وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

برطانیا میں مسلمان معاشی ناہمواری ،نسل پرستانہ اورمتعصبانہ رویوں کاشکار

جمعرات 12 اکتوبر 2017 برطانیا میں مسلمان معاشی ناہمواری ،نسل پرستانہ اورمتعصبانہ رویوں کاشکار

برطانیا میں معاشی ناہمواری کو ختم کرنے کے لیے کام کرنے والے ادارے سوشل موبلٹی کمیشن کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی معاشرے میں مسلمان نوجوانوں کو اسکول سے لے کر ملازمت تک ہر جگہ ناموافق حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مسلمان نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ،برطانوی حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی مسلمانوں کو معاشرے کے دیگر تمام لوگوں کے مقابلے میں سب سے کم اقتصادی مواقعے حاصل ہیں ۔رپورٹ کے مطابق برطانیا میں مسلمان نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اچھے روزگار کے مناسب مواقعے میسر نہیں ہیں اور’پاکستانی کمیونٹی برطانیا میں پسماندہ ترین کمیونٹیز میں شامل ہے۔جبکہ لندن کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی کی وجہ سے ’لندن میں مسلمان خوفزدہ نظر آتے ہیں اور بیشتر مسلمانوں میں عدم تحفظ کااحساس بڑھتا جارہاہے اور مسلمان خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں ۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان تعلیم کے شعبے میں ماضی کی نسبت بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہیں ہیں ۔ تاہم اس کے باوجود ان کو اچھی نوکری ڈھونڈنے میں دشواری پیش آتی ہے۔اس رپورٹ کے سلسلے میں مسلمان نوجوانوں سے کیے جانے والے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انھیں چھوٹی عمر سے ہی اسلام مخالف، نسل پرستانہ اور متعصبانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مسلمان نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اساتذہ مسلمان طالب علموں سے بہتر کارکردگی کی امید نہیں رکھتے۔
مسلمان نوجوانوں سے کیے جانے والے حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انھیں چھوٹی عمر سے ہی اسلام مخالف، نسل پرستانہ اور متعصبانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔برطانوی مسلمانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کا حل ڈھونڈنے کے لیے ملک میں متعدد مسلمان تنظیمیں کام کر رہی ہیں ۔ ایک ایسے ہی مسلمان تھینک ٹینک ‘انیشیٹیو فار مسلم کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے ڈائریکٹر محسن عباس کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مسلمان نوجوانوں کو جن مسائل کا سامنا ہے اس کی متعدد وجوہات ہیں ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلم کمیونیٹی اپنے مسائل کو صحیح طرح اجاگر کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مسلمان کمیونٹی کی ترقی کے لیے کوئی طویل مدتی وژن نہیں رکھتے۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری پہلی نسل کی ناخواندگی ہے‘۔محسن عباس کا کہنا تھا کہ ‘کمیونیٹی ڈیویلپمنٹ میں مساجد کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس چیز میں فوری مالی فائدہ نظر نہ آ رہا ہو مذہبی لیڈرشپ اس میں کم ہی دلچسپی لیتی ہے‘۔ان کے بقول ایسی صورت میں وہ حکومتی ادارے جو عوام کے ٹیکس پر چلتے ہیں ان کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ مسلم کمیونٹی کو درپیش مسائل کا حل نکالیں ۔‘لیکن اگر آپ دیکھیں تو تقریباً دو دہائیوں سے حکومت کی توجہ صرف مسلمانوں میں انتہا پسندی کے خاتمے پر ہے۔ مسلمانوں کے تحفظات اور ان کو درپیش مسائل کی جانب توجہ نہیں دی گئی‘۔
سوشل موبلٹی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمان نوجوانوں میں خواتین کو برطانیا میں سب سے زیادہ نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جس کی وجوہات میں مذہب کے ساتھ ان کے لباس کو بھی بتایا گیا ہے۔ حجاب کرنے والی خواتین کی فوراً بحیثیت مسلمان پہچان ہوجاتی ہے اور ان کو ملازمت ڈھونڈنے میں دشواری اور ملازمت مل جانے کی صورت میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مغربی لندن کی رہائشی عائشہ خان نے تقریباً تین برس قبل وکالت کی ڈگری حاصل کی تھی لیکن اس کے بعد وہ کسی بھی بڑی قانونی فرم میں ملازمت ڈھونڈنے میں ناکام رہیں ۔مسلمان نوجوانوں میں خواتین کو برطانیا میں سب سے زیادہ نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میری نوکری کی بیشتر درخواستوں کا کوئی جواب ہی نہیں دیا گیا اور کچھ جگہوں پر مجھے انٹرویو کے لیے تو بلایا گیا لیکن بات اس سے آگے نہیں بڑھ سکی‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں نے ایسے وقت میں اپنی ڈگری مکمل کی جب مسلمانوں کے بارے میں دنیا بھر میں منفی سوچ میں اضافہ ہو رہا ہے، برطانیا میں بھی مسلمانوں کی کچھ ذرائع ابلاغ میں جس طرح تصویر کشی کی جاتی ہے وہ سب کے سامنے ہے‘۔عائشہ کے بقول ‘کئی یورپی ممالک میں حجاب پر پابندی لگائی گئی ہے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے نام اور لباس کے باعث مجھے نوکری ملنے میں مشکل ہو رہی ہے‘۔
برطانیا میں بسنے والی پاکستانی نژاد خواتین کی 57 فیصد آبادی معاشی طور پر غیر فعال ہے اور دوسری کمیونٹیز کی خواتین کے مقابلے میں یہ شرح پاکستانی نژاد خواتین میں تشویش ناک حد تک زیادہ ہے۔برطانیا میں بسنے والے پاکستانی نژاد باشندوں کے بارے میں یہ ‘تشویش ناک‘ حقائق برطانوی حکومت کی جانب سے ملک میں بسنے والی مختلف قومیتوں کے لوگوں کے معاشرے میں انضمام سے متعلق کیے جانے والے ایک سال سے زیادہ عرصے پر محیط سروے کے بعد سامنے آئی ہے۔
2015 میں برطانوی وزیرِ اعظم نے سینیئر سول سرونٹ ‘ڈیم لوئیز کیسی ‘ کو اس حوالے سے تفصیلی رویو کرنے کا کہا تھا جو ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ان رویو کا مقصد یہ معلوم کر نا تھا کہ برطانیا میں رہنے والے مختلف رنگ اور نسل کے لوگ کیا معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور ملک کے مختلف علاقوں میں موجود پسماندہ کمیونیٹز میں پائے جانے والے نسلی تناؤ اور پسماندگی کی کیا وجوہات ہیں ۔اس سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانیا میں بسنے والی پاکستانی خواتین میں بے روزگاری دیگر قومیتوں کی خواتین کے مقابلے میں غیرمعمولی حد تک زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق ملک میں 25 فیصد سفید فام خواتین معاشی طور پر غیر فعال ہیں جبکہ پاکستانی خواتین میں یہ شرح 57 فیصد سے زیادہ ہے۔‘کیسی رویو‘ کے نام سے جاری اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی نژاد مردوں میں بھی بے روزگاری کی شرح سفید فام شہریوں کے مقابلے میں تین گناہ زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق برطانیا میں کام کرنے والے ہر چار پاکستانی مردوں میں سے ایک ٹیکسی چلاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق انگریزی زبان پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے برطانیا میں رہنے والے کچھ پاکستانیوں کو برطانوی معاشرے میں انضمام میں مشکلات کا سامنا ہے۔پاکستانی خواتین کے معاشی طور پر غیر فعال ہونے کی ایک وجہ جو اس رپورٹ میں سامنے آئی ہے وہ انگریزی زبان سے نا بلد ہونا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں ایسی خواتین کی تعداد دوگنا ہے جن کی انگریزی انتہائی ناقص ہے۔رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستانی خواتین کو معاشی مسائل کے ساتھ گھریلو تشدد اور جبری شادی جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔
کیسی ریویو‘ کے مطابق ملک کے پسماندہ علاقوں میں بسنے والے پاکستانیوں کی شرح غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔انگلینڈ کے دس فیصد انتہائی پسماندہ علاقوں میں 31 فیصد پاکستانی آباد ہیں ۔
برطانیا میں بسنے والے 40 فیصد سے زیادہ پاکستانی خاندانوں کا شمار کم آمدن والے گھرانوں میں ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی ایسے علاقوں میں رہنا پسند کرتے ہیں جہاں پاکستانیوں کی اکثریت آباد ہے۔ جس کے باعث دوسری رنگ ونسل کے لوگوں کے ساتھ ان کا میل ملاپ بہت کم ہوتا ہے اور اس صورتحال کو رپورٹ میں تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ریویو کے مطابق 2001 سے 2011 کے درمیان ملک میں مسلمانوں کی تعداد میں 12 لاکھ نفوس کا اضافہ ہوا ہے جو مسلمانوں کی کل تعداد کا 72 فیصد بنتا ہے۔ اس عرصے میں برطانیا میں پاکستانیوں کی تعداد میں چار لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جبکہ بھارتی شہریوں کی تعداد بھی اتنی ہی بڑھی ہے۔
رپورٹ میں حکومتِ برطانیا کو ملک کی پسماندہ کمیونٹیز کے افراد کو معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی گئی ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے زیادہ مالی وسائل مہیا کرے اور ان علاقوں میں بسنے والوں کی انگریزی زبان بولنے کی صلاحیت میں بہتری لائی جائے۔اس کے ساتھ دیگر ممالک سے آنے والوں کو برطانوی رسم ورواج اور اقدار سے آگاہی اور مناسب تعلیم بھی مہیا کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اس رپورٹ میں سوشل موبلٹی کمیشن کی جانب سے بارہ سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں جن میں اساتذہ کو متنوع معاشرے میں پڑھانے کی تربیت اور انسانی حقوق اور برابری کے حکومتی کمیشن سے مسلمانوں کو ملازمت کے یکساں مواقعوں کے بارے میں گاہے بگاہے صورتحال کا جائزہ لینے کی سفارشات بھی شامل ہیں ۔


متعلقہ خبریں


مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پوری دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، برطانوی رکن پارلیمنٹ وجود - جمعه 21 فروری 2020

پاکستان کے دورے پر آئی برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمز نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ قرار دے دیا۔لاہور میں گورنر پنجاب سے ڈیبی ابراہمز سمیت برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے ملاقات کی جس میں مسئلہ کشمیر اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ وفد میں ممبر برطانوی پارلیمنٹ مارک ایسٹوڈ ، سارہ برٹکلف، لارڈ قربان ، جوڈی کمننز، طاہر علی اور عمران حسین شامل تھے ۔وفد نے گورنر کو کشمیریوں پر مظالم کے خلاف برطانوی پارلیمنٹ میں آواز بلند کرنے کی یقین دہانی کراتے ...

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پوری دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، برطانوی رکن پارلیمنٹ

پاکستان کو دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا پر تشویش ہے ،ترجمان دفتر خارجہ وجود - جمعه 21 فروری 2020

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان کو دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا، زینوفوبیا اور نسلی نفرت کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش ہے ۔اسلام آباد سے جاری ہونے والے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جرمنی میں حملوں کی سخت مذمت کی ہے ، ان گھنائونے حملوں سے کئی معصوم اپنی جان گنوا بیٹھے اور بہت سے زخمی ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان جرمنی کے ساتھ کھڑا ہے جب کہ اس حملے میں ترک شہریوں کی جانیں جانے پر ترکی کے ساتھ بھی تعزیت کرتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ان ح...

پاکستان کو دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا پر تشویش ہے ،ترجمان دفتر خارجہ

چین کورونا وائرس سے مزید 118افراد ہلاک ،تعداد2247ہو گئی وجود - جمعه 21 فروری 2020

کورونا وائرس سے مزید 118 افراد جان کی بازی ہارگئے ،مرنیوالوں کی تعداد 2247ہو گئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں نہ رک سکیں اورمزید 118 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد2247ہوگئی۔899 نئے مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 76700ہوگئی۔ صرف صوبہ ہوبئی میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 62ہزارسے زائد ہے جبکہ 11ہزار633مریضوں کی حالت نازک ہے ۔دوسری جانب شنگھائی میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے پلازما تھراپی ...

چین کورونا وائرس سے مزید 118افراد ہلاک ،تعداد2247ہو گئی

میکسیکو، اجتماعی قبر سے 10نعشیں برآمد وجود - جمعرات 20 فروری 2020

میکسیکو کی ریاست میشواکان میں اجتماعی قبر سے 10نعشیں برآمد کر لی گئیں۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ میکسیکو حکام نے مغربی ریاست میشواکان کے علاقے کومانجا میں اجتماعی قبر دریافت کی جس کی کھدائی کر کے بوسیدہ حالت میں 10نعشیں برآمد کی گئیں جنہیں ہلاکت کی وجوہات جاننے کے لیے فرانزک ماہرین کے تجزیے کے لیے بھیجا جائے گا۔بیان میں بتایا گیا کہ جرائم میں ملوث افراد کی شناخت کر لی گئی ۔

میکسیکو، اجتماعی قبر سے 10نعشیں برآمد

یوکرین اسکینڈل، امریکی نائب وزیرِ دفاع مستعفی وجود - جمعرات 20 فروری 2020

یوکرین اسکینڈل سے وابستہ امریکی نائب وزیر دفاع جان روڈ مستعفی ہو گئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی نائب وزیرِ دفاع برائے پالیسی جان روڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر استعفی دیدیا۔ مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں جان روڈ کا کہنا تھا کہ وزیرِ دفاع سے معلوم ہوا ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دوں۔انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپ کی درخواست پر میں اپنا استعفیٰ بھیج رہا ہوں، 28 فروری سے عہدہ خالی ہو گا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جان روڈ نے تصدیق ...

یوکرین اسکینڈل، امریکی نائب وزیرِ دفاع مستعفی

بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے کے کام کو آگے بڑھایا جائے ، چین وجود - بدھ 19 فروری 2020

چین کی وزارت تجارت نے ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے مختلف ملکوں سے مطالبہ کیا کہ بیرونی تجارت ،بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے اور اصراف کو فروغ دینے کے کام کو آگے بڑھایا جائے اور تجارتی ترقی پر وبا کے اثرات کو کم سے کم کیا جائے ۔نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بیرونی تجارت ،بیرونی سرمایہ کاری ،لاجسٹکس اور ای کارمرس سے منسلک صنعتی اداروں کی پیداوار بحال کرنے میں مددفراہم کی جائے ،دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ اہم منصوبوں کو منظم طور پر آگے بڑھایا جائے ۔

بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے کے کام کو آگے بڑھایا جائے ، چین

مصر میں مٹی کے تاریخی قبرستان دریافت وجود - بدھ 19 فروری 2020

مصری وزارت سیاحت و آثار قدیمہ نے اعلان کیا ہے کہ الدقھلیہ صوبے کے معروف مقام ام الخلجان میں 83تاریخی قبرستان دریافت ہوئے ہیں۔ یہ مصر کا ڈیلٹا کہلاتا ہے ۔ دریافت ہونے والے آثار کا تعلق 4ہزار قبل مسیح کے نصف اول سے ہے ۔یہ مصر زیریں یا بوتوتمدن کے نام سے مشہور ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق قبرستان بیضوی شکل کے ہیں۔ قبریں ریگستانی جزیرے میں تراش کر بنائی گئی ہیں۔ قبروں میں نعشیںاکڑوںشکل میں رکھی ہوئی ہیں۔میتوں کے ساتھ سامان وغیرہ بھی موجود ہے ۔وہاں سے ملنے والا سامان مختلف ...

مصر میں مٹی کے تاریخی قبرستان دریافت

سعودی عرب کی طرف 47 ممالک میں 4 ارب ڈالر کی امداد وجود - بدھ 19 فروری 2020

کنگ سلمان سینٹر برائے انسانی امداد نے کہا ہے کہ جنوری 2020 تک 47ممالک میں 4ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دی ہے ۔سب سے زیادہ امداد یمن میں دی گئی جہاں سینٹر نے اب تک دو بلین ریال مالیت سے زیادہ منصوبے ، امدادی سامان، علاج معالجہ اور دیگر سہولتیں مستحقین کو فراہم کی ہیں۔فلسطین دوسرے نمبر پر جہاں 355ملین ڈالر کی امداد دی گئی۔شام چوتھے نمبر پر ہے جہاں 286ملین ڈالر سے زیادہ امداد کی گئی جبکہ پانچویں نمبر پر صومالیہ ہے جہاں 186ملین ڈالر سے زیادہ امداد دی گئی۔سینٹر نے کہا ہے کہ اس نے س...

سعودی عرب کی طرف 47 ممالک میں 4 ارب ڈالر کی امداد

کورونا وائرس کی وبا ، عالمی خطر ے کے درجے میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ، عالمی ادارہ صحت وجود - منگل 18 فروری 2020

عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھنوم نے کہا کہ چین کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق نوول کورونا وائرس سے متاثرہ نئے کیسز میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔اس لئے عالمی ادارہ صحت موجودہ نتائج کو برقرار رکھے گا یعنی نوول کرونا وائرس نمونیا عالمی سطح پر وبائی بیماری نہیں اور عالمی سطح پر وبا کے خطر ے کی درجہ بندی کو نہیں بڑھایا جائے گا۔عالمی ادارہ صحت کے تحت ہنگامی صحت عامہ پروگرام کے انچارج م...

کورونا وائرس کی وبا ، عالمی خطر ے کے درجے میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ، عالمی ادارہ صحت

ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں،چین وجود - منگل 18 فروری 2020

چین نے ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کردیا ۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان چینی کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جو ایران اوردوسرے ممالک کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے داخلی قوانین اور یکطرفہ طور پر دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیوں اور اداروں پر پابندی عائد کرے ۔گنگ شوانگ نے ایران کے خلاف امریک...

ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں،چین

سعودی عرب دنیا کے 10پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل وجود - منگل 18 فروری 2020

سعودی عرب دنیا کے دس پرکشش ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق2020 کے دوران سعودی عرب مختلف تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے نمایاں ترین ملک بن جائے گا۔عالمی بنک نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں سعودی عرب کو دنیا کے دس پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے ۔ سعودی عرب دبئی کا طاقتور حریف بننے جارہا ہے ۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں سعودی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کی بدولت کمپنیاں دبئی سے سعودی عرب منتقل ہونے لگی ہیں۔ کئی کمپنیوں نے اپنے کاروبار کا ...

سعودی عرب دنیا کے 10پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل

سوڈانی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز وجود - پیر 17 فروری 2020

سوڈان میں گزشتہ برس صدر عمر البشیر کا تختہ الٹے جانے کے بعد نئی حکومت نے اسرائیلی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز کردیا ۔ سوڈان کی خود مختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کی اجازت سے اسرائیل کے لیے سوڈان کی فضائی حدود کو کھول دیا گیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوڈان اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے باب میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔ سوڈان نے اسرائیلی سول طیاروں کو اپنی حدودمیں استعمال کرنے کی اجازت دے دی ۔رپورٹ کے مطابق ایک سول طیارہ تل ابیب سے سو...

سوڈانی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز