وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

برطانیا میں مسلمان معاشی ناہمواری ،نسل پرستانہ اورمتعصبانہ رویوں کاشکار

جمعرات 12 اکتوبر 2017 برطانیا میں مسلمان معاشی ناہمواری ،نسل پرستانہ اورمتعصبانہ رویوں کاشکار

برطانیا میں معاشی ناہمواری کو ختم کرنے کے لیے کام کرنے والے ادارے سوشل موبلٹی کمیشن کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی معاشرے میں مسلمان نوجوانوں کو اسکول سے لے کر ملازمت تک ہر جگہ ناموافق حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مسلمان نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ،برطانوی حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی مسلمانوں کو معاشرے کے دیگر تمام لوگوں کے مقابلے میں سب سے کم اقتصادی مواقعے حاصل ہیں ۔رپورٹ کے مطابق برطانیا میں مسلمان نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اچھے روزگار کے مناسب مواقعے میسر نہیں ہیں اور’پاکستانی کمیونٹی برطانیا میں پسماندہ ترین کمیونٹیز میں شامل ہے۔جبکہ لندن کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی کی وجہ سے ’لندن میں مسلمان خوفزدہ نظر آتے ہیں اور بیشتر مسلمانوں میں عدم تحفظ کااحساس بڑھتا جارہاہے اور مسلمان خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں ۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان تعلیم کے شعبے میں ماضی کی نسبت بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہیں ہیں ۔ تاہم اس کے باوجود ان کو اچھی نوکری ڈھونڈنے میں دشواری پیش آتی ہے۔اس رپورٹ کے سلسلے میں مسلمان نوجوانوں سے کیے جانے والے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انھیں چھوٹی عمر سے ہی اسلام مخالف، نسل پرستانہ اور متعصبانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مسلمان نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اساتذہ مسلمان طالب علموں سے بہتر کارکردگی کی امید نہیں رکھتے۔
مسلمان نوجوانوں سے کیے جانے والے حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انھیں چھوٹی عمر سے ہی اسلام مخالف، نسل پرستانہ اور متعصبانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔برطانوی مسلمانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کا حل ڈھونڈنے کے لیے ملک میں متعدد مسلمان تنظیمیں کام کر رہی ہیں ۔ ایک ایسے ہی مسلمان تھینک ٹینک ‘انیشیٹیو فار مسلم کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے ڈائریکٹر محسن عباس کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مسلمان نوجوانوں کو جن مسائل کا سامنا ہے اس کی متعدد وجوہات ہیں ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلم کمیونیٹی اپنے مسائل کو صحیح طرح اجاگر کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مسلمان کمیونٹی کی ترقی کے لیے کوئی طویل مدتی وژن نہیں رکھتے۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری پہلی نسل کی ناخواندگی ہے‘۔محسن عباس کا کہنا تھا کہ ‘کمیونیٹی ڈیویلپمنٹ میں مساجد کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس چیز میں فوری مالی فائدہ نظر نہ آ رہا ہو مذہبی لیڈرشپ اس میں کم ہی دلچسپی لیتی ہے‘۔ان کے بقول ایسی صورت میں وہ حکومتی ادارے جو عوام کے ٹیکس پر چلتے ہیں ان کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ مسلم کمیونٹی کو درپیش مسائل کا حل نکالیں ۔‘لیکن اگر آپ دیکھیں تو تقریباً دو دہائیوں سے حکومت کی توجہ صرف مسلمانوں میں انتہا پسندی کے خاتمے پر ہے۔ مسلمانوں کے تحفظات اور ان کو درپیش مسائل کی جانب توجہ نہیں دی گئی‘۔
سوشل موبلٹی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمان نوجوانوں میں خواتین کو برطانیا میں سب سے زیادہ نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جس کی وجوہات میں مذہب کے ساتھ ان کے لباس کو بھی بتایا گیا ہے۔ حجاب کرنے والی خواتین کی فوراً بحیثیت مسلمان پہچان ہوجاتی ہے اور ان کو ملازمت ڈھونڈنے میں دشواری اور ملازمت مل جانے کی صورت میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مغربی لندن کی رہائشی عائشہ خان نے تقریباً تین برس قبل وکالت کی ڈگری حاصل کی تھی لیکن اس کے بعد وہ کسی بھی بڑی قانونی فرم میں ملازمت ڈھونڈنے میں ناکام رہیں ۔مسلمان نوجوانوں میں خواتین کو برطانیا میں سب سے زیادہ نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میری نوکری کی بیشتر درخواستوں کا کوئی جواب ہی نہیں دیا گیا اور کچھ جگہوں پر مجھے انٹرویو کے لیے تو بلایا گیا لیکن بات اس سے آگے نہیں بڑھ سکی‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں نے ایسے وقت میں اپنی ڈگری مکمل کی جب مسلمانوں کے بارے میں دنیا بھر میں منفی سوچ میں اضافہ ہو رہا ہے، برطانیا میں بھی مسلمانوں کی کچھ ذرائع ابلاغ میں جس طرح تصویر کشی کی جاتی ہے وہ سب کے سامنے ہے‘۔عائشہ کے بقول ‘کئی یورپی ممالک میں حجاب پر پابندی لگائی گئی ہے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے نام اور لباس کے باعث مجھے نوکری ملنے میں مشکل ہو رہی ہے‘۔
برطانیا میں بسنے والی پاکستانی نژاد خواتین کی 57 فیصد آبادی معاشی طور پر غیر فعال ہے اور دوسری کمیونٹیز کی خواتین کے مقابلے میں یہ شرح پاکستانی نژاد خواتین میں تشویش ناک حد تک زیادہ ہے۔برطانیا میں بسنے والے پاکستانی نژاد باشندوں کے بارے میں یہ ‘تشویش ناک‘ حقائق برطانوی حکومت کی جانب سے ملک میں بسنے والی مختلف قومیتوں کے لوگوں کے معاشرے میں انضمام سے متعلق کیے جانے والے ایک سال سے زیادہ عرصے پر محیط سروے کے بعد سامنے آئی ہے۔
2015 میں برطانوی وزیرِ اعظم نے سینیئر سول سرونٹ ‘ڈیم لوئیز کیسی ‘ کو اس حوالے سے تفصیلی رویو کرنے کا کہا تھا جو ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ان رویو کا مقصد یہ معلوم کر نا تھا کہ برطانیا میں رہنے والے مختلف رنگ اور نسل کے لوگ کیا معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور ملک کے مختلف علاقوں میں موجود پسماندہ کمیونیٹز میں پائے جانے والے نسلی تناؤ اور پسماندگی کی کیا وجوہات ہیں ۔اس سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانیا میں بسنے والی پاکستانی خواتین میں بے روزگاری دیگر قومیتوں کی خواتین کے مقابلے میں غیرمعمولی حد تک زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق ملک میں 25 فیصد سفید فام خواتین معاشی طور پر غیر فعال ہیں جبکہ پاکستانی خواتین میں یہ شرح 57 فیصد سے زیادہ ہے۔‘کیسی رویو‘ کے نام سے جاری اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی نژاد مردوں میں بھی بے روزگاری کی شرح سفید فام شہریوں کے مقابلے میں تین گناہ زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق برطانیا میں کام کرنے والے ہر چار پاکستانی مردوں میں سے ایک ٹیکسی چلاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق انگریزی زبان پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے برطانیا میں رہنے والے کچھ پاکستانیوں کو برطانوی معاشرے میں انضمام میں مشکلات کا سامنا ہے۔پاکستانی خواتین کے معاشی طور پر غیر فعال ہونے کی ایک وجہ جو اس رپورٹ میں سامنے آئی ہے وہ انگریزی زبان سے نا بلد ہونا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں ایسی خواتین کی تعداد دوگنا ہے جن کی انگریزی انتہائی ناقص ہے۔رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستانی خواتین کو معاشی مسائل کے ساتھ گھریلو تشدد اور جبری شادی جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔
کیسی ریویو‘ کے مطابق ملک کے پسماندہ علاقوں میں بسنے والے پاکستانیوں کی شرح غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔انگلینڈ کے دس فیصد انتہائی پسماندہ علاقوں میں 31 فیصد پاکستانی آباد ہیں ۔
برطانیا میں بسنے والے 40 فیصد سے زیادہ پاکستانی خاندانوں کا شمار کم آمدن والے گھرانوں میں ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی ایسے علاقوں میں رہنا پسند کرتے ہیں جہاں پاکستانیوں کی اکثریت آباد ہے۔ جس کے باعث دوسری رنگ ونسل کے لوگوں کے ساتھ ان کا میل ملاپ بہت کم ہوتا ہے اور اس صورتحال کو رپورٹ میں تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ریویو کے مطابق 2001 سے 2011 کے درمیان ملک میں مسلمانوں کی تعداد میں 12 لاکھ نفوس کا اضافہ ہوا ہے جو مسلمانوں کی کل تعداد کا 72 فیصد بنتا ہے۔ اس عرصے میں برطانیا میں پاکستانیوں کی تعداد میں چار لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جبکہ بھارتی شہریوں کی تعداد بھی اتنی ہی بڑھی ہے۔
رپورٹ میں حکومتِ برطانیا کو ملک کی پسماندہ کمیونٹیز کے افراد کو معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی گئی ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے زیادہ مالی وسائل مہیا کرے اور ان علاقوں میں بسنے والوں کی انگریزی زبان بولنے کی صلاحیت میں بہتری لائی جائے۔اس کے ساتھ دیگر ممالک سے آنے والوں کو برطانوی رسم ورواج اور اقدار سے آگاہی اور مناسب تعلیم بھی مہیا کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اس رپورٹ میں سوشل موبلٹی کمیشن کی جانب سے بارہ سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں جن میں اساتذہ کو متنوع معاشرے میں پڑھانے کی تربیت اور انسانی حقوق اور برابری کے حکومتی کمیشن سے مسلمانوں کو ملازمت کے یکساں مواقعوں کے بارے میں گاہے بگاہے صورتحال کا جائزہ لینے کی سفارشات بھی شامل ہیں ۔


متعلقہ خبریں


ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں وجود - اتوار 17 نومبر 2019

ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آ گئی، مظاہرین اور پولیس جھڑپوں کے دوران متعد افراد زخمی ہو گئے ۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمہوریت کے حامی صبح ہی سڑکوں پر آ گئے اورحکومت مخالف مظاہرہ کیا، سکیورٹی اہلکاروں نے آنسو گیس کے شیل پھینکے تو مظاہرین نے بھی پٹرول بم سے پولیس کو ضرب لگائی، نوجوانوں نے آنسو گیس سے بچنے کے لیے ہیلمٹ اور ماسک پہن رکھے تھے ، انہوں اپنے دفاع کے لیے چھتریاں بھی اٹھا رکھی تھیں جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین پٹ...

ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں

اسرائیلی بمباری سے غزہ میں نصف ملین ڈالر کا نقصان وجود - اتوار 17 نومبر 2019

اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جارحیت کے نتیجے میں نصف ملین ڈالر کا معاشی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ۔فلسطینی وزارت محنت وافرادی قوت کے سیکرٹری ناجی سرحان نے بتایا کہ گذشتہ تین روز تک جاری رہنے والی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں فلسطینی مکانات اور عمارتوں کے ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ نصف ملین ڈالر لگایا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی کی طرف سے غزہ کی پٹی میں مزاحمتی مراکز کے علاوہ زرعی املاک، پالتو مویشیوں کے فارموں، بحری مقاصد میں استعمال ہونے والی عمارتو...

اسرائیلی بمباری سے غزہ میں نصف ملین ڈالر کا نقصان

امریکا کا جاپان سے فوجی اڈوں کیلئے مزید ادائیگی کا مطالبہ وجود - اتوار 17 نومبر 2019

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جاپان سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں امریکی فوجی اڈوں کے اخراجات کا پہلے سے زیادہ حصہ برداشت کرے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جولائی میں اس وقت کے امریکی سلامتی مشیر جان بولٹن نے اپنے دورہ جاپان کے دوران جاپانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ موجودہ سالانہ اخراجات کا تقریبا 4 گنا ادا کیا کرے ۔اس کا مطلب موجودہ 2 ارب ڈالر سالانہ کی بجائے 8 ارب ڈالر سالانہ ادائیگی ہے ۔فوجی اڈوں کے اخراجات میں جاپان کے حصے کے معاملے پر دونوں ممالک میں دوبارہ مذاکرات...

امریکا کا جاپان سے فوجی اڈوں کیلئے مزید ادائیگی کا مطالبہ

پندرہ برسوں میں تین کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نکل گئے وجود - هفته 16 نومبر 2019

پاکستان میں 2000ء سے 2015ء تک غربت میں واضح کمی ہوئی اور ملک میں 4 کروڑ 14 لاکھ افراد میں سے 3 کروڑ 38 لاکھ افراد خط غربت سے نکل گئے۔2000ء سے 2015ء کے دوران غربت کو کم کرنے میں جن15 ممالک نے انقلابی اقدامات کیے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔غربت کی شرح میں سالانہ کمی کے اقدامات کے حوالے سے دنیا کے114ممالک میں پاکستان 14ویں نمبر پر آگیا۔ 2001ء میں پاکستان کی 28.6 فیصد فیصد آبادی انتہائی غربت زدہ زندگی گزارتی تھی، جس میں سالانہ 1.8 فیصد کمی ہوئی اور یوں 4 کروڑ 14 لاکھ افراد میں ...

پندرہ برسوں میں تین کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نکل گئے

ہالینڈ کا نوسالہ بچہ لارینٹ سائمنس دْنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بن جائیگا وجود - هفته 16 نومبر 2019

ایمسٹرڈم سے تعلق رکھنے والا 9 سالہ لارینٹ سائمنس رواں سال دسمبر میں ایندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے دْنیا کا کم عْمر ترین گریجویٹ بن جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈم سے تعلق رکھنے والا لارینٹ سائمنس ایک باصلاحیت بچہ ہے جوصرف 9 سال کی عْمر میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے دْنیا کا کم عْمر ترین گریجویٹ بننے کے لیے تیار ہے۔

ہالینڈ کا نوسالہ بچہ لارینٹ سائمنس دْنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بن جائیگا

آسٹریلین ہوائی کمپنی کی انیس گھنٹے کی طویل پرواز کا کامیاب تجربہ وجود - هفته 16 نومبر 2019

آسٹریلیا کی ہوائی کمپنی قنطاس نے لندن سے ساڑھے انیس گھنٹے کی نان اسٹاپ پرواز کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ پرواز لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ سے جمعرات کی صبح روانہ ہوئی اور بغیر کہیں اترے سڈنی کے ہوائی اڈے پر جمعے کی دوپہر پہنچی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس پرواز کے لیے بوئنگ 787-9 کو استعمال کیا گیا۔ اس پرواز نے ساڑھے انیس گھنٹے میں سترہ ہزار آٹھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ قنطاس اگلے برسوں میں لندن اور نیویارک کے لیے بغیر کسی اسٹاپ کے پروازیں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہ...

آسٹریلین ہوائی کمپنی کی انیس گھنٹے کی طویل پرواز کا کامیاب تجربہ

اسرائیلی سفارت کارکی آمد پرہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج وجود - هفته 16 نومبر 2019

امریکی ریاست ماسا چیوسٹس میں قائم ہارورڈ یونیورسٹی کے کالج برائے حقوق کے طلباء نے نیویارک میں تعینات اسرائیلی قونصل جنرل کی تقریر کے لیے آمد پرطلباء نے احتجاج کیا اور بہ طور احتجاج انہوں نے صہیونی سفارت کار کا بائیکاٹ کیا۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی سفارت کار ڈانی ڈایان کو فلسطین میں یہودی بستیوں کے حوالے سے اسرائیلی حکمت عملی پر تقریر کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔سماجی کارکنوں اور طلباء نے اسرائیلی سفارت کار کے بائیکاٹ اوراس کے بعد احتجاجی مظاہرے کی تصاویر اور ویڈی...

اسرائیلی سفارت کارکی آمد پرہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج

بھارت میں بچھو والی درگاہ کا معجزہ،زائرین کاتانتابندھ گیا وجود - هفته 16 نومبر 2019

بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک ایسی درگاہ موجود ہے جہاں بچھو پائے جاتے ہیںلیکن یہ بچھو کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر امروہہ میں واقع درگاہ پوری ریاست اتر پردیش اور اترکھنڈ میںبچھو والی درگاہ کے نام سے مشہور ہے، اس درگاہ پر ہر مذہب کے لوگ اپنی مرادیں لے کر آتے ہیں اور دعائیں اور منتیں مانگتے ہیں، اس درگاہ پر زائرین کا تانتا لگا رہتا ہے۔ایک ر پورٹ کے مطابق اس درگاہ کی خاص بات یہ ہے کے درگاہ پر رہنے والے بچھو انسانوں کو نہیں کاٹتے...

بھارت میں بچھو والی درگاہ کا معجزہ،زائرین کاتانتابندھ گیا

چین 2020ء میں مریخ پر پہنچ جائے گا وجود - هفته 16 نومبر 2019

چین نے 2020ء میں مریخ پر لینڈ کرنے کا اعلان کر دیا اور بتایا ہے کہ اس سلسلے میں تجربہ بھی کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق چین کے نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چین 2020ء میں مریخ پر مشن بھیجنے والا ہے جس کے سلسلے میں صوبے ہیبائی میں مریخ پر پہلا غیر انسانی مشن بھیجنے کے تجربے میں اہم کامیابی ملی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مریخ پر پہنچنے کے لیے مشن کو 7 ماہ کا عرصہ درکار ہو گا، جب کہ صرف 7 منٹ میں مریخ پر لینڈنگ عمل میں آ جائے گی۔سربرا...

چین 2020ء میں مریخ پر پہنچ جائے گا

امریکا میں خاتون وکیل سے حلف لیتے ہوئے جج کا انوکھا قدم،ویڈیووائرل وجود - هفته 16 نومبر 2019

سوشل میڈیا پر ایک خاتون وکیل کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں حلف لینے والے جج نے خاتون کا بچہ گود میں اٹھایا ہوا ہے۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر موجود اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکا کی ٹینیسی کورٹ آف اپیل کے جج رچرڈز ڈنکنز نے ٹینیسی بار کی وکیل جولیانا لامر ٹینیسی سے حلف لیتے ہوئے انہی کے ایک سالہ بیٹے کو بھی گود میں لیا ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو جولیا لامر کے لاء اسکول کی ایک ساتھی سارہ مارٹن نے آن لائن شیئر کی جس کے بعد اب اس کا دنیا بھر میں چرچا ہ...

امریکا میں خاتون وکیل سے حلف لیتے ہوئے جج کا انوکھا قدم،ویڈیووائرل

مقبوضہ کشمیر،سیاحوں کی آمد میں 88فیصد کمی وجود - جمعرات 14 نومبر 2019

کشمیر میں غیر اعلانیہ ہڑتال اور غیر یقینی صورتحال کے سبب ہر برس کشمیر آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے ۔شہرہ آفاق سیاحتی مقامات پہلگام، گلمرگ، اور سونہ مرگ میں سال کے آخر میں غیر ملکی سیاحوں کا تانتا بندھارہتا تھا لیکن آج یہ مقامات سنسان ہیں۔محکمہ سیاحت کی جانب سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق 2018کے مقابلے میں رواں برس سیاحوں کی آمد میں 88.41 فیصد کمی نوٹ کی گئی ہے ۔محکمہ سیاحت کے ایک اعلی افسررشید احمد کے مطابق مواصلاتی نظام پر پابندیوں اور غیر یق...

مقبوضہ کشمیر،سیاحوں کی آمد میں 88فیصد کمی

فلسطینی مزیدصدمے سہنے کے لیے تیار رہے،اسرائیلی وزیراعظم کی دھمکی وجود - جمعرات 14 نومبر 2019

انتہا پسند اسرائیلی وزیر بنیامین نیتن یاہو نے غزہ سے تعلق رکھنے والی فلسطینی مزاحمتی تنظیم جہادِ اسلامی کو خبردار کیا ہے کہ وہ راکٹ حملے روک دے ،ورنہ وہ مزید صدموں کو سہنے کے لیے تیار رہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ انھیں (جہادِ اسلامی کو) حملے روکنے یا صدمے سہنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔انھوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کسی رحم کے بغیر ان حملوں کا جواب دے گا۔

فلسطینی مزیدصدمے سہنے کے لیے تیار رہے،اسرائیلی وزیراعظم کی دھمکی