وجود

... loading ...

وجود

پنجاب حکومت کے حسابات میں 36 ارب روپے کی گڑبڑ20 ارب کی خورد برد

اتوار 17 ستمبر 2017 پنجاب حکومت کے حسابات میں 36 ارب روپے کی گڑبڑ20 ارب کی خورد برد

یوں تو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ہاتھ ہلا ہلا کر اوراُنگلی نچا نچا کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صوبے میں اگر اُن پر ایک دمڑی کی کرپشن ثابت ہو جائے تو عوام کے ہاتھ اور اُن کا گریبان ہوگا۔ مگر اُن کا یہ دعویٰ محض زیب داستان اور محض جوشِ خطابت کے سوا اور کچھ نہ نکلا۔ ملک بھر کے تجزیہ کار ، اخبار نویس اور کالم نگار بھی اکثر وزیراعلیٰ پنجاب کی گڈ گورننس کے گُن گاتے نظر آتے ہیں ۔ جس کی اپنی منفعت بخش وجوہات ہیں ۔ مگر حقائق کی میزان پر جب اس دعوے کو تولا جاتا ہے تو یہ درست ثابت نہیں ہوتا۔ آزاد ذرائع سے ہونے والی تحقیقات کو ایک طرف رکھیے مگر اب خود حکومت پاکستان کی طرف سے سرکاری رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ حکومت پنجاب کے حالات بھی باقی صوبوں کی طرح بالکل دگرگوں ہیں ۔ اور یہاں شفافیت کا دعویٰ ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں ۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں صوبہ پنجاب میں ہونے والے گھپلوں کے انکشاف پر جہاں ایک طرف پورا ملک خاموش ہے وہیں پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں بھی کوئی خاص ہلچل نظر نہیں آتی۔ شہباز شریف کی طرف سے گڈ گورننس کے دعوے کی واحد امتیازی خصوصیت کا پردہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں پوری طرح چاک ہو گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس رپورٹ پر وزیراعلیٰ پنجاب یا تو وضاحت پیش کرتے یا پھر اس پر اپنے ہی دعوے کے مطابق ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دے کرگھر بیٹھ جاتے ۔ یا پھر کم از کم متعلقہ محکموں میں ذمہ داروں کو سزا دلوانے کے لیے کمربستہ ہوجاتے ۔ جیسا کہ وہ ذرائع ابلاغ پر توجہ حاصل کرنے کے لیے اکثر کچھ سرکاری افسروں کو معطل کرنے کی شعبدہ بازی دکھاتے رہتے ہیں ۔ مگر آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں محکمہ داخلہ، محکمہ خوراک ، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت اور زرعی شعبے سمیت اکثر سرکاری محکموں میں چوری، خُرد بُرد، گھپلوں ، بدعنوانیوں اور فراڈ کے انکشافات کے باوجود وزیراعلیٰ پراسرار طور پر خاموش ہیں ۔ جس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے دعوے اور حقائق میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
تفصیلات کے مطابق آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں 2015-16 کے دوران پنجاب حکومت کے حسابات میں مجموعی طورپر 36ارب94 کروڑ روپے کے گھپلوں اور کم وبیش 20ارب روپے کی خورد برد اورگھپلوں کی نشاندہی کی ہے ۔آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ 20ارب64 کروڑ روپے کے فراڈ، چوری، خوردبرد ،سرکاری وسائل کے غلط استعمال کاپتہ چلاہے۔ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ ایک ارب4 کروڑکانقصان اندرونی کنٹرولز کی خامیوں کی وجہ سے اٹھانا پڑا ہے،ایک ارب82 کروڑ روپے کا نقصان وصولیوں اور ضرورت سے زیادہ ادائیگیوں کی وجہ سے ہوا۔4ارب 11کروڑ روپے زیادہ ادائیگیوں اور گھپلوں کی نذر کردیے گئے،7ارب 81 کروڑ روپے کے حسابات نہیں پیش کیے جاسکے۔جبکہ حادثات اور متعلقہ حکام کی غفلت کی وجہ سے خزانے کو ایک ارب 52کروڑ روپے کانقصان برداشت کرنا پڑا۔رپورٹ میں بتایا گیاکہ غیر مستحکم اسیٹ مینجمنٹ کی وجہ سے خزانے کو 41 کروڑ42 لاکھ10ہزار روپے کانقصان برداشت کرنا پڑا۔کمزور مالی مینجمنٹ سے خزانے کو 11ارب92 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔مالی مینجمنٹ کے اندرونی کمزور نظام کی وجہ سے ساڑھے3ارب روپے کانقصان ہوا۔جبکہ دوسری وجوہات کی بنیاد پر سرکاری خزانے کوایک ارب 11کروڑ روپے کانقصان ہوا۔
آڈیٹر جنرل پاکستان نے پنجاب حکومت کے حسابات کی آڈٹ رپورٹ میں صر ف 9معاملات میں مجموعی طورپر ایک ارب 4 کروڑ روپے کی خورد برد،مختلف اسٹیشنز پر وصولیوں میں 3ارب 12 کروڑ روپے کی بے قاعدگیوں ،54 کروڑ70 لاکھ50 ہزار روپے کی غیرقانونی ادائیگیوں ،اور7ارب 81 کروڑ10لاکھ روپے کے حسابات پیش نہ کرسکنے کی نشاندہی کی ہے۔جبکہ18 معاملات میں ایک ارب 12 کروڑ روپے کے بے قاعدہ اخراجات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔12 معاملات میں اندرونی کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ایک ارب 55کروڑ روپے کے گھپلوں کا بھی پتہ چلایا گیا ہے۔اس کے علاوہ متعلقہ محکمے 40کروڑ54 لاکھ 50ہزار روپے مالیت کے اثاثے بھی ظاہر کرنے میں ناکام رہے۔جبکہ صرف ایک معاملے میں پیشگی ایڈجسٹمنٹ نہ کیے جانے کے سبب 12 کروڑ 28لاکھ 40ہزار روپے کے نقصان کا بھی انکشاف ہواہے۔
آڈیٹر جنرل پاکستان نے پنجاب حکومت کے حسابات کی آڈٹ رپورٹ میں اخراجات کے لیے مقررہ طریقہ کار سے انحراف غیر ضروری اخراجات اور ادائیگیوں کے ذریعے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچائے جانے کا بھی انکشاف کیا ہے۔
آڈیٹر جنرل پاکستان نے پنجاب حکومت کے حسابات کی آڈٹ رپورٹ میں لکھاہے کہ پنجاب کے زرعی شعبے کے معاملات کے آڈٹ کے دوران 27کروڑ 62 لاکھ70 ہزار روپے کے اخراجات کے حوالے سے کوئی ریکارڈ یا واؤچر تک پیش نہیں کیے گئے۔محکمہ مالیات کے معاملات کے آڈٹ کے دوران 43ارب 91کروڑ70لاکھ روپے مالیت کے اخراجات کے بارے میں کسی طرح کے واؤچر احکامات کے خطوط، یاکوئی اور دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیاگیا،آڈٹ کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ محکمے نے مختلف کمپنیوں کو5سالہ مدت کے دوران جس میں 2سالہ رعایتی مدت شامل ہے ادائیگیوں کی بنیاد پر 0.25 فیصد کی شرح سے حکومت اور متعلقہ کمپنیوں کے درمیان بغیر کسی معاہدے اور دستاویزات کے قرض فراہم کیے۔آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ کسی تحریری معاہدے کے بغیر اس طرح فراہم کی جانے والی رقم کی واپس ادائیگی کے دوران پیچیدگیاں پیداہوسکتی ہیں ۔
آڈیٹر جنرل نے پنجاب حکومت کے محکمہ خوراک کے حسابات کی آڈٹ رپورٹ میں لکھاہے کہ محکمے نے پٹ سن کی بوریوں ، پولی تھین کی بوریوں ،جراثیم کش اور چوہے مار دواؤں اور دیگر اشیا کی خریداری پر7ارب 11 کروڑ خرچ کرنے کادعویٰ کیاہے لیکن ان اخراجات کو ثابت کرنے کے لیے محکمے کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے یہاں تک کہ ان اشیا کی خریداری کے لیے دئے گئے ٹھیکے کا بھی کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔اسی طرح محکمہ صحت پنجاب کے معاملات کے آڈٹ کے دوران یہ انکشاف ہواہے کہ محکمے نے مختلف طبی آلات ، جن میں سرجیکل آلات اور کیمیکلز بھی شامل تھے کی خریداری میں پی پی آر اے یعنی پاکستان پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے اصولوں کو نظر انداز کیا، رپورٹ میں 2ارب روپے سے زیادہ کی خریداریوں میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
آڈیٹر جنرل پاکستان نے پنجاب میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق ادارے کے حسابات کی آڈٹ رپورٹ میں لکھاہے کہ محکمہ کے حکام 3ارب95 کروڑ روپے سے زیادہ کا حساب کتاب پیش نہیں کرسکے اس رقم کے اخراجات کے حوالے سے محکمے کے پاس کوئی واؤچر اور کوئی دوسرا ثبوت موجود نہیں ہے جس سے یہ ظاہر کیا جاسکے کہ اتنی بھاری رقم کس مد میں خرچ کی گئی۔آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیا ہے کہ محکمے نے مختلف بینکوں میں 3ارب99کروڑ60 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی لیکن اس حوالے سے بھی متعلقہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیاگیااور سرمایہ کاری کے حوالے سے شرائط پوری کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
آڈٹ کے دوران محکمہ داخلہ میں بھی سنگین گھپلوں اور بے قاعدگیوں کاانکشاف ہوا ہے ۔محکمے کے متعلقہ حکام مختلف اداروں اور کمپنیوں کو گزشتہ سال کے دوران کی جانے والی ادائیگیوں اور اخراجات کے حوالے سے ریکارڈ رکھنے میں ناکام رہے اور 2ارب 7کروڑ روپے کی ادائیگیوں اور اخراجات کے حوالے سے محکمے کے حکام کسی طرح کاکوئی ریکارڈ پیش کرنے سے قاصر رہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محکمے میں بڑے پیمانے پر گھپلے کیے گئے ہیں اور بڑے پیمانے پر رقم خورد برد کرلی گئی ہے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ محکمہ کی جانب سے ریکارڈ پیش نہ کیے جانے کی وجہ سے اس محکمے کے حسابات کاآڈٹ کرنا ممکن نہیں ہوسکا۔
آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے پنجاب حکومت کے حسابات کی اس آڈٹ رپورٹ نے خادم پنجاب کی گڈ گورننس کی پول کھول کر رکھ دی ہے اور اس سے ظاہرہوتاہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا یہ دعویٰ کہ ان پر ایک پیسے کی مالی بے قاعدگی ثابت نہیں کی جاسکتی محض دعویٰ ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے ، اس رپورٹ سے پنجاب حکومت سنگین مالی بے قاعدگیوں کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے الزامات کو تقویت ملتی ہے۔
وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو اس رپورٹ کافوری نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے وضاحت پیش کرنے کے ساتھ ہی متعلقہ محکموں کے سربراہوں سے مالی بے قاعدگیوں ،گھپلوں اورخورد برد کے حوالے سے جواب طلب کرتے ہوئے بے قاعدگیوں میں ملوث ار باب اختیار کے خلاف فوری کارروائی کا آغاز کرنا چاہئے تھا لیکن اس رپورٹ پر کسی کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے اس رپورٹ کو چھپانے کی کوشش سے اس الزام کو تقویت ملتی ہے کہ پنجاب میں جو مالی بے قاعدگیاں ہورہی ہیں وہ خود وزیر اعلیٰ پنجاب کی ایما اور مرضی بلکہ ان کے احکامات پر ہی ہورہی ہیں ، اگر ایسا نہیں ہے تو وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس حوالے سے اپنی حکومت کی پوزیشن صاف کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر