا کمپنی کے بانی جیک ما منظرِعام پر آگئے

کراچی افیئرنامی رشوت کے مقدمے میں سابق فرانسیسی وزیراعظم کے ٹرائل کا آغاز وجود - منگل 19 جنوری 2021

سابق فرانسیسی وزیراعظم ایڈورڈ بیلاڈور پر مقدمے کا آغاز کردیاگیا ہے ،کراچی افیئرکے نام سے مشہور اس مقدمے میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 1990کی دہائی میں ناکام صدارتی مہم کے سلسلے میں فنڈز کی فراہمی کے لیے اسلحہ کے معاہدوں میں رشوت لی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق91سالہ بیلاڈور بدانتظامی کے الزامات کا سامنا کرنے والے فرانسیسی سیاست دانوں کی ایک طویل فہرست کا حصہ بن گئے جہاں اس فہرست میں سابق صدر نکولس سرکوزی اور ان کے پیش رو جیک چیراک بھی شامل ہیں۔قدامت پسند سابق وزیر اعظم پر کورٹ آ...

کراچی افیئرنامی رشوت کے مقدمے میں سابق فرانسیسی وزیراعظم کے ٹرائل کا آغاز

ایران میں رقص کے لفظ پر ٹی وی میزبان معطل، گانے پر لڑکیاں گرفتار وجود - منگل 19 جنوری 2021

ایران میں رقص کے لفظ پر ٹی وی میزبان معطل جبکہ گانے گانے پرمتعدد لڑکیاں گرفتارکرلی گئیں،میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کے فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل نے اپنے ایوننگ فیملی پروگرام کی میزبان روزیتا قبادی کو معطل کر دیا۔ ایک روز جب وہ ٹی وی کے دفتر پہنچی تو اسے وہ یہ جان کر حیران رہی کہ اسے پروگرام کی میزبانی سے روک دیا گیا ہے ۔روزیتا قبادی نے بتایا گیا کہ اس کے پروگرام میں ایک ڈاکٹر نے رقص جیسے متنازع الفاظ استعمال کیے تھے مگر اس نے اپنے مہمان کو ایسی گفتگو سے من...

ایران میں رقص کے لفظ پر ٹی وی میزبان معطل، گانے پر لڑکیاں گرفتار

نومنتخب امریکی صدر کی تقریب حلف برداری،واشنگٹن کا ریڈزون فوجی چھاونی میں تبدیل وجود - منگل 19 جنوری 2021

نومنتخب امریکی صدرجو بائیڈن کی تقریب حلف برداری سے پہلے واشنگٹن ڈی سی کا ریڈ زون فوجی چھاونی میں تبدیل ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی دارالحکومت میںرکاوٹیں، خاردار تاریں اور نیشنل گارڈز بڑی تعداد میں تعینات ہے جبکہ سڑکیں سنسان ہیں۔امریکا کی بعض ریاستوں میں ٹرمپ کے حامی سڑکوں پر نکلے ، تاہم سیکورٹی اہل کاروں کی تعداد مظاہرین سے کہیں زیادہ تھی۔جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری بدھ کو ہوگی۔

نومنتخب امریکی صدر کی تقریب حلف برداری،واشنگٹن کا ریڈزون فوجی چھاونی میں تبدیل

تقریب حلف برداری میں حملے کا خدشہ نہیں،امریکی وزیردفاع وجود - منگل 19 جنوری 2021

امریکی قائم مقام سیکٹری دفاع کرسٹوفر ملر نے کہاہے کہ امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں سیکیورٹی پرتعینات اہلکاروں کے حملے کا خدشہ نہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کرسٹوفر ملر نے کہا کہ کوئی خفیہ اطلاعات نہیں کہ بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے حملے کاخدشہ ہو.انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی پرتعینات تمام 25 ہزار نیشنل گارڈز کی اسکریننگ ہورہی ہے ، سیکیورٹی پرتعینات اہکاروں کی اسکریننگ معمول کی بات ہے ۔

تقریب حلف برداری میں حملے کا خدشہ نہیں،امریکی وزیردفاع

بھارت، پڑھائی پر توجہ نہ دینے پر باپ نے بیٹے کو آگ لگادی وجود - منگل 19 جنوری 2021

بھارتی ریاست حیدرآباد دکن میں پڑھائی پر پڑھائی پر توجہ نہ دینے والے 10 سالہ بچے کو اس کے والد نے تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔باپ نے بیٹے پر تارپین کا تیل چھڑک کا آگ لگائی، باپ کے تشدد کا نشانہ بننے والے 10سالہ بچے کا 60 فیصد جسم جل گیا ہے ۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جھلس کر زخمی ہونے والے بچے کی جان بچانے کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیم پوری کوشش کررہی ہے ۔جھلس کر زخمی ہونے والے بچے کا باپ پیشے کے لحاظ سے مزدور ہے اور اپنے بچے کو نذر آتش کرنے کے بعد سے مفرور ہے ۔علاقہ پولیس کے مطابق یہ واق...

بھارت، پڑھائی پر توجہ نہ دینے پر باپ نے بیٹے کو آگ لگادی