وجود

... loading ...

وجود

برطانیا میں مسلمان معاشی ناہمواری ،نسل پرستانہ اورمتعصبانہ رویوں کاشکار

جمعرات 12 اکتوبر 2017 برطانیا میں مسلمان معاشی ناہمواری ،نسل پرستانہ اورمتعصبانہ رویوں کاشکار

برطانیا میں معاشی ناہمواری کو ختم کرنے کے لیے کام کرنے والے ادارے سوشل موبلٹی کمیشن کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی معاشرے میں مسلمان نوجوانوں کو اسکول سے لے کر ملازمت تک ہر جگہ ناموافق حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مسلمان نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ،برطانوی حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی مسلمانوں کو معاشرے کے دیگر تمام لوگوں کے مقابلے میں سب سے کم اقتصادی مواقعے حاصل ہیں ۔رپورٹ کے مطابق برطانیا میں مسلمان نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اچھے روزگار کے مناسب مواقعے میسر نہیں ہیں اور’پاکستانی کمیونٹی برطانیا میں پسماندہ ترین کمیونٹیز میں شامل ہے۔جبکہ لندن کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی کی وجہ سے ’لندن میں مسلمان خوفزدہ نظر آتے ہیں اور بیشتر مسلمانوں میں عدم تحفظ کااحساس بڑھتا جارہاہے اور مسلمان خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں ۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان تعلیم کے شعبے میں ماضی کی نسبت بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہیں ہیں ۔ تاہم اس کے باوجود ان کو اچھی نوکری ڈھونڈنے میں دشواری پیش آتی ہے۔اس رپورٹ کے سلسلے میں مسلمان نوجوانوں سے کیے جانے والے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انھیں چھوٹی عمر سے ہی اسلام مخالف، نسل پرستانہ اور متعصبانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مسلمان نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اساتذہ مسلمان طالب علموں سے بہتر کارکردگی کی امید نہیں رکھتے۔
مسلمان نوجوانوں سے کیے جانے والے حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انھیں چھوٹی عمر سے ہی اسلام مخالف، نسل پرستانہ اور متعصبانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔برطانوی مسلمانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کا حل ڈھونڈنے کے لیے ملک میں متعدد مسلمان تنظیمیں کام کر رہی ہیں ۔ ایک ایسے ہی مسلمان تھینک ٹینک ‘انیشیٹیو فار مسلم کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے ڈائریکٹر محسن عباس کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مسلمان نوجوانوں کو جن مسائل کا سامنا ہے اس کی متعدد وجوہات ہیں ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلم کمیونیٹی اپنے مسائل کو صحیح طرح اجاگر کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مسلمان کمیونٹی کی ترقی کے لیے کوئی طویل مدتی وژن نہیں رکھتے۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری پہلی نسل کی ناخواندگی ہے‘۔محسن عباس کا کہنا تھا کہ ‘کمیونیٹی ڈیویلپمنٹ میں مساجد کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس چیز میں فوری مالی فائدہ نظر نہ آ رہا ہو مذہبی لیڈرشپ اس میں کم ہی دلچسپی لیتی ہے‘۔ان کے بقول ایسی صورت میں وہ حکومتی ادارے جو عوام کے ٹیکس پر چلتے ہیں ان کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ مسلم کمیونٹی کو درپیش مسائل کا حل نکالیں ۔‘لیکن اگر آپ دیکھیں تو تقریباً دو دہائیوں سے حکومت کی توجہ صرف مسلمانوں میں انتہا پسندی کے خاتمے پر ہے۔ مسلمانوں کے تحفظات اور ان کو درپیش مسائل کی جانب توجہ نہیں دی گئی‘۔
سوشل موبلٹی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمان نوجوانوں میں خواتین کو برطانیا میں سب سے زیادہ نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جس کی وجوہات میں مذہب کے ساتھ ان کے لباس کو بھی بتایا گیا ہے۔ حجاب کرنے والی خواتین کی فوراً بحیثیت مسلمان پہچان ہوجاتی ہے اور ان کو ملازمت ڈھونڈنے میں دشواری اور ملازمت مل جانے کی صورت میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مغربی لندن کی رہائشی عائشہ خان نے تقریباً تین برس قبل وکالت کی ڈگری حاصل کی تھی لیکن اس کے بعد وہ کسی بھی بڑی قانونی فرم میں ملازمت ڈھونڈنے میں ناکام رہیں ۔مسلمان نوجوانوں میں خواتین کو برطانیا میں سب سے زیادہ نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میری نوکری کی بیشتر درخواستوں کا کوئی جواب ہی نہیں دیا گیا اور کچھ جگہوں پر مجھے انٹرویو کے لیے تو بلایا گیا لیکن بات اس سے آگے نہیں بڑھ سکی‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں نے ایسے وقت میں اپنی ڈگری مکمل کی جب مسلمانوں کے بارے میں دنیا بھر میں منفی سوچ میں اضافہ ہو رہا ہے، برطانیا میں بھی مسلمانوں کی کچھ ذرائع ابلاغ میں جس طرح تصویر کشی کی جاتی ہے وہ سب کے سامنے ہے‘۔عائشہ کے بقول ‘کئی یورپی ممالک میں حجاب پر پابندی لگائی گئی ہے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے نام اور لباس کے باعث مجھے نوکری ملنے میں مشکل ہو رہی ہے‘۔
برطانیا میں بسنے والی پاکستانی نژاد خواتین کی 57 فیصد آبادی معاشی طور پر غیر فعال ہے اور دوسری کمیونٹیز کی خواتین کے مقابلے میں یہ شرح پاکستانی نژاد خواتین میں تشویش ناک حد تک زیادہ ہے۔برطانیا میں بسنے والے پاکستانی نژاد باشندوں کے بارے میں یہ ‘تشویش ناک‘ حقائق برطانوی حکومت کی جانب سے ملک میں بسنے والی مختلف قومیتوں کے لوگوں کے معاشرے میں انضمام سے متعلق کیے جانے والے ایک سال سے زیادہ عرصے پر محیط سروے کے بعد سامنے آئی ہے۔
2015 میں برطانوی وزیرِ اعظم نے سینیئر سول سرونٹ ‘ڈیم لوئیز کیسی ‘ کو اس حوالے سے تفصیلی رویو کرنے کا کہا تھا جو ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ان رویو کا مقصد یہ معلوم کر نا تھا کہ برطانیا میں رہنے والے مختلف رنگ اور نسل کے لوگ کیا معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور ملک کے مختلف علاقوں میں موجود پسماندہ کمیونیٹز میں پائے جانے والے نسلی تناؤ اور پسماندگی کی کیا وجوہات ہیں ۔اس سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانیا میں بسنے والی پاکستانی خواتین میں بے روزگاری دیگر قومیتوں کی خواتین کے مقابلے میں غیرمعمولی حد تک زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق ملک میں 25 فیصد سفید فام خواتین معاشی طور پر غیر فعال ہیں جبکہ پاکستانی خواتین میں یہ شرح 57 فیصد سے زیادہ ہے۔‘کیسی رویو‘ کے نام سے جاری اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی نژاد مردوں میں بھی بے روزگاری کی شرح سفید فام شہریوں کے مقابلے میں تین گناہ زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق برطانیا میں کام کرنے والے ہر چار پاکستانی مردوں میں سے ایک ٹیکسی چلاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق انگریزی زبان پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے برطانیا میں رہنے والے کچھ پاکستانیوں کو برطانوی معاشرے میں انضمام میں مشکلات کا سامنا ہے۔پاکستانی خواتین کے معاشی طور پر غیر فعال ہونے کی ایک وجہ جو اس رپورٹ میں سامنے آئی ہے وہ انگریزی زبان سے نا بلد ہونا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں ایسی خواتین کی تعداد دوگنا ہے جن کی انگریزی انتہائی ناقص ہے۔رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستانی خواتین کو معاشی مسائل کے ساتھ گھریلو تشدد اور جبری شادی جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔
کیسی ریویو‘ کے مطابق ملک کے پسماندہ علاقوں میں بسنے والے پاکستانیوں کی شرح غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔انگلینڈ کے دس فیصد انتہائی پسماندہ علاقوں میں 31 فیصد پاکستانی آباد ہیں ۔
برطانیا میں بسنے والے 40 فیصد سے زیادہ پاکستانی خاندانوں کا شمار کم آمدن والے گھرانوں میں ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی ایسے علاقوں میں رہنا پسند کرتے ہیں جہاں پاکستانیوں کی اکثریت آباد ہے۔ جس کے باعث دوسری رنگ ونسل کے لوگوں کے ساتھ ان کا میل ملاپ بہت کم ہوتا ہے اور اس صورتحال کو رپورٹ میں تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ریویو کے مطابق 2001 سے 2011 کے درمیان ملک میں مسلمانوں کی تعداد میں 12 لاکھ نفوس کا اضافہ ہوا ہے جو مسلمانوں کی کل تعداد کا 72 فیصد بنتا ہے۔ اس عرصے میں برطانیا میں پاکستانیوں کی تعداد میں چار لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جبکہ بھارتی شہریوں کی تعداد بھی اتنی ہی بڑھی ہے۔
رپورٹ میں حکومتِ برطانیا کو ملک کی پسماندہ کمیونٹیز کے افراد کو معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی گئی ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے زیادہ مالی وسائل مہیا کرے اور ان علاقوں میں بسنے والوں کی انگریزی زبان بولنے کی صلاحیت میں بہتری لائی جائے۔اس کے ساتھ دیگر ممالک سے آنے والوں کو برطانوی رسم ورواج اور اقدار سے آگاہی اور مناسب تعلیم بھی مہیا کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اس رپورٹ میں سوشل موبلٹی کمیشن کی جانب سے بارہ سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں جن میں اساتذہ کو متنوع معاشرے میں پڑھانے کی تربیت اور انسانی حقوق اور برابری کے حکومتی کمیشن سے مسلمانوں کو ملازمت کے یکساں مواقعوں کے بارے میں گاہے بگاہے صورتحال کا جائزہ لینے کی سفارشات بھی شامل ہیں ۔


متعلقہ خبریں


دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب وجود - جمعه 16 جنوری 2026

اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد وجود - جمعه 16 جنوری 2026

2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

مضامین
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر