وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سعودی عرب میں کرپشن کےخلاف تاریخی کریک ڈاؤن

جمعه 10 نومبر 2017 سعودی عرب میں کرپشن کےخلاف تاریخی کریک ڈاؤن

سعودی علماء نے فتویٰ جاری کیاہے کہ کرپشن کیخلاف لڑنااتناہی اہم ہے جتنادہشت گرد ی کیخلاف لڑنا اوریہ جنگ مذہبی فریضہ ہے
سعودی عرب میں کرپشن کیخلاف تاریخی کریک ڈائون کرتے ہوئے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گیارہ شہزادوں‘ چار موجودہ اور 34 سابق وزراء سمیت درجنوں سعودی بااثر شخصیات کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان میں سعودی نیشنل گارڈز کے سربراہ شہزادہ مصعب بن عبداللہ‘ وزیر معیشت عادل فقیہ اور کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل ہیں۔ دیگر مشتبہ شخصیات کو ملک چھوڑنے سے روکنے کے لیے نجی پروازیں گرائونڈ کردی گئی ہیں۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں انٹی کرپشن کمیٹی تشکیل دے کر کرپشن کیخلاف مہم کا آغاز کیا ہے اور انٹی کرپشن کمیٹی نے اس سلسلہ میں وسیع پیمانے پر کریک ڈائون کیا ہے۔ گرفتار کی گئی اہم شخصیات پر الزامات کی نوعیت کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا جبکہ کابینہ میں اہم تبدیلیاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ شہزادہ مصعب کی جگہ شہزادہ خالد ایاف کو نیشنل گارڈز کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے اور وزیر معیشت عادل فقیہ کا قلمدان معمر التویجری کو سونپ دیا گیا ہے۔ اسی طرح سعودی بحریہ کے کمانڈر عبداللہ السطان کو ہٹا کر انکی جگہ وائس ایڈمرل فہدالفاضیلی کو ایڈمرل کی حیثیت میں تعینات کیا گیا ہے۔ سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق شاہی خاندان کے گرفتار تین افراد میں سے ایک شہزادے کو اسلحے کی غیرقانونی تجارت کرنے‘ دوسرے کو منی لانڈرنگ اور تیسرے شہزادے کو جعلی ٹینڈر اور مالی خوردبرد کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال کی گرفتاری دنیا بھر کی بڑی کاروباری شخصیات کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں کیونکہ انہوں نے دنیا کے نامور ترین مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کررکھی تھی۔ شہزادہ ولید ذاتی سفر کے لیے ’’سپرجمبو‘‘ استعمال کرتے ہیں اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملک کے تین اہم اداروں دفاع‘ سکیورٹی اور معیشت پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے جو اس سے قبل سعودی شاہی خاندان کی الگ الگ شاخوں کے کنٹرول میں تھے۔ کریک ڈائون کے بعد سعودی ا سٹاک مارکیٹ میں مندی چھا گئی ہے اور شہزادہ ولید بن طلال کی کمپنی کے شیئر دس فیصد تک گر گئے ہیں۔ سعودی علماء نے بیان جاری کیا ہے کہ کرپشن سے لڑنا اتنا ہی اہم ہے جتنا دہشت گردی سے لڑنا۔ کرپشن کیخلاف جنگ مذہبی فریضہ ہے۔ سعودی وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار کیے جانیوالے شہزادوں کے بنک اکائونٹ بھی منجمد کیے جاچکے ہیں ۔لیکن ان کی کمپنیوں کے اکائنٹ سیز نہیں کیے گئے۔ شاہی فرمان کے مطابق کرپشن کو جڑ سے نہ اکھاڑا گیا اور کرپشن عناصر کا احتساب نہ ہوا تو مادر وطن نہیں رہے گا۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حقیقی فلاحی انسانی معاشرے کی بنیاد حضرت نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھی تھی جنہوں نے اپنے خطبہ حجۃالوداع میں دوٹوک الفاظ میں فرمادیا تھا کہ کسی عربی کو عجمی اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ انہوں نے بلاامتیاز رنگ و نسل انسانیت کی تکریم کا درس دیا اور رشوت کو معاشرے کا ناسور قرار دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ پر اجماع امت ہے کہ ’’الراشی والمرتشی کِلا ھما فی النار‘‘ (رشوت دینے اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں)۔ اس ناطے سے معاشرے کو کرپشن سے پاک رکھنے کا دین اسلام سے زیادہ عملیت پسندی کا مظاہرہ کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتا۔ اگر معاشرے کو شعائر اسلامی پر استوار کیا جائے اور شریعت کو حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے تو اس میں کسی قسم کے جرائم کے پنپنے کا تصور بھی پیدا نہیں ہو سکتا۔ شعائر اسلامی میں ڈھلا معاشرہ ہی شرف انسانیت کا عملی نمونہ ہوتا ہے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے ناطے ہمارے لیے یہ فخرو اطمینان کی بات ہے کہ مسلم امہ کے لیے مرجع خلائق پاک سعودی دھرتی حجاز مقدس نفاذ شریعت کے عملی نمونہ کے طور پر امتِ واحدہ کے لیے رہنمائی و قیادت کا فریضہ ادا کرہی ہے۔ دین اسلام میں ’’حد‘‘ اور تعزیر کی سزائوں کے تصور نے بھی معاشرے میں جرائم کی بیخ کنی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور ان سزائوں پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد بھی سعودی فرمانروائی میں حجاز مقدس میں ہی ہوتا ہے۔ اگر دوسرے مسلم ممالک بھی شعائر اسلامی کی عملداری کے پابند ہو جائیں تو مسلم امہ آج بھی اقوام عالم کی قیادت کے اہل ہو سکتی ہے۔
سعودی فرمانروائی میں شاہ فیصل کو ایک مصلح کی حیثیت سے اسلامی دنیا میں ہی نہیں‘ اقوام عالم میں بھی شرف پذیرائی حاصل ہوا تھا جو اتحاد مسلم امہ کی علامت بنے تھے‘ انہیں ایک منظم صیہونی سازش کے تحت شہید کراکے راستے سے ہٹایا گیا۔ اب سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سعودی معاشرے کو شرف انسانیت اور شعائر اسلامی کے ناطے ایک فلاحی اسلامی معاشرے کے قالب میں ڈھالنے کا بیڑہ اٹھایا ہے جن کی طے کی جانیوالی پالیسیاں اسلامی دنیا اور اقوام عالم میں تیزی سے مقبولیت حاصل کررہی ہیں۔ انہوں نے اسلام کی روح کے مطابق معاشرے میں خاتون کی تکریم کے لیے متعدد پالیسیاں طے کیں۔ سعودی خواتین کے لیے ملازمتوں کے دروازے کھولے اور انہیں ڈرائیونگ کی اجازت دی جس سے یقیناً دین اسلام کے رجعت پسند اور انتہاء پسند ہونے کے تاثر کو زائل کرنے میں مدد ملے گی۔ اب جس وسیع پیمانے پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی جانب سے معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے بلاامتیاز کریک ڈائون کا آغاز کیا گیا ہے جس میں سعودی شہزادوں سمیت انتہائی بااثر اور اہم شخصیات زد میں آئی ہیں تو اس کے صرف سعودی معاشرے پر ہی نہیں‘ پوری مسلم دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہونگے جبکہ اصلاحات کے اس عمل سے سعودی معاشرہ کرپشن سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے ایک مثالی معاشرہ بن جائے گا۔
اس حوالے سے بطور خاص شہزادہ ولید بن طلال کی گرفتاری کرپشن کیخلاف بے لاگ اور بلاامتیاز کارروائی کی زریں مثال بن رہی ہے۔ شہزادہ ولید کے بارے میں یہ تاثر قائم رہا ہے کہ وہ سعودی رائل فیملی کی موثر ترین شخصیت ہیں جن کے امریکی صدر ٹرمپ کے خاندان سے قریبی تعلقات ہونے کے ناطے یہ تصور پختہ ہوا تھا کہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکا سعودی تعلقات بہت بہتر رہیں گے۔ اسی طرح سعودی خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی ختم کرانے میں بھی شہزادہ ولید نے ہی نمایاں کردار ادا کیا جس سے ملکی معیشت میں خواتین کی حیثیت تسلیم کرانے میں پیشرفت ہوئی اس لیے بطور خاص ان کی گرفتاری کو بلاامتیاز اور بے لاگ احتساب کا عملی نمونہ قرار دیا جارہا ہے۔
سعودی فرمانروائی نے عرب دنیا میں 18 دسمبر 2010ء کو ’’عرب سپرنگ‘‘ کے نام سے شروع ہونیوالی انقلابی لہر سے بھی خود کو سعودی معاشرے کے لیے اٹھائے گئے اپنے فلاحی اقدامات کی بدولت ہی محفوظ کیا تھا جبکہ اسلامی ملک تیونس سے اٹھنے والی اس لہر نے مصر‘ لیبیا‘ یمن کی موروثی بادشاہتوں اور فوجی آمریتوں کا تہس نہس کردیا۔ اگرچہ اس خونیں انقلاب کے پیچھے بھی سامراجی طاقتوں کا ہاتھ تھا جنہوں نے عرب ممالک کے عوام کو اپنے بادشاہوں اور فوجی آمروں کیخلاف آمادہ بغاوت کیا تاہم سعودی عرب نے اپنی عوام دوست بہترین پالیسیوں اور حکمت عملی سے خود کو اس منظم عالمی سازش سے بھی محفوظ رکھا۔سعودی معاشرہ آج ریاستی قوانین کی عملداری اور ڈسپلن کا مثالی معاشرہ ہے جہاں شہری کسی جبر کے ماحول میں نہیں بلکہ رضاکارانہ طور پر ملکی قوانین اور ہر شاہی فرمان کی اطاعت کرتے ہیں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے متعدد دوسرے اصلاحاتی اقدامات کی طرح ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے ٹیکسوں کے نظام میں بھی اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے جس کے تحت بعض مروجہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے تو بعض نئے ٹیکس بھی لگے ہیں تاہم سعودی باشندوں اور وہاں مقیم غیرسعودیوں نے بھی قومی معیشت کے استحکام کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنے کے جذبے کے تحت ٹیکس اصلاحات کو خوشدلی سے قبول کیا ہے۔
جب کسی معاشرے میں ریاستی قوانین کی حکمرانی اور عدل و انصاف کا چھوٹے بڑے کی تمیز کیے بغیر بے لاگ نظام رائج ہو جس میں کسی کی حق تلفی کا تصور بھی نہ کیا جاسکے تو اس معاشرے کے عوام پوری نیک نیتی کے ساتھ اپنے حکمرانوں کے لیے رطب اللسان ہوتے ہیں اور انکی اطاعت میں کسی عذر کو آڑے نہیں آنے دیتے۔ اسلام کے نام پر تشکیل پانے والی ہماری مملکت خداداد میں بدقسمتی سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی کوئی قدر پختہ ہو سکی نہ یہاں میرٹ‘ آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری والا معاشرہ پنپ سکا چنانچہ یہاں طبقاتی بنیادوں پر اشرافیہ نے خود کو اتنا مستحکم اور بااثر بنالیا کہ ریاستی قوانین و ادارے بھی انکی مرضی کے تابع ہو کر رہ گئے۔ ان بالادست طبقات نے ہی یہاں شرف انسانیت کو بٹہ لگایا ہے اور خود کو آئین و قانون سے ماورا قرار دے کر مہذب معاشرے کا تصور ہی گہنا دیا ہے۔ ہماری جو اشرافیہ آج احتساب کی زد میں آکر اپنے خلاف انتقامی کارروائیوں کے الزامات کی بوچھاڑ کررہی ہے‘ اسے برادر سعودی عرب میں کرپشن کے تدارک کے لیے شروع کیے گئے کریک ڈائون سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اگر ہمارے معاشرے میں بھی قانون کی نگاہ میں سب کے مساوی ہونے کا تصور پختہ ہو جائے اور حضرت نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’رشوت دینے اور رشوت لینے والے دونوں جہنمی ہیں‘‘ کو حرزجاں بنالیا جائے تو ہم بھی کسی جلسے جلوس‘ دھرنے اور لانگ مارچ کے بغیر کرپشن سے پاک معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ، آرمی چیف وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مدرسے پر حملہ دراصل اسلام دشمنی ہے ، اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک نہ پہنچائیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپر دیر مالاکنڈ ڈویژن کا دورہ کیا جہاں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے ان کا استقبال کیا۔آرمی چیف کو استحکام آپریشنز اور بارڈر مینجمنٹ پر بریفنگ دی گئی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے سنگل...

دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ، آرمی چیف

ججوں کے انتظامی فیصلے انفرادی نہیں بطور ادارہ تصور کیے جائیں گے ، سپریم کورٹ وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس ہائیکورٹس اور ہائیکورٹ ججز کے انتظامی اختیارات فیصلے بطور ادارہ تصور کیے جائیں گے ۔ہائیکورٹ ججز کے انتظامی اختیارات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے 16 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ ججز کے انتظامی اختیارات کے حوالے سے فیصلہ جاری کردیا، 42 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے تحریر کیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس ہائی کورٹس اور ہائی کورٹ ججز کے ...

ججوں کے انتظامی فیصلے انفرادی نہیں بطور ادارہ تصور کیے جائیں گے ، سپریم کورٹ

قومی اسمبلی،اجلاس بلانے کیلئے اپوزیشن نے اپنی ریکوزیشن واپس لے لی وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے اپوزیشن نے اپنی ریکوزیشن واپس لے لی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن نے اپنی ریکوزیشن اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکی جانب سے کرائی جانے والی یقین دہانی کے بعد واپس لی ۔ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ (آج)اپوزیشن رہنماں کو بات کرنے کا زیادہ موقع دیں گے ۔قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا جائیگا۔اپوزیشن کی جانب سے جو ریکوزیشن دی گئی تھی اس میں اجلاس کے لیے اپنا ایجنڈا دیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی،اجلاس بلانے کیلئے اپوزیشن نے اپنی ریکوزیشن واپس لے لی

بیمار ہونے پر چمگادڑیں بھی آئسولیٹ ہوجاتی ہیں، تحقیق وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

امریکا میں کی گئی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چمگادڑیں جب بیمار ہوتی ہیں تو وہ سماجی دوری اختیارکرلیتی ہیں۔کورونا وائرس کی وبا کے آغاز میں جب ماہرین نے متاثرہ افرادکو سماجی دوری اور قرنطینہ کا مشورہ دیا تو بعض افراد نے اس طریقہ کار پر انگلیاں بھی اٹھائیں اور اسے غیرفطری قرار دیا کہ کسی کو بیمار ہونے پر تنہاکردیا جائے تاہم اب امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ جھنڈ میں رہنے والی چمگادڑیں بھی بیماری کی صورت میں سماجی دوری اختیار کرتی ہیں۔امریکی اور...

بیمار ہونے پر چمگادڑیں بھی آئسولیٹ ہوجاتی ہیں، تحقیق

گلشن دھماکے کے متاثرین گھر اور معاوضے سے محروم؛ عمارت بھی منہدم کردی گئی وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

گلشن اقبال مسکن چورنگی دھماکے کے متاثرین کو تاحال کوئی معاوضہ اور متبادل جگہ فراہم نہیں کی جاسکی جب کہ عمارت بھی منہدم کردی گئی ہے ۔گلشن اقبال مسکن چورنگی پر واقع عمارت اللہ نور اپارٹمنٹس میں 21 اکتوبر بروز بدھ کو ہونے والے دھماکے کے متاثرین کو تاحال حکومت کی جانب سے کوئی معاوضہ اور رہائش گاہ فراہم نہیں کی گئی، عمارت کے متاثرہ حصے کے اطراف ٹیپ لگا کر سیل کیا ہوا ہے جسکی وجہ سے عمارت سے متصل قائم ایک ریسٹورانٹ اور کیفے بھی گزشتہ ایک ہفتے سے بند پڑا ہے ۔عمارت کے متاثرہ خاندانوں...

گلشن دھماکے کے متاثرین گھر اور معاوضے سے محروم؛ عمارت بھی منہدم کردی گئی

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر پاکستان کا فرانس سے سفیر واپس بلانے پر غور وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے معاملے پر فرانس سے سفیر واپس بلانے پر غورشروع کردیا ہے ،حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہوسکتا ہے ،کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و ستم کے باعث پاکستان بھارت سے مذاکرات نہیں کرسکتا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فرانس سے اپنے سفیر کو مشاورت کیلئے بلوانا پڑا تو بلائیں گے اور پارلیمنٹ سے رہنمائی لیں گے ۔حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس میں بھا...

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر پاکستان کا فرانس سے سفیر واپس بلانے پر غور

مودی حکومت کا یوم سیاہ پر کشمیریوں پر ایک اورحملہ وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں یوم سیاہ کے موقع پر ایک اور کشمیری مخالف اقدام اٹھاتے ہوئے منگل کوزمین سے متعلق قانون کو نوٹیفائی کردیااور اب مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر اور لداخ میں کوئی بھی غیر مقامی شہری زمین خرید سکتا ہے ۔تاہم اس میں ذرعی زمین شامل نہیں ہے ۔ بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں جاری حکمنامے کو مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر اور لداخ ری آرگنازیشن 2020کے نام سے موسوم کیا جائے گا ۔یہ اس سلسلے میں پاس کئے گئے قوانین کا تیسر...

مودی حکومت کا یوم سیاہ پر کشمیریوں پر ایک اورحملہ

27 اکتوبر تحریک حق خود ارادیت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ،مشال ملک وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز کشمیریوں کو قتل، قید اور ان کی املاک تباہ کر رہی ہے ۔ اپنے بیان میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے کہا کہ 27 اکتوبر تحریک حق خود ارادیت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ، بھارتی فوج نے 70 سال سے کشمیر میں لاشوں کا انبار لگا رکھا ہے ۔مشال ملک نے کہا کہ بھارتی فورسز کشمیریوں کو قتل اور قید اور ان کی املاک تباہ کر رہی ہے ، کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ کب تک چلے گا؟ بہت جلد بھارت اور دنیا کشمیر...

27 اکتوبر تحریک حق خود ارادیت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ،مشال ملک

بھارت کی پاکستان،چین کو گیدڑ بھبکیاں وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

بھارت نیو انڈیا کے بیانیے کی آڑ میں پاکستان اور چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی دھمکیوں پر اتر آیا ہے۔ چین سے مار کھانے والے بھارتی حکمران بڑی بڑھکیں مارنے لگے، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کہتے ہیں کہ جنگ اس ملک لے کر جا سکتے ہیں جہاں سے خطرہ سر اٹھا رہا ہو گا ، انہوں نے جارحیت کی دھمکیوں کو بھارت کے نئے بیانئے سے جوڑ دیا۔ بھارتی مشیر قومی سلامتی اجیت دوول نے نئی ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ اپنی زمین کے ساتھ ساتھ غیرملکی زمین پر بھی جاکر لڑیں گے، چین سے حالیہ ہزیمت اٹھا...

بھارت کی پاکستان،چین کو گیدڑ بھبکیاں

سڈنی میں شدت پسند شخص کا مسجد پر حملہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں نامعلوم شخص نے ترک مسجد پرحملہ کر کے مسجد کی ایک لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی املاک کو نقصان پہنچایا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم شخص نے مسجد کے اندر داخل ہو کر اسکی کھڑکیاں اور فانوس توڑ دیئے، پولیس نے حملہ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا جسے عدالت میں پیش کیاجائیگا۔آسٹریلوی میڈیا کے مطابق ایک شخص اوبرن گیلی پولی مسجد میں داخل ہوا اور فائرہائیڈرنٹ اور ویکیوم کلینر کے ذریعے مسجد کی املاک کو نقصان پہنچایا۔مسجد ترجمان کا کہنا تھا کہ مسجد میں اس وق...

سڈنی میں شدت پسند شخص کا مسجد پر حملہ

کورونا کیلئے جمع عطیات میں سے عوام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہونے کا انکشاف وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

کورونا وائرس کے انسداد کے لیے اندرون اور بیرون ملک سے جمع ہونے والے 4.84 ارب کے عطیات میں سے عوام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اس حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش کی گئیں جس میں حکومت نے اعتراف کیا کہ کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 4ارب 84 کروڑ 24 لاکھ 26 ہزار 121 روپے کی عطیات جمع ہوئے۔ جس میں سے بیرون ملک سے 1 ارب 6 کروڑ 34 لاکھ 8 ہزار 414 روپے اور اندرون ملک سے 3 ارب 78 کروڑ20 لاکھ 77 ہزار 707 روپے کے عطیات موصول ہوئے۔ارک...

کورونا کیلئے جمع عطیات میں سے عوام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہونے کا انکشاف

مسلمانوں کی بائیکاٹ مہم سے فرانسیسی صدر پریشان وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے گھٹنے ٹیک دئیے،فرانس نے خلیجی ممالک سے بائیکاٹ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی حکومت کے اسلام مخالف رویئے پر مشرق وسطی کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کی بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی ہے۔سوشل میڈیا پر بائیکاٹ فرنچ پروڈکٹس اوربائیکاٹ فرانس کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کی مہم کے بعد کویت کی مارکیٹوں سے فرانسیسی مصنوعات ...

مسلمانوں کی بائیکاٹ مہم سے فرانسیسی صدر پریشان