وجود

... loading ...

وجود

مسلمانوں کو انصاف کی امید چھوڑ دینی چاہیے!

هفته 09 ستمبر 2017 مسلمانوں کو انصاف کی امید چھوڑ دینی چاہیے!

بھار ت میں روہنگیا پناہ گزینوں کو مقامی افراد کے ہاتھوں مشکلات کا سامنا ہے۔ان دنوں حق اور انصاف کے بارے میں بات کرنا ایک خاصا مشکل کام ہے، خاص طور پر اس وقت جب آپ کی دلیل مسلمانوں کے حق میں جاتی ہو۔اگر کوئی مسلمان اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کریں تو انھیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی ہندو ایسا کرے تو اس سے نمٹنا ضروری ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں سے نفرت کرنے والوں نے جناح کے بجائے گاندھی کو قتل کیا تھا کیونکہ ہندو ہوتے ہوئے وہ جس انصاف کی بات کر رہے تھے وہ کچھ لوگوں کو مسلمانوں کی طرف داری نظر آ رہی تھی۔
یہ مضمون مسلمانوں کی طرفداری میں نہیں لکھا جا رہا ہے، لیکن یہ خدشہ اور افسوس ہے کہ اسے شاید اسی طرح پڑھا جائے۔کیا سیکولر، کمیونسٹ اور مسلم پرست ہونے کے الزامات کے خوف سے انصاف پسند اور حقیقت پسند لوگ لکھنا اور بولنا بند کر دیں ؟ ایسے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے پرتشدد واقعات کا حساب کتاب مسلمانوں سے مانگنے پر تلے ہوئے ہیں ۔عراق کا حساب راجستھان میں ، نائیجیریا کا حساب جھارکھنڈ میں مانگا جا سکتا ہے، کشمیری مسلمانوں کا غصہ میواتی مسلمانوں پر اُتارا جا سکتا ہے، اور ایسے تشدد کے متاثرین سے ہمدردی رکھنے والوں کو منصوبہ بند طریقے سے قابل مذمت بنا دیا گیا ہے۔

روہنگیا

جموں میں پناہ حاصل کرنے والے روہنگیا خیموں میں رہتے ہیں ۔امریکا ویورپ سے بھارت تک میڈیا، سوشل میڈیا اور سیاست میں جواسکرپٹ لکھا جا رہا ہے اس کے مرکز میں ہیرو کے بجائے ولن ہیں ۔ اس اسکرپٹ میں جو کوئی بھی ولن کو مار سکے ہیرو ہو سکتا، یہ ایک ہٹ فارمولا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے سر عام مسلم مخالف بیان اور اس کے بعدبھار ت میں ان کی کامیابی کے لیے کی جانے والی پوجا اور دعا کے پس پشت کارفرما چاہت کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ یہ یگیہ (پوجا) دیوتا جیسے ٹرمپ کی جیت اور ‘دیو جیسے مسلمانوں ‘ کی بدحالی کے لیے کی جا رہی تھی۔

کیا مسلمان کبھی شکار نہیں ہو سکتا؟

بہت سے لوگ یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ دولت اسلامیہ، بوکو حرام سے لے کر طالبان اور لشکر طیبہ تک، دنیا کی ہر متشدد سرگرمیوں کے لیے صرف مسلمان ذمہ دار ہیں ۔ اس کا آسان نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ظلم کے شکار کسی مسلمان کے لیے ہمدردی ظاہر کرنا دہشت گردی کی حمایت کرنا ہے۔مقبول نظریہ ان دنوں یہ ہے کہ مسلمان ہر طرح سے یا تو فتنہ گر ہیں یا پھر ان کے حامی ہیں ۔ وہ آفت زدہ، مصیبت زدہ اور ظلم و جبر کا شکار ہو ہی نہیں سکتے۔ پہلے مسلمانوں کو سدھرنا ہوگا۔ اس سے پہلے انھیں ملک، سماج اور قانون سے انصاف یا رحم کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔اسی دلیل کے تحت کشمیر میں پیلٹ گن کی مار سے اندھے ہونے والے نوجوانوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے والوں کو ‘غدارہونے کا تمغہ دیاگیا۔ اخلاقوں اور جنیدوں کی ہلاکتوں کو حادثہ سمجھ کر نظر انداز کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

برما

برما جس کانیا نام میانمار ہے، میں مسلم اقلیت روہنگیا کے مکانوں کو نذر آتش کیے جانے اور انھیں مارے جانے کی اطلاعات ہیں ۔ یہ ایک خوفناک صورتحال ہے جس میں انصاف، منطق، صوابدید اور انسانی رحم کے جذبات کی جگہ نفرت، انتقام، فساد غلط پرچار اور ظلم نے لے لی ہے۔چند لوگوں کے غلط کام کی وجہ سے 1.6 ارب لوگوں میں سے ہرکسی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور جو غیر مسلم ہیں انھیں ناانصافی نظر آنی بند ہو جائے تو ہم واقعتا ایک خطرناک دور میں جی رہے ہیں ۔

روہنگیا آخر جائیں
تو جائیں کہاں ؟

ایسے ماحول میں جب اقوام متحدہ روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی بدحال ترین برادری کہہ رہا ہے تو ان کو پناہ دینے کی بات تو دور، اُن کے درد اور مصیبت کے بارے میں بات کرنے والے کہیں نظر نہیں آتے ہیں ۔امریکی اور یورپی میڈیا میں رپورٹیں شائع ہو رہی ہیں کہ کیسے برما میں ہزاروں روہنگیا کھانے اور پانی کے بغیر پھنسے ہوئے ہیں ۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ برما کے فوجی معصوم، بے سہار افراد کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے میں مصروف ہیں ۔برما انھیں اپنا شہری ماننے کو تیار نہیں ہے، ان کیلئے نہ بنگلہ دیش میں جگہ ہے، نہ ہی دنیا کو امن، عدم تشدد اور ہمدردی کا پیغام دینے والے بدھ-گاندھی کے بھارت میں ان کے لیے کوئی جگہ ہے۔ عالمی سربراہ بننے کی خواہش رکھنے والابھارت اچھی طرح جانتا ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی طاقتور، بااثر اور عزت دار ملک نہیں جس نے پناہ گزینوں کو جگہ نہ دی ہو۔ بہر حال یہ دنیا کی سیاست میں ٹرمپ کا دور ہے، جس میں کمزوروں کے خلاف آگ اگلنے کو مردانگی سمجھا جانے لگا ہے۔

بھارت بھی دہرے
معیار کو اپنا رہا ہے؟

بھارت نے ہی سری لنکا سے آنے والے تاملوں ، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ہندوؤں اور افغانستان سے آئے سکھوں کو پناہ دی ہے، مگر مسلمانوں کو پناہ دینے کے معاملے میں اس کا دل فراخ نہیں ہے۔دو سال پہلے ہی بھارت نے بنگلہ دیش اور پاکستان سے آنے والی اقلیتوں (ہندوؤں ) کو طویل مدتی ویزا دینے کا اعلان کیا ہے، جو واقعی ایک خوشگوار قدم ہے۔ دوسری طرف،بھارت میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کی باتیں ہو رہی ہیں ۔حکومت ہند نے 2015 میں ہندوؤں کو طویل مدتی ویزا دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ انسانی بنیاد پر دیا جا رہا ہے۔ کیا اب وہ انسانی حقوق کی بنیاد ختم ہو چکی ہے کیونکہ برما سے آنے والی اقلیت مسلمان ہے؟
بھارت میں ایک گروپ نے امریکی صدر ٹرمپ کی کامیابی کے لیے پوجا کی اور وہ ان کے مسلم مخالف بیان کی کھلے عام حمایت کرتے ہیں ۔سوشل میڈیا پر جو لوگ روہنگیا مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کی کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ پاکستان کیوں نہیں جاتے،بھارت کیوں آ رہے ہیں ؟ یہ ایسے لوگ ہیں جو نقشے پر یہ دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کرتے برما کہاں ہے اور پاکستان کہاں ؟یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ بھارتی نسل کے نہیں ہیں لہٰذا ان کو پناہ دینا بھارت کی ذمہ داری نہیں ہے۔ پھر امریکا میں رہنے والے افغان یا ناروے میں رہنے والے سری لنکن کس نسل کے ہیں ؟مبصرین کہتے ہیں کہ اگر ان پناہ گزینوں کو بھارت اپنے ملک سے نکالتا ہے تو یہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہوگی۔ پتہ نہیں ایسی حالت میں وہ کہاں جائیں گے۔

کہاں گئی انیت؟

روہنگیا مسلمانوں کی داد رسی کے لیے کوئی تیار نظر نہیں آتا۔جے پور، دہلی اور جموں میں خیموں میں رہنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کو مقامی لوگوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس کی اہم وجہ ان کا مسلمان ہونا ہی ہے۔کسی روہنگیا پناہ گزین سے بات کرکے دیکھیے، شاید اس نے لشکر، داعش، بوکو حرام، القاعدہ، الشباب یا حزب المجاہدین کا نام بھی نہیں سنا ہوگا۔ان پڑھ، غریب اور بے گھر روہنگیا پر نیو ورلڈ آرڈر میں یہ ذمے داری ہے کہ وہ اسلامی انتہا پسندی کی مذمت کرے، مسلمان مجرموں کے تمام گناہوں کو قبول کرے، اس کے لیے غیر مشروط معافی مانگے اور کہے کہ اس کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، یعنی ‘سدھر’ جائے۔اس کے بعد شاید وہ انصاف، رحمدلی اور انسانیت کی تھوڑی امید کر سکتا ہے، اور آپ پوچھ سکتے ہیں ، اس میں بھلا برائی کیا ہے؟
راجیش پریا درشی


متعلقہ خبریں


ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر وجود - پیر 06 اپریل 2026

کویت میں ، شوائخ آئل سیکٹر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، 2پاور پلانٹس اور سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا،پاسدارانِ انقلاب کا اصفہان میں ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعوی امریکا، اسرائیل نے ایرانی تعلیمی اداروں کو ہدف بنا لیا، 30جامعات متاثر،لیزراینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھنڈر میں تبدیل،...

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار وجود - پیر 06 اپریل 2026

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرانتظامیہ نیپریس کلب جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا، شیلنگ کے دوران کارکنان کا پولیس پر پتھرائو،کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع پی ٹی آئی نے اجازت کے بغیر احتجاج کیا، پولیس پر حملے، ریاست مخالف نعرے و دیگر دفعات پر کارروائی ہوگی(ا...

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے وجود - پیر 06 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کے کمانڈر کا لبنان کی مزاحمتی تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف اس گروہ کی طاقت چھ ماہ تک روزانہ 500 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کی طاقت ...

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے

حافظ نعیم کا عدالتی کارروائی میں ام رباب سے تعاون کا اعلان وجود - پیر 06 اپریل 2026

حالیہ عدالتی فیصلے سے انصاف کو شکست اوروڈیرہ شاہی کو تقویت ملی حافظ نعیم الرحمان ام رباب چانڈیو کو کوئی نقصان پہنچا تواس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی، گفتگو امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں سندھ کی مظلوم بیٹی ام رباب چانڈیو سے ملاقات کے ...

حافظ نعیم کا عدالتی کارروائی میں ام رباب سے تعاون کا اعلان

پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 06 اپریل 2026

پاکستان کو پختونوں نے اپنی مرضی سے قبول کیا،غلط پالیسیوں سے پٹرول،ڈیزل مہنگا ہوا عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کیا جائے گا،وزیر اعلیٰ پختونخوا کاامن جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے باجوڑ میں منعقدہ امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پختون "ڈالر...

پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی

ایران نے ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا وجود - پیر 06 اپریل 2026

جارحیت جاری رہی تو خطے کو امریکا، اسرائیل کیلئے دوزخ بنادیں گے،ایران کا دوٹوک جواب مزید جارحیت کا جواب خطے میں شدید رد عمل کی صورت میں دیا جائیگا، ترجمان ابراہیم ذوالفقاری ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا،ایران نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ...

ایران نے ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا

مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ وجود - اتوار 05 اپریل 2026

شہباز حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر بجٹ سبسڈی 830 ارب تک محدود رکھنے کا فیصلہ کرلیا ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور سبسڈی میں کمی ہوگی پاور سیکٹر گردشی قرض کو ختم کرنیکا مطالبہ، آئی ایم ایف کو توانائی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز ...

مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

یاد رکھیںوقت نکلتا جا رہا ہے، ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے،معاہدہ نہ ہوا تو جہنم برسادیں گے، ٹرمپکا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں بیان امریکی صدر کے جھنجھلاہٹ کی وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ہیں، کیلیفورنیااور اوکلاہوما سمیت دیگر ...

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم وجود - اتوار 05 اپریل 2026

15 دن کے اندراندر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا کسی ٹرانسپورٹ پر لگے نشانات ہٹا دیں کسٹم کی کارروائی کے بعد بڑا اقدام،سندھ بار کونسل کاخلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ کسٹم حکام کی جانب سے ایڈووکیٹ مونوگرام لگی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے بعد سندھ بار کونسل نے اہم فیصلہ...

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

حادثات واقعات میں 4 افراد لاپتا ہو گئے،2448 گھروں کو نقصان پہنچا بعض مکانات منہدم ،مختلف مقامات پر سینکڑوں مال مویشی ہلاک،افغان میڈیا حالیہ بارشوں اور قدرتی آفات کے باعث افغانستان میں 61 افراد جاں بحق جبکہ 116 افراد ہوئے ہیں، جبکہ ان واقعات میں 4 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔بارشو...

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب وجود - اتوار 05 اپریل 2026

جدید سرویلینس اور سپیڈ چیک کرنے کے کیمرے، سولر پلیٹس، لائٹس اور پولز کچے کے ڈاکوؤں نے چوری کرلیے موٹر وے ایم 5 بدانتظامی کا شکار ، پولیس کا عملہ پرانی طرز پر اسپیڈ کیمرے سڑک کنارے رکھ کر جرمانے کرنے لگا صوبہ سندھ میں سکھر ملتان موٹر وے پر 200 کلو میٹر تک لگے جدید کیمرے چوری ...

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو) وجود - اتوار 05 اپریل 2026

مشکل معاشی حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا ایران پر مسلط غیر قانونی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، چیئرمین کا جلسے سے خطاب چیٔرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ ...

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو)

مضامین
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار وجود پیر 06 اپریل 2026
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار

مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں وجود پیر 06 اپریل 2026
مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں

ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے! وجود پیر 06 اپریل 2026
ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے!

مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول وجود اتوار 05 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول

کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟ وجود اتوار 05 اپریل 2026
کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر