وجود

... loading ...

وجود

وزارت حقوقِ انسانی مراعات کے حصول میں چوکس فرائض کی انجام دہی سے غافل!

جمعه 15 ستمبر 2017 وزارت حقوقِ انسانی مراعات کے حصول میں چوکس فرائض کی انجام دہی سے غافل!

یورپی یونین نے گزشتہ دنوں پاکستان میں حقوق انسانی کی تصوراتی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ایک سخت اور توہین آمیز قرار داد کی منظوری دی ، اگرچہ اس قرارداد کو دیکھ کر ہی یہ واضح ہوجاتاہے کہ پاکستان میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے یہ قرار داد یورپی یونین میں موجود مضبوط بھارتی لابی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی فوج کی بہیمانہ اور سفاکانہ کارروائیوں سے دنیا کی توجہ مبذول کرانے کے لیے منظور کرائی ہے،لیکن اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں حقوق انسانی سے متعلق وزارت کے حکام اور حقوق انسانی کمیشن کے ارباب اختیار یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کے خلاف اس قرارداد کی منظوری اور دنیا بھر کے اخبارات میں اس کی اشاعت اور میڈیا میں اس کی تشہیر کے باوجود اس سے بے خبر تھے اور انھیں ہوش اس وقت آیا جب اس پاکستان کے خلاف اس قرارداد کی اشاعت کے بعد بعض سابق بیوکریٹس اور سفیروں نے اس حوالے سے حقوق انسانی سے متعلق وزارت اور کمیشن کے حکام سے اس بارے میں استفسار کیا۔ لیکن اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں حقوق انسانی سے متعلق وزارت کے حکام اور حقوق انسانی کمیشن کے ارباب اختیارکو یہ تو بخوبی معلوم ہے کہ غیر ملکی دوروں کی گنجائش کس طرح نکالی جاسکتی ہے اور ان دوروں میں اپنے اہل خانہ اور من پسند افراد کو کس طرح شامل کیاجاسکتاہے،جبکہ یہ بات واضح ہے کہ اس طرح کی وزارتوں کی جانب سے اس قسم کے غیر ملکی دورے متعلقہ وزرا اور سرکاری افسروں کے لیے تفریحی دورے ہوتے ہیں جس سے ان کے اہل خانہ بھی بھرپور طریقے سے مستفیض ہوتے ہیں اوربعض اوقات سرکاری خرچ پر بیرون ملک شاپنگ کے مزے بھی اڑاتے ہیں ،یہ وزرا اور متعلقہ سرکاری افسران یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ سرکاری خزانے سے زیادہ سے زیادہ مراعات کس طرح سمیٹی جاسکتی ہیں لیکن وہ یورپی یونین کی جانب سے منظور کردہ اس قرارداد پر ردعمل کے طریقہ کار سے بھی واقف نہیں ہیں اور انھیں یہ اندازہ نہیں کہ انھیں اس قرارداد پر اپنا ردعمل کس انداز میں اور کس سطح پر ظاہر کیاجانا چاہئے۔
پاکستان میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے یورپی یونین کی اس قرار داد سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ حقوق انسانی کے وزیر کامران مائیکل اور ان کی ٹیم کے دیگر ارکان غیر ملکی دوروں پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بیرون ملک مختلف فورمز پر پاکستان میں حقوق انسانی کی صورت حال کے بارے میں مثبت تاثر قائم کرنے اور اس حوالے سے بھارتی لابی کی جانب سے پھیلائی گئے شکوک وشبہات کا تدارک کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایک سے زیادہ مواقع پر حقوق انسانی کے حوالے سے شرمندگی کاسامنا کرنا پڑا اور اس حوالے سے مختلف غیر ملکی فورمز پر پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کا کوئی موثر جواب دینا بھی ممکن نہیں ہوسکا۔
جہاں تک حقوق انسانی سے متعلق امور کے وزیر کامران مائیکل کاتعلق ہے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کامران مائیکل کی واحد خوبی یا صلاحیت یہ ہے کہ وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے وفاداروں کی فہرست میں شامل ہیں اور اسی وفاداری کے صلے میں انھیں سینیٹ کارکن بننے اور اس کے بعد وزارت پر فائزہ ہونا نصیب ہوسکاہے۔اگر حکمراں جماعت سے وفاداری کے علاوہ بھی ان کوئی خوبی ہے اور یقینا ہوگی تو وہ اب تک اس کااظہار کرنے میں یاتو ناکام رہے ہیں یا انھوںنے اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ۔کامران مائیکل اگرچہ حکومت میں پاکستان کی اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن اب تک وہ خود اپنی کمیونٹی کے حقوق کے حوالے سے بھی کسی نمایاں کارکردگی کامظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔یہی نہیں بلکہ وہ اب تک خود کو ایماندار اور بے داغ ثابت کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکے ہیں ان کے دامن پر لگے دھبوں کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ سال ہی عدالتی احکامات پر مری پولیس نے ان کے اور ان کے بعض ساتھیوں کے خلاف ہولی ٹرنٹی چرچ فروخت کرنے کے نام پر 6 کروڑ روپے کے فراڈ کے الزام میں مقدمہ درج کیاتھا۔اپریل 2016 کے دوران ایک پریس کانفرنس کے دوران انھوںنے خود ہی یہ تسلیم کیاتھا کہ مری پولیس کی جانب سے ان کے خلاف فراڈ کے الزام میں درج کیاگیا مقدمہ اپنی نوعیت کا منفرد الزام نہیں ہے بلکہ اس طرح کے اور بھی الزامات ان پر لگائے جاتے رہے ہیں جن کاوہ سامنا کررہے ہیں۔فراڈ کے واضح الزامات میں ملوث ہونے کے باوجود ایک اہم وزارت پر ان کا فائز رہنا یقینا ان کی صلاحیتوں کامنہ بولتا ثبوت ہے ۔اس سے قبل وہ پورٹ اور شپنگ کے بھی وفاقی وزیر رہے ہیں اور ان کے اس دور کے حوالے سے کرپشن کے متعدد الزامات سامنے آتے رہے ہیں ، جن کی تفتیش کرانے کی حکومت کو شاید مہلت نہیں ملی یا ان کی وفاداری کو دیکھتے ہوئے اس سے چشم پوشی کو ہی مناسب تصور کیاگیا۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں کامران مائیکل نے اپنے اختیارات میں اضافہ کرنے کے لیے اپنی وزارت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے کئی اور شعبے بھی اپنی وزارت کے دائرہ کار میں شامل کرالیے ہیں جن میں حقوق انسانی کمیشن بھی شامل ہے جبکہ آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد حقوق انسانی کمیشن کو وزارت حقوق انسانی کے دائرہ کار میں شامل کرنا غیر آئینی ہے ،آئینی امور کے ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ایسے شعبے وزارت انسانی حقو ق کے دائرہ کار میں شامل کرنا قانون جس کی اجازت نہیں دیتا قطعی غیر آئینی ہوگا۔اگرچہ کامران مائیکل نے حقوق انسانی کمیشن کو حقوق انسانی کی وزارت میں شامل کرانے کے لیے کاغذی تیاریاں مکمل کرلی ہیں لیکن اب یہ معاملہ وزیر اعظم کی منظوری کامنتظر ہے ، لیکن اس وقت جبکہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان کا ہر فرد پاناما کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں شاید ایک غیر آئینی کام کی منظوری سے گریز کریں اور اس طرح مسلم لیگ ن کے وفادار کامران مائیکل اپنی اس کوشش میں ناکام ہوجائیں لیکن ان کی اس کوشش سے یہ واضح ضرور ہوتاہے کہ وہ اپنے معاملات میں کس حد تک چوکس اور اپنی وزارت کی کارکردگی کے معاملے میں کس قدر غافل اور بے خبر ہیں ۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا پاکستان میں کوئی ادارہ کامران مائیکل جیسے وزرا کے اس طرح کے کارناموں اور سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے تنخواہوں اور مراعات اور غیر ملکی دوروں کے نام پر وصول کرنے پران کااحتساب کرسکتاہے۔ یہی وہ سوال ہے جس کا مثبت جواب پاکستان کے درخشندہ مستقبل کی نوید بن سکتاہے۔


متعلقہ خبریں


بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

مضامین
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ وجود بدھ 01 جولائی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر