وجود

... loading ...

وجود

تعلیم تجارت یامشن ۔ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر

جمعه 20 اکتوبر 2017 تعلیم تجارت یامشن ۔ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر

پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کارہنما اور خاص طورپر حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے رہنما اور وزرا جب بھی کسی جلسے یاتقریب سے خطاب کرتے ہیں توسب سے پہلے تعلیم کی اہمیت پر زوردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی کے منازل طے نہیں کرسکتی ،جبکہ دوسری جانب سرکاری اسکولوں پر نظر ڈالیں تو یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس اسکولوں کے چوکیدار اور چپراسی بھی اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں تعلیم دلوانے کوتیار نہیں ہوتے،اسکولوں کی زبوں حالی کے بارے میں حال ہی میں شائع ہونے والے مضامین اور تصاویر سے سرکاری اسکولوں کی حالت زار کا با آسانی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔اخبارات میں سرکاری اسکولوں کی حالت کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹوںا ورمضامین سے ظاہرہوتاہے کہ بیشتر سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو پینے کے پانی کی سہولت ،حاصل نہیں ہے ، ٓاسکولوں کی اکثریت بجلی جیسی نعمت سے محروم ہے، اور بچوں کو حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے کے لیے اسکولوں کے ارد گرد واقع مکانوں کے مکینوں کی خوشامد کرنا پڑتی ہے۔ان اسکولوں کے اساتذہ کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ جب سے اساتذہ کی حاضری کویقینی بنانے کے لیے بایو میٹرک سسٹم نافذ کیاگیاہے برسہابرس سے کسی شکوہ شکایت کے بغیر ڈیوٹیاں انجام دینے والے اساتذہ کی جانب سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواستوں کے انبار لگ گئے ہیں جس سے ظاہر ہوتاہے کہ اساتذہ کی اکثریت ڈیوٹی دئے بغیر تنخواہیں اورمراعات وصول کرنے اورسرکاری اسکولوں میں ڈیوٹی کے اوقات میں اپنے نجی اسکول اورکوچنگ سینٹر چلانے کی اس قدر عادی ہوچکی ہے کہ اب ڈیوٹی کی پابندی انھیں شاق گزر رہی ہے۔
سرکاری اسکولوں کی اس زبوں حالی اور ابتر صورت حال کا سب سے زیادہ فائدہ تعلیم کے نام پرتجارت کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کوپہنچاہے کیونکہ اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے والے والدین کے پاس اب نجی اسکولوں کارخ کرنے اور اپنا پیٹ کاٹ کر ان کی منہ مانگی فیس اداکرنے کے سوا کوئی چارہ نہیںہے، نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے شہریوں سے فیسوں کے نام پر بھاری رقوم کی وصولی کا سلسلہ یوں توبرسہابرس سے جاری ہے اور ہر سال کے اختتام پر اور بعض اوقات درمیان ہی میں نجی اسکولوں کی فیسوں میں من مانا اضافہ کیاجانا ایک معمول بن چکاہے اور ان کی اس من مانی پر توجہ دینے اور غریب والدین کو ان کی چیرہ دستیوں سے بچانے والا بظاہر کوئی نہیں تھاکیونکہ محکمہ تعلیم کے افسران یا تو نجی تعلیمی اداروں سے بہت زیادہ خوفزدہ ہیں یا اندرون خانہ اس لوٹ مار سے اپنا حصہ وصول کررہے ہیں جس کی وجہ سے انھوں نے نجی اسکولوں کے خلاف والدین کی شکایت پر کبھی مناسب توجہ دینا ضروری تصور نہیں کیا،لیکن بھلا ہو پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کا کہ اس کے نتیجے میں عام شہریوں میں بھی اپنے مسائل حل کرانے کے لیے احتجاج اور مظاہروں کی اہمیت کااندازہ ہوگیا ہے اس کی ایک تازہ جھلک والدین کی اْس مہم کی صورت میں نظر آئی جس کے تحت سیکڑووں کی تعداد میں والدین نے گزشتہ دنوں کراچی کے ممتاز نجی اسکولوں کے مرکزی دفاتر کے باہر مظاہرہ کیا اور فیسوں میں ہوش ربا اضافے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔محض گنتی کے چند والدین سے شروع ہونے والی یہ مہم آج ایک منظم اور پْرامن قانونی لڑائی میں تبدیل ہوگئی اورکراچی کے صرف ایک معروف نجی اسکول نیٹ ورک کے خلاف تقریباً 500 والدین یکجا ہوگئے۔ اِن والدین کا مؤقف واضح ہے۔ فیسوں میں من مانا اضافہ روکا جائے اور اِسے سندھ پرائیوٹ اسکول آرڈیننس میں مختص کردہ (زیادہ سے زیادہ) 5 فیصد سالانہ اضافے تک محدود کیا جائے۔
والدین کی یہ جدوجہد طویل بھی ہے اور کٹھن بھی اور اِس کے کئی روشن اور تاریک پہلو ہیں۔ اْمید افزا بات یہ ہے کہ اتنے برس میں پہلی دفعہ والدین منظم ہوئے اور انہیں ایسپا (آل اسکول پیرنٹس ایسوسی ایشن) بنانے کا خیال آیا۔ اپنے قانونی حقوق سے آگاہی اور عدالتی نظام پر عام آدمی کا یقین بھی اِس حوالے سے بہت خوش آئند ہے۔تاہم اِس معاملے کا سب سے حساس اور فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ والدین اِن اسکولوں کے سامنے سینہ سپر ہیں جہاں اِن کے بچے ہنوز زیر تعلیم ہیں۔ بعید نہیں کہ فریق اسکول اِس مہم جوئی کا بدلہ بچوں سے لیں۔ ماضی میں کراچی کا ایک ممتاز نجی اسکول ایسا کرچکا ہے جہاں اسکول کی بے جا فیسوں کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکانے والے گھرانوں کے بچے امتیازی سلوک کا نشانہ بنے۔ عدالت کے واضح حکم کے باوجود اْن بچوں کے سیکشن الگ کیے گئے، اْنہیں واش روم کے باہر بٹھا کر لنچ کروایا جاتا، مارننگ اسمبلی میں دیگر بچوں کے سامنے نادہندہ کے طور پر ذلیل کیا جاتا اور تعلیم، امتحان اور کھیل کے مساوی حقوق سے محروم کیا گیا۔
اسکول انتظامیہ کے امتیازی رویے سے تنگ آکر کئی بچے اسکول چھوڑ گئے جبکہ باقیوں کو اِس معاملے میں بھی عدالت عظمیٰ کا سہارا لینا پڑا۔ غرض یہ کہ اِس تمام تر قصے میں بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا نظر آتا ہے۔ اتنے اندیشوں اور دیگر والدین کے تلخ تجربوں کے باوجود سینکڑوں کی تعداد میں والدین کا دیگر نجی اسکولوں کے خلاف کھڑا ہونا کسی معجزے سے کم نہیں۔والدین کی فعال تنظیم، فیصل ایسوسی ایشن کے سربراہ فیصل احمد گزشتہ 3 برسوں سے اِس مقصد کے لیے کوشاں ہیں۔ اول اول اْن کا رابطہ پہلے نجی اسکول کے خلاف آواز اٹھانے والے والدین سے ہوا اور آج وہ ایک اور بڑے نجی اسکول نیٹ ورک کے ہاتھوں ستائے گئے والدین کی تنظیم کے صدر ہیں۔ فیصل کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہر مرحلے اور ہر سطح پر اِس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا،ان کے مطابق اول تو اسکول انتظامیہ والدین کو گھاس ہی نہیں ڈالتی اور اگر کہہ سن کر بیسیوں درخواستوں اور فون کالز کے بعد ملاقات ہو بھی جائے تو میں نہ مانوں کی ایک رٹ ہوتی ہے۔ حیلے بہانوں سے معاملے کو طول دیا جاتا ہے اور زیادہ بحث مباحثے پر انفرادی چھوٹ دینے کی پیشکش ہوتی ہے۔ جب معاملہ یوں بھی نہ سلجھے تو دھمکیوں کی نوبت آجاتی ہے۔
فیصل کا کہنا تھا کہ قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ وہ انتہائی قدم تھا جو والدین نے اسکول کی ہٹ دھرمی اور ڈائریکٹر جنرل کے نوٹیفکیشن کی مستقل حکم عدولی کے بعد مجبوراً اٹھایا۔ اِس حوالے سے والدین کا مطالبہ حق بجانب ہے۔ اْنہیں اسکول کی فیسیں دینے سے انکار نہیں لیکن پچھلے 3 برسوں کے دوران جس انداز سے متعلقہ اسکول کی فیسوں میں سالانہ 10 سے 15 فیصد بلاجواز اضافہ کیاگیا ہے، والدین اِسے قانون کی سراسر خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔گویا فی بچہ، مئی سے اگست تک ہر سال، ماہانہ 5 سے 10 ہزار تک کا اضافہ معمول کی بات ہے۔ اِس پر تعلیم کا گرتا معیار اور آئے دن مختلف مقابلوں اور سرگرمیوں کے نام پر ہزاروں کا خرچہ الگ درد سر ہے۔
اسکول میگزین اور اسٹیشنری کے نام پر بھی گاہے بہ گاہے خوب رقم بٹوری جاتی ہے۔ اِس پر مستزاد حکومت کی جانب سے عائد کردہ نیا تعلیمی ٹیکس، جسے والدین کے کھاتے میں ہی ڈال دیا گیا ہے۔ بقول ایک والد، یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسکول محض فیسیں بٹورنے، امتحان لینے اور غیر ضروری سرگرمیوں کے نام پر چندہ جمع کرنے کے کاروباری مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں جہاں علم اور دانش ندارد ہے بس مسابقت اور دکھاوے کا گورکھ دھندہ ہے۔
اِس حوالے سے اسکول انتظامیہ بات کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔ اْن کا کہنا تھا کہ اِس موضوع پر اْن کے وکیل عدالت میں اپنا مؤقف بیان کریں گے۔ نیز فیسوں میں5 فیصد اضافے کا قانون بھی عدالت میں چیلنج کیا جاچکا ہے۔ کیس کی سماعت مکمل ہوچکی ہے اور فیصلے کا انتظار ہے جو اْنہیں یقین ہے کہ اسکولوں کے حق میں ہوگا کیوںکہ مہنگائی کے تناظر میں فیسوں میں اضافہ فطری عمل ہے اور اِس میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی گئی۔ اگر کچھ والدین فیسیں ادا نہیں کرسکتے تو اْنہیں چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ہمارے معیاری (برانڈڈ) اسکولوں سے نکال کر اپنی استطاعت کے مطابق سستے اسکولوں میں داخل کرا دیں۔مگر والدین کا کہنا ہے کہ وہ فیسیں دے سکتے ہیں جب ہی انہوں نے اپنے بچوں کو بہتر معیارِ تعلیم اور روشن مستقبل کی خاطر اِن اسکولوں میں داخل کرایا تھا۔ لیکن اسکول انتظامیہ کو من مانی کرنے کی اجازت دینے کوتیار نہیںہیں۔
حمود الرحمٰن جو خود بھی وکیل ہیں اور اِس کیس کے حوالے سے والدین کی نمائندگی کر رہے ہیں اْن کا کہنا ہے کہ 2001 میں پاس کیا گیا سندھ پرائیوٹ اسکول آرڈیننس ایک نہایت جامع اور عمدہ قانون ہے جس کو اگر درست طریقے سے لاگو کیا جائے تو اِس کے تحت تمام فریقین بشمول اسکول اور والدین کے جائز حقوق کا تحفظ ممکن ہے۔اِس قانون میں نجی اسکولوں کو فیسوں میں بے جا اضافے کی کھلی چھٹی نہیں دی گئی، بلکہ زیادہ سے زیادہ 5 فیصد اضافے کو بھی متعلقہ انسپکشن کمیٹی کی سفارش درکار ہے جس کا انحصار براہِ راست اسکول میں دی جانے والی سہولتوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ نجی اسکولوں کا ایک بڑا اتحاد جس میں لگ بھگ ایک درجن کے قریب نامی گرامی نجی اسکول شامل ہیں، اْس کے خلاف مدعی بن کر سامنے آئے ہیں۔
مساوی اور معیاری تعلیم ریاست کا وعدہ بھی ہے اورآئینی ذمہ داری بھی، تاہم اِس کی پاسداری میں ریاست بْری طرح ناکام رہی ہے۔ ماضی میں نجی اسکولوں نے پاکستان میں وہ خلاپْر کیا جو تعلیم کے شعبے کو قومیائے جانے کے بعد پیدا ہوگیا تھا۔ تاہم یہ خلا پْر کرتے کرتے اْنہوں نے تعلیم کی تجارت شروع کردی اور اْسے طبقات میں بانٹ دیا اور محکمہ تعلیم نے اِس پرکوئی دھیان دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ، عام والدین کاخیال ہے کہ محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران کی جانب سے نجی اسکولوں کے مالکان کی لوٹ مار سے اس چشم پوشی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر افسران کے کچن کاخرچ یہی نجی اسکولوں کے مالکان برداشت کرتے ہیں،اس صورت حال میںوالدین کی امید کا واحدمرکز ملک کی اعلیٰ عدلیہ ہے کیونکہ اب نجی اسکولوں کی لوٹ مار پر قدغن عدلیہ ہی لگاسکتی ہے اورمحکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کو نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کو نکیل ڈالنے پر مجبور کرسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج وجود - جمعه 13 فروری 2026

اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی،ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے،عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، معاملات نہ سدھرے تو سڑکوں پر آئیں گیگولیاں بھی کھائیں گے،راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد ب...

عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت وجود - جمعه 13 فروری 2026

عمران اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے(جنید اکبر)ہمارے پاس آپشنز ہیں غور کیا جا رہا ہے(سہیل آفریدی)ہم توقع کرتے ہیں عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائیگا، سلمان اکرم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیٔرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تش...

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے وجود - جمعه 13 فروری 2026

تختِ مظفرآباد کیلئے سیاسی بساط بچھ گئی، امیدواروں کے ناموں پر پراسرار خاموشی،اگلا صدر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی سے ہی ہوں گے، آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں دو ٹوک فیصلہ 30 روز کے اندر صدارتی انتخاب کا عمل مکمل کیا جانا ضروری ہے،نون لیگ اپنا صدر لائے گی(راجا فاروق حی...

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف وجود - جمعه 13 فروری 2026

تین ماہ سے دائیںآنکھ کی بیماری کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، بانی چیئرمین کی عدالتی معاون سے ملاقات دو سال سے دانتوں کا معائنہ نہیں کرایا گیا، باقاعدگی سے بلڈ ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا رہے، رپورٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت بارے رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں، اس حوالے س...

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ وجود - جمعه 13 فروری 2026

ریکارڈ روم کاتالا لگا ہونے پر افسران کا اظہاربرہمی،تالا توڑ کر مطلوبہ دستاویزات لے گئے ریکارڈ میں گڑ بڑ کی شکایات پر تحقیقات جاری ہیں، ریٹائرڈ افسر سے رابطہ کرنے کی کوششیں کراچی میں کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایف ...

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی وجود - جمعه 13 فروری 2026

نیتن یاہوکی صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات ،ایران کے معاملے پر گفتگو کی ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے مطابق بورڈ عارضی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا،رپورٹ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس اقدام میں...

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ وجود - جمعرات 12 فروری 2026

فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی وجود - جمعرات 12 فروری 2026

خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع وجود - جمعرات 12 فروری 2026

سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا وجود - جمعرات 12 فروری 2026

ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے وجود - جمعرات 12 فروری 2026

دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو وجود - جمعرات 12 فروری 2026

شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو

مضامین
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری وجود جمعه 13 فروری 2026
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری

ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت وجود جمعه 13 فروری 2026
ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت

ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے! وجود جمعه 13 فروری 2026
ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے!

پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ وجود جمعه 13 فروری 2026
پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ

پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر