وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

تعلیم تجارت یامشن ۔ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر

جمعه 20 اکتوبر 2017 تعلیم تجارت یامشن ۔ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر

پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کارہنما اور خاص طورپر حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے رہنما اور وزرا جب بھی کسی جلسے یاتقریب سے خطاب کرتے ہیں توسب سے پہلے تعلیم کی اہمیت پر زوردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی کے منازل طے نہیں کرسکتی ،جبکہ دوسری جانب سرکاری اسکولوں پر نظر ڈالیں تو یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس اسکولوں کے چوکیدار اور چپراسی بھی اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں تعلیم دلوانے کوتیار نہیں ہوتے،اسکولوں کی زبوں حالی کے بارے میں حال ہی میں شائع ہونے والے مضامین اور تصاویر سے سرکاری اسکولوں کی حالت زار کا با آسانی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔اخبارات میں سرکاری اسکولوں کی حالت کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹوںا ورمضامین سے ظاہرہوتاہے کہ بیشتر سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو پینے کے پانی کی سہولت ،حاصل نہیں ہے ، ٓاسکولوں کی اکثریت بجلی جیسی نعمت سے محروم ہے، اور بچوں کو حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے کے لیے اسکولوں کے ارد گرد واقع مکانوں کے مکینوں کی خوشامد کرنا پڑتی ہے۔ان اسکولوں کے اساتذہ کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ جب سے اساتذہ کی حاضری کویقینی بنانے کے لیے بایو میٹرک سسٹم نافذ کیاگیاہے برسہابرس سے کسی شکوہ شکایت کے بغیر ڈیوٹیاں انجام دینے والے اساتذہ کی جانب سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواستوں کے انبار لگ گئے ہیں جس سے ظاہر ہوتاہے کہ اساتذہ کی اکثریت ڈیوٹی دئے بغیر تنخواہیں اورمراعات وصول کرنے اورسرکاری اسکولوں میں ڈیوٹی کے اوقات میں اپنے نجی اسکول اورکوچنگ سینٹر چلانے کی اس قدر عادی ہوچکی ہے کہ اب ڈیوٹی کی پابندی انھیں شاق گزر رہی ہے۔
سرکاری اسکولوں کی اس زبوں حالی اور ابتر صورت حال کا سب سے زیادہ فائدہ تعلیم کے نام پرتجارت کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کوپہنچاہے کیونکہ اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے والے والدین کے پاس اب نجی اسکولوں کارخ کرنے اور اپنا پیٹ کاٹ کر ان کی منہ مانگی فیس اداکرنے کے سوا کوئی چارہ نہیںہے، نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے شہریوں سے فیسوں کے نام پر بھاری رقوم کی وصولی کا سلسلہ یوں توبرسہابرس سے جاری ہے اور ہر سال کے اختتام پر اور بعض اوقات درمیان ہی میں نجی اسکولوں کی فیسوں میں من مانا اضافہ کیاجانا ایک معمول بن چکاہے اور ان کی اس من مانی پر توجہ دینے اور غریب والدین کو ان کی چیرہ دستیوں سے بچانے والا بظاہر کوئی نہیں تھاکیونکہ محکمہ تعلیم کے افسران یا تو نجی تعلیمی اداروں سے بہت زیادہ خوفزدہ ہیں یا اندرون خانہ اس لوٹ مار سے اپنا حصہ وصول کررہے ہیں جس کی وجہ سے انھوں نے نجی اسکولوں کے خلاف والدین کی شکایت پر کبھی مناسب توجہ دینا ضروری تصور نہیں کیا،لیکن بھلا ہو پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کا کہ اس کے نتیجے میں عام شہریوں میں بھی اپنے مسائل حل کرانے کے لیے احتجاج اور مظاہروں کی اہمیت کااندازہ ہوگیا ہے اس کی ایک تازہ جھلک والدین کی اْس مہم کی صورت میں نظر آئی جس کے تحت سیکڑووں کی تعداد میں والدین نے گزشتہ دنوں کراچی کے ممتاز نجی اسکولوں کے مرکزی دفاتر کے باہر مظاہرہ کیا اور فیسوں میں ہوش ربا اضافے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔محض گنتی کے چند والدین سے شروع ہونے والی یہ مہم آج ایک منظم اور پْرامن قانونی لڑائی میں تبدیل ہوگئی اورکراچی کے صرف ایک معروف نجی اسکول نیٹ ورک کے خلاف تقریباً 500 والدین یکجا ہوگئے۔ اِن والدین کا مؤقف واضح ہے۔ فیسوں میں من مانا اضافہ روکا جائے اور اِسے سندھ پرائیوٹ اسکول آرڈیننس میں مختص کردہ (زیادہ سے زیادہ) 5 فیصد سالانہ اضافے تک محدود کیا جائے۔
والدین کی یہ جدوجہد طویل بھی ہے اور کٹھن بھی اور اِس کے کئی روشن اور تاریک پہلو ہیں۔ اْمید افزا بات یہ ہے کہ اتنے برس میں پہلی دفعہ والدین منظم ہوئے اور انہیں ایسپا (آل اسکول پیرنٹس ایسوسی ایشن) بنانے کا خیال آیا۔ اپنے قانونی حقوق سے آگاہی اور عدالتی نظام پر عام آدمی کا یقین بھی اِس حوالے سے بہت خوش آئند ہے۔تاہم اِس معاملے کا سب سے حساس اور فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ والدین اِن اسکولوں کے سامنے سینہ سپر ہیں جہاں اِن کے بچے ہنوز زیر تعلیم ہیں۔ بعید نہیں کہ فریق اسکول اِس مہم جوئی کا بدلہ بچوں سے لیں۔ ماضی میں کراچی کا ایک ممتاز نجی اسکول ایسا کرچکا ہے جہاں اسکول کی بے جا فیسوں کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکانے والے گھرانوں کے بچے امتیازی سلوک کا نشانہ بنے۔ عدالت کے واضح حکم کے باوجود اْن بچوں کے سیکشن الگ کیے گئے، اْنہیں واش روم کے باہر بٹھا کر لنچ کروایا جاتا، مارننگ اسمبلی میں دیگر بچوں کے سامنے نادہندہ کے طور پر ذلیل کیا جاتا اور تعلیم، امتحان اور کھیل کے مساوی حقوق سے محروم کیا گیا۔
اسکول انتظامیہ کے امتیازی رویے سے تنگ آکر کئی بچے اسکول چھوڑ گئے جبکہ باقیوں کو اِس معاملے میں بھی عدالت عظمیٰ کا سہارا لینا پڑا۔ غرض یہ کہ اِس تمام تر قصے میں بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا نظر آتا ہے۔ اتنے اندیشوں اور دیگر والدین کے تلخ تجربوں کے باوجود سینکڑوں کی تعداد میں والدین کا دیگر نجی اسکولوں کے خلاف کھڑا ہونا کسی معجزے سے کم نہیں۔والدین کی فعال تنظیم، فیصل ایسوسی ایشن کے سربراہ فیصل احمد گزشتہ 3 برسوں سے اِس مقصد کے لیے کوشاں ہیں۔ اول اول اْن کا رابطہ پہلے نجی اسکول کے خلاف آواز اٹھانے والے والدین سے ہوا اور آج وہ ایک اور بڑے نجی اسکول نیٹ ورک کے ہاتھوں ستائے گئے والدین کی تنظیم کے صدر ہیں۔ فیصل کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہر مرحلے اور ہر سطح پر اِس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا،ان کے مطابق اول تو اسکول انتظامیہ والدین کو گھاس ہی نہیں ڈالتی اور اگر کہہ سن کر بیسیوں درخواستوں اور فون کالز کے بعد ملاقات ہو بھی جائے تو میں نہ مانوں کی ایک رٹ ہوتی ہے۔ حیلے بہانوں سے معاملے کو طول دیا جاتا ہے اور زیادہ بحث مباحثے پر انفرادی چھوٹ دینے کی پیشکش ہوتی ہے۔ جب معاملہ یوں بھی نہ سلجھے تو دھمکیوں کی نوبت آجاتی ہے۔
فیصل کا کہنا تھا کہ قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ وہ انتہائی قدم تھا جو والدین نے اسکول کی ہٹ دھرمی اور ڈائریکٹر جنرل کے نوٹیفکیشن کی مستقل حکم عدولی کے بعد مجبوراً اٹھایا۔ اِس حوالے سے والدین کا مطالبہ حق بجانب ہے۔ اْنہیں اسکول کی فیسیں دینے سے انکار نہیں لیکن پچھلے 3 برسوں کے دوران جس انداز سے متعلقہ اسکول کی فیسوں میں سالانہ 10 سے 15 فیصد بلاجواز اضافہ کیاگیا ہے، والدین اِسے قانون کی سراسر خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔گویا فی بچہ، مئی سے اگست تک ہر سال، ماہانہ 5 سے 10 ہزار تک کا اضافہ معمول کی بات ہے۔ اِس پر تعلیم کا گرتا معیار اور آئے دن مختلف مقابلوں اور سرگرمیوں کے نام پر ہزاروں کا خرچہ الگ درد سر ہے۔
اسکول میگزین اور اسٹیشنری کے نام پر بھی گاہے بہ گاہے خوب رقم بٹوری جاتی ہے۔ اِس پر مستزاد حکومت کی جانب سے عائد کردہ نیا تعلیمی ٹیکس، جسے والدین کے کھاتے میں ہی ڈال دیا گیا ہے۔ بقول ایک والد، یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسکول محض فیسیں بٹورنے، امتحان لینے اور غیر ضروری سرگرمیوں کے نام پر چندہ جمع کرنے کے کاروباری مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں جہاں علم اور دانش ندارد ہے بس مسابقت اور دکھاوے کا گورکھ دھندہ ہے۔
اِس حوالے سے اسکول انتظامیہ بات کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔ اْن کا کہنا تھا کہ اِس موضوع پر اْن کے وکیل عدالت میں اپنا مؤقف بیان کریں گے۔ نیز فیسوں میں5 فیصد اضافے کا قانون بھی عدالت میں چیلنج کیا جاچکا ہے۔ کیس کی سماعت مکمل ہوچکی ہے اور فیصلے کا انتظار ہے جو اْنہیں یقین ہے کہ اسکولوں کے حق میں ہوگا کیوںکہ مہنگائی کے تناظر میں فیسوں میں اضافہ فطری عمل ہے اور اِس میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی گئی۔ اگر کچھ والدین فیسیں ادا نہیں کرسکتے تو اْنہیں چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ہمارے معیاری (برانڈڈ) اسکولوں سے نکال کر اپنی استطاعت کے مطابق سستے اسکولوں میں داخل کرا دیں۔مگر والدین کا کہنا ہے کہ وہ فیسیں دے سکتے ہیں جب ہی انہوں نے اپنے بچوں کو بہتر معیارِ تعلیم اور روشن مستقبل کی خاطر اِن اسکولوں میں داخل کرایا تھا۔ لیکن اسکول انتظامیہ کو من مانی کرنے کی اجازت دینے کوتیار نہیںہیں۔
حمود الرحمٰن جو خود بھی وکیل ہیں اور اِس کیس کے حوالے سے والدین کی نمائندگی کر رہے ہیں اْن کا کہنا ہے کہ 2001 میں پاس کیا گیا سندھ پرائیوٹ اسکول آرڈیننس ایک نہایت جامع اور عمدہ قانون ہے جس کو اگر درست طریقے سے لاگو کیا جائے تو اِس کے تحت تمام فریقین بشمول اسکول اور والدین کے جائز حقوق کا تحفظ ممکن ہے۔اِس قانون میں نجی اسکولوں کو فیسوں میں بے جا اضافے کی کھلی چھٹی نہیں دی گئی، بلکہ زیادہ سے زیادہ 5 فیصد اضافے کو بھی متعلقہ انسپکشن کمیٹی کی سفارش درکار ہے جس کا انحصار براہِ راست اسکول میں دی جانے والی سہولتوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ نجی اسکولوں کا ایک بڑا اتحاد جس میں لگ بھگ ایک درجن کے قریب نامی گرامی نجی اسکول شامل ہیں، اْس کے خلاف مدعی بن کر سامنے آئے ہیں۔
مساوی اور معیاری تعلیم ریاست کا وعدہ بھی ہے اورآئینی ذمہ داری بھی، تاہم اِس کی پاسداری میں ریاست بْری طرح ناکام رہی ہے۔ ماضی میں نجی اسکولوں نے پاکستان میں وہ خلاپْر کیا جو تعلیم کے شعبے کو قومیائے جانے کے بعد پیدا ہوگیا تھا۔ تاہم یہ خلا پْر کرتے کرتے اْنہوں نے تعلیم کی تجارت شروع کردی اور اْسے طبقات میں بانٹ دیا اور محکمہ تعلیم نے اِس پرکوئی دھیان دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ، عام والدین کاخیال ہے کہ محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران کی جانب سے نجی اسکولوں کے مالکان کی لوٹ مار سے اس چشم پوشی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر افسران کے کچن کاخرچ یہی نجی اسکولوں کے مالکان برداشت کرتے ہیں،اس صورت حال میںوالدین کی امید کا واحدمرکز ملک کی اعلیٰ عدلیہ ہے کیونکہ اب نجی اسکولوں کی لوٹ مار پر قدغن عدلیہ ہی لگاسکتی ہے اورمحکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کو نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کو نکیل ڈالنے پر مجبور کرسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان