وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

چین تخلیق کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن ہے!

جمعرات 14 ستمبر 2017 چین تخلیق کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن ہے!


ڈاکٹر مو ینگ پنگ
چین میں عوام تخلیق کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ پرجوش ہوتے جارہے ہیں۔میرے غیر ملکی دوست اکثر مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ چین کی شرح نمو میں مسلسل اور اس کے استحکام کاراز کیاہے ؟اس کاجواب چین کے عوام کی سخت محنت اور دوراندیشی ہے۔چین کو پوری دنیا کے لیے کھول دینا اور اصلاحات میں ملک کے ایک ارب 30 کروڑ عوام کو شریک کرنا پوری دنیا میں شروع کیا جانے والا سب سے بڑا تخلیقی عمل ہے۔ہمارے بہت سے سسٹم اور عمل جو کامیاب ثابت ہوئے اسی عمل کانتیجہ ہیں۔ لاکھوں عوام کی تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت معاشرے کو دولت پیدا کرنے کی مضبوط صلاحیت حاصل ہوئی اور لوگ خوشحال ہوگئے۔ملک کو پوری دنیالیے کھول دینا بھی ایک طرح کی اصلاح ہے اور اس سے ہماری تخلیقی صلاحیتوں اور دوسرے ملکوں سے مقابلے کی استعداد میں وسیع تر اور اونچی سطح پر اضافہ ہوا ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی نے چین کی ترقی میں بنیادی پیداواری قوت کا کردار ادا کیاہے۔اور اصلاحات کے بغیر سائنس اور ٹیکنالوجی کا ایک وسیع شعبہ وجود میں نہیں لایاجاسکتاتھا۔بنیادی ریسرچ کو مستحکم کرتے ہوئے ہم نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے اور خود اپنی قدروقیمت پیدا کرنے حوصلہ افزائی کی۔اس طرح ہم نے مارکیٹ کمپٹیشن کے ذریعے سائنسی وار ٹیکنالوجیکل کمپنیاں پیدا کیں ان میں اضافہ کیا اور اس طرح مارکیٹ کی قوت اور تخلیق کے عمل کومستحکم بنایا اورتیزتر کیا۔
چین نے ترقی کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ چین اب بھی سب سے بڑا ترقی پزیر ملک ہے اور فی کس جی ڈی پی کے اعتبار سے دنیا میں یہ اب بھی 80 ویں نمبر پر ہے۔اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے ہے۔ہماری معیشت کے معیار اور کارکردگی میں بہتری کاعمل جاری ہے اور اب بھی ہماری ترقی کی راہ میں بعض سسٹیمیٹک اور ادارہ جاتی رکاوٹیں موجود ہیں۔چین کواس صدی کے وسط تک ایک مناسب ترقی یافتہ ملک بننے کے لیے تیزی کے ساتھ اور بہتر ترقی کی ضرورت ہے۔اس کے لیے سب سے اہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ذہن کو مزید آزاد کریں اور اصلاحات اور تخلیق پر توجہ مرکوز رکھیں،لوگوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لائیں تاکہ پورا معاشرہ پوری طاقت اور صلاحیتوں کے ساتھ کام کرسکے اور توانائی کا ایسا ذخیرہ فراہم کرسکیں جو ترقی کامنبع ثابت ہو۔اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے تخلیق کی راہ میں حائل ہونے والی رکاوٹیںہٹائی جائیں۔دوسرے یہ کہ ایسی میکانزم تیار کی جائے جس سے تخلیق کی حوصلہ افزائی ہو۔تیسرے ایسا ماحول پیدا کیاجائے جس سے تخلیق کو تحفظ حاصل ہوسکے۔چوتھا یہ کہ معیشت کو تخلیق کی بنیاد پراستوار کیاجائے۔چین جو تخلیق چاہتاہے وہ کھلی ہوئی تخلیق ہے ہم دروازے بند کرکے ممکنہ تخلیق پر عمل پیرا نہیں ہوسکتے۔اور ہم تمام حکومتوں اداروں اور تاجروں کو سب کے لیے مفید تعاون میں شریک کرنے کوتیار ہیں۔چین خواہ کتنا ہی ترقی کرلے چین کو ہمیشہ دوسرے ممالک سے طاقت حاصل کرنے کی ضرورت رہے گی اور اسے جدید ترین ٹیکنالوجیز ، انتظامی مہارت کے حصول اور دوسروں کے ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھانے کاعمل جاری رکھنا ہوگا۔چین ہمیشہ دوسروں سے سیکھنے ،اپنے آپ کو کھلا رکھنے والا اور تخلیق کی حوصلہ افزائی کرنے کے عزم پر قائم رہے گا۔
چین کی مستحکم ترقی کا پوری دنیا کی مدد اور تعاون سے گہرا تعلق ہے۔ جبکہ دنیا کی ترقی اور خوشحالی میں چین کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1949 میں چین کے قیام اور خاص طورپر 30 سال سے زیادہ عرصہ قبل چین میں اصلاحات کاعمل اور چین کو پوری دنیاکے لیے کھولنے کی پالیسی پر عملدرآمد کے بعد سے چین میں وسیع تر تبدیلیاں آئی ہیں، چین کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں بڑے پیمانے پر بہتری کے ساتھ ہی چین اور دوسرے ممالک اور خطوں کے درمیان شرح مبادلہ کی شرح ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ چین نے خود کو پوری طرح بین الاقوامی برادری کے ساتھ ضم کرلیاہے۔
دریں اثنا چین کی ترقی سے نہ صرف یہ کہ پوری دنیا کوفائدہ پہنچ رہا ہے بلکہ اس سے عالمی امن اور ترقی میں بھی نمایاں مدد ملی ہے۔ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ،دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ اور دوسرا سب سے بڑا درآمدکنندہ ہونے کے ناتے چین نہ صرف یہ کہ بھاری تعداد میں اچھے معیار کی اشیامناسب قیمت پر پوری دنیا کے صارفین کو فراہم کی ہیں بلکہ دوسرے ممالک کے لوگوں کے لیے روزگار کے وسیع تر مواقع بھی پیدا کئے ہیں۔بڑی تعداد میں چینی طلبہ مختلف ممالک تعلیم کی ترقی کے محرک ثابت ہورہے ہیں۔چین کے بہت سے خریداروں نے مغربی ممالک کی صنعتوں کی کمزور صورتحال کو بہتر بنایا ہے۔ بڑی تعداد میں چینی سیاح دوسرے ممالک میں بڑی تعداد میں اشیا کی خریداری کرتے ہیں۔ ان تمام حقائق سے ثابت ہوتاہے کہ چین کی ترقی ملکی معیشت کی قوت کا سبب بنی ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی بحران شروع ہونے کے بعد سے چین کی اقتصادی ترقی پوری دنیا کی مجموعی اقتصادی ترقی کے 25 فیصد کے مساوی رہی ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ 2020 تک یعنی صرف 5سال کے اندر چین کی مارکیٹ میں قوت خرید 64 کھرب یوآن تک پہنچ جائے گی۔ اور چین کی جانب سے دنیاکے مختلف ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیا کی مالیت اگلے 5سال میں 10کھرب امریکی ڈالر کے مساوی ہوجائے گی اورچین کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی مالیت 500 ارب امریکی ڈالر کے مساوی ہوجائے گی۔اس عرصے میں دیگر ممالک کو جانے والے چینی باشندوں کی تعداد 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی اس طرح جب چین تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کررہاہے تو وہ پوری دنیا کو بھی ترقی کے وسیع مواقع فراہم کررہاہے۔
صنعتی انقلاب کے بعد سے جنگل کاقانون جو مضبوط ترین ہی کی بقاکے لیے استعمال کیاجاتاہے بین الاقوامی اصول بلکہ قانون بن گیا ہے۔پوری دنیا عالمی معیشت سے مستفیض نہیں ہورہی ہے شدید مقابلے کی صورتحال میں مفادات چند بڑی معیشتوں کے کنٹرول کا اصول اب بھی قائم ہے۔ اس بات کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ حالیہ بین الاقوامی مالیاتی بحران کے مغرب ومشرق ترقی یافتہ اور ترقی پزیر تمام ممالک نے بہت تیزی کے ساتھ ردعمل کااظہار کیا، مشترکہ کوششیں کی گئیں اور جی 20،آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک وغیر ہ جیسے اداروں سے عالمی معیشت کی مستحکم ترقی اور میکرو کنٹرولنگ کے لیے بھرپور استفادہ کیا گیا ۔
عالمی برادری کا ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے چین باہمی اعتماد ،ایک دوسرے کو شامل کرنے اور سب کے فائدے کے لیے تعاون کے جذبے اور اصولوں کوسربلند رکھتے ہوئے پوری دنیا کا ساتھ دینے کوتیار ہے ۔مشترکہ مفادات پر پوری طرح عمل ہی میں بنی نوع انسان کی پرامن بقا مضمر ہے۔برابری اورباہمی فائدے کی بنیاد پر ترقی کی از سرنو کچھ مختلف انداز میں تعلقات کا قیام اور عالمی معیشت کی ترقی کے طویل المیعاد استحکام کی ٹھوس بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی امن، استحکام اور ترقی وخوشحالی اور پیش رفت کو برقرار رکھا جاسکے اور اس دنیا کے لوگوں کو ترقی کی کامیابیوں سے استفادے کا بہتر موقع دیا جانا چاہئے۔
غیر معمولی بڑی تبدیلیوں سے گزرنے کے بعد اب موجودہ دنیا ایک نظر نہ آنے والے بہت بڑے جال میں چھپی ہوئی ہے جس میں چین اور دنیا کے دیگر ممالک،بقائے باہم کی اعلیٰ ترین سطح پر ،ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ اور تسلسل کے ساتھ تبادلوں اور مستقبل کی ترقی کے حوالے سے ناقابل تقسیم طریقے سے ایک دوسرے سے بہت قریبی جڑے ہوئے ہیں۔
دنیا کی پیچیدہ صورتحال اور عالمگیریت کو ممکنہ طورپر پیش آنے والے چیلنجز کے پیش نظر ضروری ہے کہ متعلقہ ممالک ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سوچ تبدیل کریں ،صرف اپنے مفادات کا کھیل ترک کریں اور دوسرے ممالک کااحترام کریں اور اپنے قومی مفادات کے لیے کوششیں کرنے کے ساتھ ہی دوسروں کا بھی خیال کریں اور دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ ترقی کی کوشش کریں۔


متعلقہ خبریں


چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 80 ہو گئی وجود - پیر 27 جنوری 2020

چین میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 80تک پہنچ گئی جبکہ تقریبا 3000افراد میں اس بیماری کی تصدیق ہوچکی ہے ۔ چینی حکام کی جانب سے چینی نئے سال کی قومی تعطیلات میں تین روز کا اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے جبکہ چین میں بہت سے شہروں میں سفر پر پابندی عائد کی گئی ۔حکام کے مطابق کورونا وائرس اپنی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی اپنی افزائش کے دوران پھیل رہا ہے اور اس وجہ سے اسے روکنا مشکل ہو رہا ہے ۔ وزیر صحت ما زیائی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہ...

چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 80 ہو گئی

پاکستان میں 60لاکھ سے زائد خانہ بدوش رہائش پزیر وجود - پیر 27 جنوری 2020

پاکستان میں 60لاکھ سے زائد خانہ بدوش رہائش پذیر ہیں۔صرف راولپنڈی میں 710جبکہ لاہور میں 513خاندان آباد ہیں۔رپورٹ کے مطابق خانہ بدوش دنیاکے ہر خطے میں موجود ہیں انکاسفر کہاں سے شروع ہوتاہے انکے متعلق کئی مختلف روایات ہیں۔کہاجاتاہے کہ یہودیوں کے گمشدہ قبائل میں سے ہیں جو ادھر ادھر بکھر گئے ،ایک روایت کے مطابق جب شہنشاہ ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے شکست دی تو ہمایوں ایران بھاگ گیا،جبکہ اسکے امراء اور وزراء نے شیر شاہ سوری کے ڈر سے خانہ بدوشی اختیار کرلی۔رپورٹ کے مطابق خانہ بدوشی اس ...

پاکستان میں 60لاکھ سے زائد خانہ بدوش رہائش پزیر

سینیٹ کمیٹی برائے تحفظ اطفال کا اجلاس ،ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کی تفصیلات پیش وجود - پیر 27 جنوری 2020

سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے تحفظ اطفال کے اجلاس میں ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کی تفصیلات پیش کی گئی ، ڈی آئی جی ہزارہ ڈویژن نے مانسہرہ زیادتی کیس پربریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کی حالت اتنی خراب تھی سوچا کہ کیا کوئی انسان ایسا کرسکتا ہے ۔ پیر کوسینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے تحفظ اطفال کا سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا جائزہ لیا گیا اور ان کے تدارک پر بات چیت کی گئی۔ ارکان نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات صرف مدرسو...

سینیٹ کمیٹی برائے تحفظ اطفال کا اجلاس ،ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کی تفصیلات پیش

چینی حکومت نے کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے 9 بلین ڈالر جاری کر دیے وجود - پیر 27 جنوری 2020

چینی وزارت خزانہ اور نیشنل ہیلتھ کمیشن نے کورونا وائرس کے پھیلا کو روکنے کے لئے 9بلین امریکی ڈالر کے برابر رقم جاری کر دی ۔یہ بات چینی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی گئی ۔ چینی حکومت نے اس وائرس کے پھیلا ئوکو روکنے کے لیے ووہان شہر سمیت متعدد شہروں میں سفری رابطے منقطع کر رکھے ہیں جبکہ ملک میں جاری سالانہ چھٹیاں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ کئی بڑے کاروباری ادارے بھی بند ہیں۔

چینی حکومت نے کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے 9 بلین ڈالر جاری کر دیے

عراق میں امریکی بیس پر حملے میں 34 امریکی فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں،پینٹاگون وجود - هفته 25 جنوری 2020

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی بیس پر ایرانی حملے کے بعد 34 امریکی فوجیوں کو شدید دماغی چوٹ(ٹی بی آئی)کی تشخیص کی گئی ہے ۔ ایک ترجمان کے مطابق فی الحال 17 فوجیوں کی اب بھی طبی نگہداشت کی جا رہی ہے ۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آٹھ جنوری کو ایران کی طرف سے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بدلے میں کیے جانے والے حملے میں کوئی بھی امریکی زخمی نہیں ہوا۔صدر ٹرمپ کے مطابق ایران پر جوابی حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کسی بھی فرد کے زخمی نہ ہونے کے پیشِ نظر کیا گیا۔لیک...

عراق میں امریکی بیس پر حملے میں 34 امریکی فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں،پینٹاگون

ترکی میںزلزلہ، متعدد عمارتیں زمین بوس،19افراد جاں بحق ،750زخمی وجود - هفته 25 جنوری 2020

ترکی کے مختلف علاقوں میں 6.8شدت کے زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہوگئیں جس کے نتیجے میں 19افراد ہلاک، 750 سے زائد زخمی جبکہ 30افراد لاپتہ ہوگئے ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کے مختلف علاقوں میں 6.8 شدت کے زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہوگئیں اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں عمارتوں کے ملبے تلے افراد کو نکالنے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ترکی کے صوبائی گورنر نے کہا کہ مشرقی صوبے الازگ میں زلزلے سے 19افراد ہلاک اور 750سے زائد زخمی ہوگئے ،مزید ...

ترکی میںزلزلہ، متعدد عمارتیں زمین بوس،19افراد جاں بحق ،750زخمی

سعودی عرب کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں ،ایران وجود - جمعه 24 جنوری 2020

ایران نے مشرق وسطی کو درپیش مسائل کے حل اور خطہ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تہران میں ایرانی صدر کے چیف آف اسٹاف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ، سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہشمند ہے ، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں ۔

سعودی عرب کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں ،ایران

چین،کرونا وائرس سے ہلاکتیں 26ہو گئیں ، 830 متاثر وجود - جمعه 24 جنوری 2020

چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر26 ہوگئی جبکہ830 افراد متاثر بھی ہوئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کوروناوائرس کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان کے قریب 7شہروں میں ٹرانسپورٹ بند کر دی گئی جب کہ شہریوں کو جھیلوں، دریائوں اور نہروں پر جانے سے روک دیا گیا ۔عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)نے اسے ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے ۔ حکام نے کہا کہ کرونا وائرس کو عالمی وبا ئوقرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اس وائرس کے پھیلا پر کڑی نظر رکھی جارہی ...

چین،کرونا وائرس سے ہلاکتیں 26ہو گئیں ، 830 متاثر

تہران، جنرل قاسم سلیمانی کا قریبی کمانڈر قاتلانہ حملے میں قتل وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

ایران کی پیراملٹری فوج بسیج کے کمانڈرعبدالحسین مجدمی کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کمانڈرعبدالحسین مجدمی کوصوبہ خوزستان کے شہردرخوین میں گھرکے سامنے نقاب پوش افراد نے نشانہ بنایا۔ پیراملٹری فوج کے سربراہ عبدالحسین مجدمی امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھی تھے ۔ موٹرسائیکل پر سوار دو بندوق برداروں نے حملہ کیا، حملہ آوروں کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے اور چار گولیاں چلائی گئی ہیں۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے تاہم اس ...

تہران، جنرل قاسم سلیمانی کا قریبی کمانڈر قاتلانہ حملے میں قتل

چین ، کرونا وائرس بے قابو، ہلاکتیں 17ہو گئیں وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا پراسرار کورونا وائرس اب ملک بھر کے دیگر شہروں میں بھی پھیلنے لگا ، چین کے صوبے ہوبائی کے دارلحکومت ووہان میں کورونا وائرس سے 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 547 تک پہنچ گئی ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے صحت حکام نے وائرس کے پھیلا سے بچنے کے لئے 1 کروڑ افراد پر مشتمل شہر ووہان کو مکمل طور سیل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ چین میں ٹرینوں اور بس سروسز کا نظام معطل ہونے کے باعث قمری سال کی تعطیلات گزارن...

چین ، کرونا وائرس بے قابو، ہلاکتیں 17ہو گئیں

فرانسیسی صدر چرچ کے باہر اسرائیلی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون چرچ کے دورے کے دوران فرانسیسی اہلکاروں کے ساتھ اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کو دیکھ کربرہم ہو گئے ۔ ایمانویل میکرون نے انگریزی میں ڈانٹتے ہوئے اسرائیلی سکیورٹی اہلکار سے کہا کہ باہر جائوجو تم نے میرے سامنے کیا وہ بالکل پسند نہیں آیا، سب کو رولز معلوم ہیں ناں؟ یہ قواعد صدیوں سے ہیں، میرے ساتھ فرانسیسی اہلکار ہی رہیں گے ، قانون کا احترام کریں ۔واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کا چرچ آف سینٹ این فرانس کی ملکیت ہے ، 1967 ء میں یہاں اسرائیلی قبضے کو بھی فران...

فرانسیسی صدر چرچ کے باہر اسرائیلی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم

امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے وجود - بدھ 22 جنوری 2020

امریکا میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی مختلف تنظیموں کے سینکڑوں کارکنوں نے پورٹ لینڈ شہر میں مظاہرے کیے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی پولیس کے نسل پرستانہ رویئے کے خلاف اس مظاہروں کی کال بلیک لائف میٹر اور نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی دوسری تنظیموں نے دی تھی۔ مظاہرے کے شرکا نے زمین پر لیٹ کر پولیس کے نسل پرستانہ تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے لازمی اقدامات کی اپیل کی۔امریکہ میں کرائے جانے والے رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق 56 فی صد امریکی شہ...

امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے