وجود

... loading ...

وجود

ایم کیو ایم کی عسکری ونگ کے انچارج حماد صدیقی کی گرفتاری، ایم کیوایم کے دھڑوں میں کھلبلی

بدھ 01 نومبر 2017 ایم کیو ایم کی عسکری ونگ کے انچارج حماد صدیقی کی گرفتاری، ایم کیوایم کے دھڑوں میں کھلبلی

جنرل آصف نواز، جنرل نصیر اللہ بابر، محترمہ بینظیر بھٹو، سید عبداللہ شاہ کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے بلا خوف وخطر بے بانگ دہل کہہ دیا کہ ایم کیو ایم عسکری ونگ چلاتی ہے ۔محترمہ بینظیر بھٹو نے تو یہاں تک ایم کیو ایم کو پیشکش کرچکی تھیں کہ انہیں سندھ کی وزارت اعلیٰ بھی دی جاسکتی ہے ،لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ ایم کیو ایم اپنا اسلحہ کور ہیڈکوارٹر کراچی میں جمع کرائے اور عسکری ونگ سے لاتعلقی کا اعلان کرے۔ لیکن لندن میں بیٹھا ہوا عسکری ونگ کا سر غنہ الطاف حسین بھلا یہ کیسے چاہتا کہ وہ عسکری ونگ کو ختم کرے ان کی حالت تو ایسی تھی جیسے مچھلی کو پانی سے نکال دیا جائے اس وقت تو دنیا دیکھ رہی ہے کہ عسکری ونگ جیسے ہی غیر فعال ہوئی پارٹی کاشیرازہ بکھرگیا۔کوئی بھی بانی ایم کیوایم کی بات نہیں مان رہا ۔اسی لیے وہ آپے سے باہر ہوکر اپنی اصلیت دکھا رہے ہیں اوربازاری زبان پراترآئے ہیں
عسکری ونگ تو پارٹی کا نام تھا جبکہ سیاسی ونگ تو اس کی چھوٹی سی شاخ تھی یہی بیچارے سیاسی ونگ کے لوگ گونگوں کی طرح گھنٹوں بیٹھ کر لندن سے آنے والی کالز کو سنتے تھے ان کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ عسکری ونگ دو طرح کی تھی ایک تو کراچی تنظیمی کمیٹی کے ذریعہ یونٹ، سیکٹر اور جوائنٹ سیکٹر انچارجز، لیبر ڈویژن، اے پی ایم ایس او کے ذریعہ کرائی جاتی تھی دوسری عسکری ونگ کو کوڈ ورڈ میں ’’سیٹ اپ‘‘ کہا جاتا تھا یعنی اس کو صرف لندن اور جنوبی افریقہ سے کنٹرول کیا جاتا تھا ’’سیٹ اپ‘‘ اتنا طاقتور تھا کہ پوری پارٹی اس کے سامنے بے بس تھی اور کسی کو پتہ نہیں ہوتا تھا کہ اس کا انچارج کون ہے؟ دو مسلح افراد اگر کوئی کاروائی کرنے جاتے تھے تو دونوں کو پتہ نہیں ہوتا تھا کہ انہیں کس کے حکم یہ کس کے خلاف کاروائی کے لیے بھیجا گیا ہے؟ کارروائی کرنے والے ایک دوسرے کا نام بھی نہیں جانتے تھے۔
2008 سے لے کر 2013 تک کراچی تنظیمی کا انچارج حماد صدیقی تھا۔ اس دور میں ایسے تاریخی جرائم ہوئے جن کا ذکر سنتے ہی رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جب وکلاء کو زندہ جلایا گیا۔ جب بلدیہ ٹائون کی فیکٹری کو جلایا گیا جس میں 258 مزدور جل کر ہمیشہ کے لیے ہم سے بچھڑ گئے، ڈاکٹر عمران فاروق کو لندن میں قتل کردیا گیا۔ قتل میں ملوث، دو ملزمان کاشف کامران اور محسن علی سید پہلے ہانگ کانگ اور پھر سری لنکا بھاگ گئے جب وہ سری لنکا سے کراچی پہنچے تو حماد صدیقی خود ائیر پورٹ گئے ۔ان کے حکم پر خالہ شمیم نے ایک بینک کے ای ٹی ایم سے پیسے نکال لیے جیسے ہی دونوں ملزم ایئر پورٹ سے باہر آئے حساس اداروں نے انہیں حماد صدیقی اور خالہ شمیم کو گرفتار کرلیا۔ حماد صدیقی کی گرفتاری سے الطاف حسین اور گورنر سندھ عشرت العباد کی نیندیں حرام ہوگئیں عشرت العباد نے دوڑے دوڑے فوجی حکام کے پاس گئے اور منت سماجت کی اور بڑی کوششوں کے بعد حماد صدیقی کو چھڑا لیا۔ کیونکہ حماد صدیقی تو دہشتگرد ونگ کے سربراہ تھے۔ حماد صدیقی تو اتنے طاقتور تھے کہ وہ روزانہ ارکان پارلیمنٹ اور ارکان رابطہ کمیٹی کو پٹواتے تھے کھل کر ان پر تشدد کرنے کا حکم دیتا تھا ان کو کہنا تو دور کی بات ہے ان کی طرف آنکھ اٹھانے والا بھی کوئی بھی نہ تھا بلدیہ ٹائون میں کپڑے بنانے والی فیکٹری سے 25 کروڑ روپے بھتہ حماد صدیقی نے مانگا اور جب مطلوبہ بھتہ نہ ملا تو اس فیکٹری کو رحمان بھولا اور رضوان قریشی سے مل کر جلا ڈالا اور 258 زندہ انسان جل کر کوئلہ بن گئے مگر اس پتھر دل حماد صدیقی کے دل میں رحم نہ آیا اور پھر لندن میں بیٹھا ہوا فرعون اس کو شاباش دیتا رہا۔
اسی طرح شہر میں ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہی محرم میں یوم عاشور کے موقع پر دھماکہ ہوا 44 افراد لقمہ اجل بنے یہ سب حماد صدیقی کے حکم پر ہوتا رہا مگر کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ اس کو کچھ کہتا ہر روز نائن زیرو پر ایک تماشہ لگتا۔ حماد صدیقی کے پاس ایک ٹیم ہوتی اور پھر جس کو چاہتا اس پر تشدد کرواتا حماد صدیقی کے بھارت، لندن اور جنوبی افریقہ کی مافیا کے ساتھ روابط تھے ان کا فرنٹ مین عمیر صدیقی ہر ماہ بھارت جاتا تھا ،پھر لندن اور جنوبی افریقہ جاکر بھاری رقومات اور اسلحہ کا لین دین کرتا لیکن حساس اداروں نے انہیں گرفتار کیا تو حماد صدیقی کی نیند حرام ہوگئی۔ اسی روز ہی حماد صدیقی کی کمر ٹوٹ گئی یوں حماد صدیقی کے بھی برے دن آنے لگے۔ وہ 23 مئی 2013ع کو دبئی چلے گئے۔ اب وہ قانون کی گرفت میں آچکے ہیں انٹرپول نے ان کو گرفتار کرلیا ہے۔ حماد صدیقی کی گرفتاری نے ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن کے رہنمائوں کے نیندیں حرام کردی ہیں اور وہ اب اس خوف میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ اب کیا ہوگا؟ کیونکہ جو بدترین تشدد اور دہشت گردی حماد صدیقی کے دور میں ہوئی اور اب وہ جب تحقیقاتی اداروں کے سامنے آئے گی اورکئی انکشافات سامنے آئیں گے ۔ کئی چہروں سے نقاب اتر جائیں گے۔ حماد صدیقی کے ا صل پول تو عمیر صدیقی پہلے کھول چکے ہیں اس لیے جب وہ عدالتوں میں پیش ہوں گے تو بہت کچھ سامنے آئے گا اور پاکستان کے عوام نئے حقائق سے آشکارہوں گے۔


متعلقہ خبریں


سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

مضامین
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

قیامت کا پتھر وجود منگل 30 جون 2026
قیامت کا پتھر

ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ وجود منگل 30 جون 2026
ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ

شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام وجود پیر 29 جون 2026
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر