وجود

... loading ...

وجود

واٹر سپلائی میں گھپلے سندھ ہائیکورٹ میں ملزم کو مخبوط الحواس قرار دے کر بری کرانے کی کوشش ناکام

جمعه 20 اکتوبر 2017 واٹر سپلائی میں گھپلے سندھ ہائیکورٹ میں ملزم کو مخبوط الحواس قرار دے کر بری کرانے کی کوشش ناکام

تہمینہ حیات
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کی زیر قیادت دو رکنی بینچ نے گزشتہ روز نیب سے سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کے حلقہ انتخاب سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں غیر ملکی امداد سے شروع کی جانے والی واٹر سپلائی اسکیم میں مبینہ طورپر اربوں روپے کے گھپلوں اور خورد برد کی تحقیقات کے حوالے سے پیش رفت کی رپورٹ طلب کرلی ہے اور خصوصی پراسیکیوٹر کو 15 نومبر کو اس حوالے سے تفصیلی اورمکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کے حلقہ انتخاب خیرپور میںواٹر سپلائی ڈیولپمنٹ اسکیم میںمبینہ طورپر گھپلوں میں ملوث ایک ملزم ٹھیکیدار میر شوکت علی نیب کی جانب سے گرفتار کئے جانے کے خدشے کے پیش نظر ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی گئی اس درخواست میں درخواست گزار کے وکیل نے یہ موقف اختیار کیاتھا کہ نیب نے ان گھپلوں میں112 افراد کو نامزد کیاہے جس میں درخواست گزار ٹھیکیدار میر شوکت علی بھی شامل ہے جبکہ درخواست گزار ذہنی معذور اور مخبوط الحواس ہے اس لیے نیب کو اسے گرفتار کرنے اورشامل تفتیش کرنے سے روکا جائے اور اسے اس الزام سے بری کیاجائے ، اس درخواست کی سماعت کے دوران اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی جب سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے سوال کیاکہ ملزم نے اس ٹھیکے میں کتنی رقم وصول کی ہے اور ملزم کے کتنے بچے ہیں ، اس موقع پر عدالت میں موجود ملزم میر شوکت علی نے فوری جواب دیا کہ اس کے ٹھیکے کی مالیت صرف 10 ہزار روپے تھی اور اس کاایک کمسن بیٹا ہے۔اس پر چیف جسٹس احمد علی شیخ نے درخواست گزار کے وکیل سے کہاکہ ان کاموکل تو بہت تیز طرار ہے اور کسی بھی طرح ذہنی معذور اور مخبوط الحواس معلوم نہیں ہوتا۔
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے خصوصی پراسیکیوٹر کو ضلع خیرپور میں کالعدم نارتھ سندھ اربن سروسز کارپوریشن کے زیر انتظام شروع کی جانے والی واٹر سپلائی کی 613 ترقیاتی اسکیموں کی تمام تر تفصیلات بھی 15 نومبر کو پیش کرنے کی ہدایت کی ۔یہ اسکیم ایشیائی ترقیاتی بینک سے حاصل کردہ قرض کی رقم سے شروع کی گئی تھی۔نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ کالعدم نارتھ سندھ اربن سروسز کارپوریشن کے زیر انتظام شروع کی جانے والی فراہمی اورنکاسی آب کی اسکیموں میں مبینہ طورپر 34 کروڑ روپے خورد برد کئے گئے ہیں۔پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اس پراجیکٹ کے تحت لاڑکانہ ،شکارپور،سکھر اور خیر پور کے اضلاع میں ترقیاتی اسکیمیں شروع کی گئی تھیں اوران اسکیموں میں اربوں روپے خورد برد کئے گئے ہیں اور مزید تفتیش کے بعد خورد برد کی گئی رقم کی اصل مالیت سامنے آجائے گی۔ان اطلاعات پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے اپنی آبزرویشن میں کہاکہ اگر ان اسکیموں پر ایمانداری کے ساتھ پوری طرح عملدرآمد کیاجاتا تو بالائی سندھ کو جدید ترین خطوط پر استوار کیاجاسکتا تھا۔
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے اس صورت حال پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فنڈز لوگوں کوپینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی اسکیموں کے لیے تھے ان کو ایمانداری سے خرچ کیاجاتاتو خود اس خورد برد میں ملوث افراد ان کے بچے اور خاندان والوں کو بھی پانی کی قلت سے نجات مل سکتی تھی اور انھیں پینے کاصاف پانی میسر آسکتاتھا لیکن ظالموں نے اس مقصد کے لیے مختص فنڈز بھی خورد برد کرلیے۔
پانی کی قلت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تصور کیاجاتا ہے ، پانی کی اس قلت یا کمی کی وجہ سے دیہی اور نواحی علاقے تو کجا شہر کے معروف اور متوسط طبقے کے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی متعلقہ حکام کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے ، یہاں تک کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر اورسندھ کے دارالحکومت کراچی کے شہری پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے باقاعدہ سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ،پاکستان میں پانی کی اس قلت کے دو بنیادی اسباب ہیں اول یہ کہ ہمیں بدقسمتی سے ایک ایسے بدنہاد پڑوسی کاسامنا ہے جو پانی کو بھی ہتھیار کے طورپر استعمال کرکے پاکستان کی وسیع وعریض اراضی کو صحرا میں تبدیل کرنے اورپاکستان کی 20 کروڑ آبادی کو پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترسانے کے درپے ہے اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومتوں نے کبھی بھی پانی کی اس قلت پر قابو پانے اور بارشوں کے دوران ضائع ہوجانے والے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی قابل عمل حکمت عملی بنانے اور اس پر عمل کرنے کی نہ صرف یہ کہ کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی بلکہ اس حوالے سے سامنے والی تجاویز کو سیاست کی نذر کردیاگیا،جس کے نتیجے مین ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی نیاڈیم بنانا ممکن نہیں ہوسکا اس صورت حال کے سبب ایک طرف پانی کی قلت کی یہ صورت حال ہے اور دوسری جانب چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کی رپورٹ کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہونے کے باعث پاکستان سالانہ 25 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع کر دیتا ہے۔ حکومت کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے قابل عمل حکمت عملی تیار کی جانی چاہئے۔
واٹر سپلائی اسکیموں میں اربوں روپے کے گھپلوں اوراس پر حکومت سندھ کی پراسرار خاموشی سے اس خیال کوتقویت ملتی ہے کہ جاگیردارعمومی طورپر نہیں چاہتے کہ اس صوبے کے غریبوں کو مسائل سے نجات مل سکے یاان کی مشکلات میں کمی ہواور وہ معاشی طور پر مستحکم ہوسکیں ، اس لیے پانی کے مسئلے کومبینہ طورپر جان بوجھ کر سیاسی رنگ دیاجارہا ہے، اور صوبے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور گندے پانی کی نکاسی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ملنے والی غیر ملکی مالیاتی اداروں کی امداد کوبھی گھپلوں اور خورد برد کی نذر کردیاجاتاہے۔ اب جبکہ یہ معاملہ سندھ ہائیکورٹ کے سامنے پہنچ چکاہے اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اس معاملے کی مکمل اور تفصیلی رپورٹ طلب کرچکے ہیں امید کی جاتی ہے کہ سندھ کے دیہی علاقوں کے غریب عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی اسکیموں میں گھپلوں اور خورد برد میں ملوث ملزمان کے ساتھ ہی ان کے سہولت کاروں کو بھی سامنے لایاجائے گا اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سخت ترین سزائیں دی جائیں گی تاکہ اس صوبے کے عوام کو ان کاحق غصب کرنے والوں کاچہرہ پہچاننے کاموقع مل سکے۔


متعلقہ خبریں


مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

مضامین
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر